تعلیمی نظام میں خرابی اور اسکروٹنی

نسیم انجم  بدھ 25 دسمبر 2013
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

جہاں پاکستان تعلیمی حوالے سے انحطاط کا شکار ہے، وہاں کچھ مثبت تبدیلیاں بھی رونما ہو رہی ہیں اور تعلیمی درسگاہوں میں اضافہ ایک اچھے وقت کا پتہ دیتا ہے۔ عمران خان کا شوکت خانم اسپتال کے بعد اب میانوالی میں ’’نمل کالج‘‘ کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ عمران خان کے دل میں قوم کا درد ہے، وہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک میں شامل کرنے اور اسے زوال سے بچانے کے لیے دن رات کوشاں ہیں صحت اور تعلیم یہ دو شعبے ایسے ہیں کہ ان اداروں سے استفادہ کرنے والے ایک مضبوط قوم اور سیسہ پلائی دیوار بن سکتے ہیں۔ ظاہر ہے صحت اچھی ہو گی، تب ہی ایک تندرست و توانا انسان اچھا سوچ سکتا ہے، اچھا کر سکتا ہے، تعلیم وہ مینارہ نور ہے جو اندھیرے میں بھٹکنے والوں کو روشنی کا پتہ دیتا ہے، آج دنیا میں جو بھی ممالک ہر لحاظ سے بام عروج پر ہیں اس کی وجہ وہاں تعلیم سستی ہے، بے شمار درسگاہیں ہیں، جن میں خچر نہیں چرتے ہیں، جن میں اسلحہ نہیں چھپایا جاتا ہے، نہ ہی تخریب کاری کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، بلکہ حقیقی معنوں میں تعلیم دی جاتی ہے، جدید ٹیکنالوجی سے آگاہ کیا جاتا ہے، مختلف علوم کو پڑھایا جاتا ہے، اسی وجہ سے ان ممالک میں دہشت گردی پنپ نہیں سکی ہے۔

ہر شخص کو تحفظ حاصل ہے، محنت سے کمائی ہوئی رقم کی حفاظت ہے، ڈاکہ، چوری اتنا عام نہیں، جتنا ہمارے ملک میں ہے، اس کی وجہ ہمارا تعلیمی نظام ناقص ہو چکا ہے۔ نہ اساتذہ اپنے فرائض انجام دیتے ہیں اور ان درسگاہوں کے پرنسپل حضرات اور منتظمین کہ وہ طلبہ کو مثبت سرگرمیوں اور حصول علم کی طرف راغب کریں، لیکن اس قسم کی بدنظمی اور ناخوشگوار ماحول میں بھی جو طلبہ حقیقی معنوں میں علم کے موتیوں سے دامن بھرنا چاہتے ہیں، وہ سنجیدگی کے ساتھ اپنا مستقبل سنوارتے ہیں اور اپنے ملک کی بقا کے لیے ہر لمحہ تیار رہتے ہیں اور دلجمعی کے ساتھ تعلیم پر توجہ دیتے ہیں۔

کراچی میں رقبے کے اعتبار سے ایک بہت بڑی یونیورسٹی بھی زیر تعمیر ہے، بلکہ مکمل ہونے ہی والی ہے نام ہے اس کا ’’حبیب یونیورسٹی‘‘ جو کہ گلستان جوہر اور رابعہ سٹی کے آخری کونے پر واقع ہے۔ عنقریب اس یونیورسٹی میں علم کی بے شمار قندیلیں روشن ہونے کے امکانات نظر آتے ہیں اسی طرح اور بھی بہت سے علمی ادارے بھرپور طریقے سے ملک و قوم کی خدمت کرنے کے لیے کوشاں ہیں، حالات جو بھی ہوں وہ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور طلبہ ذوق و شوق سے پڑھ بھی رہے ہیں گو کہ ان اداروں کی فیسیں ایک عام اور متوسط طبقے کے طالب علم کے لیے ادا کرنا ذرا مشکل سا ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ پڑھنے لکھنے کے شوقین اور ذہین طالب علموں کی ماہانہ فیس اور داخلہ فیس کو معاف کر دیا جائے اگر فیس وصول کی جائے تو اصل فیس کا چوتھائی حصہ اگر وہ آسانی سے ادا کرسکیں تو اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے متمنی طلبہ کی امیدوں کے چراغ اس وقت گل ہو جاتے ہیں جب ایک بڑی رقم کی ادائیگی ان کے بس میں نہ ہو، ایسی درسگاہوں کے منتظمین کو اپنا دل کشادہ اور ان طلبہ کے لیے نرم گوشہ رکھنا چاہیے اگر یہ حضرات مواقع فراہم نہیں کریں گے تو نہ جانے یہ مایوسی اور محرومی کسی طوفان سے آشنا کر دے آج جو نوجوان برائیوں کے راستے پر چل رہے ہیں اس کی کچھ وجوہات ہیں، نہ والدین کی تعلیم و تربیت اور نہ اساتذہ کی توجہ کہ وہ اپنے طالب علم کو اپنی علمیت و قابلیت اور تجربات سے فائدہ پہنچائیں اور اپنے شاگردوں کو معاشرے کا کارآمد فرد بنانے میں مدد کریں، لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ ہر شخص اپنے اور اپنے مستقبل کے بارے میں غور و خوض کرتا ہے اور اپنا منافع اسے زیادہ عزیز ہے۔

تعلیمی اداروں میں طلبا کی پڑھائی پر بھی توجہ نہیں دی جاتی ہے انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود مختاری کو پا کر کسی اور راہ کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ حال ہی میں کراچی یونیورسٹی میں انگریزی کے امتحانات میں زیادہ تر طلبہ فیل ہو گئے اور کورے پیپر ممتحن کے حوالے کر دیے گئے امتحانی مرکز میں سر جھکا کے ٹائم پاس کرتے رہے۔ بہت کم طلبہ کو کامیابی کی نوید ملی ایسے ہی حالات مختلف امتحانی مراکز میں نظر آتے ہیں۔

ایک بہت بڑی خامی اور بھی ہے کہ ان درسگاہوں اور دفاتر میں اسکروٹنی کا طریقہ کار نہایت بدترین اور غیر منصفانہ ہے بلکہ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ محض فیس وصول کرنے اور پیسہ کمانے کا ایک انوکھا اور مضحکہ خیز طریقہ ہے، طالب علم اسی وقت اسکروٹنی کا فارم پر کرتا ہے جب اسے اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ اس نے شاندار پیپر کیا ہے، ہر حال میں اس کے نمبر زیادہ کاٹ لیے جائیں تو کم از کم پاسنگ مارکس تو ملیں گے ہی لیکن ایسے طلبا کے ساتھ تعلیمی اداروں کے منتظمین بے حد ظالمانہ سلوک کرتے ہیں کہ اس بے چارے کو وہ پیپر ہی نہیں دکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنی کارکردگی دیکھ کر مطمئن ہو سکے اور اگر اساتذہ سے پرچے کی جانچ میں کوتاہی ہوئی ہے ۔ کسی سوال کے نمبر جمع ہونے سے رہ گئے ہیں یا کوئی سوال چیک ہی نہ ہو سکا یا صحیح سوالات کو غلطی کی بنا پر کاٹ دیا گیا ہے تو اس قسم کے حالات میں طالب علم نشاندہی کر سکتا ہے اور فیل کی بجائے پاس ہونے والے امیدواروں میں شمولیت اختیار کر کے یک گونہ کامیابی کا حقدار ہو گا۔ لیکن اس کی وجہ شاید یہی ہو سکتی ہے کہ یہ ادارے اپنی خامیوں اور بدنظمی سے پردہ اٹھانا نہیں چاہتے ہیں، تا کہ بدنامی کے مواقعے میسر نہ آ سکیں، اگر ایسا ہی ہے تو ’’اسکروٹنی‘‘ کے نظام کو ختم کر دیا جائے تو زیادہ بہتر ہے اس سے یہ ہو گا کہ طلبہ اسکروٹنی کے ذریعے کامیابی کی امید نہیں رکھیں گے۔

تعلیمی نظام تقریباً ناقص ہے اس میں تبدیلی کی سخت ضرورت ہے اس قسم کے طریقہ کار سے طلبا کے اندر مایوسی پیدا ہوتی ہے اور تعلیم سے دل اچاٹ ہوجاتا ہے۔ موجودہ حکومت نے طلبا کی خدمت میں لیپ ٹاپ تو فراہم کر دیے ہیں وہ بھی لاہور کی حد تک، کیا کراچی اور دوسرے صوبوں کے طلبا لیپ ٹاپ کے مستحق نہیں ہیں۔ بہرحال لیپ ٹاپ دینے کی بجائے تعلیمی ڈھانچے کی از سر نو جانچ پڑتال ضروری ہے، جہاں ترامیم کی ضرورت ہے وہ ضرور کریں اور اس شعبے سے کالی بھیڑوں کی چھٹی کو یقینی بنایا جائے جو محکمہ تعلیم اور تعلیمی اداروں میں بحیثیت استاد کی تقرری کے وقت ایک بڑی رقم وصول کرتے ہیں اور جس کے پاس رقم نہیں ہے وہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں درس و تدریس کے عوض اپنا لہو دیتا ہے اور بدلے میں اس کے حصے میں کچھ نہیں آتا ہے۔ محکمہ تعلیم کا اولین فرض ہے کہ وہ پرائیویٹ اسکول و کالج میں بھی اساتذہ کی حالت زار کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی بھلائی کے لیے کام کرے، تنخواہوں میں اضافہ اور اضافی کام لینے کے اس عمل کو روکنا اپنا فرض جانیں، تب ہی اس ملک سے ڈپریشن کا خاتمہ ہو سکے گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔