کسانوں کی حالت بدلنے کیلیے ایگری کلچر ایمرجنسی نافذ کرنا ہوگی، ایکسپریس فورم

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  جمعـء 18 دسمبر 2020
فورم میں صوبائی وزیر حسین جہانیاں گردیزی، خالد محمود کھوکھر، سپنا اوبرائے شریک گفتگو ہیں ۔ فوٹو: فائل

فورم میں صوبائی وزیر حسین جہانیاں گردیزی، خالد محمود کھوکھر، سپنا اوبرائے شریک گفتگو ہیں ۔ فوٹو: فائل

 لاہور: زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے لہٰذا زراعت کو صنعت کا درجہ دینے کیلیے قانون سازی کی جائے گی۔

ریسرچ کے اداروں کو دوبارہ بحال کیا جا رہا ہے، 12 برس بعد پنجاب ایگری کلچر ریسرچ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو کی تعیناتی کر دی گئی ہے، گندم کے علاوہ کسی بھی فصل پر سپورٹ پرائس نہیں ملتی، کسانوں کی حالت زار بدلنے کیلئے ’’ ایگری کلچر ایمرجنسی‘‘ نافذ کرنا ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار حکومت اور کسان نمائندوں نے ’’کسانوں کے عالمی دن‘‘ کے حوالے سے منعقدہ ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں کیا۔

صوبائی وزیر زراعت پنجاب حسین جہانیاں گردیزی نے کہا زرعی شعبے کی ترقی کیلیے زراعت کو صنعت کا درجہ دینے کیلیے قانون سازی کریں گے معیاری بیج کی تیاری کیلئے سائنسدانوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں، انہیں اس کی رائلٹی دی جائے گیبھارت باسمتی رائس کو اپنی پراڈکٹ قرار دلوانے کیلئے یورپی یونین گیا ہے، میری نشاندہی پر اس مسئلے کوحکومت پاکستان نے ٹیک اپ کیا ہے اور اب اس کی پیروی کی جا رہی ہے،صدر پاکستان کسان اتحاد خالد محمود کھوکھر نے کہا کہ کسان سب سے زیادہ محب وطن ہیں۔

دہشت گردی کی طویل جنگ اور کورونا وائرس کے لاک ڈائون میں کسانوں نے دن رات محنت کی اور کسی کو بھی بھوک سے مرنے نہیں دیا مگر افسوس ہے کہ کسان کی اپنی حالت خراب ہے، اس کا خاندان تعلیم، صحت و دیگر بنیادی سہولیات سے محروم ہے، کسانوں کی حالت بہتر کرنے کیلئے ایگریکلچر ایمرجنسی نافذ کرنا ہوگی۔ ہماری کاسٹ آف پروڈکشن زیادہ ہے۔

ڈائریکٹر فارمرز ایوسی ایشن آف پاکستان سپنا اوبرائے نے کہا کورونا میں جب ہر جگہ لاک ڈائون تھا تو سبزی منڈیاں، دودھ کی دکانیں وغیرہ کھلی تھی اور ہر چیز وافر مقدار میں موجود تھی، کورونا وائرس کی مشکل گھڑی میں اصل فرنٹ لائن سولجرز کسان تھے جنہوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر دن رات کام کیا اور لوگوں کی خوارک کی ضروریات پوری کی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔