ایکسپو 2020 میں دبئی کی کامیابی پر اظہار مسرت

شکیل فاروقی  بدھ 25 دسمبر 2013
S_afarooqi@yahoo.com

[email protected]

پاکستان اور متحدہ عرب امارات عرصہ دراز سے تاریخی، ثقافتی، تجارتی اور سفارتی رشتے سے منسلک ہیں۔ دونوں کا یہ اٹوٹ بندھن چار عشروں سے بھی زیادہ طویل مدت پر محیط ہے۔ اس غیر مشروط باہمی دوستانہ عہد کا آغاز 42 سال قبل متحدہ عرب امارات کی تشکیل کے ساتھ ہی ہوا تھا۔ پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جنھوں نے یو اے ای کو بلاتاخیر اور بلاتامل تسلیم کیا تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان قائم تعلقات وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہتر سے بہتر اور مستحکم سے مستحکم تر ہو رہے ہیں اور یہ کیفیت یک جان دو قالب کی سی ہے۔ یہ تعلقات سرکاری سے زیادہ عوامی سطح پر تیزی سے فروغ پا رہے ہیں جس کا سب سے بڑا اور منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ مشکل کی ہر گھڑی میں یو اے ای اور اس کے عوام اپنے پاکستانی بھائیوں کا بھرپور ساتھ دینے میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ فلسطین کے بعد پاکستان دنیا کا دوسرا ملک ہے جسے یو اے ای سب سے زیادہ امداد فراہم کرتا ہے۔ آڑے وقت پر اپنے دوست کا ساتھ دینا ہی سچی اور کھری دوستی کی اصل کسوٹی ہے۔ چنانچہ جولائی 2010 میں جب پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین سیلاب سے دوچار ہوا تھا تو یہ یو اے ای ہی تھا جس نے بڑھ چڑھ کر امداد فراہم کی تھی۔ ہنگامی امداد کے علاوہ صحت کے کئی منصوبے بھی روبہ عمل لائے گئے۔ یو اے ای کے ممتاز ڈونرز میں یو اے ای ریڈکریسنٹ سوسائٹی اور خلیفہ بن زید النہیان فاؤنڈیشن سرفہرست تھے۔ یو اے ای نے اپنے آفت زدہ پاکستانی بھائیوں کی شدید مشکلات کا احساس کرتے ہوئے تقریباً تیس ہزار متاثرہ خاندانوں کو خیمے اور خوردنی اشیا فراہم کرنے کے علاوہ مچھر دانیاں بھی مہیا کیں۔

حالیہ برسوں کے دوران یو اے ای کی حکومت، دبئی کیئرز اور یو اے ای ریڈ کریسنٹ اتھارٹی پاکستان کو امداد دینے والوں میں پیش پیش ہیں۔ پاکستان میں بیرونی سرمایہ کاری کے معاملے میں بھی یو اے ای کا کردار سب سے نمایاں اور قابل ذکر رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی بڑی بڑی کمپنیاں پاکستان کے متعدد شعبوں میں سرگرم عمل ہیں جن میں ایئر لائنز، بینکنگ، آئل، ٹیلی کام، زراعت، رئیل اسٹیٹ اور توانائی کے شعبے سب سے زیادہ قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ یو اے ای نے دبئی پورٹس ورلڈ (ڈی پی ورلڈ) کے توسط سے پورٹس اور شپنگ کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے۔ یو اے ای کی فضائی کمپنیاں بھی پاکستان کی معیشت میں بڑا اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ گزشتہ برسوں کے دوران پاک یو اے ای تجارت نے کامیابی کے نئے سنگ میل عبور کیے ہیں۔ یو اے ای وطن عزیز میں 21 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ سب سے بڑے سرمایہ کار کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔ علاوہ ازیں یو اے ای کی شیئر ہولڈنگ کمپنیاں ہزاروں پاکستانی ہنرمندوں کے لیے روزگار کی فراہمی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں۔ اسی طرح تقریباً آٹھ ہزار چھوٹے بڑے پاکستانی کاروباری اداروں نے متحدہ عرب امارات میں اپنے کاروبار قائم کیے ہوئے ہیں۔ یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کی تعداد بھی 12 لاکھ کے لگ بھگ ہے جوکہ وطن عزیز کے لیے قیمتی زرمبادلہ کمانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔

پاکستان اور متحدہ عرب امارات کی دوستی کا یہ رشتہ لازوال ہے۔ چنانچہ متحدہ عرب امارات کا قومی دن پورے پاکستان میں نہایت جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا اور پاکستانی اخبارات نے اس موقع پر خصوصی سپلیمنٹ شایع کرکے اس دن کی اہمیت کو چار چاند لگا دیے۔ پاکستان اور یو اے ای کی قربتیں محض تجارتی اور ثقافتی ہی نہیں ہیں بلکہ جغرافیائی بھی ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عروس البلاد کراچی سے یو اے ای کی پرواز کم و بیش اتنی ہی ہے جتنی کراچی سے اسلام آباد تک۔ پاکستان سے یو اے ای اور یو اے ای سے پاکستان آنا جانا بعض لوگوں کا روزانہ کا معمول ہے۔ اس اعتبار سے اس فاصلے کو اگر گھر آنگن کا فاصلہ کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا۔

روزانہ کی اس آمد و رفت میں دبئی آنا جانا سرفہرست ہے۔ گویا دبئی نہ ہوا پاکستانیوں کا دوسرا گھر ہوا۔ چنانچہ ایکسپو 2020 کے لیے مقابلے میں دبئی کی تاریخی کامیابی پر پاکستان میں بڑا زبردست جشن منایا گیا۔ یہ جشن قطعی فطری تھا کیونکہ دونوں ممالک کے عوام کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں اور کیفیت یہ ہے کہ:

دو دل دھڑک رہے ہیں پر آواز ایک ہے
نغمے جدا جدا ہیں مگر ساز ایک ہے

دبئی نے جو کہ متحدہ عرب امارات کا اقتصادی اور تجارتی مرکز ہے، کانٹے کے اس مقابلے میں روس کے ایکاٹرنگ برگ کو بری طرح سے ہرا دیا۔ اس نے زبردست بین الاقوامی مقابلے میں برازیل کے شہر ساؤ پاؤلو اور ترکی کے شہر ازمیر نے بھی حصہ لیا۔ دبئی کی اس تاریخ ساز کامیابی کا سہرا اس کے سربراہ مملکت شیخ محمد کے سر ہے جن کی قیادت میں دبئی دن دگنی رات چوگنی ترقی کر رہا ہے۔ ایکسپو 2020 کو دبئی کی اقتصادی ترقی میں ایک نئی اور عظیم سنگ میل کی حیثیت حاصل ہوگی کیونکہ اس سے ریاست کے مختلف شعبوں میں بڑے نمایاں اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اکیلے سیاحت اور سفری شعبے میں روزگار کے دو لاکھ ستائیس ہزار نئے مواقع حاصل ہوں گے۔ اس عظیم الشان اور فقید المثال میلے کے انعقاد کے لیے جس جگہ کا انتخاب کیا گیا ہے اس کا رقبہ 1,082 ایکڑ پر محیط ہے جوکہ دبئی کے بین الاقوامی ایئرپورٹ اور امارات کی راجدھانی ابوظہبی کے درمیان واقع ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب اس عظیم الشان میلے کے انعقاد کے لیے کسی عرب ملک کو میزبانی کا شرف حاصل ہوا ہے۔

پاکستان کا نجی شعبہ دبئی کی اس تاریخ ساز کامیابی کا جشن منانے میں پیش پیش رہا۔ اس موقع پر کراچی شہر کی اہم ترین گزر گاہ شاہراہ فیصل پر واقع ایف ٹی سی کی مشہور عمارت سے متصل تھیم پارک میں ایک معروف نجی کمپنی کے زیر اہتمام دبئی اور پاکستان کے جھنڈے لہرائے گئے اور اس خوبصورت پارک کو پورے دو ہفتے کے لیے اس جشن مسرت کے لیے وقف کردیا گیا۔ لوگوں کا ایک جم غفیر اس دلکش اور دلفریب نظارے سے لطف اندوز ہونے کے لیے جمع تھا جس میں دبئی کی ثقافت کی بھرپور عکاسی کی گئی تھی، جو اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان کے عوام کی نظر میں دبئی کو ایک خصوصی اہمیت اور مقام حاصل ہے۔ پاکستانی عوام اور نجی شعبے کی دبئی کے لیے یہ زوردار حمایت جذبہ خیر سگالی کا انتہائی قابل ستائش اور لائق تحسین مظاہرہ ہے۔ مذکورہ نجی کمپنی نے اظہار مسرت کے طور پر تھیم پارک میں نہ صرف دبئی کے پرچم لہرائے بلکہ بڈ کی حمایت میں خوبصورت Bill Boards بھی آویزاں کیے جس نے سرکاری سطح پر بڈ کی حمایت نہ ہونے کی کمی کا مکمل طور پر ازالہ کردیا۔ امید ہے کہ دبئی کی حکومت نے اس بات کا ضرور نوٹس لیا ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔