قائد کے لیے کچھ پھول

امجد اسلام امجد  بدھ 25 دسمبر 2013
Amjadislam@gmail.com

[email protected]

زندہ قوموں کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے محسنوں کو ہمیشہ یاد رکھتی ہیں اور اپنی احسان مندی کا برملا اور غیر مشروط اظہار بھی کرتی ہیں یہ اصول اور قانون یوں تو ہر شعبے کے محسنین پر لاگو ہوتا ہے مگر وہ قومی رہنما جو ہجوم کو قافلے کی شکل دے کر اپنی قوم کو غلامی کی ذلت سے نکال کر آزادی کی نعمت سے سرفراز کرتے ہیں اور بھی زیادہ اہمیت کے حامل ہو جاتے ہیں۔ آزادی بلاشبہ انسان کا بنیادی حق ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے تقریباً 70 فی صد لوگ کسی نہ کسی وجہ سے اس سے مکمل طور پر بہرہ مند نہیں ہو پاتے کہ سیاسی آزادی کے باوجود کئی قومیں معاشی‘ نفسیاتی اور فکری حوالے سے غلام بھی رہتی ہیں۔

تاریخ عالم میں ایسے لیڈر بہت کم دیکھنے میں آتے ہیں جو عوامی جذبات کے ترجمان ہونے کے باوجود فیصلے اور لائحہ عمل مرتب کرتے وقت اپنی بصیرت اور فہم و فراست کی برتری کو قائم رکھیں، قائداعظم محمد علی جناح کا شمار ایسے ہی منتخب افراد میں ہوتا ہے اور ساری قوم ان کا نام عزت اور احترام سے لیتی ہے۔ غور سے دیکھا جائے تو ان کی یہی بے مثال مقبولیت اور محبت ہے جس پر گزشتہ کچھ برسوں سے باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ حملے کیے جا رہے ہیں، اس کا ایک رخ تو غیر ملکی سرمائے پر پلنے والے وہ نام نہاد غیر ملکی مجاہدین ہیں جو پہاڑوں کی کمین گاہوں سے اتر کر زیارت ریذیڈنسی کی عمارت کو صرف اس لیے نذر آتش کرتے ہیں کہ قائد سے قوم کی بے پناہ محبت پر کوئی ایسا حملہ کیا جائے کہ وہ نفسیاتی طور پر منتشر اور بددل ہو جائے اور دوسرا رخ وہ بظاہر پڑھے لکھے‘ دنیا دیکھے ہوئے اور ہر طرح کے مفادات کی اجارہ داری کے حامل تجزیہ نگار اور ’’دانشور‘‘ ہیں جو جان بوجھ کر قائداعظم کے بجائے قائد کو اپنی گفتگو میں انگریز اور ہندو کی طرح مسٹر جناح کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ یہ بات بظاہر کتنی بھی معمولی کیوں نہ لگے اس کے نفسیاتی مضمرات بہت منفی اور نقصان دہ ہیں اسی طرح ایک بار پھر اس بحث کو بھی ہوا دینا کہ پاکستان بنانے کا فیصلہ صحیح تھا یا غلط‘ ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس کا مقصد پاکستانی عوام سے ہر وہ مرکز چھین لینا یا اس کو متنازعہ بنا دینا ہے جو ان کو قومی وحدت کی طرف لے کر جاتا ہے آج کل کی بڑھتی ہوئی مسلک اور فرقہ پرستی بھی اسی کہانی کا ایک باب ہے۔

دنیا بھر میں لوگ اپنے قومی رہنماؤں اور تحریک آزادی کے لیڈروں کی شخصیت اور خدمات کو اپنی اگلی نسلوں تک منتقل کرنے کے لیے تعلیمی نصابات‘ یاد گاروں‘ کرنسی نوٹوں پر چھپنے والی تصاویر‘ مجسموں اور قومی میوزیمز سمیت ہر طرح کے مثبت ذرایع سے کام لیتے ہیں تاکہ یہ لوگ اور ان کے کارنامے ان کے دل و دماغ میں رچ بس جائیں اور وہ ان کے دکھائے اور بنائے ہوئے رستوں پر قدم بہ قدم آگے بڑھتے رہیں۔ ایک عجیب بات یہ ہے کہ قائد پر تنقید کے نشتر چلانے والوں میں سے اکثر لوگ ان گروہوں سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں پاکستان بننے کے بعد سب سے زیادہ فوائد حاصل ہوئے ہیں۔

قائد کے ایک سو اڑتیسویں یوم ولادت پر ان کی خدمت میں پیش کیے جانے کے قابل سب سے اہم تحفہ یہی ہے کہ ہم سب مل کر قوم اور اپنی آیندہ نسلوں کو ان تخریب کاروں کی سازشوں سے آگاہ کریں جو قائد کے کردار کو متنازعہ بنانے کے چکر میں ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ان کی سیرت شخصیت اور کردار کے ان پہلوؤں کو نمایاں کریں جن کی وجہ سے آج ہم ایک آزاد ملک کے شہری ہیں واضح رہے کہ اس آزاد ملک پاکستان کو مسائلستان بنانے والے لوگ بھی وہی ہیں جو ہمارے اندر اور باہر سے مختلف بھیس بدل بدل کر اپنے گناہوں کا بوجھ اپنی فرد عمل کے بجائے قائد کے کھاتے میں ڈالنے کے عمل میں مصروف ہیں اس موقع پر کئی برس قبل لکھی گئی ایک نظم پیش خدمت ہے جو قائد کی خدمت میں ایک اظہار سپاس بھی ہے اور اپنی قوم کی کم عملی کا ایک احساس بھی۔

آدم کی تاریخ کے سینے میں ڈوبے ہیں
کتنے سورج‘ کتنے چاند!
کیسے کیسے رنگ تھے جو مٹی سے پھوٹے
موج ہوا کے بنتے اور بگڑتے رستوں میں ٹھہرے
اور خاک ہوئے
نیلے اور اتھاہ سمندر کے ہونٹوں کی پیاس بنے
آنے والے دن کی آنکھوں میں لہراتی آس بنے
کیسے کیسے رنگ تھے جو مٹی سے چمکے
اور چمک کر پڑ گئے ماند!
……………
کچھ سورج ہیں ایسے‘ پھر بھی
اپنی اپنی شام میں جو اس‘ دشت افق کا
رزق ہوئے پر روشن ہیں‘ گہنائے نہیں
پھول ہیں جن کو چھونے والی‘ سبز ہوائیں خاک ہوئیں
لیکن اب تک تازہ ہیں کمہلائے نہیں
……………
ایسا ہی اک سورج تھا وہ آدم زادہ
ٹوٹی اینٹوں کے ملبے سے ٹکڑا ٹکڑا یکجا کر کے
ایک عمارت کی بنیادیں ڈال رہا تھا
سات سمندر جیسے دل میں ان کے غم کو پال رہا تھا
جن کے کالے تنگ گھروں میں
کوئی روشن چاند نہیں تھا
پھولوں کی مہکار نہیں تھی بادل کا امکان نہیں تھا
صبح کا نام نشان نہیں تھا
نیند بھری آنکھوں کے رن میں
وہ خود سورج بن کر ابھرا
ڈھلتی شب میں پورے چاند کی صورت نکلا
صبح کے پہلے دروازے پر دستک بن کر گونج اٹھا
……………
آج میں جس منزل پہ کھڑا ہوں
اُس پر پیچھے مڑ کر دیکھوں
تو اک روشن موڑ پہ اب بھی
وہ ہاتھوں میں
آنے والے دن کی جلتی مشعل تھامے
میری جانب دیکھ رہا ہے
جانے وہ کیا سوچ رہا ہے!!

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔