اردو کے شاہکار خاکے

رفیع الزمان زبیری  اتوار 29 نومبر 2020

’’اردو کے شاہکار خاکے‘‘ خلیل احمد کی تدوین ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’میں نے اس کتاب میں کوشش کی ہے کہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کے خاکے شامل کیے جائیں کہ ہر خاکے میں ہمیں نئی شخصیت کی نئی عادات کا پتا چلتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر شخصیت کے بارے میں خاکہ نگار کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ ایسی معلومات سامنے لائے جو اس سے پہلے کسی نے نہیں پڑھی ہوں۔‘‘

گوہر تاج نے منیبہ شیخ کا خاکہ لکھا ہے۔ لکھتی ہیں ’’کئی برس ادھر کی بات ہے اور غالباً ماہ صیام کی۔ ٹی وی پر علامہ اقبال کی لکھی ہوئی ایک نعت اکثر نشر ہوتی رہی جس نے سامعین کے روح کے تاروں کو چھو لیا۔

لوح بھی تُو قلم بھی تو ترا وجود الکتاب

گنبد آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

کیا تلفظ، کیا سُر اور کیا آواز اور ان سب سے بڑھ کر نعت کی ادائیگی کے وقت نعت خواں کی آنکھوں میں نمایاں اپنی ممدوح ہستی کے لیے بے پناہ عقیدت۔ تھوڑے ہی عرصے میں یہ نعت مقبول عام و خاص ہوئی۔ فن کارہ کا نام منیبہ شیخ تھا۔

’’کچھ ہی سال بعد ایک خوشگوار اتفاق ہوا۔ گلشن اقبال میں واقع ’’حق پلازہ‘‘ کی بلڈنگ کے احاطے میں سوتی ساڑھی زیب تن کیے، کمر میں چابیوں کا گچھا جھنجھناتی، میک اپ سے عاری، سادہ چہرہ اور دراز قد ایک خاتون نظر آئیں۔ ایک لمحہ کو ہم دونوں کی آنکھیں چار ہوئیں، مجھے اندازہ ہوا کہ یہ تو وہی چہرہ ہے جس کی آواز روح کے تاروں کو چھوتی ہے۔ انھوں نے میرے چہرے کی حیرانی اور خوشی کو تاڑ لیا، کہا کچھ نہیں مگر ایک مخصوص مسکراہٹ ان کے چہرے پر کھیلنے لگی جو آج بھی ان کی شخصیت کا خاصا ہے، جس میں ہلکی سی شرارت اور بچوں کے جیسا بھول پن ہے۔ مجھے یہ بھی علم ہے کہ زندگی کے ہجوم میں سخت پتھریلے راستوں پر تنہا سفر کرتی بظاہر بہت سخت، اکھڑ اور ضدی نظر آنے والی منیبہ شیخ اندر سے کتنی نرم دل، حساس، محبت کرنے والی، سادہ اور شگفتہ مزاج ہے۔‘‘

بشریٰ رحمن کے خاکے کا عنوان ہے ’’میاں جی‘‘۔ یہ ان کے سسر میاں حسن محمد کا خاکہ ہے۔ لکھتی ہیں ’’بھاولپور سے میری بارات سیدھی لاہور آئی۔ راستے کی تھکن تھی، کچھ خدشے تھے، کچھ خوف تھا۔ مجھے لا کر ڈرائنگ روم میں بٹھا دیا گیا اور میں تھکی تھکی ڈری سہمی وہاں چپ چاپ بیٹھ گئی۔ ماں باپ کے گھر سے جب لڑکی قدم باہر نکالتی ہے یا اسے شرع کے مطابق گھر سے بے دخل کر دیا جاتا ہے تو اس پر کیا بیت جاتی ہے، یہ ہر شادی شدہ عورت جانتی ہوگی۔ کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ آنے والے دن ہمارے لیے اپنے دامن میں کیا لائیں گے۔ ایک درخت کو پہلی جگہ سے اکھیڑ کر دوسری جگہ لگانے والی بات ہوتی ہے۔ خدا جانے دوسری مٹی راس نہ آئے۔ خدا جانے کوئی باغبانی کرسکے یا نہیں۔ خدا جانے کتنی تیز ہوائیں چلیں۔

’’کچھ دیر تو میں سہمی سہمی ڈرائنگ روم میں بیٹھی رہی پھر تھوڑی دیر میں دو بزرگ ہستیاں میرے کمرے میں آگئیں۔ میں چونکہ دلہن تھی اس لیے نظر اٹھا کر نہیں دیکھا لیکن مجھے پتا چل گیا کہ ان میں سے ایک میرے سسر تھے اور دوسری میری ساس تھیں۔ میرے سسر جنھیں سب میاں جی کہتے تھے اپنے عصا کا سہارا لے کر اٹھے اور لرزتے کانپتے میرے پاس بیٹھ گئے۔ ہمارے ہاں رونمائی کی رسم یوں ہوتی ہے کہ سب سے پہلے گھر کے بزرگ آ کر دلہن کا گھونگھٹ اٹھاتے ہیں اور سلامی دیتے ہیں۔

میاں جی نے گھونگھٹ اٹھا کر میرا چہرہ دیکھا اور ایک دم کھڑے ہوگئے۔ میرا دل دھک دھک کرنے لگا اور خوف کے مارے سارا خون شریانوں میں دوڑنے لگا۔ اسی جگہ کھڑے ہو کر انھوں نے عصا صوفے سے ٹکا دیا اور میرے پاس ہی نماز کی نیت باندھ لی۔ یا باری تعالیٰ! یہ کیا ماجرا ہے؟ میں دل میں حیران ہوئی۔ نہ تو فجر نہ اشراق اور نہ ہی ظہر کا وقت تھا، غالباً دن کے گیارہ بجے ہوں گے، یہ بزرگ اس وقت کون سی نماز پڑھ رہے ہیں اور یہاں ڈرائنگ روم میں قالین پر! باقی سب چپ چاپ انھیں دیکھ رہے تھے۔ مجھے الجھن ہونے لگی۔ دو رکعت پڑھنے کے بعد انھوں نے سلام پھیرا۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور پھر میرے قریب بیٹھ کر میرے چہرے پر دم کیا، پھر رک رک کر گلوگیر آواز میں بولے!

’’بی بی! میں نے تمہاری پیشانی میں اپنے بیٹے کی چمکتی تقدیر دیکھ لی تھی۔ گھونگھٹ اٹھانے سے پہلے ڈر رہا تھا، مگر جب گھونگھٹ اٹھایا تو مجھے پتا چل گیا تُو میرے بیٹے کو اس کی منزل تک لے جائے گی۔ اس لیے مناسب جانا کہ پہلے دو نفل شکرانے کے اللہ کے حضور ادا کروں جس نے میری دعائیں سن لیں اور اب میں تجھ سے ہم کلام ہوا ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر سلامی کی رقم میری گود میں رکھ دی۔

’’میری آنکھیں بھیگنے لگیں، کل شام امی سے گلے لگ کر اتنا روئی تھی کہ احساسات میں ابھی تک آنسوؤں کی نمی تھی۔ میاں جی کی بات نے مجھے پھر سے اشکبار کردیا۔ یہ میاں جی سے میرا پہلا تعارف تھا۔‘‘

نور جہاں کا خاکہ منٹو نے لکھا ہے۔ لکھتے ہیں ’’نور جہاں ان دنوں فلم بین لوگوں کے لیے ایک فتنہ تھی، قیامت تھی لیکن مجھے اس کی شکل و صورت میں ایسی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔ ایک فقط اس کی آواز قیامت خیز تھی۔ سہگل کے بعد میں نور جہاں کے گلے سے متاثر ہوا۔ اتنی صاف شفاف آواز۔ مرکیاں اتنی واضح، کھرج انتہائی ہموار، پنجم اتنا نوکیلا! میں نے سوچا اگر یہ لڑکی چاہے تو گھنٹوں ایک سُرپر کھڑی رہ سکتی ہے، اُسی طرح جس طرح بازیگر تنے ہوئے رسے پر بغیر کسی لغزش کے کھڑے رہتے ہیں۔‘‘منٹو لکھتے ہیں ’’نور جہاں کے متعلق بہت کم آدمی جانتے ہیں کہ وہ راگ ودیا اتنا ہی جانتی ہے جتنا کہ کوئی استاد۔ وہ ٹھمری گاتی ہے، دُھرپد گاتی ہے، خیال گاتی ہے اور ایسا گاتی ہے کہ گانے کا حق ادا کرتی ہے۔ موسیقی کی تعلیم تو اس نے یقینا حاصل کی تھی کہ وہ ایسے گھرانے میں پیدا ہوئی تھی جہاں کا ماحول ہی ایسا تھا۔ لیکن ایک چیز خداداد بھی ہوتی ہے۔ موسیقی کے علم سے کسی کا سینہ معمور ہو، مگر گلے میں رس نہ ہو تو آپ سمجھ سکتے ہیں خالی خولی علم سننے والوں پر کیا اثر کرے گا۔ نور جہاں کے پاس علم بھی تھا اور وہ خداداد چیز جسے گلا کہتے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں مل جائیں تو قیامت برپا ہونا لازمی ہے۔‘‘

اے حمید نے ڈاکٹر عبادت بریلوی کا خاکہ لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’طلوع سحر، خوشبودار چائے اور خوبصورت پھول عبادت صاحب پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔ وہ طبعاً نیچر کے شیدائی ہیں اور یہ بات ہمیں ان کے تنقیدی مضامین کے انداز میں بھی ملے گی۔ یہاں پہنچ کر نیچر سے ان کی وارفتگی بیان کے والہانہ پن میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اپنے موضوع، نظریات، حقائق اور شواہد کے ساتھ ساتھ وہ ہمیں چمنِ مضمون میں ایک بلبل ہزار داستان کی طرح چہکتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کی ہر سطر میں زندگی کی دھڑکن سنائی دیتی ہے اور ہر لفظ بولتا اور سانس لیتا ہے۔ ان کی گفتگو کے انداز میں بھی ایک یہی والہانہ پن ہے۔ وہ ہر موضوع پر دلچسپی اور دل بستگی سے بات کریں گے۔

بات کرتے ہوئے چھوٹے چھوٹے ساختہ قہقہے بھی لگاتے جائیں گے۔ بڑے مزے سے پہلو بدلیں گے اور ان کا ایک پاؤں جھوم رہا ہوگا۔ کبھی کبھی پان کھا کر ایک سگریٹ بھی سلگاتے ہیں۔ وہ سگریٹ نہیں پیتے۔ کبھی کبھی یوں ہی موڈ میں آکر سلگا لیتے ہیں اور پھر ادھر ادھر دھواں اڑاتے ہیں اور آدھا سگریٹ بجھا کر پھینک دیتے ہیں۔انھیں سگریٹ پینا اور سودا خریدنا بالکل نہیں آتا۔ دکان دار جو دے گا وہ لے لیں گے اور جو وہ مانگے گا وہ دے دیں گے۔ پانچ برس آکسفورڈ میں اُردو پڑھانے کے باوجود ان کی مشرقی وضع داریوں میں یورپ کی تہذیب کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ گرمیوں میں قمیص پتلون اور سردیوں میں گرم سوٹ وہ شروع ہی سے پہن رہے ہیں۔

تھری پیس کے سوٹ کے اندر ایک پرسکون مشرقی دل دھڑکتا ہے جو کسی انسان کو دکھی دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہے اور ضرورت مند کی مدد کے لیے ہر وقت تیار رہتا ہے۔ پاکستان کی مٹی اور پاکستان کے رہنے والوں سے انھیں دلی پیار ہے۔ اپنے وطن کو وہ بہشت سے بھی بڑھ کر درجہ دیتے ہیں۔ وطن سے باہر ان کا دل زیادہ دیر لگا نہیں۔‘‘

’’اردو کے شاہکار خاکے‘‘ فکشن ہاؤس نے شایع کی ہے اور دو جلدوں میں ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔