مشہورشاعر منیر نیازی کو ہم سے بچھڑے 7 برس بیت گئے

ویب ڈیسک  جمعرات 26 دسمبر 2013
منیر نیازی بیک وقت شاعر، ادیب اور صحافی تھے، انکا بلند پایہ کلام کبھی کسی نظرئیے کے زیر اثر نہیں رہا۔ فوٹو: فائل

منیر نیازی بیک وقت شاعر، ادیب اور صحافی تھے، انکا بلند پایہ کلام کبھی کسی نظرئیے کے زیر اثر نہیں رہا۔ فوٹو: فائل

لاہور: اردو اور پنجابی ادب کو نیا اسلوب عطا کرنے والے بے باک شاعر منیر نیازی کے انتقال کو 7 برس بیت گئے لیکن آج بھی منیر نیازی اپنے مداحوں میں زندہ ہیں۔

منیر نیازی نے جنگل، ہوا، شام اور دھند جیسی علامات سے انسانی جذبات کی ترجمانی کی، تخلیق کا منفرد اسلوب اور انداز بیان کی بے نیازی اردو ادب میں صرف منیر نیازی کا خاصہ ہے، منیر نیازی نے انسان کے خوف اور نفسی کرب کے اظہار کے لئے جنگل سے وابستہ علامات کو اتنی نفاست سے اپنے کلام کی زینت بنایا کہ ان کی شاعری منفرد اور پر اثر بنتی چلی گئی۔

منیر نیازی بیک وقت شاعر، ادیب اور صحافی تھے، انکا بلند پایہ کلام کبھی کسی نظرئیے کے زیر اثر نہیں رہا، اس کے علاوہ منیر نیازی نے اپنی غزلوں سے سلور سکرین پر بھی ہجر و وصال کے جذبات کی ترجمانی باکمال انداز میں کی۔

منیر نیازی کا تخلیقی سرمایہ 13 اردو اور 3 پنجابی مجموعوں پر محیط ہے، ناقدین کے مطابق منیر نیازی کا کلام آج بھی ادب کے طالبعلموں پر حیرت کے دریچے آشکار کر رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔