لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے کمیٹی کا قیام

ایڈیٹوریل  بدھ 25 دسمبر 2013
۔فوٹو: آئی این پی/فائل

۔فوٹو: آئی این پی/فائل

پاکستان میں انسانی حقوق کے ضمن میں لاپتہ افراد کا مسئلہ تشویش ناک صورت اختیار کرچکا ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرنے کی روش نے اس مسئلے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا ہے، ماورائے آئین اقدامات عوام میں بددلی، بداعتمادی اور مایوسی کا سبب بنتے ہیں، چند مفاد پرست عناصر تو متاثرہ افراد سے بھرپور ہمدردی جتا کر اسے ریاست کے خلاف جذبات بھڑکانے کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس مسئلے کے حل کے لیے متعدد سماعتیں کر کے کئی لاپتہ افراد بازیاب بھی کروائے ہیں، موجودہ حکومت کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کو بازیاب کروائے اور انھیں عدالت کے روبرو پیش کرے۔

لاپتہ افراد کے مسئلے کا تعلق تو ملک بھر سے ہے لیکن بالخصوص خیبرپختون خوا اور بلوچستان میں تو یہ انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے، وائس آف مسنگ پرسنز کے ماما عبدالقدیر کی قیادت میں بچوں، خواتین اور بزرگوں کا برہنہ پا قافلہ کوئٹہ سے کراچی میں پڑائو ڈالنے کے بعد اب اسلام آباد کی طرف عازم سفر ہے۔ یقینا! لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے میں نو منتخب جمہوری حکومت خصوصی دلچسپی لے رہی ہے، اس سلسلے میں وزیر اعظم نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی جو لاپتہ افراد کے بارے میں مجوزہ قانون کے مسودے کا جائزہ لے کر اسے حتمی شکل دے گی، کمیٹی اٹارنی جنرل، سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ پر مشتمل ہونے کی اطلاعات ہیں۔

تمام متعلقہ ادارے لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات اس کمیٹی کو فراہم کریں گے اور ان اداروں کے نمایندے کمیٹی میں بھی شامل ہوں گے۔ اس سلسلے میں قانون سازی کرنا جمہوری حکومت کا مستحسن فیصلہ ہے کیونکہ سابق ڈکٹیٹر نے اپنی ذاتی اور عالمی طاقتوں کی خواہشات کی تکمیل کے لیے آئین کو پس پشت ڈالنے کی روایت ڈال کر انسانی حقوق کی پامالی کی بدترین مثالیں قائم کیں۔ حکومت کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ انصاف اور قانون کی حکمرانی تسلیم کرنے میں ہی مملکت کی بقا اور عوام کی فلاح کا راز مضمر ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔