ایلین کائنات میں موجود ہیں؟

محمد بلال اکرم کشمیری  اتوار 27 دسمبر 2020
اسرائیلی خلائی ایجنسی کے سابق سربراہ کے دعوے۔ فوٹو : فائل

اسرائیلی خلائی ایجنسی کے سابق سربراہ کے دعوے۔ فوٹو : فائل

کیا اس کائنات میں انسانوں کے علاوہ بھی کوئی ’’انسانوں ‘‘ جیسا یا اس سے ملتا جلتا آباد ہو سکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو قدیم اور جدید خلائی سائنس دانوں اور فلاسفروں کے علاوہ سائنس فنکشن کے ماہرین کے ذہن میں گردش کرتا رہتا ہے۔

اسی سوال کو لے کر بہت سے فرضی ناول لکھے اور فلمیں بنائی گئیں۔ ان ناولز اور فلموں کا مرکزی کردار ایک ایسی مخلوق کو دکھایا گیا جس کا تعلق اس زمین کے علاوہ کسی دوسرے سیارے کی مخلوق سے ہوتا ہے، اسے’’ایلین‘‘ کا نام دیا گیا ۔ بعض نے انسانوں ہی کو ’’ ایلین‘‘ یعنی دوسرے سیارے کی مخلوق کا نام دیا جیسا کہ ڈاکٹر ایلس سلور کی کتاب ’’Human are not from earth‘‘سے اس بات کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ اس کتاب میں ڈاکٹرایلس نے یہ ثابت کرنے کے لیے ٹھوس دلائل دیئے ہیں کہ انسان کا تعلق اس زمین سے نہیں بلکہ یہ انسان کسی دوسرے سیارے سے لا کر یہاں آباد کئے گئے ہیں ۔

1790ء میں جارج واشنگٹن نے اجنبیوں کے لئے لفظ ’’ایلین‘‘ کا استعمال کیا ۔ دراصل امریکا میں ایک نیا قانون بنایا جا رہا تھا جس میں غیر ملکیوں یا اجنبیوں کو ملکی شہریت دینے کے حوالے سے قانون پاس کیا گیا، اس میں اجنبی کے لیے لفظ ’’ایلین‘‘ کا استعمال کیا گیا۔ یہ لفظ تاحال اس قانون کا حصہ ہے۔2016 ء کے صدارتی انتخاب سے قبل مذاکرے میں بھی امریکی رہنما ڈونلڈ ٹرمپ نے ’’قانونی ایلین ‘‘ اور ’’غیرقانونی ایلین‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ۔

2016 ء میں سائنس دانوں کو خلا سے ایسے سگنلز بھی ملے جن کے بارے میں ان سائنس دانوں کا خیال تھا کہ یہ سگنلز ایلین کے مرکز یا پھر میگا اسٹرکچر سے آرہے ہیں ، اس کے بعد سائنس دانوں نے زمین کو ایلینز سے پوشیدہ رکھنے کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی شروع کر دی تھی ،کیونکہ ان کے خیال میں ایلینز زمین کے دشمن ہیں اور ان سے زمین پر موجود آباد کاروں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

ایلین کے ساتھ ساتھ ان کی سواریوں جن کے لیے UFO (ان آئڈینٹیفائیڈ فلائنگ آبجیکٹس) یا اڑن طشتریوں کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے ، بھی خلائی کہانیوں کے لیے مرکزیت کی حامل رہی۔ وقتاً فوقتاً ان اڑن طشتریوں کے حوالے سے بھی خبریں گردش کرتی رہتی ہیں مگر تاحال اس کی تصدیق اور تردید کرنے سے سائنس دان قاصر نظر آتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں ایسے انکشافات بھی سامنے آتے رہتے ہیں جن میں ایلین کی موجودگی اور ان کی زمین کی جانب پیش قدمی کے حوالے سے بھی باتیں کی جاتی ہیں۔ چنانچہ یو ایف او کے حوالے سے برطانوی وزارت دفاع نے1990 میں ایک خفیہ تحقیقاتی مشن قائم کیا جس نے سن 2000 تک کام کیا ۔ اس مشن کا مرکزی سوال تھا ’’کیا وہاں کوئی ہے؟ ‘‘

بعد ازاں 400 صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ جاری کی گئی جس میں کہا گیا ’’ ایسے شواہد کا وجود نہیں ہے جن سے یہ اخذ کیا جا سکے کہ (یو ایف او کے) یہ مشاہدات خطرناک ہیں یا انہیں کوئی کنٹرول کر رہا ہے، وہ فطری طاقتوں کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔‘‘ تاہم یہ سوال پھر باقی رہا کہ اگر یو ایف او ٹھوس مادے سے نہیں بنی تو پھر وہ کیا ہے جسے دنیا کے مختلف علاقوں میں وقتاً فوقتاً دیکھا گیا ہے؟ اس کا جواب اس رپورٹ میں یوں تحریر کیا گیا کہ

’’اس تحقیق کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ غیرشناخت شدہ فضائی مشاہدات یعنی یو ایف او ٹوٹتے ہوئے ستاروں اور ان کے اثرات کے نتیجے میں دکھائی دیتے ہیں ۔ یعنی یو ایف او خلاء میں مقناطیسی، برقی، طبیعاتی اور موسمیاتی فورسز کے درمیان ردعمل سے وجود میں آتے ہیں ۔ تحقیق کے مطابق خلاء میں مختلف برقی، مقناطیسی اور موسمیاتی حالات کے نتیجے میں کچھ اس طرح چند وقفوں کے لیے وجود میں آتے ہیں کہ ہر شخص کے لیے وہ انوکھے نظر آتے ہیں ۔‘‘

گزشتہ ہفتے اسرائیلی خلائی ایجنسی کے سابق چیف نے اچانک ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ارتھلنگس یعنی زمینی باشندے گلیکٹک فیڈریشن یعنی خلائی مخلوق سے رابطے میں ہیں۔ اسرائیل کے وزارت دفاع کے خلائی ڈائریکٹوریٹ کے سابق سربراہ ، ہائیم ایشد (Haim Eshed ) نے اسرائیل کے اخبار ’ یدیعوت احرونوت‘ (Yediot Aharonot )کوانٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ ’’ نامعلوم پروازی آبجیکٹوں یعنی UFO (ان آئڈینٹیفائیڈ فلائنگ آبجیکٹس) نے اس رابطے کو عام یا اسے شائع کرنے سے منع کیا تھا کیوں کہ ایلین کے مطابق انسانیت ابھی اس خبر کے لیے تیار نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ انسان یہ خبر سن کر خوفزدہ ہو جائیں ۔

پروفیسر ہائیم ایشد نے ایلین کے بارے میں مزید یہ بھی بتایا کہ ایلین بھی انسانوں کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اتنی ہی دلچسپی رکھتے ہیں جتنی کہ انسان ان کے بارے میں ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایلین کائنات کے بھی تانے بانے کو سمجھنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ اس انٹرویو میں پروفیسر نے چونکا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی حکومت اور ایلین کے درمیان باقاعدہ طور پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا ایک معاہدہ بھی ہو چکا ہے۔ان معاہدوں میں ’’ مریخ کی گہرائیوں میں زیر زمین اڈہ ‘‘ بھی شامل ہے جہاں امریکی خلاباز اور ایلین موجود ہیں ۔ دو سال قبل مریخ پر بھیجے جانے والے مشن ’’ان سائیٹ‘‘ کے آلات نے بھی مریخ کی گہرائی کو جانچنے کے لیے کام شروع کر دیا ہے ۔

ایشد نے انٹرویو دیتے ہوئے مزید بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس غیر ارضی مخلوق سے بخوبی واقف تھے۔ جب وہ یہ معلومات افشا کرنا چاہتے تھے تو انہیں عوام میںخوف وہراس پھیلنے کے سبب اس کام سے سختی سے روک دیا گیا ،کیونکہ انسان اب تک اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں کہ ان کے علاوہ بھی کوئی مخلوق ان کے مقابلے میں اس کائنات میں آباد ہے۔کہکشائی انجمن(Galactic federation)کے متعلق بات کرتے ہوئے ایشد نے مزید کہا کہ وہ (ایلین)آج بھی اس بات کے منتظر ہیں کہ انسان اس حد تک ترقی یافتہ ہو جائے کہ خلا اور خلائی جہازوں کے متعلق مکمل طور پر جان کر ان کے مساوی ہو جائے تاکہ اس سے گفتگو اور معاملات میں آسانی ہو ۔

پروفیسر ہائیم ایشد کے اس تہلکہ خیز انٹرویو کے بعد اعلیٰ اسرائیلی عہدیداروں اور وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے فوری طور پر اس خبر پر ردعمل دینے سے معذرت کر لی تھی ، جبکہ پینٹا گون کے ترجمان سیوگو نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ دوسری طرف ناسا کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد کائنات میں زندگی کی تلاش ہے مگر تاحال انہیں غیر ارضی مخلوق کا کہیں کوئی سراغ نہیں ملا لیکن وہ پر امید ہیں کہ اس بنیادی سوال کا جواب تلاش کر سکیں کہ آیا کائنات میں انسانوں کے علاوہ بھی کوئی مخلوق آباد ہے یا نہیں ؟

نومبر 2020 میں شائع ہونے والی کتاب ’’ افق کے اس پار ، پروفیسر ہیم ایشد کے ساتھ گفتگو‘‘ (“(“The Universe Beyond the Horizon – conversations with Professor ) جس کے مصنف ہاگر یانائی (Hagar Yanai) میں ایشید کے نظریات کی وضاحت زیادہ تفصیل سے کی گئی ہے۔

87 سالہ ایشد جو کہ اسرائیلی ڈیفنس فورس کے جنرل رہے ہیں بلکہ ریٹائرمنٹ کے بعد گزشتہ 30 برسوں سے انہوں نے اسرائیل کے لیے متعدد خلائی سیٹلائٹ اور مصنوعی سیارچوں پر بھی کام کیا۔ ایشد نے باقاعدہ طور پر ایران کی نگرانی کے لیے ایک خفیہ سیارچہ بھی خلا میں چھوڑا تھا، علاوہ ازیں ایشد نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی (اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس ) کے لیے بھی اعلیٰ عہدے پر خدمات انجام دیں ۔ ان کاکہنا تھا کہ وہ باتیں اس وقت اس لیے کر رہے ہیں کہ اب لوگ اثر قبول کرنے کے لیے تیار ہیں ۔ ہائیم ایشد کا کہنا تھا ’’ اگر وہ یہ باتیں 5 برس قبل کرتے تو انہیں (پاگل قرار دے کر ) ہسپتال میں داخل کر دیا جا تا۔ اب مجھے سب کچھ حاصل ہے ۔ میرے پاس اب کھونے کے لیے کچھ نہیں ہے ۔ میں نے ڈگریز اور ایوارڈ لے لیے ہیں اور بین الاقوامی جامعات میں میری عزت ہے۔‘‘

دوران انٹرویو انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مئی 2020 میں جب ٹرمپ کو خلائی فوج کا جھنڈا پیش کیا گیا تو اس موقع پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’خلا اب مستقبل ہے جرم اور دفاع دونوں اعتبار سے، اور اب ہم خلا کے لیڈر ہیں‘‘، امریکہ نے خلا کو فوجی چھاؤنی بنانے پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے جو کہ اس کے سیارچوں اور مواصلات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ زمینی سیاست پر بھی نظر رکھے گی۔ دسمبر 2019 میں ٹرمپ انتظامیہ نے باقاعدہ طور پر خلائی فوج کی تیاری کا حکم دیا تھا جو کہ 16ہزار نفوس پر مشتمل ہو گی۔ ایشد کے تبصروں کے فوری بعد سوشل میڈیا پر بھی نئی بحث نے جنم لیا ہے، اور بعض قارئین نے ایلین سے ملاقاتیں کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔

برطانوی وزارت دفاع کے لیے یو ایف او پر طویل عرصہ تک تحقیقات کرنے والے نک پوپ نے ایشد کے بیان کو ’’ غیر معمولی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی لطیفہ ہو اور یا پھر اپنی کتاب فروخت کرنے کے لیے سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ پوپ کا مزید کہنا تھا کہ سازشی تھیوری پر مبنی کمیونٹی یہ جاننا چاہتی ہے کہ ایشد اس بات کا اظہار ذاتی علم اور تجربے سے کر رہے ہیں یا پھر جو کچھ انہیں بتایا گیا اسی کو دہر ا رہے ہیں؟ اب بھی اس معمہ کے چند ٹکڑے باقی ہیں ۔

یہاں یہ سوال اہم ہے کہ آخر ایلین کے بارے میں اتنی جستجو کیوں کی جا رہی ہے ؟ بار بار ایلینز کا تذکرہ کرکے انسانوں کے ذہن کو کس لیے تیار کیا جا رہا ہے؟ اگر چہ اس کائنات میں انسانوں کے علاوہ بھی اللہ رب العزت کی بے شمار مخلوق آباد ہے مگر دوسری مخلوق کو آج تک دیکھا نہیں جا سکا، نہ ہی اس کے دیکھے جانے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں ۔ اس دنیا میں جتنا بھی مذہبی ، غیر مذہبی اور اصلاحی لٹریچر موجود ہے اس میں مرکزیت انسان کو حاصل ہے ۔

انسان اس خالق کائنات کی بہترین تخلیق ہے، جسے اشرف مخلوقات کا درجہ دیا گیا ہے۔ آج کا انسان اس جستجو میں ہے کہ کیا اس انسان کے علاوہ بھی کوئی دوسری مخلوق اس کائنات میں آباد ہے ؟ یہی وہ مرکزی سوال ہے جس پر انسان سمندروں کی تہہ اور خلاؤں کی خاک چھاننے میں مصروف عمل ہے ۔ اس کا جواب حاصل کرنے کے لئے قارئین مضمون پڑھ کر بخوبی ایک نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں اور اپنی رائے قائم کر سکتے ہیں ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔