کچھ باتیں کتابوں سے

رفیع الزمان زبیری  اتوار 20 دسمبر 2020

آج کچھ باتیں کتابوں سے۔ ایک مرتبہ حکیم محمد سعید اور ان کے بڑے بھائی حکیم عبدالحمید ترکی کے سفر کے دوران قونیہ آئے۔ مزار رومیؒ پر حاضری مقصود تھی۔

انقرہ میں پاکستان کے سفیر ان کے ساتھ۔ مزار پر فاتحہ خوانی کے بعد وہیں مسجد میں نماز پڑھنے چلے گئے۔ دونوں بھائی دلی کے مشہور سلیم شاہی جوتے پہنے ہوئے تھے۔ انھوں نے جوتے دروازے پر چھوڑ دیے۔ نماز سے واپس آئے تو دیکھا ان کے جوتے غائب ہیں اور سفیر کے نئے چمک دار جوتے موجود ہیں۔

حیران ہوئے کہ ان کے پرانے جوتے تو غائب ہیں اور سفیر صاحب کے نئے جوتے موجود ہیں۔ یہ ماجرا کیا ہے۔ ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ کیا کریں، ایک صاحب دو نئے جوتے لے کر آگئے اور کہنے لگے ’’ہم نے آپ دونوں کے جوتے اٹھا کر میوزیم میں رکھ دیے ہیں۔ ہماری طرف سے یہ نئے جوتے قبول فرمائیے۔‘‘ سلیم شاہی جوتے برصغیر کی اسلامی ثقافت کا حصہ تھے، ان کی جگہ مزار رومیؒ کے میوزیم میں تھی۔

ایک بار فیضؔ صاحب ٹوکیو آئے۔ کرامت اللہ غوری پاکستان کے سفیر تھے، وہ فیضؔ صاحب کو ان کے ہوٹل سے گھر لے آئے۔ سب مہمانوں سے تعارف کے بعد جب فیضؔ آرام سے بیٹھ گئے تو کرامت اللہ غوری نے میزبانی کا حق ادا کرتے ہوئے ان سے پوچھا ’’فیضؔ صاحب! کیا چلے گا، کیا پیش کیا جائے؟‘‘ فیضؔ صاحب نے اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں جواب دیا ’’بھئی! کوئی پینے والی چیز ہو تو پلائیے۔‘‘ غوری صاحب سمجھدار تھے، جان گئے، پینے والی چیز سے فیضؔ صاحب کی کیا مراد ہے، سو انھوں نے بلیک لیبل کی بوتل کھول کر گلاس اور برف کے ساتھ میز پر رکھ دی۔

محمد اسد جب وہ لیوپولڈ وینس تھے اور ابھی ان کا قلب ایمان کی روشنی سے منور نہیں ہوا تھا، اسکندریہ سے بیت المقدس جا رہے تھے۔ ان کی ٹرین صرائے سینا سے گزر رہی تھی۔ رات کو صحرا کی ٹھنڈک اور ٹرین کی مسلسل حرکت کی وجہ سے ایک لمحہ کے لیے بھی ان کی آنکھ نہ لگی تھی۔ ان کی سامنے کی سیٹ پر ایک بدو ایک بڑی سی عبا میں لپٹا ہوا بیٹھا تھا۔ وہ بھی اپنی عبا کے باوجود سردی سے کانپ رہا تھا۔ ٹرین ایک چھوٹے سے اسٹیشن پر رکی۔ فلسطینی بچے جن کے جسم پر پھٹے کپڑے تھے، انجیر، ابلے انڈے اور روٹی فروخت کر رہے تھے۔ وہ بدو جو ان کے سامنے بیٹھا تھا، آہستہ آہستہ اٹھا۔ اس نے ایک روٹی خریدی اور اپنی سیٹ پر واپس بیٹھنے لگا۔ اس وقت اس کی نگاہ ان پر پڑی۔

کچھ کہے بغیر اس نے روٹی کے دو ٹکڑے کیے اور ایک انھیں دینے لگا۔ جب اس نے ان کا تعجب دیکھا تو مسکرایا پھر کہا، ’’تفضل‘‘ (نوش فرمائیے)۔ انھوں نے روٹی کا وہ ٹکڑا لے لیا۔ ایک مسافر نے جو یورپین لباس میں ترکی ٹوپی پہنے تھا، اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں بدو کی ترجمانی کرتے ہوئے ان سے کہا، یہ کہتے ہیں ’’آپ بھی مسافر ہیں اور میں بھی مسافر ہوں اور ہم دونوں کا راستہ ایک ہے۔‘‘ بس یہیں سے محمد اسد کی عربی اخلاق سے وابستگی اور محبت کی بنیاد پڑی اور ان کی زندگی میں آنیوالے انقلاب کا داخلی شعور پیدا ہوا۔

لطف اللہ خاں نے جب اپنے گھر میں بہترین ساؤنڈ سسٹم پر مشتمل اسٹوڈیو قائم کیا تو چاہا کہ جوشؔؔ صاحب ان کے اسٹوڈیو میں آکر خصوصی ریکارڈنگ کرائیں۔ جوشؔؔ صاحب کو گھر پر بلانے کے لیے دو شرطیں پوری کرنا ضروری تھیں۔ پہلی شرط یہ کہ انھیں شراب پلائی جائے اور دوسری یہ کہ ان کے مقربین اور مدوحین کو بھی ساتھ بلایا جائے۔ لطف اللہ خاں کو قبول نہیں تھی کہ یہ ان کے مشرب سے ہم آہنگ نہیں تھی، دوسری شرط پوری کرنے پر انھیں چنداں اعتراض نہ تھا کیونکہ بیاض برداروں اور مصرع اٹھانے والوں کا ایک گروہ ہوتا تھا جس کے بغیر جوشؔؔ صاحب لہک لہک کر نہیں پڑھ سکتے تھے۔

کبھی کبھی حسب منشا داد نہ پاتے تو بڑے غصے سے ڈانٹتے، ’’مصرع اٹھاؤ مردُودو!‘‘ چنانچہ لطف اللہ خاں نے دوسری شرط پوری کر کے اور جوش صاحب کے ایک مقرب خاص کے مشورے پر ایک ہزار روپیہ کا جو اس وقت ایک بڑی رقم تھی، نذرانہ پیش کر کے جوشؔؔ صاحب کا کلام بہ زبانِ شاعر اپنے اسٹوڈیو میں ریکارڈ کر لیا۔ بمبئی میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے زمانے سے اورینٹل ٹرانسلیٹرز کا ایک دفتر قائم تھا۔ ضیا الدین برنی نے کافی وقت یہاں گزارا۔ دادا بھائی واچ میکر ان کے افسر تھے۔ لائق آدمی تھے، اعلیٰ تعلیم یافتہ پارسی تھے۔

ایک دن وہ برنی سے کہنے لگے کہ ’’اسلام نے بہت ہی اچھا کیا کہ شراب حرام کر دی۔ ہم پارسی اس کے لیے اسلام کے بے حد شکر گزار ہیں۔‘‘ برنی نے حیران ہو کر کہا ’’اگر اسلام نے شراب حرام کر دی ہے تو اس سے آپ کو کیا؟‘‘ کہنے لگے ’’تم میرا مفہوم نہیں سمجھے۔ حرام ہونے پر تو مسلمان اس کثرت سے پیتے ہیں، اگر حلال ہوتی تو پھر پینے کے لیے ہم پارسیوں کو ایک قطرہ بھی نہ ملتا۔‘‘

مہدی علی خاں ایک زمانے میں پشاور میں اسپیشل مجسٹریٹ ٹریفک بھی رہے تھے۔ ایک روز شام کا وقت تھا، جھٹ پٹا سا چھا رہا تھا۔ وہ اپنے کمرے میں بیٹھے کام کر رہے تھے کہ ٹریفک پولیس نے دو سائیکل سواروں کو روک کر ان کے سامنے پیش کیا۔ یہ صدر پشاور کی بڑی سڑک کا واقعہ ہے۔ مہدی علی خاں ان دونوں کو پہچانتے تھے کیونکہ وہ مضمون پڑھنے اکثر پشاور ریڈیو اسٹیشن جایا کرتے تھے۔ خیر اب جو وہ سائیکل سوار ٹریفک کے قواعد کی خلاف ورزی کے جرم میں ان کے سامنے پیش ہوئے تو وہ انھیں دیکھ کر شش و پنج میں پڑ گئے۔ ان میں سے ایک اردو کے مشہور شاعر اور پشاور ریڈیو اسٹیشن کے ڈائریکٹر ن۔م راشد تھے اور دوسرے ایک نوخیز، نوجوان شاعر تھے یعنی میاں احمد فراز … بالآخر انھوں نے مجسٹریٹ کے اختیارات کی پرانی چال چلی اور دونوں حضرات کو ’’سخت زبانی تنبیہ‘‘ کے بعد رخصت کر دیا۔

ریاست بھوپال کی پرنسس عابدہ سلطان نے جب ’’گلستان سعدی‘‘ کے چار باب پڑھ لیے تو دیکھا کہ کتاب میں پانچواں باب نہیں ہے۔ عابدہ سلطان کی دادی ریاست کی فرماں روا، سلطان جہاں بیگم انھیں فارسی خود پڑھا رہی تھیں۔ عابدہ نے ان سے پوچھا ’’سرکار اماں! کیا میں پانچواں باب نہیں پڑھوں گی؟‘‘ سرکار اماں نے مسکرا کر جواب دیا ’’ہاں۔ کیوں کہ ہم پسند نہیں کرتے کہ لڑکیاں اپنی شادی سے پہلے محبت کے چکر میں پھنس جائیں۔‘‘

’’کیوں کیا محبت ایسی بری چیز ہے؟‘‘ کمسن عابدہ نے معصومیت سے سوال کیا۔ ’’نہیں۔‘‘ سلطان جہاں بیگم نے جواب دیا۔ ’’محبت بری چیز نہیں۔ یہ ایک پاکیزہ جذبہ ہے، لیکن ہر بات کا ایک موقع ہوتا ہے۔ تم ابھی بہت چھوٹی ہو۔ تم میں اتنی سمجھ نہیں ہے کہ اس کو جانو۔‘‘ عابدہ سلطان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی۔ صدر ایوب کا زمانہ تھا۔ وہ لاہور آئے ہوئے تھے۔ پاکپتن کے ایک ممبر صوبائی اسمبلی نے ان سے ملنے کی درخواست کی۔ صدر نے انھیں بلا لیا۔ گورنر کالا باغ بھی موجود تھے۔ ممبر صوبائی اسمبلی نے صدر سے کہا ’’جناب مجھے آپ کے گورنر سے شکایت ہے۔ وہ نا انصافی کر رہے ہیں۔‘‘

ایوب خان حیران ہوئے، پوچھا ’’کیا نا انصافی؟‘‘ وہ بولے۔ ’’جناب! اعداد و شمار کے مطابق مغربی پاکستان میں پاگلوں کی تعداد ایک فیصد کے آدھے سے بھی کم ہے لیکن گورنر صاحب نے اپنی کابینہ میں انھیں تین سیٹیں دے رکھی ہیں۔ ایک شیخ مسعود صادق ہیں، دوسرے حبیب اللہ خاں ہیں اور تیسرے ملک غلام قادر جاکھرانی ہیں۔‘‘ ایوب خان اور نواب صاحب دونوں بے اختیار ہنس پڑے۔ میڈیلن البرائٹ جن دنوں اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر تھیں ان ہی دنوں جمشید مارکر اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر تھے۔ ایک دن میڈیلن جمشید مارکر سے کہنے لگیں کہ ’’میں نے نیویارک میں ایک اسٹور سے جوتا خریدا۔ اس میں کوئی نقص تھا۔ میں واپس کرنے گئی۔

ایک کم عمر شاپ اسسٹنٹ نے جوتا فوراً واپس لے لیا اور کہنے لگی کہ تین صورتیں ہیں۔ آپ چاہیں تو پوری رقم واپس لے لیں، چاہیں تو کوئی دوسر جوتا اس کے بدلے میں لے لیں یا چاہیں تو اسٹور کا کریڈٹ لے لیں۔‘‘ میڈیلن نے کہا، میں سوچ میں پڑ گئی۔ میں نے شاپ اسسٹنٹ سے کہا، ’’تم بتاؤ، تمہارے خیال میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟‘‘ وہ پیاری سی لڑکی کہنے لگی۔ ’’آپ میڈیلن البرائٹ ہیں۔ کیا آپ وہ نہیں ہیں جو یہ فیصلہ کرتی ہیں کہ دنیا میں امن ہونا چاہیے یا جنگ؟‘‘آخر میں ایک لطیفہ۔

واشنگٹن میں ہاکی کے ایک میچ کے اختتام پر پاکستانی کھلاڑیوں کو امریکی منتظمین کی طرف سے سرٹیفکیٹ دیے گئے۔ تقریب کے دوران ایک پاکستانی کھلاڑی دوسرے پاکستانی کھلاڑی سے کہنے لگا ’’یہ واپس کر۔ کہہ مجھے گرین کارڈ دے۔‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔