پام آئل کی پیداوار۔۔۔۔گیم چینجر منصوبہ

ایم آئی خلیل  منگل 24 نومبر 2020

گزشتہ سال جب ملائیشیا نے تنازعہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کے حوالے سے بھارت مخالف بیان دیا تھا جس کے بعد ملائیشیا کو ایک نئی صورت حال کا سامنا کرنا پڑا۔ کیونکہ اس کے ساتھ ہی خوردنی تیل کی تجارت کرنے والی سب سے بڑی بھارتی تنظیم نے اپنے ارکان پر زوردیا کہ وہ ملائیشیا سے پام آئل کی خرید کا سلسلہ روک دیں جسے ملائیشیا نے پام آئل کی درآمد کے بائیکاٹ کو ایک تجارتی جنگ سے تشبیہ دی۔

ایک سال کا عرصہ نہیں گزرا تھا کہ امریکا نے ملائیشین کمپنی جوکہ پام آئل تیار کرتی تھی، اس سے پام آئل کی درآمد پر پابندی لگا دی۔ اگرچہ اس سلسلے میں کچھ الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں جو جبری مشقت اور مزدوروں کے حقوق سے متعلق ہیں۔

حالانکہ کمپنی بار بار یقین دہانی کراتی رہی ہے کہ وہ مزدوروں کے حقوق سے متعلق بہت سی اصلاحات کرچکی ہے۔ ادھر پاکستان نے ملائیشیا کو یقین دہانی کرا دی کہ وہ ملائیشیا سے بڑی مقدار میں پام آئل خریدے گا۔ بھارت اور چین کے بعد پاکستان پام آئل کا تیسرا بڑا خریدار ملک ہے۔

اس سال ماہ جنوری میں کراچی میں پانچویں پاکستان ایڈیبل کانفرنس ہوئی تھی جس میں پاکستانی اور ملائیشین حکام نے بھی شرکت کی تھی۔ پاکستان جوکہ ایک ارب 85 کروڑ ڈالر تک پام آئل درآمد کرتا ہے اور 2019-20 کے دوران 29 لاکھ 70 ہزار میٹرک ٹن کی درآمد پر 2 کھرب 90 ارب 87 کروڑ روپے صرف کرچکا ہے۔

جب کہ مال سال 2018-19 کے دوران 31 لاکھ 47 ہزار میٹرک ٹن پام آئل کی خریداری پر 2 کھرب 50 ارب 59 کروڑ روپے صرف کرچکا تھا۔ پاکستان 30 لاکھ ٹن سالانہ پام آئل درآمدی تجارت سے حاصل کرتا ہے۔ جب کہ پام آئل سمیت خوردنی تیل کی سالانہ کھپت 42 لاکھ ٹن تک ہے۔ پاکستان میں تیل کی فی کس کھپت 20 کلو سالانہ ہے۔ جس مقدار میں خوردنی تیل کا استعمال ہو رہا ہے یہ مقدار خطے میں سب سے زیادہ ہے۔

اسی وجہ سے ہماری خوردنی تیل کی درآمدات بڑھ رہی ہیں۔ مقدار میں کمی نہیں آ رہی۔ پام آئل برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک انڈونیشیا ہے پھر ملائیشیا ہے۔ چند سال قبل پاکستان نے انڈونیشیا کے ساتھ ترجیحی معاہدہ کیا تھا جس کی وجہ سے انڈونیشیا سے پام آئل کی درآمد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، لیکن اب ملائیشیا کی جانب سے کشمیر پر پاکستانی موقف کی حمایت پر پاکستان بھی ملائیشیا سے پام آئل کی درآمد کو بڑھائے گا۔

جس کے بارے میں ملائیشین حکام بھی پرامید ہیں کہ پاکستان پام آئل کی خریداری میں ملائیشیا کو ترجیح دیتے ہوئے درآمدات میں اضافہ کرے گا۔ چند سالوں سے یہ رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ پاکستان میں گنے کے لیے زیر کاشت رقبے میں اضافہ ہوا ہے۔ جب کہ کپاس اور تیل کے بیجوں کی کاشت کے لیے رقبے میں کمی ہو رہی ہے جس کے باعث تیل کی درآمد پر کثیر زرمبادلہ خرچ کرنا پڑ رہا ہے۔

پاکستان کو اپنی پام آئل کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت پہلے اس بات کی طرف توجہ دینی چاہیے تھی کہ ملک میں پام آئل کے درخت کاشت کیے جاتے۔ یہ بات بہت سالوں سے سننے میں آرہی تھی کہ ٹھٹھہ کے قریب پام آئل کے درخت لگائے جا رہے ہیں۔ حکومت سندھ نے حال ہی میں یہ خوشخبری سنائی ہے کہ 50 ایکڑ رقبے پر پام کے درخت لگائے گئے تھے جس سے یومیہ 2 ٹن پام آئل کی پیداوار ہوگی۔

اگرچہ یہ ابتدائی منصوبہ ہے جسے 50 ایکڑ سے بڑھا کر لاکھوں ایکڑ تک لے جایا جاسکتا ہے۔ اب یہ منصوبہ کامیاب ہوا ہے۔ تجربے کامیاب ہوگئے ہیں۔ سرگودھا میں بھی کسی مقام پر پام آئل کے درخت لگائے گئے ہیں۔ پام آئل کا پودا جب 5 یا 6 سال کا ہو جاتا ہے تو پھر پیداوار دینا شروع کردیتا ہے۔ اس وقت ایک سال کا پودا جسے بڑے گملوں میں لگایا جاتا ہے۔ تقریباً 2 ہزار تک کا دستیاب ہوتا ہے۔

یہ بات خوش آیند ہے کہ سندھ حکومت کے ماحولیاتی تبدیلی اور کوسٹل ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے لگائے گئے پہلے پام آئل پروسیسنگ پلانٹ نے پیداواری عمل کا آغازکردیا ہے۔ اگرچہ اس وقت جیساکہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 2 ٹن پام آئل کی پیداوار روزانہ حاصل ہوگی جوکہ 7 سو ٹن سالانہ بنتی ہے۔

جب کہ ہماری ضرورت لاکھوں ٹن کے حساب سے ہے یعنی 30 لاکھ ٹن سالانہ اور یہ مقدار آبادی میں اضافے کے ساتھ بڑھ رہی ہے حالانکہ عالمی منڈی میں پام آئل کی قیمت میں کمی واقع ہوئی ہے۔

اس وقت عام کوکنگ آئل فی کلو 230 روپے میں دستیاب ہے۔ جیساکہ ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ پام آئل کے پیداواری عمل گیم چینجر ہے۔ یقینی طور پر یہ گیم چینجر ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیے ابھی لاکھوں ایکڑ میں پودے لگانے پھر ان کو پھل دینے کے لیے 5 تا 6سال کے بعد جب پیداوار شروع ہوگی اس کے ساتھ ہی پھر پام آئل فیلڈ لے جاکر پام آئل کی پیداوار آنے لگے گی۔ پھر جاکر پہلے تو کروڑوں ڈالر کی زرمبادلہ کی بچت ہوگی۔ اس کے بعد ہم اسے گیم چینجر قرار دے سکتے ہیں۔ کیونکہ اس وقت تقریباً 2 ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ خرچ کر رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔