ایسا کیوں؟

سعد اللہ جان برق  جمعـء 18 دسمبر 2020
barq@email.com

[email protected]

سنتے ہیں کہ ہائی فائی یا وی آئی پی شخصیات بھی  کورونا وائرس یاکوئڈ نائنٹین سے وفات پا رہے ہیں۔ ان میں سے ایک کو ہم بھی جانتے ہیں۔ لیکن اب اس بات پر ہمارے ذہن میں کچھ کچھ بلکہ بہت کچھ آ رہا ہے لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ کیسے کہیں کہ معاملہ وہی وی آئی پی شخصیات کا ہے اور ہم ذرا نہیں بلکہ بہت ڈرپوک بھی ہیں اس لیے…انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو… کے قائل ہیں۔

مگر کیا کریں کہ ادھر کہنا بھی ضروری ہے کہ ’’کھجلی‘‘ کو جب تک کھجایا نہ جائے پیچھا نہیں چھوڑتی۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ اب بات ‘‘ کہاوتوں، حکایتوں میں کریں۔ اسے پشتو میں بات کو سیٹی یا بانسری میں کہنا کہتے ہیں اورحافظ شیراز نے کہاہے کہ …

ببانگ جنگ می گوئیم آں حکایت ہا

کہ از بنفیس آں دیگ سینہ می زد جوش

یعنی میں یہ حکایتیں… صدائے ساز میں کہنا چاہتا ہوں کیوں کہ اس دیگ کے ابلنے سے میرا سینہ جلتاہے۔پشتو میں کچھ کہاوتیں روز مرے اورکچھ حکایتیں ایسی ہیں جن کا سہارا لے کر اپنے سینے کی سوزش مٹا تو نہیں سکتے البتہ کم ضرور کر سکتے ہیں۔

ایک کہاوت تو یہ ہے کہ ’’جانور‘‘ (ایک خاص جانور) بھی مردار بوٹی پر اکتفا نہیں کرتا، اور اس پالتو جانور کو آپ سب جانتے ہیں کہ انسان کی ’’صحبت‘‘ میں رہ کراچھا خاصا بگڑا ہوا ہوتا ہے  خاص طور پر اپنی قوم کے بارے میں تو اس کا رویہ خالص انسانوں کا سا ہوتا ہے چنانچہ اس جانور کو موت یا بیماری کی علامت قرار دے کر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بھی کوئی ’’صاف‘‘ جگہ دیکھ کر آتی ہے۔

دوسری کہاوت یہ ہے کہ اچھے لوگ بہت جلد اس دنیا سے چلے جاتے ہیں کہ وہ معاشرے کی بدبو  زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتے۔ گندی جگہ صرف گندے لوگوں کو پسند ہوتی ہے، گندگی کے کیڑے گندگی ہی میں پلتے ہیں، صاف جگہ رکھو تو ختم ہو جاتے ہیں اور صاف لوگ یا خوبصورت تتلیاں خوش گوار ماحول میں پنپتی ہیں، ناگوار ماحول میں مر جاتی ہیں۔

اس پر ایک تیسری مددگار کہاوت یہ ہے کہ اچھے لوگ جلدی اس لیے مر جاتے ہیں کہ کہیں برا ماحول ان کے دامن کو داغدار نہ کردے اور وہ اس دنیا سے پاک و صاف دامن چلے جائیں جب کہ برے لوگوں کو وقت زیادہ دیا جاتا ہے کہ شاید سنبھل جائیں، توبہ تائب ہو جائیں، برائی چھوڑ کر اچھائی پر مائل ہو جائیں، چنانچہ ان کہاوتوں اورحکایتوں کی روشنی میں اکثر اس قسم کی باتیں ہوتی ہیں کہ جب کوئی برا آدمی بیمار ہوتا ہے یا مر جاتا ہے  تو کہتے ہیں یقینا ًاس کے نزدیک کوئی پاک جگہ ہو گی، اس لیے وہ پاکیزہ ماحول میں زندہ نہیں رہ سکا ۔ اگر کسی برے خاندن کا کوئی بچہ یا نوجوان مر جائے تو کہا جاتا ہے ، اللہ اس پر مہربان ہو گیا اور اسے گندہ ہونے سے پہلے ہی اٹھا  لیا۔

اوراب ایک ’’پاگل‘‘ کا قصہ ہمارا چشم دید۔ ہمارے گاؤں میں وہ شخص پاگل مشہور تھا لیکن اکثر بہت دانائی کی باتیں کرتا تھا۔ ایک دن گاؤں کا بہت ہی نیک، سخی اور اچھا آدمی فوت ہوگیا۔ہم افسوس اور فاتحہ خوانے کے لیے بیٹھے تھے کہ کہیں سے وہ پاگل فرزانہ یا دانا دیوانہ بھی آ گیا اور ہمارے پاس ہی چارپائی پر بیٹھ کر فاتحہ پڑھنے لگا۔ ہم چوں کہ اسے جھڑکتے نہیں تھے اور اکثر اس کی باتیں سنا کرتے تھے، اس لیے وہ ہمارے ساتھ مانوس تھا۔ فاتحہ پڑھنے کے بعد بولا، اچھے لوگ خدا کو بھی پسند ہوتے ہیں،جلدی اپنے پاس بلا لیتا ہے۔

یہ کہہ کر یہ جا وہ جا ہو گیا۔ ایک اور شخص جو ہمارے حلقہ شناخت میں تھا، بہت ہی کنجوس مکھی چوس اور منحوس تھا۔بہت مالدار تھا لیکن کبھی اس کے ہاتھ سے کسی غریب اور محتاج کو پانی کی بوند بھی نصیب نہیں ہوئی تھی ۔ کافی عمررسیدہ ہوچکا تھا لیکن اسے کبھی  بیمارہوتے بھی نہیں دیکھا تھا، وہ خود کہا کرتا تھا کہ میں کبھی بیمار نہیں ہوا ہوں۔

اس کے بارے میں لوگوں نے مشہورکر رکھا تھا کہ کوئی بیماری اس کی طرف دیکھتی بھی نہیں ہے کیوں کہ ایک مرتبہ اسے بخار ہوا تھا لیکن بخار فوراً یہ کہتے ہوئے  بھاگ اٹھا ،کہ یہ کیسے لوگ ہیں جو ’’مہمان‘‘ کی تواضع ایک ’’گولی‘‘ سے بھی نہیں کرتے ۔ پھر اس بخار نے اپنی ’’برادری‘‘ میں یہ بات پھیلائی کہ اس شخص کے آس پاس بھی نہ جانا، اتنا بدبودار ہے کہ میں اس کے پاس سے آ کر خود ’’بیمار‘‘ ہو گیا تھا اور وہ بدبو اب بھی مجھ میں رچی ہوئی ہے۔

جس کو ہو دین و دل عزیز اس کی گلی میں جائے کیوں؟

جس شخص کا ہم نے ذکر کیا ہے ، اس کے خلاف ’’فرار‘‘ والے بخار نے تمام بیماریوں کو اکسایا تھا، وہ جب بعد ازاں خرابی بسیار اپنے پرایوں کو بیزار کر کے مرا تو کیسے مرا؟ یہ بھی حیرت کا مقام ہے۔ہندی اساطیر میں  جتنے بھی برے کردار ہیں جیسے راون، وریت، راہن، ہرینہ کشیپ، ہبگریو، تارک اور کشن وغیرہ، ان کو مارنے کے لیے دیوتاؤں کو بھی خصوصی انتظامات کرنا پڑتے تھے کیوں کہ وہ عام موت سے نہیں مارے جا سکتے تھے چنانچہ راون کے لیے بھگوان شیو کو رام چندر کے اوتار میں اور کشن کے لیے کرشن کے اوتار میں اور ہرینہ کشیپ کے لیے نرسہا یعنی شیر کے اوتار میں آنا پڑا تھا، اور شاید اس شخص کو مارنے کے لیے موت کو اس کے بھتیجے کے روپ میں آنا پڑا جس نے اسے گولی ماری اور اس گولی کو شاید تمام بیماریوں نے چندہ کرکے ’’سپاری‘‘ دی تھی۔

مرنے والے کو آخر کیا پڑی تھی اس ’’سنڈاس‘‘ میں پاک وصاف رہنے کی، اس جیسے وی وی آئی پیز تو اتنے ڈیتھ پروف ہو جاتے ہیں کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ہی تو ’’جوان‘‘ ہو تے اور نئی نئی شادیاں کرتے ہیں اور اصول پسنداور صاف ستھرے لوگ تو ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی شادی مرگ ہو جاتے ہیں، اگر ’’ماحول‘‘ کے مطابق رہتے تو بے ماحول اور بے موسم پیڑ کی طرح اتنے جلدی نہ سوکھتے، یقیناً وہ صاف تھے اور موت کو صاف جگہ بہت ہی پسند ہوتی ہے بلکہ بقول اس پاگل کے ’’ اچھے لوگ خدا کو بھی پسند ہوتے ہیں۔‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔