ورکنگ ویمن ڈے ... ملکی ترقی میں ملازمت پیشہ خواتین کا کردار انتہائی اہم!!

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 21 دسمبر 2020
خواتین کو معاشی دھارے میں لانے کیلئے اقدامات کرنا ہونگے: شرکاء کا ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہار خیال

خواتین کو معاشی دھارے میں لانے کیلئے اقدامات کرنا ہونگے: شرکاء کا ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہار خیال

پاکستان میں ہر سال 22 دسمبر کو ورکنگ ویمن ڈے منایا جاتا ہے جس کا مقصد کام کرنے والی خواتین کے حقوق کا تحفظ اور انہیں سازگار ماحول فراہم کرنا ہے۔ اس دن کے حوالے سے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک خصوصی مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین کو مدعو کیا گیا۔ ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

بیگم آشفہ ریاض فتیانہ

(صوبائی وزیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ پنجاب)

تحریک انصاف کو خواتین کی بڑی تعداد نے ووٹ دیا اور ان کی فلاح و بہوداور ترقی ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم عمران خان اور وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اس پر بھرپور کام کر رہے ہیں۔ خواتین کے حوالے سے ہمارے ہاں موثر قانون سازی ہوئی۔ ان کے حقوق و تحفظ کیلئے 70 سے زائد بل منظور ہوئے جبکہ بچوں کے حوالے سے 30 کے قریب قوانین موجود ہیں۔ اس کے علاوہ آئین کا آرٹیکل 25(c) عورت اور مرد کے مساوی حقوق کی بات کرتا ہے اور امتیازی سلوک کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔

مجھے اس وزارت کا قلمدان سنبھالے ہوئے سو ادو سال ہوچکے ہیں۔ اس دوران ہم نے خواتین کو بااختیار اور مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں تحفظ فراہم کرنے کیلئے بے شمار کام کیا ہے۔ خواتین کی مکمل رہنمائی کے لیے ہماری ٹول فری ہیلپ لائن 1043 موجود ہے ۔ اس پر آئینی حقوق، قوانین، وراثتی حقوق، بچوں کے داخلے سمیت دیگر معاملات جن پر رہنمائی درکار ہوتی ہے ، ہمارے وکلاء فراہم کرتے ہیں، یہ سہولت 24گھنٹے میسر ہے۔ خواتین جب دوسرے شہروں میں ملازمت کیلئے جاتی ہیں تو رہائش ایک بڑا مسئلہ ہوتا ہے جس کیلئے ورکنگ ویمن ہاسٹلز انتہائی اہم ہیں۔

اس وقت ہمارے 16 ورکنگ ویمن ہاسٹلز کام کر رہے ہیں جن میں 4 لاہور، 2 راولپنڈی جبکہ باقی مختلف اضلاع میں ہیں۔ ان میں کچھ سرکاری عمارتیں ہیں جبکہ بعض کرایہ کی عمارت میں قائم کیے گئے ہیں، ان کا مکمل انتظام ہمارے پاس ہے۔ حکومت نے محسوس کیا کہ یہ تعداد ناکافی ہے۔ سردار عثمان بزدار کی حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ ہم نے ورکنگ ویمن ہاسٹلز اتھارٹی قائم کرنے کا بل کابینہ سے منظور کرالیا ہے اور وزارت قانون نے بھی اس کی توثیق کر دی ہے۔ اس اتھارٹی کے قیام کے بعد خواتین کی رہائش کے مسائل حل کرنے میں مدد ملے گی۔

نجی سطح پر قائم تمام ہاسٹلز کو اس اتھارٹی میں رجسٹرڈ کیا جائے گا اور اتھارٹی انہیں باقاعدہ چیک کرے گی۔ ان ہاسٹلز کی مختلف کیٹگریز بنائی جائیں گی اور یہ طے کیا جائے گا کہ تمام اضلاع میں قائم ان ہاسٹلز کا کرایہ ایک جیسا ہوگا جو کیٹگری کے حساب سے ہوگا۔ اس کا مکمل نظام آن لائن ہوگا، خواتین گھر بیٹھے ہی کسی بھی ہاسٹل میں بکنگ کراسکیں گی۔ تمام ہاسٹلز کا مکمل چیک اینڈ بیلنس ہوگا اور جس ہاسٹل میں خرابی ہوئی اتھارٹی جرمانہ و سیل کر سکے گی۔

ہم ڈے کیئر سینٹرز پر بھی توجہ دے رہے ہیں، نئے ہاسٹلز کو پابند کیا جائے گا کہ وہ ہاسٹل میں ڈے کیئر سینٹر لازمی قائم کریں تاکہ ملازمت پیشہ خواتین کے بچوں کی مکمل دیکھ بھال ہوسکے۔ 2012ء سے 2018ء تک گزشتہ حکومت نے 68 ڈے کیئر سینٹرز بنائے۔

ہم نے گزشتہ دوبرسوں میں اس تعداد میں تیزی سے اضافہ کیا اور اس وقت پنجاب میں 187 ڈے کیئر سینٹرز موجود ہیں۔ ہم نے ڈے کیئر سینٹرز کے فارم میں آسانی پیدا کی۔ ہم نے نجی شعبے کو بھی سہولت دی ہے کہ وہ ڈے کیئر سینٹرز بنائیں، ہم ان کے ساتھ تعاون کریں گے۔ گزشتہ دنوں ہم نے مختلف محکموں کے مرد و خواتین کو آگاہی دی، ان کی کپیسٹی بلڈنگ کی گئی اور خاص طور پر جینڈ ر کے حوالے سے انہیں شعور دیا گیا تاکہ محکمانہ سطح پر بہتری لائی جاسکے۔ ہم خواتین کے مسائل حل کرنے کیلئے ہر ممکن کام کر رہے ہیں۔

ہوم بیسڈ ورکز کا قانون منظور ہوچکا ہے جبکہ ڈومیسٹک ورکرز کے قانون پر کام جاری ہے۔میں پہلے بھی ایکسپریس فورم میں خواتین کے مسائل کے موضوعات پر شرکت کرتی رہی ہوں۔ پہلے یہاں خواتین اپنے جذبات کا اظہار ایسے کرتی تھی جیسے بہت ہی مشکل معاملات ہیں جو ان سے سنبھالے نہیں جارہے، ان مسائل کے حل کیلئے انہیں ہر وقت حکومت اور قانون کی مدد کی ضرورت ہے مگر آج معاملات مختلف نظر آئے جو یقینا خوش آئند ہے۔ بہت ساری قانون سازی، تعلیم و تربیت، آگاہی اور معاشرتی رویوں میں تبدیلی کے بعد مجھے خوشی ہے آج خواتین کی حالت ماضی کی نسبت بہتر ہے۔

اگرچہ ابھی بھی بہت سارا کام باقی ہے مگر آج سماجی رویوں میں بہتری آئی ہے، لوگ خواتین کی عزت کرتے ہیں اور اس پر سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں کہ اگر ہم نے خواتین کو کام نہ کرنے دیا تو ہم ان اقوام میں شامل نہیں ہوسکیں گے جنہیں دنیا عزت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ ضروری ہے کہ خواتین کو زیادہ سے زیادہ معاشی دھارے میں لایا جائے۔ اس کے لیے خواتین کو ساز گار ماحول اور تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔ یہ صرف کام کی جگہ پر ہی نہیں بلکہ گھر سے ملازمت اور وہاں سے واپس گھر تک، خواتین کو عزت و تکریم اور احترام دیا جائے۔

ہمیں سمجھنا چاہیے کہ وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو اپنی خواتین کاا حترام کرتی ہیں۔ گھر، کنبہ اور سماج سے جڑا ہوا ہر رشتہ اس وقت ہی قابل احترام بنے گا جب وہ عورت کی عزت کرے گا۔ عورت کو باوقار بنانے سے معاشرہ باوقار ہوجائے گا اور بے شمار معاشرتی مسائل ختم ہوجائیں گے۔ جہاں عورت کی بے توقیری ہوئی، وہاں سے معاشرہ تنزلی کا شکار ہوجاتا ہے۔ دین اسلام واحد مذہب ہے جس نے سب سے پہلے عورت کوتعظیم دی۔ حضور نبی کریم حضرت محمدﷺ نے خواتین کی تعظیم کی۔

آپؐ اپنی بیٹیؓ کیلئے چادر بچھا دیتے تھے لہٰذا ہمیں آپؐ کی سنت کو اپنانا ہوگا اور خواتین کو عزت دینا ہوگی۔  اگر آپ ترقی یافتہ ممالک میں اپنا مقام بنانا چاہتے ہیں تو عورت کو احترام دینا ہوگا، اس کے جائز مطالبات کو ماننا ہوگا اوررائے کا احترام کرنا ہوگا۔ سماجی رویوں میں تبدیلی عوام کی سوچ بدلنے سے ہی پیدا ہوسکتی ہے۔ میڈیا معاشرے کا ایک بڑا سٹیک ہولڈر ہے۔ اگر یہ خواتین کو سپورٹ کرے تو ان کے مسائل جلد حل ہوسکتے ہیں۔ سماجی و اخلاقی رویوں میں بہتری لانے میں میڈیا کا کردار انتہائی اہم ہے۔

نازیہ باقر

(انسپکٹر ٹریفک پولیس لاہور)

بطور خاتون جب ہم سڑکوں پر ڈیوٹی کر رہی ہوتی ہیں تو اکثر ایسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن سے نمٹنا مشکل لگتا ہے مگر یہ یونیفارم ہمیں ہمت دیتا ہے اور ہم ہر طرح کی صورتحال کا مقابلہ کر لیتی ہیں۔ ہم قانون توڑنے والے کے ساتھ صبر و تحمل اور خوش اخلاقی سے پیش آتی ہیں۔

جب پہلے سلام اور پھر کلام کیا جائے تو قانون توڑنے والا جیسا بھی ہو، ہینڈل ہوجاتا ہے۔ خواتین کو ملازمت کیلئے گھر کی سپورٹ ضروری ہے۔ اگر بھائی، باپ یا شوہر چاہتا ہے کہ اس کے گھر کی عورت کام کرے تو تب ہی وہ کام کر سکتی ہے۔ اس حوالے سے ہمارے معاشرے میں ماضی کی نسبت شعور آیا ہے۔ میں اپنے شوہر کی سپورٹ کی وجہ سے ہی اس شعبے میں ہوں اور ایک سخت کام کر رہی ہوں۔ ڈیوٹی کے دوران سڑک پر ملنے والے لوگوں کے رویے بسا اوقات ایسے ہوتے ہیںجنہیں ہینڈل کرنا مشکل ہوجاتا ہے لیکن اگر افسران مکمل سپورٹ کریں تو مشکلات دور ہوجاتی ہیں۔

ٹریفک پولیس کی بعض خواتین جو موٹر بائیک پر سڑکوں پر نکلتی تھی،انہیں بے شمار مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کی وجہ معاشرے میں شعور کی کمی ہے۔ ان خواتین کو دفاتر میںذمہ داریاں دے دی گئی، بعض کو ایجوکیشن یونٹ میں لگا دیا گیا جبکہ کچھ ابھی بھی موٹر بائیک چلاتی ہیں۔ اس وقت 10 کے قریب لیڈی وارڈنز ہیوی بائیک کے ساتھ سڑکوں پر ڈیوٹی دے رہی ہیں۔ یہ چالان بھی کرتی ہیں اور قانون توڑنے والوں کو بریفنگ بھی دیتی ہیں۔

اس کے علاوہ مال روڈ و دیگر سڑکوں پر جو آگاہی کیمپ لگتے ہیں وہاں بھی خواتین وارڈنز لوگوں کو آگاہی دیتی ہیں۔ کورونا وائرس کے حوالے سے لگائے گئے آگاہی کیمپوں میں بھی خواتین وارڈنز مردوں کے شانہ بشانہ ذمہ داریاں ادا کر رہی ہیں۔ ہمارا محکمہ خواتین کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یونیورسٹیز کے تعلیم یافتہ افراد یہاں آرہے ہیں۔

ہمارے وارڈنز کی زیادہ تعداد پوسٹ گریجوایٹس کی ہے، اس کے علاوہ 100 سے زائد ایم فل اور 26 کے قریب پی ایچ ڈی میں انرول ہیں۔ تعلیم شعور دیتی ہے اور اس کی مثال ہمارا محکمہ ہے جس میں خواتین کو اس طرح کے مسائل درپیش نہیں ہیں جیسے بعض اداروں میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ مجھے سٹی ٹریفک پولیس میں کافی عرصہ ہوگیا ہے، افسران اور ماتحت عملہ مکمل تعاون کرتا ہے اور ہم ایک ٹیم کی صورت میں کام کرتے ہیں۔

سٹی ٹریفک کے علاوہ دیگر پولیس فورسز میں بھی خواتین کام کر رہی ہیں۔ ڈولفن پولیس میں ایک خاتون ایس پی یہاں فرائض انجام دے چکی ہیں۔ اس کے علاوہ جلسے جلوس اور عدالتوں میں بھی خواتین پولیس اہلکار بڑی تعداد میں اپنے فرائض نبھاتی ہیں۔ پولیس کے علاوہ آج ہر شعبے میں خواتین کام کر رہی ہیں اور ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں جو خوش آئند ہے۔

خواتین کو کام کے حوالے سے فر ی ہینڈ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ مسلمان عورت اپنے حقوق کے ساتھ ہی پیدا ہوتی ہے۔ اسلام میں خواتین کو جو حقوق دیے گئے ہیں وہ کسی اور مذہب میں نہیں ہیں۔ بطور اسلامی ملک یہاں خواتین کی بہت عزت ہے۔ موجودہ حکومت کی بات کی جائے تو اس میں خواتین کو بہت زیادہ سپورٹ مل رہی ہے، ان کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہیں۔

بشریٰ خالق

(نمائندہ سول سوسائٹی)

2011ء میں اس وقت کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے 22 دسمبر کو ورکنگ ویمن ڈے قرار دیا تاکہ ملازمت پیشہ اور کام کرنے والی خواتین جو رسمی و غیر رسمی شعبے سے تعلق رکھتی ہیں اور ملکی معیشت میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں، کی خدمات کا اعتراف کیا جائے۔ اس دن کے لیے 22دسمبر متعین کرنے کے پیچھے ایک تاریخ ہے جسے جاننا ضروری ہے۔

پاکستان میں ایک عالمی ادارے کے دفتر میں کام کرنے والی خاتون کو جب جنسی طور پر ہراساں کیا گیا تو اس نے آواز اٹھائی اور 22 دسمبر کو ہراساں کرنے ولے شخص کے خلاف کیس رجسٹرڈ کرایا۔ اس وقت کام کی جگہ پر ہراساں کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا کوئی میکانزم نہیں تھا کہ کس طرح ملازمت پیشہ خواتین کو تحفظ دینا ہے۔ یہ موضوع اس سے پہلے کبھی سنجیدگی سے لیا ہی نہیں گیا تھا۔

لہٰذا 1998ء سے لے کر 2000ء تک، ہر سال 22 دسمبر کو تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ملازمت پیشہ خواتین جمع ہوتی تھی ، اپنے مسائل پر بات کرتی تھی اور اپنے مطالبات پیش کرتی تھی۔ اس طرح 22 دسمبر کی ایک تاریخ رقم ہونا شروع ہوئی اور ایک خاتون سے شروع ہونے والا معاملہ ایک تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔

اس کے نتیجے میں اس گفتگو کا آغاز ہوا کہ کام کی جگہ پر خواتین کو تحفظ دینے اور ہراسگی سے بچانے کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ دن ہمیں اس بات کی یاد دلواتا ہے کہ ہم نے اپنی جدوجہد کا آغاز کہاں سے اور کیسے کیا۔

ہم یہ فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ جب ہم نے اپنے مطالبات رکھے تو حکومت اور سیاسی رہنماؤں نے اس پر سنجیدگی دکھائی۔ اس دن کا قرار پانا ایک سنگ میل ہے۔ اس وقت کی حکومت اور بعد میں آنے والی حکومت نے بھی خواتین کے حوالے سے بہت کام کیا اور اس دن کوزندہ رکھا، ہم ان کے مشکور ہیں کہ ان کے اقدام سے ہماری جدوجہد کو ایک پہچان ملی ہے۔

کام کی جگہ پر خواتین کو محفوظ ماحول اور تحفظ فراہم کرنے کیلئے وفاقی و صوبائی حکومتوں نے پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف ویمن ایٹ ورک پلیس ایکٹ کا نفاذ کیا ۔ گزشتہ دس برسوں میں بہت سارے قوانین آئے مگر جتنی گفتگو اس قانون پر ہوئی ہے کسی اور قانون پر دیکھنے میں نہیں آئی۔ میں حقیقی ترقی اور صنفی برابری پر یقین کرتے ہوئے یہ تسلیم کرتی ہوں کہ ہر فرد چاہے وہ تعلیم یافتہ ہو یا ان پڑھ، اگر وہ کام کرتا ہے تو اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔

یہ خوش آئند ہے کہ گزشتہ برسوں میں بہت ساری غلط روایات کا خاتمہ ہوا ہے۔ خواتین کی بہت بڑی تعداد تعلیم اور صحت کے شعبے میں کام کر رہی ہے۔ پہلے صرف انہی شعبوں میں خواتین یا لڑکیوں کا جانا پسند کیاجاتا تھا مگر آج حالات مختلف ہیں اور ہر شعبے میں خواتین نہ صرف کام کر رہی ہیں بلکہ انہوں نے اپنی قابلیت کا لوہا بھی منوایا ہے۔ خواتین نے نہ صرف ان شعبوں میں ملازمت کی بلکہ نئی جہتیں بھی متعارف کرائی ہیں۔ اب بے شمار خواتین اپنے کاروبار بھی کر رہی ہیں اور خواتین کو بااختیار بنا رہی ہیں۔

خواتین کا اس طرح سے آگے آنا پاکستان کی روشن مثالوں میں سے ایک ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ ہماری جدوجہد ختم ہوگئی ہے۔ 22 دسمبر کو ورکنگ ویمن ڈے قرار پانا ہماری جدوجہد کا منطقی انجام بھی ہوسکتا ہے اورایک آغاز بھی ہے کہ ابھی ہمیں اس تحریک کو اور آگے لے کر جانا ہے۔ جنوبی ایشیائی ممالک میں پاکستان لیبر فورس میں خواتین کی شمولیت کے حوالے سے بہت پیچھے ہے لہٰذا خواتین کیلئے مزید سازگار ماحول پیدا کرنا چاہیے۔ ملک اور صوبوں کی ورک فورس کا جائزہ لیا جائے تو اس میں خواتین کی تعداد 23 سے 28فیصد ہے۔

اس سے یہ معلوم ہوا کہ خواتین کی آبادی کا ایک تہائی ورک فورس کا حصہ ہے جس میں اضافے کیلئے اقدامات کرنا ہونگے۔ ہمارے ہاں جینڈر گیپ زیادہ ہے جبکہ ملازمت کے معاوضہ میں بھی امتیاز برتا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ پروفیشنل ٹریننگ اور ترقی کے وہ مواقع جو مردوں کو میسر ہوتے ہیں، خواتین کو کم ملتے ہیں۔ اسی طرح بیرون ملک دورے، کانفرنسز میں شرکت جیسے مواقع بھی خواتین کو کم ملتے ہیں یا انہیں مشکلات درپیش آتی ہیں ، اس میں ماضی کی نسبت بہتری تو آئی ہے تاہم ابھی خواتین کی مزید حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔

بے شمار خواتین کو اب خاندان کی سپورٹ مل رہی ہے جس کی وجہ سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں ملازمت کر رہی ہیں۔ ماضی میں جن شعبہ جات میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا اب وہاں بھی خواتین کام کر رہی ہیں، اس کی ایک مثال لیڈی کانسٹیبل ہیں، جو موٹربائیک پر اسی معاشرے میں سڑک پر نظر آئیں۔ غیر رسمی شعبے میں خواتین کی ایک بڑی تعداد کام کر رہی ہے جن میں ہوم بیسڈ ورکرز، زراعت اور فشریز کے شعبے میں کام کرنے والی خواتین شامل ہیں۔

ان کے کام کا اعتراف کرنا اور انہیں سوشل پروٹیکشن دینا ضروری ہے۔ یہ توجہ طلب معاملہ ہے، اس حوالے سے قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے کہ انہیں رجسٹرڈ کیا جائے اور سوشل نیٹ میں لایا جائے۔ کام کی جگہ پر خواتین کو تحفظ کے حوالے سے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے لیے ہمارے ہاں ایک بہترین قانون موجود ہے۔ پروٹیکشن آف ویمن اگینسٹ ہراسمنٹ ایٹ ورک پلیس ایکٹ، 2010ء میں منظور ہوا تھا۔ ان دس برسوں میں ہزاروں کیس رجسٹرڈ ہوئے اور ہزاروں تنظیموں کو میں نے گائڈ کیا کہ کس طرح وہ یہ قانون اپنے ادارے میں لاگو کرکے خواتین کو ہراسمنٹ فری ماحول دے سکتے ہیں۔

پاکستان میں آمد و رفت کے بے شمار ذرائع آگئے ہیں مگر اس کے باوجود خواتین کو اس حوالے سے مسائل درپیش ہیں۔ جن اداروں میں رات تک کام ہوتا ہے یا نائٹ شفٹ ہے تو وہاں صرف مردوں کو ملازمت دیکر خواتین کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے، اس کے بجائے خواتین کو تحفظ فراہم کریں اور کام کے مواقع دیں ۔پنجاب حکومت نے ورکنگ ویمن ہاسٹلز پر خصوصی توجہ دی، خواتین کے لیے بہترین ہاسٹلز بنائے گئے مگر ان کی تعداد کم ہے لہٰذا خواتین کی ورک فورس کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے ہاسٹلز تعمیر کیے جائیں۔

سسٹر نفیس طاہرہ

(سٹاف نرس)

نرسنگ ایک ایسا شعبہ ہے جو بیک وقت دو مختلف خوائص رکھتا ہے۔ ایک ہی وقت میں نرس کو سخت اور نرم رہنا پڑتا ہے۔ نرس ایک باہمت خاتون ہوتی ہے جسے بے شمار قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ بھوک لگی ہو، تھکاوٹ ہو یا کوئی مسئلہ، نرس کو ہر حال میں پہلے مریض کو دیکھنا پڑتا ہے اور یہی نرس کی ترجیح ہوتی ہے۔ نرس کے پاس اتنی توانائی ہونی چاہیے کہ تمام مریض جو ہسپتال میں آتے ہیں، جن سے پہلی بار ملاقات ہوتی ہے ان کا سامنا کرسکے، ان کا خیال رکھ سکے اور ان کی زندگی بچا سکے۔

ہمیں خود کو مضبوط رکھنا پڑتا ہے اور تمام مسائل کا بڑے دل کے ساتھ سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہم ہر حال میں بااخلاق رہتی ہیں کیونکہ مریض کا سب سے پہلے ہمارے ساتھ سامنا ہوتا ہے اور ہمارے ہاتھوں سے ہی اس نے صحت یاب ہو کر واپس جانا ہوتا ہے لیکن اگر مریض کے ساتھ ہمارا رویہ پہلی ملاقات میں ہی سخت ہوگا تو پریشانی سے مرض بگڑ سکتا ہے۔

ہماری مصروفیت بہت زیادہ ہوتی ہے اور ایک کے بعد ایک مریض آرہا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں مریض کے خاندان کی جانب سے بھی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بعض لوگ بلاوجہ دباؤ ڈالتے ہیں کہ ہمارے مریض کو پہلے دیکھیں، اس طرح ہمیں پریشانی بھی اٹھانا پڑتی ہے۔ بسااوقات سٹاف اور آلات کی کمی یا مینجمنٹ کی غلطی کی وجہ سے بھی پریشر بڑھ جاتا ہے مگر مریض کا سامنا ہمیں ہی کرنا پڑتا ہے اور انہیں شکایت بھی ہم سے ہی ہوتی ہے۔

ایسی صورتحال میں ہمیں مینجمنٹ اور مریض دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہوتا ہے۔ ہماری نرسنگ مینجمنٹ مضبوط ہے، ہمیں بہت زیادہ سپورٹ ملتی ہے اور بہتر کام کرنے کیلئے ہماری حوصلہ افزائی بھی کی جاتی ہے۔ ماضی میں ہمارے شعبے کو معاشرے میں زیادہ پزیرائی نہیں ملتی تھی مگر اب حالات کافی بہتر ہیں۔ نرسنگ میں ڈگری پروگرام بھی کرائے جارہے ہیں۔ ماسٹرز، ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والے افراد بھی اس شعبہ میں موجود ہیں جو خوش آئند ہے۔ ان کی وجہ سے ہمارے شعبے کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔ نرسنگ کے شعبے کو مزید عزت دلوانے کیلئے لوگوں کو آگاہی دینا ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔