اسٹیل مل ملازمین کی برطرفی، سیاست کے بجائے حکمت سے کام لیا جائے

عامر خان  بدھ 2 دسمبر 2020
اپوزیشن کی جانب سے شدید مزاحمت سامنے آئے گی اور یہ معاملہ سیاسی رنگ اختیار کر جائے گا۔ فوٹو: فائل

اپوزیشن کی جانب سے شدید مزاحمت سامنے آئے گی اور یہ معاملہ سیاسی رنگ اختیار کر جائے گا۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  وفاقی حکومت کی جانب سے پاکستان اسٹیل مل کے ہزاروں ملازمین کی برطرفی کے خلاف سندھ کی تمام جماعتیں یک زبان ہوگئی ہیں۔

حکومت سندھ نے بھی اس فیصلے کو ظالمانہ قرار دیتے ہوئے مستردکردیا ہے جبکہ جمعیت علماء اسلام، مسلم لیگ (فنکشنل)، پاک سر زمین پارٹی، جماعت اسلامی اور دیگر جماعتوں کی جانب سے اس کی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔

سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت لوگوں کو روزگار دینے کے سنہرے خواب دکھا کر اقتدار میں آئی تھی لیکن ہر وعدے کے برعکس اس پر بھی یو ٹرن لے لیا ہے۔ اس معاملے پر سب سے سخت ردعمل چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری جانب سے دیکھنے میں آیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم پی ٹی آئی کو لوگوں کا معاشی قتل نہیں کرنے دیں گے، پی پی پی پاکستان اسٹیل ملز کے ہر ایک ملازم کو ان کی ملازمت واپس دلوائے گی۔

پاکستان اسٹیل کی تاریخی صنعتی زمین سندھ کے لوگوں کا اثاثہ ہے لہذا ہم پی ٹی آئی کو لوگوں کا معاشی قتل نہیں کرنے دیں گے۔ادھر برطرفیوں کے خلاف پاکستان اسٹیل مل کے ملازمین کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

احتجاجی مظاہرین نے نیشنل ہائی وے بھی بلاک کر دی۔ اس موقع پر مزدور رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کردیا جائے گا۔ وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ نوکری سے نکالے جانے والے ملازمین کو گولڈن شیک ہینڈ دیا گیا ہے اور ہر ملازم کو فی کس 23 لاکھ روپے ادا کیے جائیں گے۔

حکومتی موقف ہے کہ بند اسٹیل مل کے ملازمین کو ماہانہ کروڑوں روپے تنخواہوں کی مد میں ادا کیے جا رہے ہیں جو ملکی خزانے پر ایک بوجھ ہے۔ اس ضمن میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اداروں کی بحالی پاکستان تحریک انصاف کے منشورکا حصہ تھی۔

انتخابات سے قبل ان کی جانب سے دعوے کیے گئے تھے کہ وہ پاکستان اسٹیل مل کو ایک مرتبہ پھر منافع بخش ادارے میں تبدیل کر دیںگے لیکن ڈھائی سال گزر جانے کے باوجود صورت حال جوں کی توں ہے۔

ان تجزیہ کاروں کے مطابق وفاقی حکومت پاکستان اسٹیل مل کی نجکاری کی جانب گامزن ہے، جس کی اپوزیشن کی جانب سے شدید مزاحمت سامنے آئے گی اور یہ معاملہ سیاسی رنگ اختیار کر جائے گا۔ اگر اسٹیل مل کو فروخت کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ کار نہیں ہے تو اسے اس کی اصل قیمت پر فروخت کیا جائے۔ اسٹیل مل کی فروخت سے پہلے آزاد ذرائع سے اس کی درست قیمت کا تخمینہ لگوایا جائے۔

اسٹیل مل ایسی کمپنی کو فروخت کی جائے جو اسٹیل کے کاروبار کا تجربہ رکھتی ہو۔ موجودہ ملازمین اور برطرف ملازمین کے بنیادی حقوق کا خیال رکھا جائے۔ نجکاری سے حاصل ہونے والی آمدنی ریٹائر ہونے والے ملازمین پر خرچ کی جائے۔

ہر ملازم کو دو سال کی تنخواہ ادا کی جائے۔ اسٹیل ملز کو نقصانات اور ملازمین کو بیروزگاری سے بچاناحکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ وہ تمام ادارے جو قوم پر بوجھ ہیں ان کا مناسب حل نکالا جائے۔

بلاول ہاؤس کراچی میں ایک طویل عرصے کے بعد خوشی کا سماں دیکھا گیا، جہاں سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو، سابق صدر آصف زرداری کی بیٹی اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہمشیرہ بختاور بھٹو زرداری کی محمود چوہدری سے منگنی کی تقریب پروقار انداز میں منعقد ہوئی۔

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے باعث اس تقریب میں شریک نہیں ہو سکے تاہم سابق صدر آصف علی زرداری کے قریبی دوستوں،صنم بھٹو ، فریال تالپور ،ڈاکٹر عذرا پیچوہو اور دونوں خاندانوں کے قریبی افراد نے اس میں شرکت کی۔آصفہ بھٹو زرداری نے انٹرنیٹ پر موجود بلاول بھٹو زرداری کو مہمانوں سے ملوایا بلاول بھٹو زرداری نے کیمرے کے ذریعے فرداً فرداً تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

سابق صدر آصف علی زرداری تقریب میں مہمانوں سے ملتے اور مبارکباد وصول کرتے رہے۔ تقریب میں کورونا ایس او پیز پر مکمل طور پر عمل درآمد کیا گیا۔ سابق وزیراعظم شہید بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی کی نسبت طے ہونے پر پیپلزپارٹی کے جیالے کافی خوش دکھائی دیتے ہیں جبکہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھی بختاور بھٹو زرداری کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔

ملک بھر میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے باعث اس کی روک تھام کے لیے سندھ حکومت کی جانب سے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی جانب سے کاروباری اوقات کار شام 6 بجے تک محدو کرنے کے فیصلے کے خلاف تاجروں نے شدید احتجاج کیا ، جس کے بعد محکمہ داخلہ سندھ نے نیا نوٹی فکیشن جاری کیا، جس کے مطابق تمام کاروباری سرگرمیاں رات 8بجے جاری رہ سکیں گی جبکہ اس کے علاوہ جمعہ کے روز کی کاروباری تعطیل کا حکم نامہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔

اس وقت چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی کورونا وائرس کا شکار ہیں۔ مراد علی شاہ کا دوسرا ٹیسٹ بھی مثبت آیا ہے، جس کے بعد وہ ابھی تک آئسولیشن میں ہیں۔ دوسری جانب کراچی میں کورونا کی دوسری لہر میں تیزی سے اضافہ کے باوجود شہری ماسک پہننے،سماجی فاصلہ اختیار کرنے اور دوسری ایس اوپیز پر عمل درآمد کے لیے تیار نہیں ہیں۔

پہلی لہر میں ماسک کی قیمتیں بہت زیادہ تھیں لیکن اب ماسک باآسانی اور کم قیمتوں میں فروخت ہونے کے باوجود اس کو خرید نے کے لیے شہری تیار نہیں ہیں۔کراچی انتظامیہ ماسک نہ استعمال کرنے والوں پر 500 روپے جرمانہ عائد کرنے کے فیصلے پر عمل درآمد میں بھی ناکام نظر آرہی ہے۔

طبی ماہرین اس صورت حال پر طویل عرصے سے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں لیکن عوام ان کو سنجیدگی کے ساتھ لینے کو تیار ہی نظر نہیں آرہی ہے۔اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ حکومت کو انتہائی اقدامات کرنا ہوں گے، بصورت دیگر کورونا کا جن انسانی صحت کے ساتھ ملکی معیشت کو بھی نگل جائے گا۔

سابق صوبائی وزیرتجارت اورمتحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے سابق ممبر عادل صدیقی کورونا کے باعث نجی اسپتال میں انتقال کر گئے، عادل صدیقی کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج تھے، ان کی عمر57 برس تھی۔ایم کیو ایم رہنما کافی عرصے سے بیرون ملک مقیم تھے اور ابھی حال ہی میں وطن واپس پہنچے تھے۔

عادل صدیقی 1963میں کراچی میں پیدا ہوئے اور جامعہ کراچی سے گریجویشن کیا وہ 2002سے 2007تک صوبائی وزیربھی رہے،عادل صدیقی 2008 کی صوبائی حکومت میں بھی صوبائی وزیر رہے جبکہ 2013 سے 2018 تک بھی حلقہ پی ایس 100ممبر صوبائی اسمبلی رہے۔

ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی، عامر خان، فیصل سبزواری اور دیگر نے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔سیاسی مبصرین کے مطابق عادل صدیقی کی وفات ایم کیو ایم پاکستان کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔وہ پارٹی کے معاملات خصوصاً نچلی سطح پرکارکنوں کے ساتھ اپنے تعلقات کی وجہ سے جانے جاتے تھے۔ان کی وطن واپسی کے حوالے سے بھی یہی کہا جا رہا تھا کہ وہ کارکنوں کو ایک مرتبہ پھر متحرک کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریںگے۔

وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے صوبے میں پولیو مہم کا افتتاح کردیا ہے۔ اس مہم کے دوران سندھ بھر میں90 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے جس میں سے کراچی میں رہائش پذیر بچوں کی تعداد 20 لاکھ سے زائد ہے۔

اس مہم کے دوران ڈبلیو ایچ اوکی جانب سے کورونا وائرس سے بچاؤ کی تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے گا جس میں پولیو ورکرز کا ماسک پہننا اور تعیناتی سے قبل بخار چیک کرانا، بچوں کو براہ راست نہ سنبھالنا، گھروں میں داخل نہ ہونا، اہل خانہ کے ساتھ محدود وقت گزارنا اور قلم یا کہنی کے ساتھ دروازے پر کھٹکھٹانا شامل ہیں۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اپنے پانچ سال تک کے بچوں کو پولیو قطرے لازمی پلائیں تاکہ وہ معذروی سے بچ سکیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔