موت کی تحقیقات؛ ڈیگو میراڈونا کے نام سے فائل کھل گئی

اسپورٹس ڈیسک  اتوار 29 نومبر 2020
پڑوسیوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج لی جائے گی، میڈیکل ریکارڈ زیرغور آئے گا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

پڑوسیوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج لی جائے گی، میڈیکل ریکارڈ زیرغور آئے گا۔ فوٹو: سوشل میڈیا

بیونس آئرس: موت کی تحقیقات کیلیے ڈیگو میراڈونا کے نام سے فائل کھل گئی جب کہ فوری طبی امداد کی فراہمی میں تاخیر کا جائزہ لینے کے لیے 3 رکنی پراسیکیوشن ٹیم نے کام شروع کردیا۔

سابق عظیم ارجنٹائنی فٹبالر ڈیگو میراڈونا کا بدھ کو بیونس آئرس میں اپنی رہائش گاہ پر دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوگیا تھا، 2 ہفتے قبل ہی انھیں دماغ کی سرجری کے بعد گھر واپس بھیجا گیا تھا۔ 60 سالہ میراڈونا کے وکیل ماریاس مورلا نے فوری طبی امداد کی فراہمی میں مجرمانہ غفلت اور ایمبولینس کی تاخیر سے آمد کا دعویٰ کیا تھا۔ ارجنٹائن پولیس کی جانب سے اب ڈیگو میراڈونا کی موت پر تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

ذرائع کے حوالے سے کہا گیاکہ 3 پراسیکیوٹرز پر مشتمل یہ ٹیم فٹبالر کو طبی مدد کی فراہمی میں غفلت برتے جانے کے امکان کی تحقیقات کرے گی، اس مقصد کیلیے پراسیکیوشن آفس میں ’’ڈیگو میراڈونا، موت کے اسباب‘‘ نام کی فائل کھل چکی ہے۔

کیس پر کام کرنے والے پراسیکیوٹرز کی جانب سے میراڈونا کے پڑوسیوں سے سی سی ٹی وی فوٹیج فراہم کرنے کی درخواست کردی گئی، ذرائع کا کہنا ہے کہ چونکہ فٹبالر کا انتقال اپنے گھر پر ہوا اور ڈیتھ سرٹیفکیٹ پر کسی نے دستخط نہیں کیے اس لیے معاملے کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ آخری مرتبہ میراڈونا کو دیکھ بھال کیلیے مقرر نرس نے صبح ساڑھے 6 بجے سوتا ہوا دیکھا اور وہ سانس لے رہے تھے، نرس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ساڑھے 7 بجے انھوں نے ڈیگومیراڈونا کے چہل قدمی کرنے کی آواز بھی سنی۔ دوپہر 12 بج کر 17 منٹ پر فٹبالر کے سیکریٹری نے طبی امداد کیلیے کال کی جبکہ فوٹیج کے مطابق ایمبولینس 12 بج کر 28 منٹ پر پہنچی۔

تفتیش کاروں کو یہ بھی معلوم ہوا کہ میراڈونا کے ذاتی معالج لیوپولڈو لیوک نے 12 بج کر 16 منٹ پر 911 پر ایمبولینس کے لیے کال کی تھی۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔