اقوامِ متحدہ نے بھنگ کو ’خطرناک منشیات‘ کی فہرست سے نکال دیا

ویب ڈیسک  جمعـء 4 دسمبر 2020
اقوامِ متحدہ نے 1961 میں بھنگ کو ”خطرناک منشیات“ کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اس پر سخت ترین عالمی پابندیاں عائد کردی تھیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

اقوامِ متحدہ نے 1961 میں بھنگ کو ”خطرناک منشیات“ کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اس پر سخت ترین عالمی پابندیاں عائد کردی تھیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

جنیوا: گزشتہ چند سال کے دوران بھنگ (cannabis) کی طبّی افادیت اور اس پر ہونے والی اہم سائنسی تحقیق کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے کمیشن برائے منشیات (سی این ڈی) نے بھنگ کو ”دنیا کی خطرناک ترین منشیات“ کی فہرست سے نکال باہر کیا ہے۔

سی این ڈی کے اجلاس میں 53 ممالک کے نمائندے شریک تھے جس کی سربراہی پاکستانی سفیر منصور احمد خان کررہے تھے۔ بھنگ کو خطرناک منشیات کی فہرست سے نکالنے کا فیصلہ رائے شماری کی بنیاد پر کیا گیا جس میں 27 ممالک نے بھنگ کو اس فہرست میں سے نکالنے کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 25 ممالک نے مخالفت کی۔ ایک ملک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

یہ خبر بھی پڑھیے: بھنگ کا پودا کورونا وائرس کے خلاف بھی کارآمد ثابت ہوسکتا ہے، تحقیق

یہ فیصلہ عالمی ادارہ صحت کی سفارش پر کیا گیا ہے جس کے مطابق بھنگ کے پودے اور اس کی گاڑھی رال (ریزن) کو خطرناک منشیات کی فہرست سے نکال دیا گیا ہے۔ اس فہرست میں ہیروئن اور چرس کے علاوہ دوسری کئی منشیات شامل ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیے: بھنگ سے کارکردگی میں ’’واقعی‘‘ اضافہ ہوتا ہے، تحقیق

واضح رہے کہ اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ بھنگ کے عام استعمال کی اجازت دے دی گئی ہے، بلکہ اب بھی یہ ”منشیات“ کی فہرست میں شامل ہے۔ البتہ اس کا درجہ ”خطرناک“ سے کم کرکے ”عمومی“ کردیا گیا ہے، یعنی اسے طبّی مقاصد میں استعمال کیا جاسکے گا۔

اس فیصلے کی رُو سے اقوامِ متحدہ کے رکن ممالک آزاد ہوں گے کہ وہ بھنگ کے طبّی استعمال کی قانونی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔

اقوامِ متحدہ کے تحت منشیات کے عالمی کمیشن نے 1961 میں بھنگ کو ”خطرناک منشیات“ کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے اس پر سخت ترین عالمی پابندیاں عائد کردی تھیں۔ اس طرح 59 سال بعد بھنگ کی حیثیت تبدیل کرتے ہوئے اسے کم تر درجے پر خطرناک قرار دیا گیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔