نئے سال کاتحفہ،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھنے کاامکان

ارشاد انصاری  اتوار 29 دسمبر 2013
وزارت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے ڈالرکی قیمت میں کمی کوبھی ملحوظ خاطررکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فوٹو:فائل

وزارت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے ڈالرکی قیمت میں کمی کوبھی ملحوظ خاطررکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ فوٹو:فائل

اسلام آ باد:  وفاقی حکومت کی طرف سے شدیدعوامی ردعمل کے پیش نظرنئے سال کے آغازپر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کابم نہ گرائے جانے کاامکان ہے، حکومت سبسڈی دے گی، حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے۔

ذرائع نے بتایاکہ بین الاقوامی مارکیٹ میںتیل کی قیمتوںمیں ہونے والے ردوبدل کے باعث یکم جنوری 2014 سے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 2سے ڈھائی روپے فی لیٹراضافہ بنتاہے جس کے لیے سمری تیاری کے آخری مراحل میں ہے تاہم شدید عوامی ردعمل کے خطرے کے پیش نظروزارت پٹرولیم کی ہدایت پرقیمتیں بڑھانے کی بجائے موجودہ قیمتیں ہی برقراررکھنے کی حکمت عملی پرغور ہورہا ہے۔ اوگرانے یہ فیصلہ کیاہے کہ بیرونی ممالک سے آنے والی تیل کی مزید 2 کنسائنمنٹس کوبھی قیمتوں کی کمپیوشن میںشامل کرنے کافیصلہ کیاہے کیونکہ یہ کنسائنمنٹس اس وقت آئی ہیں جب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ اوگرانے پٹرولیم مصنوعات کی ٹرانسپورٹیشن لاگت میں بھی اضافے کی تجویزمسترد کر دی ہے اورموجودہ ٹرانسپورٹیشن کاسٹ ہی برقرار رکھنے کی منظوری دے دی ہے۔

اس کے علاوہ وزارت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے لیے ڈالرکی قیمت میں کمی کوبھی ملحوظ خاطررکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ حکام کاکہنا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی کمپیوشن میں مذکورہ تمام عوام کوشامل کرنے کے بعدعالمی منڈی میں ردو بدل کے باعث پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ڈھائی روپے فی لیٹرسے بھی کہیں کم ہوجائے گا۔ اوگرا حکام کاکہنا ہے کہ رواں ماہ کی طرح جنوری کے لیے بھی حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتیں ہی برقراررکھے جانے کاامکان ہے۔ عالمی منڈی میں ردو بدل کی وجہ سے پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوںپر جوبوجھ پڑے گاوہ عوام کومنتقل کرنے کی بجائے حکومت خود یہ بوجھ برداشت کرے گی جس کے لیے حکومت کوسبسڈی دینا ہوگی۔ حکام کاکہنا ہے کہ اوگراپیر کوسمری کوحتمی شکل دے کرمنظوری کے لیے بھجوائے گاتاہم حتمی فیصلہ وزیراعظم کا ہوگا۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔