میں نے انسانی دلچسپی کے موضوع کو ’خبر‘ بنایا، میری پہلی خبر پر حمید نظامی نے فون کرکے بلایا

رضوان طاہر مبین  اتوار 29 نومبر 2020
تجربہ کار صحافی علی اختر رضوی (مرحوم) کی وفات سے کچھ دن پہلے کی گئی ایک یادگار گفتگو، سیاست اور صحافت سے جُڑے دل چسپ انکشافات

تجربہ کار صحافی علی اختر رضوی (مرحوم) کی وفات سے کچھ دن پہلے کی گئی ایک یادگار گفتگو، سیاست اور صحافت سے جُڑے دل چسپ انکشافات

ابھی یہ فاصلوں کی وبا ’کورونا‘ ہمارے ہاں نہیں پہنچی تھی۔۔۔ تب ہم نے اپنے عہد کے ایک بزرگ صحافی علی اختر رضوی سے یہ ملاقات کی۔۔۔ انٹرویو تو ہم نے بہتیرے کیے۔۔۔ لیکن اتنی زیادہ طویل گفتگو کسی سے بھی نہیں ہوئی۔۔۔ ان کی زندگی کی آٹھ دہائیوں کا احاطہ جو تھا۔۔۔

ہم گفتگو کے درمیان سوال کی نقب لگانے کی کوشش کرتے، تو وہ ’ابھی بتاتا ہوں‘ کے لطیف تکیۂ کلام کے ساتھ پہلے زیرِسخن موضوع کو تمام کرتے، پھر ہمارے جواب کی باری آتی۔۔۔ تبھی پہلی بار ہمیں کوئی انٹرویو باقاعدہ دوسری نشست تک بڑھانا پڑا۔۔۔ انٹرویو کے کچھ دن بعد انھوں نے لندن جاتے ہوئے ہمیں کال کی۔

بالخصوص وہ اپنی فراہم کردہ تصاویر کے ’کیپشن‘ کے حوالے سے کہہ رہے تھے، کہ ہم پوچھ لیں۔ ہم نے کہا ’وٹس ایپ‘ تو لندن میں بھی چلتا ہے، ہم وہاں کال کر کے پوچھ لیں گے۔۔۔ لیکن ہمیں نہیں پتا تھا کہ وہ جہاں جانے والے ہیں، وہاں واقعی ’وٹس ایپ‘ سمیت کسی بھی رابطے کو رسائی نہیں۔۔۔ 2 اپریل 2020ء کو وہ لندن میں انتقال کر گئے۔۔۔! اِدھر ہم ’کورونا‘ کے سبب تلپٹ دفتری امور میں بے بس۔۔۔! ہر دوسرے منگل کو آنے والا ’شخصیت‘ کا صفحہ ہی موقوف ہے۔۔۔ اس لیے تاخیر در تاخیر ہوتی ہی چلی گئی۔۔۔ بالآخر اس یادگار ملاقات کا احوال نذرِ قارئین ہے۔۔۔

انھوں نے بتایا کہ 1939ء میں لکھنؤ میں آنکھ کھولی، والد سید اظہار حسین کا ذریعۂ معاش وکالت تھا، ان کی زمینوں کی پیداوار گھر پر نہیں آتی تھی، والد کہتے کہ کھیتی اسی کی ہوئی، جو اس پر کام کرتا ہے۔ سات بھائیوں میں وہ چھٹے نمبر پر تھے۔ چھوٹے بھائی لندن میں ہیں۔ بڑے بھائی علی مظہر رضوی کے ہم جماعت سجاد ظہیر، شوکت صدیقی اور کیفی اعظمی وغیرہ جیسے ترقی پسند تھے۔ انھوں نے ایک ماہ نامہ ’ترکش‘ بھی نکالا، پھر یہاں وہ ’محکمۂ اطلاعات‘ میں رہے۔

ہندوستان میں گھر تقریباً ہزار گز کا تھا، جہاں ان مشاہیر کی بیٹھک رہتی تھی، وہ دو تین بجے اسکول سے لوٹتے، تو یہاں آداب، سلام کر کے گزرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ لکھنؤ میں ’آداب‘ زیادہ ہے۔ اب بھی وہاں بیش تر ہندو مسلمان کو ’آداب‘ ہی کہتے ہیں۔ ہمارے اندر یہ ’آداب‘ رچ بس گیا، میرے اپنے پوتے اور نواسے نواسیاں وغیرہ روزانہ سو کر اٹھتے ہیں، تو مجھے آداب عرض کرتے ہیں اور میری دعا اور پیار لیتے ہیں۔

علی اختر رضوی نے اپنے دادا کو نہیں پایا، کم سنی میں دادی کو دیکھا، ان کا آبائی علاقہ امرائے گائوں، لکھنؤ سے پانچ میل دور ہے، اہل خانہ کی وابستگی مسلم لیگ سے تھی، اس لیے وہ بٹوارے کے بعد بھی خود کو مسلم لیگی سمجھتے۔ پڑوس میں چوہدری خلیق الزماں کے ہاں راہ نمائوں کی آمدورفت رہتی۔ کہتے ہیں کہ 1947ء میں آزادی کے جشن میں ترنگا لہرایا گیا، تو میں نے سلامی نہیں دی، ہر 15 اگست کو ’سینٹ جوزف اسکول‘ میں یہی کرتا۔ ہم نے اس پر گرفت ہونے کا سوال اٹھایا، تو بولے کہ وہاں عام لوگوں کو داخلہ نہیں ملتا تھا۔

اس لیے بات کبھی بڑھی نہیں۔ بڑے بھائی علی مظہر رضوی کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے فعال رکن تھے، ان کے کہنے پر چوتھی جماعت سے کمیونسٹ پارٹی کے دفتر جانے لگا، وہاں ’پیسہ‘ اخبار پڑھتا، جس میں احتجاج، مظاہرے اور ہڑتالوں کی خبریں بھری ہوئی ہوتی تھیں۔ انھوں نے لکھنؤ سے اردو کے پندرہ، بیس اردو اخبارات کا ذکر کیا، تو ہم نے ہندی اخبارات کا پوچھا، وہ بولے کہ آتے ہوں گے، لیکن ہمارے گھر میں صرف اردو آتے تھے، اردو کے دو پرچے، کٹر ہندو پرچارک بھی تھے۔

بٹوارے کے حوالے سے وہ بولے کہ کان پور تک تو کچھ مذہبی کشیدگی ہو جاتی تھی، لیکن لکھنؤ میں پہلی بار ’گاندھی جی‘ کے قتل کے بعد ’ہندو مسلم‘ تنائو ہوا، کیوں کہ یہ تو بعد میں تصدیق ہوئی کہ انھیں کسی مسلمان نے نہیں مارا۔۔۔

وہ کہتے ہیں کہ 1948ء میں ایک کٹّر ہندو کے محرم کے جلوس کے وقت سنک بجانے کے اعلان پر ماحول کشیدہ ہوا۔ ڈپٹی کمشنر نے گائوں کے ہندو اور شیعہ مسلمان مردوں کو حفاظتی تحویل میں لے لیا۔ بعد میں یہ معاملہ حل ہوا، لیکن پہلے ہی سنک بجا دیا گیا۔۔۔ جس پر بڑے بھائی علی مظہر نے پولیس افسر کو تھپڑ مار دیا کہ تو یہاں بیٹھا ہوا ہے، کیسے بجا؟ اُدھم مچ گیا، گرفتار ہوگئے، اگلی صبح مجسٹریٹ کے سامنے ضمانت ہوئی۔

ہم نے پوچھا ذہن میں تھا کہ لکھنؤ پاکستان میں شامل ہوگا؟ تو نفی کی اور بتایا کہ ہم ’بچہ مسلم لیگ‘ میں تھے، بس یہ پتا تھا کہ ’’بٹ کے رہے گا ہندوستان، لے کے رہیں گے پاکستان!‘‘ 1946ء کے انتخابات سے قبل بیس، پچیس لڑکے مسلم لیگ کا جھنڈا لے کر مسلم بستیوں میں نعرے لگاتے۔۔۔ ہم نے پوچھا کہ ’یہ نہیں سوچتے تھے کہ پاکستان بنے گا تو پھر ہمارا کیا ہوگا۔۔۔؟‘ بولے کہ ہم بچے تھے یہ ہماری سوچ نہیں تھی۔

علی اختر رضوی 1950ء میں پاکستان آئے، اس حوالے سے بتاتے ہیں کہ کمیونسٹ پارٹی کالعدم ہوئی تو بھائی بھی گرفتار ہوئے، پھر ’کمیونسٹ پارٹی‘ نے اپنے مسلمان ارکان کو مسلم لیگ میں جانے اور پھر
پاکستان ہجرت کو کہا، بھائی لکھنؤ مسلم لیگ کے جنرل سیکریٹری بن گئے، مسلم لیگ والے نہیں چاہتے تھے کہ وہ جائیں، اسی طرح چوہدری خلیق الزماں بھی قائداعظم کی ہدایت کے برخلاف پاکستان آئے، قائد نے انھیں وہیں رہنے کو کہا تھا، کیوں کہ ہندوستان بھر کے مسلمانوں کی دیکھ بھال کے لیے کوئی راہ نما وہاں نہ تھا۔ وہ وہاں زمیں دار تھے، ان کا بہت زبردست مکان تھا، سب چھوڑ چھاڑ کر آگئے۔

ہم نے کہا جاگیریں تو ضبط ہوگئی تھیں سب وہاں؟ وہ بولے، سب۔ ’’یہ جاگیریں انگریزوں سے ملی تھیں؟‘‘ کہنے لگے ’یہ مجھے نہیں پتا۔۔۔‘ ہم نے استفسار کیا آپ کی زمینیں۔۔۔؟ سوچتے ہوئے بتایا کہ ’انگریزوں سے ہی ملی ہوں گی، میرے بزرگ چار، پانچ سو سال پہلے ایران سے آئے۔

’بھائی نے ایک دن پاکستان جانے کا اعلان کردیا کہ آج رات کی گاڑی سے جا رہا ہوں! تو میں نے اور پھر چھوٹے بھائی اور خالہ زاد بھائی ابصاررضوی نے بھی یہ ارادہ ظاہر کیا۔‘ گفتگو دوبارہ ہجرت سے جڑ گئی، وہ بولے’والدہ کا انتقال ہو چکا تھا، والد غیرمتعلق رہے، پھر وہ 1954ء میں آئے۔ ہم پہلے بہ ذریعہ ریل دہلی آئے، جہاں بِہار اور دلّی کے سیکڑوں مسلمان کھوکھراپار جانے کے لیے موجود تھے، انھیں ’جمعیت علمائے ہند‘ کے ارکان روکنے لگے، کہ اب حالات ٹھیک ہوگئے ہیں، آپ اپنے اپنے گھروں کو جائیں، کوئی مسئلہ ہے، تو ہم آپ کو ’جامع مسجد‘ میں ٹھیرا دیتے ہیں، لیکن ان کی کون سنتا، لوگ اپنے لُٹنے کی داستانیں لیے کھڑے ہوئے تھے!‘

ہم نے پوچھا کہ جب دلی آئے، تو واہگہ کیوں نہ چُنا، تو انھوں نے کہا یہاں بنا پاسپورٹ آمدورفت 1948-49ء سے بند تھی، اب سارا زور کھوکھرا پار کی طرف تھا۔

انھوں نے ہندوستان میں سات جماعتیں پڑھیں۔۔۔ پھر ایک برس ’مدرسۃ العلوم‘ میں پڑھے، جو پیر الٰہی بخش نے پی آئی بی کالونی میں علی گڑھ کی طرز پر قائم کیا تھا۔ جنوری 1953ء میں ’ڈیمو کریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن‘ کے احتجاج پر ریگل چوک پر گولی چلی، تو اسکولوں میں ہڑتال ہوگئی، ہم جلوس لے کر نکلے، جسے نیو ٹائون کی جامع مسجد پر پولیس نے واپس بھیج دیا۔

وہ آٹھویں جماعت میں ’سندھ مدرسۃ الاسلام‘ گئے، کہتے ہیں کہ یہ واحد اسکول تھا، جہاں بہ یک وقت سندھی، گجراتی، انگریزی اور اردو چار میڈیم تھے اور ہر ایک کے آٹھ، نو سیکشن ہوتے تھے! میں اردو میڈیم میں تھا، تین مضامین سائنس، ریاضی اور انگریزی گرامر کو پرنسپل سید ناصر حسین خود چیک کرتے اور کم زوری دیکھتے تو ’ڈیٹینشن کلاس‘ لکھ دیتے کہ چُھٹی کے بعد ہال میں کلاس لگا کر ازالہ کریں، وہ 1934ء میں علی گڑھ سے آئے تھے، انھیں اتنا یاد ہوتا کہ بتاتے کہ فلاں صفحہ اور فلاں سطر!

1956ء میں ’بی‘ گریڈ سے میٹرک کیا، اسی برس کو وہ اپنی زندگی کا ’ٹرننگ پوائنٹ‘ بھی قرار دیتے ہیں، جب کراچی میٹرک بورڈ کے ’ضمنی امتحان‘ پر پابندی کے خلاف صبغت اللہ قادری نے احتجاج کیا اور علی اختر ’ہائی اسکول سپلیمنٹری ایکشن کمیٹی‘ کے کنوینر بنے۔ صبغت اللہ اور ڈاکٹر عبدالودود نے یہ فیصلہ واپس کرا دیا، تو واہ واہ ہوگئی، اس کام یابی نے ایک نیا شعور پیدا کیا، جس کے نتیجے میں پھر ’این ایس ایف‘ بنائی گئی۔

دو سال قبل ’ایکسپریس‘ کے لیے ہمیں انٹرویو دیتے ہوئے صبغت اللہ قادری نے بتایا تھا کہ ’ڈی ایس ایف‘ کا مقابلہ کرنے کے لیے ’این ایس ایف‘ کا ڈول دراصل حکومت نے ڈالا، لیکن بائیں بازو کے طلبہ نے اس میں شامل ہو کر اس تنظیم کا رخ ہی بدل دیا؟

علی اختر رضوی اس بات کی بھرپور تردید کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’ڈی ایس ایف‘ پر پابندی لگ گئی تھی۔ ’این ایس ایف‘ بنانے والے سارے بائیں بازو کے تھے، اس کا پہلا کونسل اجلاس تھیوسوفیکل ہال میں ہوا، میں پہلی ایگزیکٹو کمیٹی اور کونسل کا رکن تھا۔ حکومت نے تو رانا سکندر والی تنظیم بنائی تھی، جس کا نام یاد نہیں آرہا، اُن کے والد ’ڈی ایس پی‘ تھے، وہ اس پر رعب جماتے تھے۔ ساتھ میں ’گارڈن‘ کے علاقے کے مشہور بدمعاش رانا اظہر تھے، جنھوں نے ایک بار ’ڈی ایس ایف‘ کا کنونشن درہم برہم کیا تھا۔

علی اختر رضوی بتاتے ہیں کہ ایوب خان کے زمانے میں پکڑ دھکڑ سے بچنے کے لیے میں اپنے بھائی انفارمیشن ڈائریکٹر علی مظہر رضوی کے پاس قلات چلا گیا، چھے، سات ماہ بعد تبادلہ ہوا، تو بھائی کے ساتھ کوئٹہ ہو لیا، یہاں بھائی نے 70 روپے تنخواہ پرخبر ایجنسی ’پی پی آئی‘ میں لگوا دیا، 1960ء کے اوائل میں بھائی کا تبادلہ بطور ’ڈائریکٹر فلم اینڈ پبلی کیشنز، لاہور میں ہوا، تو میں بھی ساتھ گیا، مجھے پنجابی آتی، نہ کوئی جان پہچان، لیکن اس وقت کوئی تعصب نہ تھا، آٹھ سال لاہور میں رہا، مجھے بھائیوں سے زیادہ محبت ملی۔

تلاش معاش میں ایک بار ’زمیں دار‘ کے دفتر بھی گیا، وہاں شوکت بٹ کتابت کر رہے ہیں، وہی نیوز ایڈیٹر اور ایڈیٹر بھی تھے۔ پھر میں ’پی پی آئی‘ میں بیٹھنے لگا، ایوب خان کی پہلی اسمبلی کے اجلاس کے لیے اسلام آباد جانے والے ارکان کو لاہور میں ٹھیر کر ایندھن لینا تھا۔ ’پی پی آئی‘ کے میرعبدالحق نے مجھے اس موقع پر لاہور ایئرپورٹ بھیج دیا کہ یوں ہی چلے جائو، کوئی یہ نہ کہے کہ ہمارا نمائندہ نہیں۔ وہاں اَمروز کے عبداللہ ملک سمیت بہت سے نامی گرامی اخبار نویسوں میں، میں کسی کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ڈول رہا تھا، میں نے ایک صوفے پر محمد علی بوگرہ راجا غضنفر کو گفتگو کرتے ہوئے دیکھا، مخل ہونے پر معذرت کی، تعارف کرا کے محمد علی بوگرہ سے حسین شہید سہروردی سے متعلق پوچھا، جو اُس وقت اَسیر تھے، وہ بولے کہ بالکل غلط ہے۔

اتنا بڑا لیڈر ہے، اس نے پاکستان بنایا، اسے رہا ہونا چاہیے وغیرہ۔ میں نے یہ لکھا اور دفتر آکر میر عبدالحق کو بتا دیا۔ انھوں نے خبر بنا کر سارے اخبارات کو بھیج دی۔ وہاں رپورٹر ’خبری ایجنسیوں‘ کی خبریں بھی اپنی خبروں میں ملا لیتے تھے۔ محمد علی بوگرہ کی خبر پر ہر مدیر اپنے رپورٹروں سے پوچھے کہ تم کہاں تھے، وہ بولے کہ وہاں تو ’پی پی آئی‘ کا کوئی نمائندہ تھا ہی نہیں۔۔۔ کیوں کہ تب مجھے کوئی نہیں جانتا تھا، یوں کسی نے اس خبر کو اپنے کھاتے میں نہیں ڈالا اور سارے اخبارات میں یہ خبر ’پی پی آئی‘ کی ’بائی لائن‘ سے شایع ہوگئی۔ یوں 1960-61ء میں باقاعدہ صحافت کا آغاز ہوا، اس خبر کے بعد ’نوائے وقت‘ کے حمید نظامی کا فون آیا، وہ اردو بولنا توہین سمجھتے تھے۔

پنجابی میں پوچھنے لگے کہ کس نے خبر دی ہے، اور پھر انھیں بلایا، میرعبدالحق بولے ’جائو تمہارے لیے پاکستان کے مامے کا فون ہے۔۔۔!‘ وہ سمجھ رہا ہے کہ تُو ابصار رضوی (اختر رضوی کے خالہ زاد، جو ’پی پی آئی‘ میں تھے) ہے! نظامی صاحب بڑے تپاک سے ملے اور انھیں ’نوائے وقت‘ میں 300 روپے مہینے پر رکھ لیا اور کہا کل جنرل مینجر سعید صاحب سے اپائنٹمنٹ لیٹر لے لیں۔ اگلے دن گئے، تو سعید صاحب نے کہا ذرا نظامی صاحب آجائیں۔ مجھے حیرت تھی، کیوں کہ وہاں مشہور تھا کہ ایک بھی اردو والا نہیں اور یہ پنجابی بول رہے ہیں، میں خالص اردو میں جواب دے رہا ہوں۔ نظامی صاحب آئے، بولے کہ مجھے آپ کے جانے کے بعد پتا چلا کہ ہمارے ہاں جگہ نہیں ہے، پتا لکھوا دیں، جوں ہی جگہ بنی، ہم پہلے آپ ہی کو بلائیں گے۔ میں نے کہا میں تو وہاں سے استعفا دے کر آیا ہوںِ، لیکن وہ نہ مانے، میں مارے شرم کے دوبارہ ’پی پی آئی‘ نہیں گیا، ایک دن میرعبدالحق مل گئے، وہ گالی دے کر بات کرتے تھے، پنجابی میں بولے، ’پتا چل گیا تمھیں پاکستان کے مامے کا۔۔۔!‘ پھر وہ دوبارہ ’پی پی آئی‘ لے آئے۔

اگلے صحافتی پڑائو کا ذکر کرتے ہوئے علی اختر رضوی گویا ہوئے ’میرٹھ کے خالدلطیف ’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘ میں تھے۔ انھوں نے پاکستان کی پہلی اردو خبر ایجنسی شروع کی، وزیراطلاعات، پنجاب ’آل انڈیا مسلم لیگ‘ کی مجلس عاملہ کے ایک رکن عبدالوحید خان تھے، انھوں نے حکومتی مدد کا یقین دلایا۔ ’پی پی آئی‘ میں کبھی کبھی ضیاالاسلام انصاری آتے تھے، مظفرنگر (یوپی) سے تعلق تھا اور ’انجام‘ کراچی سے بھی منسلک رہے۔ وہ مجھے ’اردو نیوز سروس‘ لے گئے، یہ سائیکلو اسٹائل پر شروع ہوئی۔ ہم نے اپنی جگہ بنانے کے لیے ’ایکسکلوزو’ کام شروع کیا، اداروں میں جاکر باتوں باتوں میں خبر نکال لیتے۔ میں نے انسانی دل چسپی والی خبروں پر زور دیا، جیسے گھر سے مفرور لڑکیوں کے انٹرویو، جو وہاں ایک نجی ادارے ’خدمت خلق‘ میں لائی گئی ہوتیں۔

ہم نے پوچھا کہ ’ان کے اصلی نام کے ساتھ۔۔۔؟‘ تو وہ بولے کہ ’’بالکل! تصویر کے ساتھ۔۔۔‘‘

’انھیں پتا ہوتا تھا کہ یہ گفتگو اخبار کے لیے ہے؟‘ ہم نے اگلا سوال کیا، تو انھوں نے کہا کہ بالکل، اور یہ بالکل نئی چیز تھی، جو بہت مقبول ہوئی اور یہ انٹرویو نوائے وقت، امروز اور ’کوہستان‘ میں شایع ہوتے اور چرچا ہوتا۔ میں وہاں واحد غیرمقامی تھا، تو دراصل میں اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہا تھا، ادھر صوبائی وزیرعبدالوحید خان نے ’اردو نیوز سروس‘ سے وعدہ پورا نہیں کیا، باہر سے منگائے گئے اردو ٹیلی پرنٹر کراچی کسٹم پر ضبط ہوگئے، کیوں کہ ڈیوٹی دینے کو پیسے نہیں تھے۔

پھر مشہور فوٹو گرافر اقبال زیدی کے توسط سے 373 روپے مہینے پر علی اختر روزنامہ ’کوہستان‘ آگئے۔ یہاں ’نوائے وقت‘ سے الٹ ماجرا بتاتے ہیں کہ مالک عنایت اللہ پنجابی تھے، لیکن وہ اردو کے لیے کسی پنجابی کو بہتر خیال نہیں کرتے تھے، اور بالخصوص ’اہل زبان‘ رکھتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’کوہستان‘ آفسٹ پر شایع ہونے والا پہلا اردو اخبار تھا، یہی پہلا اخبار ہے، جس نے رپورٹروں کی تصاویر دیں۔ ’’میں اسمبلی کی تفصیلی کارروائی پر مبنی پورا صفحہ لکھتا، اب تو صرف چند موٹی موٹی باتیں دے دیتے ہیں، پہلے ہر خبر کا ایک ’انٹرو‘ ہوتا تھا، پورے صفحے کی خبر تین سطروں میںِ۔۔۔! پہلے وہ پڑھیں، پھر ’تفصیلات کے مطابق۔۔۔‘ اس وقت کے رپورٹر ہوتے تھے بھائی۔۔۔!‘‘ انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’کوہستان‘ قائداعظم کے ساتھی جعفرجمالی کے پیسے سے شروع ہوا، عنایت حسین اور نسیم حجازی مالک تھے۔ 1962ء کی چین ہندوستان جنگ میں ’کوہستان‘ کی اشاعت 70، 80 ہزار تک جا پہنچی، دو کاپیوں کے بہ جائے چھے کاپیاں شایع ہونے لگیں، پہلی ڈاک کاپی چار بجے نکلتی، یوں ’کوہستان‘ کو 80 لاکھ روپے کا منافع ہوا۔ عنایت حسین بولے کہ کارکنوں کی تنخواہ دُگنی کردو اور برابر کے پلاٹ پر ان کے لیے گھر بنا دو، تاکہ جیسے ہی ’ضمیمے‘ وغیرہ کی ضرورت ہوا کرے، ہم انھیں فوراً بلا لیں۔ نسیم حجازی نہیں مانے، تو انھوں نے استعفا دے دیا اور مجھ سمیت 15 ملازمین بھی ساتھ مستعفی ہوگئے اور پھر انھوں نے ’مشرق‘ لاہور کا ڈیکلریشن لیا۔ کاغذ اور پریس کا مسئلہ چوہدری ظہور الٰہی نے حل کیا، یہ نیشنلائز ’پاکستان ٹائمز‘ کے مالک تھے۔

یوں دو سال ’کوہستان‘ میں کام کرنے کے بعد علی اختر رضوی ’مشرق‘ کا حصہ بن گئے، جہاں 35 برس رہے، 1963ء تا 1967ء ’مشرق‘ لاہور میں رہے، یہاں شفٹ دیکھتے، کاپیاں جڑواتے اور پلیٹیں بنواتے، کہتے ہیں جہاں سے بھی ’مشرق‘ کا اجرا ہوتا، مجھے بطور خاص ’چیف رپورٹر‘ بھیجا جاتا، 1967ء میں کراچی سے ’مشرق‘ نکلا۔ ’جنگ‘ کے چار، چھے صفحے تھے، تب ’مشرق‘ 12 صفحے پر نکلا، اتوار کو ’میگزین‘ اخباری صفحات کے بہ جائے ’میگزین‘ کی شکل میں شایع ہوتا۔

1972ء یا 1973ء، میں مشرق ’کوئٹہ‘ شروع ہوا۔ کہتے ہیں کہ اکبربگٹی اور خیر بخش مری سے گفتگو کبھی خوش گوار نہیں ہوتی تھی، کیوں کہ وہ اردو اخبارات سے گریزاں اور ناراض رہتے۔ جلاوطن عبدالغفار خان قندھار سے براستہ چمن کوئٹہ آئے، ان سے ملاقات ہوئی، لیکن وہ سیاست پر بات کیے بغیر پشاور چلے گئے۔ میں نے ’پی ٹی وی‘ راول پنڈی سے ان کی آمد پر ایک پروگرام بھی کیا۔ کہتے ہیں کہ 1950ء کی دہائی میں ’دائود چورنگی‘ کراچی کے جلسے میں پنجابیوں کے لیے ’بے غیرت‘ اور ’بے شرم‘ کے الفاظ سن کر میرے ان سے متعلق خیالات اچھے نہ تھے، میں جس تہذیب وتمدن سے آیا تھا، وہاں یہ پسند نہیں کیا جاتا تھا، اُن کا قیام محمود الحق عثمانی کے ہاں تھا، ان سے ذکر کیا تو وہ بولے ’بیٹا اختر، یہ مخلوط شہر ہے۔‘

علی اختر رضوی نے بتایا کہ ذوالفقار بھٹو کی پریس کانفرنس میں چُبھتے ہوئے سوال پوچھنے کے باعث انھیں ’جماعتیہ‘ سمجھا جانے لگا، پھر جب بھٹو آئے، تو انتقاماً ایک سال میں سات تبادلے کرائے گئے، یہ نہیں کہہ سکتا کہ بھٹو نے کرائے۔ پھر بے نظیر کے زمانے میں بھی یہی ہوا، وہ میرے خلاف تھیں۔۔۔

اُن کے خیال میں ان کے تبادلوں کے پیچھے ارشاد رائو، تھے، جو ’مشرق‘ میں ساتھ تھے اور الفتح بھی نکالتے تھے، کہتے ہیں وہ بیگم نصرت بھٹو کے قریب تھے۔ ایسا بھی ہوا کہ ابھی تین چار ماہ کے بیٹے کے ساتھ لاہور پہنچا، ٹرک پر سامان ہے۔ مکان بھی کرائے پر لے لیا، پتا چلا کہ تبادلہ کوئٹہ ہوگیا۔۔۔! پھر ہم جب سرکاری ٹرسٹ کا اخبار ’مشرق‘ جاری کرنے پہنچے، تو یہ تاثر گیا کہ ذوالفقار بھٹو نے صوبائی حکومت کے خلاف بھیجا، کیوں کہ عطا اللہ مینگل کی حکومت ابھی نئی نئی بنی تھی، انھوں نے ’بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن‘ (بی ایس او) کو ہمارے پیچھے لگا دیا۔

عبدالحئی بلوچ اور ڈاکٹر عبدالمالک اسی میں ہوتے تھے، ایک دن ’بی ایس او‘ کو یہ شکایت ہوئی کہ ’مشرق‘ میں انھیں صحیح جگہ نہیں ملتی، انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’مشرق‘ میں ہمارا 50 فی صد کوٹا ہونا چاہیے، ان کے ’ملٹنٹ گروپ‘ میں حاصل بزنجو تھے، ماردھاڑ سے بھرپور، لیکن بدمعاش نہ تھے۔ ہم نے کہا آپ ہمارے معیار کے جتنے لڑکے لا دیں گے، ہم رکھ لیں گے، لیکن وہاں تعلیم اتنی تھی ہی نہیں۔

بلوچستان اسمبلی کی خبرنویسی کے دوران وہاں حزب اختلاف کے عبدالصمد اچکزئی سے اچھی سلام دعا ہوگئی، وہ اکثر ٹہلتے ہوئے ’مشرق‘ آجاتے، دوسری طرف میرے سوالات عطا اللہ مینگل اور ان کے وزیراطلاعات پر گراں گزرتے تھے۔ کشیدگی بڑھی، ایک دن ’بی ایس او‘ نے دفتر میں توڑ پھوڑ کی، میں نے گورنر بلوچستان غوث بزنجو کو کال کی، پی۔ایم کوٹی ان کے سیکریٹری ہوتے تھے، گورنر نے لڑکوں سے بلوچی میں کچھ کہا تو وہ وہاں سے چلے گئے۔ پھر جب ’حکومت بلوچستان‘ نے پنجابی پولیس اہل کاروں کو واپس بھیجنے کا کہا، تو اس پر غور کے لیے وفاقی وزیرداخلہ خان عبدالقیوم خان آرہے تھے۔ عطا اللہ مینگل نے ان کی ٹرین ’آبِ گم‘ پر رکوا دی، کئی گھنٹے مذاکرات کے بعد رات گیارہ، بارہ بجے آنے دیا، لیکن اگلی ہی صبح وہ واپس چلے گئے، پتا نہیں مذاکرات ہوئے یا نہیں۔۔۔

ایک سال بعد وہ چھٹی پر کراچی آئے، اور پھر ’مشرق‘ پشاور کے چیف رپورٹر ہوگئے، کہتے ہیں کہ مجھ سے پہلے ’چیف رپورٹر‘ نے اپنا تبادلہ رکوا دیا تو میں واپس ہوا، ایڈیٹر اقبال زبیری مجھے ناپسند کرتے تھے۔ ’مشرق‘ لاہور کے ایڈیٹر ضیا الاسلام انصاری سے کہا، تو انھوں نے اسلام آباد ’چیف رپورٹر‘ کے طور پر تبادلہ کرا دیا۔ یہاں 1973ء کے دستور کی تیاری سے دستخط تک کے مراحل کور کیے۔ وہ کہتے ہیں کہ اسلام آباد ’بیورو‘ میں عثمانی صاحب اور وہ دونوں بہ یک وقت ’انچارج‘ ہوگئے تھے، اس لیے طے کر لیتے تھے کہ کہاں کون جائے گا۔

وہ پنڈی کے پرانے اور مشہور آدمی تھے، مکمل نام یاد نہیں، اس دوران سردار شوکت حیات بیرون ملک شیخ مجیب الرحمن سے مل کر لوٹے، انھوں نے کہا کہ شیخ مجیب اب بھی کسی نہ کسی سطح پر پاکستان سے الحاق چاہتا ہے، یہ عثمانی صاحب ’کور‘ کر رہے تھے، لیکن اگلے دن ’مشرق‘ میں یہ خبر ہی نہیں! فون آگیا کہ آپ کہاں تھے، میں نے کہا کہ یہ تو عثمانی کو دینی تھی۔۔۔ میں یہ مسئلہ حکام کے علم میں لایا، پھر والد کے انتقال پر کراچی آیا، تو واپس نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ مجھے کراچی کے علاوہ پاکستان کا کوئی دوسرا شہر پسند نہیں آتا تھا۔ کچھ وقت بعد یہیں اسسٹنٹ رکھ لیا، 1974-75ء، تا 1977ء یہاں رہا، اور مشرق کا ’میگزین ایڈیٹر‘ ہوگیا۔

اپنی علالت کا ذکر کرتے ہوئے علی اختر رضوی نے بتایا کہ ’1977ء میں مجھ پر انجائنا کا حملہ ہوا، ڈیڑھ دو سال علاج کے بعد معالج نے لندن جا کر علاج تجویز کیا۔ ’مشرق‘ میں معاشی مسائل آگئے تھے، دفتر نے بیرون ملک علاج کا خرچ دینے سے انکار کر دیا۔ میرا چھوٹا بھائی لندن میں ’بی سی سی آئی‘ میں تھا، میں اللہ کا نام لے کر چلا گیا۔ جانے سے پہلے ایک 20 پیسے کے ڈاک کے لفافے میں ایک خط جنرل ضیا الحق کو بھیج دیا۔ لندن میں بائی پاس ہوا، وہاں شناسا ماحول دینے کی خاطر سرہانے ’ریڈیو پاکستان‘ لگایا ہوا تھا، انھیں تین دن بعد عین اس وقت ہوش آیا، جب خبروں میں بتایا جا رہا تھا کہ جنرل ضیا نے لندن میں زیرعلاج صحافی علی اختر رضوی کے علاج کے تمام اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔

اس وقت ساڑھے چار لاکھ کا خرچ ہوا۔ اب سرکاری ادارے سات، آٹھ ماہ ایک دوسرے پر ہی ڈالتے رہے، میں نے کہا میں یہاں ہوٹل میں ٹھیرا ہوا ہوں، اگر فوری طور پر نہیں دیں گے، تو پھر ’ڈیمیج‘ کلیم کروں گا، ابھی تک تو خود بندوبست کرلیا ہے، تب مسئلہ حل ہوا۔ اگر پہلے واپس آجاتا، تو مجھے ایک پیسہ نہ ملتا۔‘

دھمکیوں کے ذکر پر انھوں نے بتایا کہ 1990ء کی دہائی میں پریس ریلیز نہ چھاپنے پر ’پنجابی پختون اتحاد‘ کے لڑکے کلاشنکوف لے کر دفتر آگئے۔ خٹک نام سے مشہور عرفان اللہ مروت کا خاص آدمی تھا، پورا نام یاد نہیں۔ میں نے پریس ریلیز میں مغلظات پر توجہ دلائی تو اس کو بات سمجھ میں آگئی اور پھر وہ دوست بن گیا، ایک دن بولا کہ ’کلاشن‘ کا لائسنس چاہیے ہو تو بتائیں، میں نے کہا، میں نے کبھی چاقو نہیں رکھا۔‘

علی اختر رضوی اپنی ادارت میں نکلنے والے ’’ایوننگ اسپیشل‘‘ سے متعلق کہتے ہیں کہ اسے دیکھ کر ہی ’قومی اخبار‘ آیا۔‘

’’لیکن وہ تو بالکل الگ طرح کا اخبار تھا؟‘‘ ہمارے اس سوال پر وہ بولے کہ ’قومی‘ نے خود کو ’متحدہ‘ میں ضم رکھا، پھر اسی ’متحدہ‘ نے اپنے خلاف خبر چھپنے پر 15 دن ’قومی‘ بند رکھا، پھر جب کھلا، تو مدیر

الیاس شاکر کی الطاف حسین کے قدموں میں بیٹھے ہوئے تین کالمی تصویر صفحۂ اول پر بہ عنوان ’قائد کے حضور‘ چَھپی۔ ہم نے پوچھا کہ جب وہ ساتھ تھے، تو خلاف خبر کیسے شایع ہوئی؟‘ وہ بولے کہ غلطی تو

ہوجاتی ہے۔۔۔

وہ کہتے ہیں الطاف حسین جب عباسی شہید اسپتال میں جب بیمار حلیہ بنا کر تصویریں کھینچواتے تھے، تب ایک ’باغی‘ غالباً شوبی نام تھا، وہ ایک انحرافی رقعہ ان کے بستر کے نیچے رکھ کر چلا گیا، اسے ’بورڈ آفس‘ پر ہی گولی مار دی گئی! ’سخی حسن‘ اور ’ناگن چورنگی‘ کے درمیان ’حقیقی‘ اور ’ایم کیو ایم‘ کے درمیان آمنے سامنے فائرنگ ہوتی تھی۔ یہ میری گزرگاہ تھی، لوگ کہتے کہ دھیان سے گزرا کرو، میں کہتا کہ وہ بھی جانتے ہیں کہ میں کون ہوں۔ ایک دفعہ ’حقیقی‘ کے ایک لڑکے نے حالات سے تنگ آکر آفاق احمد کی تصویر کو جوتا مارا تو اُسے لڑکے اٹھا کر لے گئے، میرے پاس والدہ کی دُہائی آئی، تو میں نے اسے چھوڑنے کے لیے کہا، پھر اُسے بہت بُری حالت میں چھوڑا گیا۔

علی اختر رضوی خوں آشام کراچی کے باب میں بتاتے ہیں کہ ’’ہمارے دفتر کے سامنے فٹ پاتھ پر ’پی ایس ایف‘ (پیپلز اسٹوڈنٹ فیڈریشن) نے ’ایم کیو ایم‘ کے سات لڑکے مار دیے، دوسرے دن ’ایم کیو ایم‘ کا خالد بن ولید، جو ’کمانڈر‘ تھا، اس نے ’پی ایس ایف‘ کے ’کمانڈر‘ نجیب کو مار دیا۔‘‘ ہم نے پوچھا ’کیا مارنے والوں میں نجیب تھا؟‘ وہ بولے کہ نجیب تو کمانڈر ہے، اس کے حکم پر ہورہا تھا اور جہاں نجیب پر فائرنگ ہوئی، وہاں خالد بن ولید موجود تھا۔ جب نوازشریف ’نائن زیرو‘ آئے، تو ایک خالی تھیلی اڑتی ہوئی دکھائی دے گئی، الطاف حسین نے فاروق ستار کو آواز دی اور پھر وہ بہت دور تک اس اڑتی ہوئی تھیلی کے پیچھے دوڑے اور پھر اپنے ’قائد‘ کے سامنے آکر اسے اپنے کورٹ میں اڑسا، گویا دکھایا ہو کہ یہ میں لے آیا ہوں۔

’ایم کیو ایم‘ کی خبروں سے متعلق علی اختررضوی کہتے ہیں کہ اسے اہمیت کے حساب سے ہی جگہ دیتے تھے، اُن کے بقول انھیں پارٹی میں لینے کی بہت کوششیں کی گئیں۔ اشتیاق اظہر اور رئیس امروہوی سے بہت مراسم تھے، لیکن انھوں نے کبھی نہ کہا۔ ’ایم کیو ایم‘ کے جوائنٹ سیکریٹری طارق مہاجر کو ہمارے پاس پروف ریڈر داخل کرا دیا گیا تھا، اس نے بہت کہا کہ ’سیکٹر انچارج‘ سے ملیں، میں نے کہا ’کیا بکواس کرتے ہو، میں سیکٹر انچارج سے ملوں۔۔۔؟؟

’پی ایف یو جے‘ (پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ) کی دھڑے بندی کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ’ویج ایوارڈ‘ کے معاملے پر ہڑتال نہ کرنے پر منہاج برنا سے اختلافات ہوئے، اور میں ’غدار‘ قرار پایا، میں نے کہا تھا کہ جب ہمارے اخبار نے ’ویج ایوارڈ‘ دے دیا، تو ہم ہڑتال کیوں کریں؟ اس پر یہ گروپ ’دستوری‘ قرار پایا اور دوسرا ’برنا‘۔ اب میرا دونوں ہی سے کوئی تعلق نہیں۔ 1992ء کے بعد کبھی ’کراچی پریس کلب‘ کے پاس سے بھی نہیں گزرا۔ ضیا دور میں صحافیوں کی پہلی ہائوسنگ سوسائٹی ’ایپنیک ہائوسنگ سوسائٹی‘ بنائی، جس کے کرتا دھرتا اب دوسرے لوگ ہیں۔

تین قسطیں جمع کرا چکا تھا، چوتھی قسط کے لیے کوئی نوٹس بھی جاری نہیں کیا اور محروم رہ گیا، اس طرح انھیں ’پریس کلب‘ سے بھی کوئی پلاٹ نہیں ملا۔ پہلے صحافت میں بہت خاندانی لوگ ہوا کرتے تھے۔ 1970ء کے زمانے میں جب کم پڑھے لکھے لوگ آئے، تو یہ چلن ہوا کہ کوئی بھی چیز چھپتی، تو یہ صبح اخبار لے کر پہنچ جاتے تھے۔

’وٹس ایپ‘ پر خبریں ملنے کے حوالے سے علی اختر نے کہا ’اس سے آپ کا کوئی زاویہ خبر میں شامل ہی نہیں ہوتا۔۔۔!‘ انھوں نے ’پریس ریلیز‘ کو ’کمائی‘ کا ذریعہ قرار دیا تو ہم نے پوچھا ’’کیا پریس ریلیز خبر ہوتی ہے؟‘‘ وہ بولے کہ ہوتی تو ہے، جیسے کسی کا کوئی بیان ہے۔‘ ہم نے کہا ’جلسے کی ’پریس ریلیز‘ سے کیسے پتا چلے گا کہ جلسہ ہوا ہے یا نہیں، تصویریں کب اور کہاں کی ہیں؟‘ وہ بولے کہ رپورٹر کو ’کور‘ کرنا چاہیے، ورنہ اس پر ’’پ ر‘‘ لکھ کر شایع کرنا چاہیے۔

علی اختر رضوی کا خیال ہے کہ ٹی وی چینلوں نے پڑھنے کی عادت ختم کر کے اخبارات کو نقصان پہنچایا۔ اخبارات اپنا وجود برقرار رکھیں گے، خبر کی تفصیلات کی برتری آج بھی اخبار کے پاس ہے۔ ہمارے

چینلوں کی غیرفطری نشوونما ہوئی تھی، جس کے نتائج سامنے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ آج کے دور میں بھی اگر کوئی ایک کروڑ روپے دے، تو چھے مہینے میں اُسے وصول کرا سکتا ہوں، مشتہرین قطار بنا کر اشتہار دینے کھڑے ہوں گے، لیکن شرط یہ ہے کہ چھے مہینے سے پہلے میرے کام میں مداخلت نہ ہو۔ ہم نے کہا کہ ’کیا وہ اخبار بھی ’ایوننگ اسپیشل‘ کی طرح نکالیں گے؟‘ بولے اسے چھوڑیے۔۔۔ ہم نے کہا پھر آپ کس طرح کے قارئین کو متاثر کریں گے، شام کے اخبار کے یا صبح والے، وہ بولے دونوں کو۔

علی اختر رضوی نے ’سرکاری‘ اخبار میں اپنے خودمختارارنہ فیصلوں کا ذکر کیا، تو ہم نے پوچھا کہ اتنی آزادی تھی آپ کو؟ وہ بولے کہ آزادی تو سب مدیروں کو ہوتی ہے، لیکن وہ دال روٹی کے چکر میں پڑ جاتے ہیں۔۔۔ فرانس میں جب پابندیاں لگیں اور وہاں کی اسمبلی میں ماردھاڑ ہوئی، تو ہمارے جیسے ایک ’پاگل رپورٹر‘ نے ہوٹل میں دو اشخاص کی لڑائی کے پس منظر میں اسمبلی کی ساری روداد لکھ دی!‘
وہ کہتے ہیں کہ سیکریٹری اطلاعات شاہ جہاں کریم کی شکایت پر مجھے ’محکمہ اطلاعات‘ سے فون آجاتا کہ کیوں اپنی نوکری کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔

ایک مرتبہ ’ڈیلی اسٹار‘ میں بھوپال کے گیس کے حادثے کے بعد کراچی کے لیے بھی ایسے خدشے کا اظہار کیا گیا، ’ڈیلی اسٹار‘ صرف دو، تین ہزار چھپتا تھا، میں نے اس خبر کو ترجمہ کر کے ’شہ سرخی‘ بنا دیا، اس پر شاہ جہاں کریم نے بہت ’لوز ٹاک‘ کی، میں نے بھی جواباً گالیاں دیں۔ بات وزیراعظم محمد خان جونیجو تک پہنچ گئی۔۔۔ ’ایوننگ اسپیشل‘ ٹرسٹ کا سب سے زیادہ چلنے والا پرچا تھا اور سارے نقصانات کا ازالہ کر رہا تھا، ضیا الاسلام زبیری نے کہہ سن کر معاملہ ختم کرادیا۔

علی اختر رضوی کہتے ہیں کہ نواب مظفر حسین کی تحریک کے زمانے میں بھارت کا مطبوعہ ’سندھو دیش‘ کا مواد ’مشرق‘ میں شایع کیا۔ 1960ء میں کوئٹہ کے ’زمانہ‘ اخبار میں مضمون لکھنے کا سفر بعد میں ’سورج تلے‘ کے عنوان سے کالم کی صورت میں بھی رہا، پھر وہ ’اب تک‘ کے ملازم تھے، تو اس کی ویب سائٹ پر لکھنے لگے۔

٭ ’’ایوننگ اسپیشل‘‘ کے اجرا میں ضیا الحق کا ہاتھ بھی تھا؟
علی اختر رضوی بتاتے ہیں کہ 1982-83ء میں وہ لندن سے لوٹے تو ’مشرق‘ میں مالی بحران تھا، انھوں نے چیف ایڈیٹر ضیاالاسلام انصاری کو خسارہ کم کرنے کے لیے شام کے اخبار کی تجویز دی، وہ لندن سے مختلف اخباری تراشوں کا ’بَکسا‘ بھر کر لائے تھے۔ یوں ’مشرق‘ کے دفتر سے ہی ’’ایوننگ اسپیشل‘‘ کی شروعات ہوئی۔

ان کے ساتھ اطیب صاحب تھے اور ایک کرائم رپورٹر، جو ہر تھانے کے کسی نہ کسی ہم زبان پشتون سپاہی سے خبریں نکلوا لیتا، کراچی کی تاریخ میں ایسا کوئی ’کرائم پورٹر‘ نہیں گزرا کہ ’آئی جی‘ اس کے دفتر کے نیچے اس کا انتظار کرے، لیکن پھر ’ایوننگ اسپیشل‘ کو بھی خسارے کے باعث بند کیا جانے والا تھا کہ اچانک اداکار وحیدمراد کا انتقال ہوگیا۔ یہاں انھوں نے کچھ گفتگو کو ’آف دی ریکارڈ‘ کا قیدی کیا، بس اتنا لکھنے کی اجازت دی کہ ہم نے وحید مراد کی موت کے پوشیدہ رازوں سے پردہ اٹھایا۔ 15 دن تک اس حوالے سے ’ایوننگ اسپیشل‘ میں چیزیں شایع ہوئیں اور دو، تین ہزار بکنے والا اخبار 60 سے 70 ہزار تک جا پہنچا۔

وہ کچھ توقف کیے، تو ہم نے ’ایوننگ اسپیشل‘ کی ’زردصحافت‘ کا ذکر چھیڑ دیا، وہ کہتے ہیں کہ تب تک میں ’گولڈن ہینڈ شیک‘ لے چکا تھا، غالباً 1996ء تک وہاں رہا، پھر یہ نجی ہاتھوں میں چلا گیا۔

’آپ کے ’’ایوننگ اسپیشل‘‘ میں کیسی خبریں ہوتی تھیں؟‘ ہم نے منطقی انداز میں استفسار کیا۔ وہ بولے کہ شوبز اور کرائم کی چٹ پٹی خبریں اور سب سے بڑی خصوصیت یہ کہ پنجاب کے شہروں میں کیا ہو رہا ہے۔ اس کے لیے روزانہ لاہور کے اخبارات ’پی آئی اے‘ سے آتے، ان میں سے جرائم اور ’انسانی دل چسپی‘ کی مخصوص خبریں اپنے انداز میں لکھتا۔

ہم نے ’چٹ پٹی‘ خبروں میں حقائق کا پوچھا، تو وہ بولے بالکل حقائق۔۔۔! ہم پر کوئی ’لیگل نوٹس‘ نہیں ہوا۔ لوگوں کے جذبات ضرور متاثر ہوئے، مثلاً بے نظیر کے۔۔۔ کیوں کہ ہم نے اداکارہ ’نیلی‘ اور بے نظیر کی تصویر اور خبر ساتھ ساتھ لگا دی۔

’وہ کیا خبر تھی؟‘ کہنے لگے کہ روزمرہ کی ہی خبر تھی، ہم عام خبروں میں سے ہی اپنی ’خبر‘ نکالتے تھے۔۔۔

’’ایک صبح کے اخبار کی خبر میں اور آپ کی خبر میں کیا فرق ہوتا تھا؟‘‘ ہم نے گویا معیار کا ترازو ان کی سمت بڑھانا چاہا، وہ بولے کہ بہت فرق ہوتا تھا۔۔۔ 1990ء کی دہائی میں کراچی میں قتل وغارت ہوتی تھی، ایک دن 74 آدمی مارے گئے، ہماری سرخی تھی ’کراچی میں بے نظیر قتل عام!‘ نصیر اللہ بابر کے زمانے میں ’ایم کیو ایم‘ کے خلاف آپریشن ہوا، تو سرخی لگائی کہ ’الکرم اسکوائر تاریکی میں ڈوب گیا۔‘

’’لیکن ہم نے تو ’ایوننگ اسپیشل‘ میں حقائق کے خلاف سرخیاں بھی دیکھیں؟‘‘ ہم نے کہا تو وہ تردید کرتے ہوئے بولے کہ ’یہ ہمارے بعد ہوا، ہماری سرخیاں چونکا دینے والی ہوتی تھیں۔‘

’سنجیدہ صحافت‘ سے ’شام کے اخبار‘ کی طرف آنے کے استفسار پر وہ کہتے ہیں کہ جب آپ کو کوئی نئی چیز لانی ہے، تو کچھ تو کرنا ہوتا ہے۔ ہم نے شام کے اخبارات کو ایک رجحان دیا۔ وہ اپنے جاری کردہ ’ایوننگ اسپیشل‘ کو ’زرد صحافت‘ کہنے سے انکاری ہوئے، تو ہم نے پوچھا ’’اس میں جرائم، شوبز نمایاں اور سنسنی ہوتی تھی؟‘‘ وہ بولے کہ ’جرم، شوبز کے ساتھ ’قومی سیاست‘ بھی برابر کی ہوتی تھی۔ ’زرد صحافت‘ تو پگڑی اچھالنا اور بلیک میلنگ ہوتی ہے۔‘

’’کیا صرف ’قومی سیاست‘ ہونے سے آپ اسے ’زرد صحافت‘ سے نکال دیں گے، جب کہ آپ جرائم کی خبروں کو نمایاں جگہ دے رہے ہیں، اور سنسنی بھی پھیلا رہے ہیں؟‘‘

وہ بولے کہ سنسنی میں نہیں پھیلا رہا، وہ تو سرخیاں ہیں اور خبر ہی کی تو سرخی ہے، اسے سنسنی آپ کہہ سکتے ہیں، لیکن میں نہیں۔۔۔ جیسے روزنامہ ’آزاد‘ تھا، عباس اطہر مدیر تھے، اس کی سرخی تھی ’مودودی ٹھاہ‘ یہ سنسنی کیسے ہوگئی۔۔۔؟‘ ہم نے گفتگو میں بے ساختہ ’’اِدھر اہم، اُدھر تم‘‘ کی مشہورِزمانہ سرخی کا ٹکڑا لگایا، تو بولے کہ ’وہ تو ہم نے بھی ’مشرق‘ میں چھاپی، چوکھٹے میں۔‘

وہ ’ایوننگ‘ میں رپورٹروں کی بلیک میلنگ اور ’چھاپا مار کارروائیوں‘ کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ میرے زمانے میں نہیں تھا۔ فلمی اداکارائوں کی بھی جو تصاویر آتی تھیں، ویسی تو ’جنگ‘ کے فلمی صفحے پر بھی آجاتی تھیں۔ ہمارے ’ایوننگ اسپیشل‘ کے لوح کے بالکل نیچے سرکاری یا جنرل ضیا الحق کی خبر ہوتی، کہ سرکار ناراض نہ ہو، ایک موقع پر تو ضیا الحق نے ’ایوننگ اسپیشل‘ کو اپنا اخبار کہا، اس کے اجرا میں ان کا ہاتھ بھی تھا۔ اُن کی اس بات پر ہمارا حیران ہونا بجا تھا، وہ بولے کہ وہ اس لیے کہ ضیا انصاری ان کے بہت قریب تھے۔

٭ اختر رضوی نے ’اے پی ایم ایس او‘ بنوائی۔۔۔!
وہ کہتے ہیں کہ ’ایم کیو ایم‘ کے مرکزی تھنکر لیفٹسٹ اختر رضوی تھے، انھوں نے جامعہ کراچی کے لڑکوں کو متحرک کر کے ’اے پی ایم ایس او‘ (آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن) بنوائی۔ رئیس امروہوی اور اشتیاق اظہر بھی ساتھ تھے، لیکن اس کے بیج بونے والے اختر رضوی تھے، انھوں نے مہاجر لڑکوں کو کہا کہ مشرقی پاکستان کے لڑکے زبان کے مسئلے پر ملک بنا سکتے ہیں، تو تم کیوں نہیں۔۔۔! یہ سب انھوں نے خود مجھے بتایا اور فرسٹ ایئر میں مجھ سے کہا کہ اپنا نام تبدیل کرلو، ورنہ نقصان اٹھائو گے اور وہ موقع بھی آگیا۔

انھوں نے بھٹو کے زمانے میں 800 صفحات کا سندھی انسائیکلو پیڈیا لکھا، جسے کوئی شایع کرنے پر تیار نہ ہوا، آخر ’سندھی ادبی بورڈ‘ اور دیگر کے رویے سے تنگ آکر انھوں نے ’پریس کلب‘ پر اسے نذرِآتش کرنے کا اعلان کردیا۔ ’جنگ‘ میں خبر لگی، تو میرے بھیا علی مظہر رضوی، وزیراعلیٰ مصطفیٰ جتوئی کے پریس سیکریٹری تھے، ان کا فون آگیا کہ آپ صاحبِ کتاب کب سے ہوگئے۔۔۔؟ پھر مجھے ’مشرق‘ میں تردید کرنا پڑی، معلوم نہیں اُس انسائیکلو پیڈیا کا کیا ہوا، لیکن انھیں گرفتار کرلیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اختر رضوی ’ایم کیو ایم‘ کے معتوب ہو کر روپوش ہوتے رہے، پھر ’حقیقی‘ بننے کے بعد سامنے آئے، لیکن انھوں نے کام نہیں کیا۔ اِس اختلاف کا سبب وہ یہ بتاتے ہیں کہ وہ کہتے تھے کہ میئر شپ میرا حق ہے فاروق ستار کا نہیں۔

٭ کراچی سے لڑکے میٹرک کرنے پنجاب جاتے تھے!
علی اختر رضوی کے گھر والے انھیں ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے اور وہ سائنس سے بھاگتے تھے، ہنستے ہوئے بتاتے ہیں کہ میں نے ’ٹاس‘ کیا اور اس کے مطابق آرٹس لی اور چھے مہینے بعد بھائی کو بتایا۔۔۔ انھوں نے انکشاف کیا کہ اُس وقت کراچی کے طالب علم میٹرک کرنے پنجاب جاتے تھے۔

وہاں کام یابی کا تناسب 70، 80 فی صد اور یہاں 13، 14 فی صد ہوتا، کیوں کہ یہاں علی گڑھ سے پڑھ کر آئے ہوئے لوگ تھے، ان کا کڑا معیار تھا، لیکن پنجاب میں یہ ہوتا کہ جلدی جلدی میٹرک کرا کے کلرک بھرتی کرائو، ایک مرتبہ تو یہ ہوا کہ کلرک بھرتی ہونے والا پاکستان کا سیکریٹری بن گیا، چوہدری محمد علی۔ ہم نے پوچھا کہ جو وزیراعظم بنے؟ بولے وہ نہیں، کوئی اور۔ کہتے ہیں کہ ’’بیوروکریسی میں پنجاب کا غلبہ یہاں سے شروع ہوا اور پاکستان کی سیاسی خرابی کی وجہ بنا۔ فوج، سیکریٹریٹ، سے لے کر تمام خودمختار ادارے ان کے لیے۔۔۔ کراچی کے لیے اُس وقت بھی کچھ نہیں تھا۔۔۔!‘‘

٭ ہاتھ کا لکھا ہوا ’وال پیپر‘ ہفت روزہ ’’شہ سوار‘‘
علی اختر رضوی صحافت کی طرف رغبت پیدا ہونے کا واقعہ سناتے ہوئے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سندھ مدرسۃ الاسلام میں انھوں نے پاکستان میں پہلا ’وال پیپر‘ شہ سوار کے نام سے نکالا، میں اس کا ’چیف ایڈیٹر‘ تھا جس کی کتابت وہ ہم جماعت ممتاز ماہر تعلیم علی محمد شاہین سے کراتے، پھر اسے ایک جگہ چپکا دیتے تھے۔ ’’وال پیپر‘‘ کے تصور کا ماخذ پوچھا، تو وہ بولے کہ ہمارے پاس چَھپوانے کے پیسے نہ تھے۔ پھر 1956ء کا دستور بنتے ہوئے ’نظام اسلام پارٹی‘ کے مولوی فرید احمد بنگالی زبان کی بات کر رہے تھے۔

۔اِدھر سندھ میں ’سندھی‘ کی بات ہونے لگی، ’بابائے اردو‘ نے ہڑتال کی کال دے دی، اور وہی ہمارے ہفت روزہ (وال پیپر) کا دن تھا، ہم نے رئیس امروہوی کے مصرعے ’اردو کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے!‘ کی شہ سرخی لگائی، جس پر ہمارا شمارہ لگتے ہی ضبط ہوگیا۔ یہ سندھ کے مفاد کے خلاف تھا، پرنسپل ’سندھ مدرسہ‘ ناصر حسین ’اردو اسپیکنگ‘ تھے، مگر دریا میں رہنا ہے، تو مگرمچھ سے بیر تو نہیں کر سکتا ناں۔‘ رئیس امروہوی نے یہ کلام پہلے کا کہا ہوا تھا، ’جنگ‘ میں 1972ء میں چھَپا۔

٭ قائداعظم کے جنازے کے لیے مہاجرین نے خود اپنی جھگیاں گرائیں!
علی اختر رضوی کہتے ہیں 1950-51ء میں ہندوستان نے اپنی فوجیں سرحد پر کھڑی کر دیں، تو ملک بھر میں ’یوم دفاع‘ منایا گیا، نیشنل گارڈز کی قیادت میں ایک ریلی ’اسٹیٹ گیسٹ ہائوس‘ پہنچی، محمود ہارون جیسے لوگ وردی میں سلامی دے رہے تھے۔

یہیں لیاقت علی خان نے اپنا تاریخی مکّا لہرایا تھا۔ جس کے بعد ہندوستان نے فوجیں ہٹالیں، جب کہ ہمارے پاس صرف پیدل فوج تھی۔۔۔ لیاقت علی خان کی شہادت کا وقت یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ایسا لگتا تھا جیسے پورا شہر ہی مر گیا ہو۔۔۔ انھوں نے ’نوائے وقت‘ کے دفتر کی جگہ پر کھڑے ہو کر اُن کا جنازہ آتے ہوئے دیکھا، جسے ’توپ گاڑی‘ پر خواجہ ناظم الدین، سردار عبدالرب نشتر، مشتاق گورمانی اور دیگر ارکانِ کابینہ کھینچ رہے تھے۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ قائداعظم کو جس جگہ دفن کیا گیا، یہاں بلا مبالغہ 10 ہزار جھونپڑیاں تھیں، قائد کی قبر کے لیے جھونپڑیوں کے درمیان جگہ نکالی گئی اور ان کی میت لے جانے کے لیے مکینوں نے بہت فراخ دلی سے اپنی جھونپڑیاں گرا کر راستہ بنایا، اور پہاڑی پر جائے تدفین کے لیے جگہ خالی کی۔ چینی وزیراعظم ’چو این لائی‘ کو سیکیورٹی دینے کے لیے بھی جھگیاں گرائی گئیں۔

٭ ’مادرِملت‘ نے انٹرویو دیا اور ’آف دی ریکارڈ‘ کہہ دیا۔۔۔
علی اختر رضوی نے دعویٰ کیا کہ گلبرگ (لاہور) قائداعظم کی زمین پر تعمیر کیا گیا، اس پر ایوب خان کے لوگوں نے قبضہ کیا، مادرِملت محترمہ فاطمہ جناح اِسے واگزار کرانا چاہتی تھیں۔۔۔ کیوں کہ یہ تعمیری اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ محترمہ فاطمہ جناح کسی کو انٹرویو نہیں دیتی تھیں، حتیٰ کہ قائد کے دستِ راست صحافی م ش بھی کوئی انٹرویو نہ لے سکے، میں ’کوہستان‘ میں ابھی چھے ماہ کا بھی نہ تھا ، تب یہ کارنامہ کیا۔ وہ لاہور آئیں، تو رابطہ کیا، کچھ دن بعد ان کے ’پی اے‘ نے بلا لیا۔ جب پہنچا تو ’لاہور اپرومنٹ اتھارٹی‘ کے محمدشریف سے ان کی میٹنگ جاری تھی اور دونوں کی اونچا بولنے کی آواز آرہی تھی۔ جب وہ نکلے، تو ’اے سی‘ چلنے کے باوجود پسینے میں شرابور تھے، جب میں اندر گیا، تو وہ سخت غصے میں تھیں۔

پوچھا کہ کون ہو؟ میں نے نام بتایا، تو وہ وہیں سے ’حسین‘ کر کے چلائیں اور ’پی اے‘ کو بولیں کہ یہ کسے بھیج دیا۔۔۔؟ انھوں نے بتایا کہ یہ ’کوہستان‘ کے نمائندے ہیں۔ وہ بولیں یہ بتایا کیوں نہیں، میں نے کہا میں اتنی بڑی شخصیت تو نہیں کہ اپنا عہدہ بتائوں، پھر سوا گھنٹے گفتگو رہی، وہ جنرل ایوب خان کے خلاف بولیں، مجھے لکھنے سے بھی نہ روکا، لیکن جاتے ہوئے کہہ دیا کہ یہ ساری گفتگو ’آف دی ریکارڈ‘ ہے۔ میں نے لاچارگی ظاہر کی کہ میں آپ سے انٹرویو کے لیے ہی تو آیا تھا۔

جس پر وہ برہم ہوگئیں اور موقف دُہرا کر بولیں ’گیٹ لاسٹ (Get lost)۔۔۔!‘ پھر پنڈی جاتے ہوئے کالج کے طلبہ سے ملاقات میں انھوں نے وہ ساری باتیں کہہ دیں، جو مجھ سے کہیں۔ یہ ماجرا مجھے ایک شناسا مسلم لیگی نے بتایا، تو یوں اگلے دن میرے نام سے ایوب خان کے خلاف فاطمہ جناح کی آٹھ کالم ’لیڈ‘ چھپ گئی۔ شام کو ان کے ’پی اے‘ نے محترمہ کی طرف سے شکریہ ادا کیا۔۔۔ م ۔ش ’سول اینڈ ملٹری گزٹ‘ کے چیف رپورٹر تھے، وہ پنجابی میں کہنے لگے کہ ’’اوئے کاکے، تیرا میرا کیا جھگڑا۔۔۔ میری عمر کا ہی لحاظ کرو، جب بھی کوئی ایسی چیز ملے تو مجھے بتا دیا کرو!‘‘

٭ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے احتجاج
زمانہ طالب علمی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے علی اختر رضوی نے بتایا کہ 1954ء میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل ’دوگ امر خولق‘ کراچی سے گزرتے ہوئے کچھ گھنٹے ٹھیرے، اور گورنر سے ملاقات کے لیے آئے، تو ہم اپنے اسکول میں ہڑتال کرا کے کشمیر پر بات کرنے نکلے اور ان کی گاڑی کو گھیر لیا۔ میئر کراچی ملک باغ علی نے ہجوم دیکھا، تو وہ بھی ہمارے ساتھ ہوگئے اور پھر ہمارے ساتھ سیکریٹری جنرل تک یہ پیغام پہنچایا کہ یہ طلبہ کہہ رہے ہیں کہ ’آپ کشمیریوں کے ساتھ انصاف نہیں کر رہے!‘ اگلے دن یہ تصویر اخبار میں چھپ گئی۔

یہ میری زندگی کی ایک اہم سیاسی شروعات تھی۔۔۔ پھر سندھ مدرسے کے ’بزم ادب‘ میں امیرحیدر کاظمی اور شمیم اللہ والا کے مقابلے پر سیکریٹری کا چنائو بھی جیتا، جس کے بعد وقتی طور پر امیرحیدر سے ان بن ہوگئی، مگر وہ ہمارا جگری دوست تھا، بے نظیر کی حکومت میں وزیرصحت بھی رہا۔ وہ بتاتے ہیں کہ آٹھ جنوری 1953ء کے مقتول طلبہ کی تیسری یا چوتھی برسی کے موقع پر اس حوالے سے ملک بھر کے شعرا کا کلام اکٹھا کیا اور کتابی صورت میں شایع کرنے کے لیے ادبی پریس، آرام باغ میں دے دیا، جسے حکومت نے ضبط کرلیا، ساتھ آٹھ جنوری کے جلسے پر پابندی بھی لگ گئی، پتا چلا کہ یہ کلکٹر کراچی مختار مسعود کے حکم پر ہوا ہے، ہم ان کے پاس بھی گئے، لیکن انھوں نے ہمیں ٹال دیا۔

٭ کراچی پولیس نے طالبات پر گھوڑے دوڑا دیے!
علی اختر رضوی کہتے ہیں کہ افریقی ملک کانگو میں انقلابی راہ نما Patrice Lumumba کا قتل ہوا تو، تو بائیں بازو کے طلبہ نے احتجاج کیا، یہ ایوب خان کا زمانہ تھا، جب ہندوستان میں ’جبل پور‘ میں ہندو مسلم فساد ہوا، جس پر ’این ایس ایف‘ خاموش۔ اب ان پر جملے کَسے گئے کہ ’کانگو‘ کے لیے تو مظاہرے کرلیتے ہو، مسلمانوں کے مسئلے پر سانپ سونگھ گیا۔‘ جس پر انھوں نے ’یوم جبل پور‘ منانے کا اعلان کیا، طلبہ کی ہلچل سے سرکار کو خدشہ ہوا کہ بھارتی یا امریکی قونصل خانے کو نہ جلا دیں، رات گئے کلکٹر کراچی مختارمسعود نے دفعہ 144 لگادی اور کہا کہ اگر باز نہ آئے، تو میں آپ لوگوں کو گرفتار کرلوں گا، یوں دبائو میں آکر بیرسٹر صبغت اللہ اور دیگر نے ہڑتال واپس لے لی۔

ہمیں کچھ خبر ہی نہیں، اگلے روز ہم سب اپنے اپنے علاقوں سے جلوس لے کر ’ایس ایم آرٹس کالج‘ پہنچ گئے، اخبار میں ہڑتال ملتوی ہونے کی چھوٹی سی خبر تھی۔ کسی نے نہیں مانی، اتنے میں علی مختار رضوی نے کمان سنبھال لی اور شعلہ بیانی سے لڑکوں میں جوش بھر دیا، گلیوں تک لڑکے بھرے ہوئے تھے، جیسے ہی برنس روڈ پر پہنچے، زبردست لاٹھی چارج ہوا اور دن بھر آنکھ مچولی رہی، یوں تین دن کراچی میں امن وامان کی صورت حال خراب رہی۔ اسی اثنا میں پروفیسر کرار حسین کی بیٹی شائستہ زیدی اور دیگر لڑکیوں پر مزار قائد پر گھوڑے دوڑا دیے گئے۔ اس واقعے کے وقت ہم جامعہ کراچی میں تھے، واپسی پر پتا چلا کہ ہمارے گھروں پر چھاپے پڑ رہے ہیں، چناں چہ ’لالو کھیت‘ پر اپنے رشتے دار کے ہاں تین دن رہا، پھر گھر آیا تو بہن کے مشورے پر اپنے بھائی کے پاس قلات چلا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔