خواتین پر تشدد کے مسائل سنگین ہیں، قوانین پر نظرثانی کرنا ہوگی، ایکسپریس فورم

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  جمعـء 27 نومبر 2020
فورم میں کنیز فاطمہ ،پروفیسر ڈاکٹر رعنا ملک، احمر مجید، حمائل انجم شریک گفتگو ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

فورم میں کنیز فاطمہ ،پروفیسر ڈاکٹر رعنا ملک، احمر مجید، حمائل انجم شریک گفتگو ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

 لاہور:  خواتین کیخلاف تشدد کے کیسز میں ریاست کی مدعیت کا قانون لا رہے ہیں جبکہ خواتین کو بروقت مدد اور رہنمائی فراہم کرنے کیلیے جلد ہیلپ لائن کا آغاز کر دیا جائے گا۔

بدقسمتی سے 90 فیصد خواتین بلاتفریق عمر اور علاقہ ہراسانی کا شکار ہیں۔70 سال سے بنے قوانین پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ خواتین پر تشدد کے مسائل سنگین ہیں۔ ان خیالات کا اظہار مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے ’’خواتین پر تشدد کے خاتمے کے عالمی دن‘‘ کے حوالے سے منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔

چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کنیز فاطمہ چدھڑ نے کہاکہ 70 برس پرانے قوانین میں سقم ہے لہٰذا ان میں بہتری لانا ہوگی۔ خواتین کے حوالے سے تعلیمی نصاب میں تبدیلیاں لانا ہونگی۔

خواتین پر تشدد کے حوالے سے ہم ریاست کو مدعی بنانے کا قانون لارہے ہیں سربراہ ڈپارٹمنٹ آف جینڈر اسٹڈیز، پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر راعنا ملک نے کہا کہ پاکستان میں90 فیصد سے زائد خواتین ہراسانی کا شکار ہیں۔ ہر عمر کی خواتین ہر وقت ہراساں ہورہی ہیں۔ تعلیمی نصاب میں ایسے مضامین شامل کیے جائیں جو خواتین کی عزت، حقوق اور قوانین کے بارے میں آگاہی دیں۔

ماہر قانون احمر مجید ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملک میں بچوں اور خواتین کے حوالے سے قانون سازی کم ہے، کیسوں کی رجسٹریشن اور مجرمان کو سزا ملنے کی شرح بھی انتہائی کم ہے، 100 میں سے تقریباََ 8 کیس میڈیا میں رپورٹ ہوتے ہیں۔ گھریلو تشدد کے قانون کی سزاؤں میں نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

نمائندہ سول سوسائٹی حمائل انجم نے کہا کہ قوانین تو بن جاتے ہیں مگر نہ تو لوگوں کو آگاہی ہوتی ہے اور نہ ہی ان پر عملدرآمد کیا جاتا ہے جس سے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔گزشتہ دو برسوں سے پنجاب کمیشن آن سٹیٹس آف ویمن کی کوئی چیئرپرسن تعینات نہیں ہوئی۔ ویمن کرائسز سینٹرز کا ماڈل بہترین ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔