مڈنائٹ ان پیرس

جاوید چوہدری  ہفتہ 28 دسمبر 2013
www.facebook.com/javed.chaudhry

www.facebook.com/javed.chaudhry

میں پیرس شہر میں اترا تو وہاں دوپہر کے وقت شام تھی‘ ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی‘ پورے شہر کو دھند نے اپنی آغوش میں لے رکھا تھا اور ٹھنڈی خنک ہوا پورے بدن کو گدگدا رہی تھی‘ میں نے جوں ہی ایئرپورٹ سے باہر قدم رکھا‘ بارش اور دھند میں گندھا ہوا ایک یخ جھونکا میرے چہرے سے ٹکرایا‘ آپ جب حجام سے شیو بنواتے ہیں اور وہ جب شیو کے آخر میں آپ کے چہرے پر پانی کی پھوار مارتا ہے اور یہ اگر سردیوں کے دن ہوں اور پانی کی پھوار ٹھنڈی ہو تو آپ تصور کیجیے اس وقت آپ کا رد عمل کیا ہو گا؟ آپ یقینا آنکھیں بند کر لیں گے اور پانی کی ٹھنڈک کو اپنی ریڑھ کی ہڈی میں اترتا ہوا محسوس کریں گے‘ آپ کے منہ سے اس وقت کچھ لایعنی سے لفظ بھی نکلیں گے‘ یہ لفظ اخو‘ ہائے‘ مار دیا اور ظالم قسم کے ہوں گے‘ چارلس ڈیگال ایئرپورٹ کے سامنے میری اس وقت یہی صورت حال تھی‘ میرے چہرے پر یخ ہوا اور ٹھنڈی پھوار پڑ رہی تھی اور منہ سے لایعنی لفظ نکل رہے تھے‘ مجھے سردی‘ بارش‘ ہوا‘ دھند اور پیرس کے ساتھ دوبارہ متعارف ہونے میں چند لمحے لگ گئے۔

دنیا کے ہر شہر میں ایک خاص قسم کی پراسراریت ہوتی ہے‘ آپ جوں ہی اس شہر کے ’’ریڈی ایس‘‘ میں داخل ہوتے ہیں‘ یہ پراسراریت آپ کے وجود کو اپنے کنٹرول میں لے لیتی ہے اور آپ چند لمحے بعد اس طرح ’’بی ہیو‘‘ کرنے لگتے ہیں جس طرح اس شہر کے دوسرے لوگ کرتے ہیں‘ آپ کبھی اپنے شہر سے باہر نکل کر تجربہ کر لیں‘ آپ کو میری بات پر یقین آ جائے گا‘ آپ لاہور چلے جائیں‘ آپ بلاوجہ قہقہے لگانے لگیں گے‘ آپ کی جسمانی‘ ذہنی اور روحانی بھوک میں بھی اضافہ ہو جائے گا اور آپ کو وہاں ایک کھلے پن کا احساس بھی ہو گا‘ آپ کراچی چلے جائیں‘ اس کی حدود میں داخل ہوتے ہی آپ پر خوف‘ احتیاط اور پریشانی غلبہ پا لے گی‘ آپ ہر شخص سے ملتے ہوئے محتاط ہو جائیں گے‘ آپ ملتان چلے جائیں‘ آپ کے دماغ میں اچانک عابدہ پروین کی آواز گونجنے لگے گی اور آپ ٹیکسلا چلے جائیں‘ آپ کو اپنے اردگرد گزرے وقت کی راکھ کے ڈھیر محسوس ہوں گے۔

جولیان میرا پسندیدہ ترین مقام ہے‘ یہ ٹیکسلا کے آثار میں لپٹا ہوا ماضی کا ایک خاموش شہر ہے‘ آپ جوں ہی اس شہر میں داخل ہوتے ہیں‘ آپ کی ذات پر گہرا سکوت طاری ہو جاتا ہے‘ آپ یوں محسوس کرتے ہیں‘ آپ جلتے‘ بجھتے اور سلگتے زمانوں سے نکل کر ماضی کی ٹھنڈی غار میں آ گئے ہیں‘ اس گزرے ہوئے شہر کی ہوا میں بہت سکون ہے‘ شاید اس شہر میں اپنے وقت کا کوئی ولی دفن ہو‘ اولیاء کرام اور انبیاء کرام کے مدفون کے گرد ہمیشہ سکون ہوتا ہے‘ آپ جوں ہی ان کے ’’ریڈی ایس‘‘    میں داخل ہوتے ہیں‘ آپ کو وقت ٹھہرا ہوا‘ سکون سے سانس لیتا ہوا محسوس ہوتا ہے‘ آپ کبھی داتا صاحب کے مزار پر جا کر دیکھیں یا شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مزار پر جائیں یا پھر شاہ رکن عالم کے مزار پر جا کر دیکھیں آپ کو چند سیکنڈ میں ماحول کی تبدیلی محسوس ہو جائے گی‘ اولیاء کرام کا ’’اورا‘‘ ٹھنڈا ہوتا ہے اور آپ کو یہ ٹھنڈا پن ان کے مزار پر باقاعدہ محسوس ہوتا ہے‘ آپ مسلسل اکیس دن داتا صاحب کے دربار پر حاضری دیں‘ آپ کے راستے کے تمام دروازے کھل جائیں گے‘ میں نے بے شمار لوگوں کو اس نسخے کا ’’ثبوت‘‘ پایا۔

آپ سینیٹر اسحاق ڈار کی مثال لے سکتے ہیں‘ یہ لاہور کے ایک عام سے چارٹر اکاؤنٹنٹ تھے‘ یہ داتا صاحب کے مرید ہوئے‘ یہ داتا کے دربار میں حاضری دینے لگے اور یہ پچھلے بیس سال سے پاکستان کے اہم ترین شخص ہیں‘ یہ آج بھی جب لاہور جاتے ہیں‘ تو یہ داتا صاحب حاضری ضرور دیتے ہیں‘ روحانیت میں مدینہ منورہ سے بہتر کوئی مقام‘ کوئی شہر نہیں‘ آپ اگر ’’افورڈ‘‘ کر سکتے ہیں تو سال میں کم از کم تین دن مدینہ منورہ میں ضرور گزاریں‘ آپ اگر چار نمازیں روضہ رسولؐ کے ساتھ کھڑے ہو کر پڑھ لیں تو آپ کی روح کو پورے سال کی غذا مل جائے گی‘ آپ پورا سال حادثات‘ مسائل اور پریشانیوں سے نہیں گھبرائیں گے کیونکہ مدینہ منورہ اور روضہ رسولؐ کی فضا میں حوصلہ‘ برداشت اور ہمت ہے اور یہ ہمت‘ برداشت اور حوصلہ آپ کے جسم میں طاقت پیدا کر دیتا ہے‘ مجھے میرے بابا جی نے بتایا تھا‘ دمشق کی مسجد امیہ اور بیت المقدس دونوں میں ایک خاص مقام ہے جسے مقام اولیاء کہتے ہیں‘ آپ اگر طلب کے سچے ہیں اور آپ رات کے تین اور چار بجے کے درمیان ان مقامات پرچار نفل نماز ادا کر لیں تو آپ کے راستے کے تمام پتھر ہٹ جاتے ہیں‘ بیت المقدس کا یہ مقام وہ ہے جہاں نبی اکرمؐ نے معراج کی رات انبیاء کرام کی امامت فرمائی تھی‘ میں نے بابا جی سے پوچھا ’’ہم اس مقام کی نشاندہی کیسے کریں گے‘‘ بابا جی نے جواب دیا ’’آپ کو جو لے کر جائے گا‘ وہ جگہ کی نشاندہی بھی کر دے گا‘‘۔

میں واپس پیرس کی طرف آتا ہوں‘ پیرس کی فضاؤں میں ایک خاص قسم کا تخلیقی رومان ہے‘ آپ جوں ہی اس شہر میں قدم رکھتے ہیں‘ آپ کا دل محبت کے جذبے سے مالا مال ہو جاتا ہے‘ آپ کی رگوں میں تخلیق موجیں مارنے لگتی ہے‘ آپ کے ہاتھ‘ آپ کی زبان اور آپ کے گلے کے تمام بند ٹوٹ جاتے ہیں‘ آپ کے ذہن میں اچھوتے خیالات کا عظیم لشکر آتا ہے اور تخلیق کی گرد اڑا جاتا ہے‘ آپ دنیا کے تمام بڑے تخلیق کاروں کے پروفائل نکال کر دیکھ لیں‘ آپ کو یہ لوگ پیرس آتے‘ پیرس میں رکتے اور ٹھہرتے ضرور نظر آئیں گے‘ آپ دنیا کے معروف ادیبوں کو دیکھ لیجیے‘ دنیا کے عظیم مصوروں‘ عظیم موسیقاروں‘ عظیم اداکاروں‘ عظیم شاعروں اور عظیم ملبوس سازوں کو دیکھ لیجیے‘ آپ کو ان کی زندگی میں پیرس ضرور ملے گا‘ یہ شہر تخلیق کاروں کو مالامال کر دیتا ہے‘ یہ تخلیق کا عظیم خزانہ ہے‘ بس اس شہر میں صرف ایک خرابی‘ ایک نقص ہے‘ یہ شہر انسان کے اکیلے پن کو بڑھا دیتا ہے‘ آپ اگر تنہا نہیں ہیں تو یہ شہر آپ کو تنہا کر دے گا اور اگر آپ تنہا ہیں تو پھر یہ شہر آپ کی تنہائی میں ہزار گنا اضافہ کر دے گا‘ آپ دشت تنہائی بن جائیں گے اور گزرے وقت کی یاد کے سائے آپ کے گرد لرزنے لگیں گے‘ شہر آپ کی یادوں کے کھرنڈ میں خارش بھی پیدا کر دے گا‘ آپ بھوکے کتے کی طرح ہاتھوں کے دونوں پنجوں سے زمین کریدنے لگیں گے اور اس وقت تک کریدتے رہیں گے جب تک گزرے دنوں کی بدبودار لاش حافظے کے تابوت سے باہر نہیں آ جاتی اور آپ اس کے بعد اس لاش کے سرہانے بیٹھ کر اپنے ماضی کا سیاپا نہیں کر لیتے‘ یہ شہر گزری یادوں کی مدفون خوشبوؤں کا خزانہ بھی ہے‘ آپ جوں ہی شہر میں اترتے ہیں‘ گزری ہوئی یادوں کی خوشبو ایک ایک کر کے آپ کی ناک کے گرد منڈلانے لگتی ہے اور یہ سب کچھ اگر دھند‘ بارش‘ برف اور سردیوں کی شام میں ہو تو آپ گہری اداسی میں چلے جاتے ہیں۔

ایک گہری تخلیقی اداسی‘ وہ اداسی جس نے ارنسٹ ہیمنگ وے کو ’’اولڈ مین اینڈ سی‘‘ لکھنے پر مجبور کر دیا تھا اور جس نے آخر میں اس سے خودکشی کرا دی تھی اور خودکشی بھی ایسی خوفناک توبہ توبہ۔ ہیمنگ وے نے اپنے اپارٹمنٹ کی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائی‘ جوتے اتارے‘ اپنی عزیز ترین شارٹ گن نکالی‘ اس میں ہاتھی مارنے والا کارتوس ڈالا‘ بندوق کی نالی اس دماغ کے ساتھ لگائی جس نے دنیا کو سیکڑوں جیتے جاگتے ابدی کردار دیے تھے‘ بندوق کا کندھا پاؤں کی طرف کھسکایا‘ پاؤں کا انگوٹھا ٹریگر پر رکھا‘ پاؤں تھوڑا سا آگے کھسکایا‘ عمارت میں خوفناک دھماکا ہوا اور دنیا کا عظیم رائٹر ارنسٹ ہیمنگ وے زندگی کی سرحد پار کر گیا‘ پولیس آئی تو اس نے فلیٹ میں خوفناک منظر دیکھا‘ فلیٹ کی دیواروں اور چھت پر ہیمنگ وے کے دماغ کی روئی لٹک رہی تھی‘ روئی کے ان گالوں کو اکٹھا کرنے میں مہینے لگ گئے‘ ہیمنگ وے کی جوانی پیرس میں گزری تھی‘ یہ روز ’’کیفے ڈی فلورا‘‘ میں بیٹھتا تھا‘ میں کئی بار ’’کیفے ڈی فلورا‘‘ گیا اور ہیمنگ وے کی کرسی پر بیٹھ کر پیرس کو محسوس کرنے کی کوشش کی‘ میں نے ژاں پال سارتر کی کرسی پر بیٹھ کر بھی پیرس کو محسوس کیا اور میں دریائے سین کے کناروں پر چلتے چلتے نوٹر ڈیم کے اس عظیم چرچ تک بھی گیا جہاں کبھی پیرس کا کبڑا عاشق رہتا تھا اور اس نے ایک عام سی لڑکی سے عشق کر کے اس چرچ اور اس شہر کو دوام بخش دیا‘ ہیمنگ وے امریکا واپس چلا گیا لیکن پیرس اس کے دماغ سے خارج نہ ہو سکا یہاں تک کہ وہ زندگی کی سرحد پار کر گیا‘ پیرس ایک ایسا ہی شہر ہے‘ آپ اگر ایک بار اس کے ہو جائیں تو یہ پھر آپ کا کبھی پیچھا نہیں چھوڑتا‘ آپ زندگی بھر اس کے حصار کے قیدی بنے رہتے ہیں۔

شانزے لیزے کی رات بھیگی ہوئی تھی‘ آسمان سے محبت کے قطرے زمین پر اتر رہے تھے‘ روشنیاں ان کے وجود میں اترتی تھیں اور پانی کے چھوٹے چھوٹے قطروں کو سات سات رنگوں میں تبدیل کر دیتی تھیں‘ یہ سات رنگ پیاسی زمین کی آغوش میں اتر جاتے تھے تو بھی روشنی ان کا پیچھا نہیں چھوڑتی تھی‘ محبت کے یہ قطرے گیلی زمین پر چمکتے رہتے تھے‘ میں اور مبشر ہیولے کی طرح فٹ پاتھ پر چل رہے تھے‘ سڑک پر ٹریفک رواں دواں تھی‘ دنیا بھر سے آئے ہوئے سیاح خود کو گرم کوٹوں میں لپیٹ کر دائیں بائیں سے گزر رہے تھے‘ کرسمس گزر چکی تھی مگر اس کے آثار ابھی تک باقی تھے‘ کرسمس کے دنوں میں شانزے لیزے کے ایک کونے میں عارضی بازار لگ جاتا ہے‘ یہ بازار لکڑی کی چھوٹی چھوٹی دکانوں پر مشتمل ہوتا ہے‘ یہ ہٹ نما دکانیں کھانے پینے کی اشیاء سے لے کر جیولری اور کھلونوں تک مختلف مصنوعات سے بھری ہوتی ہیں‘ فٹ پاتھ پر لکڑی اور کپڑے کی بڑی بڑی چھتریاں رکھ دی جاتی ہیں‘ لوگ بچوں کو لے کر اس بازار میں آ جاتے ہیں‘ کھانے پینے کی اشیاء خریدتے ہیں اور چھتریوں کے نیچے کھڑے ہو کر کھانے لگتے ہیں‘ یہ بازار بچوں کی ذہنیت کو سامنے رکھ کر بنایا جاتا ہے چنانچہ آپ کو اس میں بچوں اور گھریلو خواتین کی تعداد زیادہ ملتی ہے‘ یہ بازار بھی موجود تھا‘ بارش ہو رہی تھی مگر اس کے باوجود وہاں سیکڑوں بچے‘ خواتین اور مرد تھے‘ ہم اس بازار سے گزرتے ہوئے آرچ کی طرف چل پڑے‘ ہمارے ساتھ ساتھ پیرس کی اداسی بھی چل رہی تھی‘ میں اس وقت خود کو ’’مڈنائیٹ ان پیرس‘‘ کا کوئی مایوس کردار محسوس کر رہا تھا‘ اداسی‘ تنہائی اور بے مقصدیت کا شکار ایک بھیگا ہوا کردار۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔