ادھوری تیاری، محدود بیٹنگ وسائل، نیا کپتان

عباس رضا  اتوار 20 دسمبر 2020
گرین شرٹس کو نیوزی لینڈ میں سخت چیلنج کا سامنا۔  فوٹو : انٹرنیٹ

گرین شرٹس کو نیوزی لینڈ میں سخت چیلنج کا سامنا۔ فوٹو : انٹرنیٹ

نیوزی لینڈ کے میدانوں پر تیز ہواؤں، سوئنگ اور پچز پر باؤنس کی وجہ سے مہمان ٹیموں کو کنڈیشنز سے مطابقت پیدا کرنے میں ہمیشہ مشکلات پیش آتی ہیں۔

پاکستانی بیٹنگ عام طور پرغیر ایشیائی ملکوں میں کھیلتے ہوئے مستقل مزاجی کا مظاہرہ نہیں کر پاتی، اس بار کورونا کی وجہ سے صورتحال غیر معمولی تھیں، دوسرے بیشتر بیٹسمین بھی نو آموز ہونے کی وجہ سے زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جا سکتی تھیں، قرنطینہ کے 14 روز میں ٹریننگ کا کوئی موقع نہ ملنے کی وجہ سے بھی کھلاڑیوں کا ردھم میں آنا دشوار لگ رہا تھا، قید تنہائی ختم ہونے کے بعد کوئنز ٹاؤن میں ایک ہفتہ اور آکلینڈ میں 2روز پریکٹس کے لیے ملے،اس دوران مہمان ٹیم کو سب سے بڑا نقصان اٹھانا پڑا جب کپتان بابر اعظم انگوٹھا فریکچر ہونے کی وجہ سے پوری ٹی ٹوئنٹی سیریز سے ہی باہر ہو گئے۔

نائب کپتان شاداب خان کی ٹانگ میں کھنچاؤ نے منیجمنٹ کی تشویش بڑھائی،بہرحال آل راؤنڈر فٹ ہوگئے تو امید پیدا ہوئی کہ ٹیم آکلینڈ میں اپنے فیورٹ گراؤنڈ پر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹور کا فاتحانہ آغاز کرے گی،آکلینڈ کے ایڈن پارک سٹیڈیم میں ہی پاکستان نے گزشتہ ٹور میں کیویز کے خلاف اپنا سب سے بڑا مجموعہ ترتیب دیتے ہوئے 4 وکٹوں کے نقصان پر 201 رنز بنائے اور ایک آسان فتح گلے لگائی تھی، یہ پاکستان کا نیوزی لینڈ کے خلاف سب سے بڑا ٹوٹل بھی ہے، دنیا کے سب سے چھوٹی باؤنڈری والے گراؤنڈ پر ایک بار پھر بڑے سکور کا عزم لیے گرین شرٹس نے ٹاس بھی جیت لیا لیکن اننگز کا آغاز ہوتے ہی ٹاپ آرڈر کی ناکامی کا سفر شروع ہوگیا۔

بابر اعظم کی عدم موجودگی میں محمد رضوان کو بطور اوپنر بھیجا گیا،وکٹ کیپر بیٹسمین کے پاس پاور ہٹنگ کے لیے سٹروکس کی ورائٹی موجود نہیں، لوئر آرڈر میں کھیلتے ہوئے ان کی مہارت میں کمی محسوس ہوتی رہی، انہوں نے جارحیت دکھانے کی کوشش کی لیکن غیر متاثر کن نظر آئے، دو مواقع ملنے کے باوجود بڑی اننگز نہیں کھیل پائے، کسی نوجوان بیٹسمین نے صرف ایک ٹی ٹوئنٹی میچ وہ بھی ہوم گراؤنڈ پر کھیلا ہو،اگلی بار سامنا اپنی کنڈیشنز میں مہلک ہتھیار ثابت ہونے والے کیوی پیسرز سے ہو تو آپ اس کی ذہنی حالت سمجھ سکتے ہیں،عبداللہ شفیق کچھ اسی طرح کی صورتحال سے گزرتے ہوئے وکٹ گنوا کر رخصت ہوئے۔

حیدر علی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ سینئرز کی ہدایت کے مطابق ہر گیند پر سٹروک کھیلنے کے بجائے کریز پر رکنے کی کوشش کروں گا، ضرورت سے زیادہ کوچنگ ٹپس سے متاثر نوجوان بیٹسمین نے اپنا نیچرل کھیل چھوڑا، شاید اسی وجہ سے تذبذب کا شکار بھی ہوگئے، نہ سٹروکس کھیل پائے اور نہ ہی کریز پر قیام طویل کر سکے، سب سے زیادہ حیرت محمد حفیظ کی شاٹ دیکھ کر ہوئی، سینئر بیٹسمین کو اچھی طرح اندازہ تھا کہ ٹیم مشکلات کا شکار ہے، ان کے بعد آنے والوں بیٹسمینوں میں بھی انٹرنیشنل کرکٹ کا زیادہ تجربہ نہیں، حد سے زیادہ خود اعتمادی کا شکار ہوتے ہوئے ایک اٹھتی ہوئی گیند کو باؤنڈری کے پار بھیجنے کی کوشش میں وکٹ گنوا بیٹھے۔

خوشدل شاہ بھی اچھے آغاز کو بڑے سکور میں نہیں بدل پائے،عمادوسیم بھی ہمیشہ کی طرح 20کے قریب رنز بنانے والے بیٹسمین ہی ثابت ہوئے، کپتان شاداب خان کو داد دینا چاہیے کہ انہوں نے میچ کی صورتحال کو سمجھا، جہاں ضروری تھا تحمل سے کام لیا اور جب موقع ملا بڑے اسٹروکس بھی کھیلے،افتخار احمد پر ترجیح پاتے ہوئے ٹیم میں جگہ بنانے والے فہیم اشرف نے بیٹنگ میں اچھی کارکردگی سے ایک جھلک دکھلائی کہ وہ آل راؤنڈر کا خلا پْر کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں،ماضی میں کئی مواقع ملنے کے باوجود قدم نہ جماپانے والے فہیم اشرف اس بار عمدہ کارکردگی کا تسلسل برقرار رکھتے ہوئے ٹیم میں اپنی جگہ پکی کرسکتے ہیں، پاکستان کو پیس آل راؤنڈر کی اشد ضرورت ہے۔

کیوی پیسر جیکب ڈفی کو داد دینا چاہیے کہ انہوں نے ٹم ساؤدی اور ٹرینٹ بولٹ کی عدم موجودگی میں توقعات کا بوجھ اٹھا لیا، ڈیبیو میچ میں ہی کنڈیشنز کا بہترین استعمال کرنے والے پیسر نے ثابت کردیا کہ وہ تمام ہتھیاروں سے لیس اور انٹرنیشنل کرکٹ میں دھاک بٹھانے کے لیے تیار ہیں،

آکلینڈ کے میدان پر 153رنز کا مجموعہ قطعی طور پر محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا تھا، بہرحال بولرز کے لیے ایک موقع ضرور تھا کہ وہ تھوڑی فائٹ کر سکتے،حارث رؤف نے عمدہ بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کیویز کو دباؤ کا شکار کر دیا تھا، شاہین شاہ آفریدی نے بھی ان کا بخوبی ساتھ دیا لیکن تجربہ کار وہاب ریاض کو درست لائن اور لینتھ حاصل کرنے میں تھوڑی دشواری کا سامنا رہا، سپنرز کیلئے یہ بچ، کنڈیشنز اور گراؤنڈ کچھ بھی سازگار نہیں تھا، کچھ آسان اور کچھ مشکل ڈراپ کیچز کیساتھ کئی بار مس فیلڈنگ کی وجہ سے بھی کیویز کا سفر آسان ہوتا گیا۔

چھوٹی گراؤنڈ پر مسلسل وکٹیں حاصل کرتے رہنا اور شاندار فیلڈنگ سے رنز روکنا بہت ضروری تھا مگر اپنے ماحول کا تجربہ رکھنے والے کیوی بیٹسمینوں نے غیر ضروری خطرات مول لئے بغیر فتح کی جانب سفر جاری رکھا اور بالآخر مشن مکمل کر لیا،ٹم سییفرٹ نے ایک ذمہ دارانہ اننگز کھیلی، طویل وقفہ کے بعد بالکل مختلف کنڈیشنز میں کوئی انٹرنیشنل میچ کھیلنے والے پاکستانی کرکٹر کو تھوڑا مارجن دیا جاسکتا ہے کہ صلاحیتوں پر لگا زنگ ایکدم نہیں اتر سکتا۔

بہرحال لمحہ فکریہ یہ ہے کہ اگر کپتان بھی قیادت کا حق ادا کرتے ہوئے ایک اچھی اننگز نہ کھیلتے تو شاید ٹیم 100 رنز بھی نہ بنا پاتی،کنڈیشنز سے ہم آہنگی اور غلطیاں سدھارنے کے لیے پاکستان ٹیم کو پریکٹس کا وقت میسر نہیں اب جو تجربات بھی ہوں آج کھیلے جانے والے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ہونگے، ناکامی کی صورت میں سیریز بھی ہاتھ سے نکل جائے گی، یاد رہے کہ گذشتہ ٹور میں پاکستان نے پہلا میچ ہارنے کے بعد اگلے دونوں جیت لیے تھے، اس بار بھی کم بیک کا موقع موجود ہے لیکن اس کے لیے ٹاپ آرڈر میں سے ایک یا 2 بیٹسمینوں کا پرفارم کرنا بہت ضروری ہے۔

ہملٹن میں ہونے والے اس میچ کیلئے گرین شرٹس کو ایک بار پھر بیٹنگ آرڈر کی فکر ہوگی،مشکل کنڈیشنز میں محمد حفیظ کو اوپنر بھیجنے کا تجربہ کرنے کا آپشن موجود ہے مگر مڈل آرڈر کمزور ہوجائے گی،اگر اس کمی کو پورا کرنے کیلئے افتخار احمد کو شامل کیا جاتا ہے تو عماد وسیم کو باہر بٹھانا پڑے گا، بہر حال کوئی بھی فیصلہ آسان نہیں،دوسرے پاکستان کو اپنی بولنگ کی حکمت عملی پر بھی ازسرنو غور کرنے کی ضرورت ہے،صرف آغاز میں ہی نہیں بلکہ درمیانی اوورز میں بھی وکٹیں حاصل کرنا ضروری ہے،اس کوشش میں فیلڈرز کو بھی بولرز کا ساتھ دینا ہوگا۔

پہلے ٹی ٹوئنٹی میں شاداب خان نے بائیں کندھے کی جانب تیزی سے نیچے آنے والی گیند پر آخر تک نظر رکھتے ہوئے مارٹن گپٹل کا شاندار کیچ لیکر دیگر فیلڈرز کیلئے مثال چھوڑی ہے،اس طرح کی مشکل کوشش کامیاب ہونے سے پوری ٹیم کا حوصلہ بڑھتا ہے، کپتان کین ولیمسن سمیت بڑے نام مہمان ٹیم میں واپس آرہے ہیں،پاکستان کیلئے سیریز بچانے کا سفر مزید دشوار ہوگیا ہے،کم بیک کیلئے تینوں شعبوں میں جان لڑانا ہوگی، کسی بھی غلطی کا بھاری خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

 

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔