خواتین خلاء میں

ناصر ذوالفقار  اتوار 29 دسمبر 2013
خلاء اب مردوخواتین دونوں کے لیے ایڈونچرز کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے اور پسندیدہ مقام بھی بن چکا ہے فوٹو : فائل

خلاء اب مردوخواتین دونوں کے لیے ایڈونچرز کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے اور پسندیدہ مقام بھی بن چکا ہے فوٹو : فائل

دنیا کے پہلے خلاباز گگیرین نے خلاء میں انسان کے لیے بند دروازے کو کھول دیا تھا، جس سے گزر کر دنیا کی پہلی اسپیس لیڈی (خلائی خاتون) ویلنٹینا ٹریشکووانے یہ ثابت کر دکھایا کہ خواتین بھی وہ کام کرسکتی ہیں جو کہ پہلے صرف مردوں کے لیے ہی مخصوص تھے۔

خلاء اب مردوخواتین دونوں کے لیے ایڈونچرز کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے اور پسندیدہ مقام بھی بن چکا ہے۔ خلا کی طرف پہلی خاتون کی پرواز 16 جون 1963 ء کو پچاس برس مکمل ہوچکے ہیں اور ان پچاس سالوں میں خاتون خلاء خلابازوں نے مردوں کے شانہ بشانہ تحقیق و جستجو کے لے خلاء کا سفر اور مرد خلابازوں کی طرح پرفارم کیا ہے۔

ان میں سے کئی نے اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا ہے۔ خلاء میں پہلی پیش رفت کرنے والے روس کے مقابلے میں امریکی و دیگر ممالک کی متعدد خواتین خلابازوں نے پروازوں میں شرکت کی ہے۔ ویلنٹینا کی پرواز کے بعد مزید کسی خواتین کی پرواز کو لائونچ ہونے میں 19 سال کا طویل وقت لگا۔ ان کی خاص بات یہ ہے کہ ان کے بعد تمام خواتین خلاباز مردوں کے ساتھ خلائی سفر پر جاتی رہی ہیں، جب کہ ویلنٹینا نے پہلی بار تن تنہا خلاء کا سفر ایک پائلٹ کے طور پر کیا تھا۔

روس کی دوسری خلائی خاتون سیوتلانہ سیوتسکایا ہیں، حالاںکہ وہ اولین خلاباز خاتون کے پانچ کے گروپ میں شامل نہ تھیں۔ مجموعی طور پر اب تک خلاء کی تاریخ میں 534 انسان خلاء کا ننگی آنکھ سے مظاہرہ کرچکے ہیں، جن میں خواتین کی تعداد 57 ہے، جنہوں نے اس کھٹن اور چیلینجوں سے بھرپور سفر میں مردوں کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور ان کے شانہ بشانہ اپنی خدمات انجام دی ہیں۔

٭ دنیا کی دوسری خاتون خلاباز: 

سیوتلانہ سیوتسکایا(Savetlana Savistskaya)
روس میں19 سال کے بعد ایک بار پھر اُس عظیم خاتون کے خلائی سفر کی داستان کو دُہرایا گیا۔ اس بار عام گھرانے کی لڑکی کے مقابلے میں ایک سوویت ملٹری کمانڈر کی بیٹی کو خلائی سفر کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ یہ بہادر اور دلیر لڑکی 34 سالہ سیوتلانہ ہیں جن کی طویل عرصے کے بعد خلاء میں بھیجے جانے کی منصوبہ کی گئی۔

ماسکو سے تعلق رکھنے والی اور ماسکو ایوی ایشن انسٹی ٹیوٹ کی گریجویٹ فلائٹ انجینئر سیوتلانہ کو 1980 ء میں خواتین کے گروپ ۔2 کے لیے چنا گیا تھا۔ وہ اپنے پہلے خلائی سفر پر 19 اگست 1982 ء کو خلائی جہاز سیوزٹی۔7 سے روانہ ہوئیں تھیں۔ انہوں نے خلاء میں9 دن گزارے تھے۔

ان کی اگلی پرواز 17 جولائی 1984 ء میں ہوئی جب وہ خلائی جہاز سیوزٹی۔ 12 سے خلاء میں پہنچی، سویتلانہ خلاء میں رہتے ہوئے خواتین کے طرف سے پہلی بار اِیکسٹرا وِیکولرَ اِیکٹیوٹی EVA) ) انجام دی تھیں۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ خلاء میں اپنے جہاز سے باہر نکل کر جو کچھ کرتے ہیں اسے ای وی اے کہا جاتا ہے، جس میں سب سے ہم ’’خلائی چہل قدمی ‘‘ ہے۔ اس طرح وہ مرد خلاء باز الیکسی لنیوف کے بعد خواتین کی پہلی چہل قدمی کرنے والی خلاباز بن گئی تھیں۔

اس وقت انہوں نے خلاء میں گردش پذیر روس کے پہلے خلائی اسٹیشن ’’سیلوٹ‘‘ میں قیام کیا تھا۔ وہ 25 جولائی 1984 ء کو باہر نکلی تھیں۔ ویلنٹینا کے کارنامے کے بعد خلاء میں یہ دوسر بڑا کارنامہ کسی خاتون کی جانب سے کیا گیا۔ سیوتلانہ 3 گھنٹے،35 منٹ تک خلاء اسٹیشن سے باہر رہیں اور وہ روس کی جانب سے 2010 ء خلائی چہل قدمی کرنے والے 57 خلابازوں کی لسٹ میں واحد خاتون ہیں۔ انہوں نے خلاء میں مجموعی طور پر 19 دن،17 گھنٹے اور 6 منٹ خلاء میں قیام کیا، جس پر انہیں خلاء میں رہنے کا خصوصی میڈل بھی دیا گیا تھا۔

سیوتلانہ کو روس کے بڑے اعزازوں ’’ہیروآف دی سوویت یونین‘‘ اور ’’آرڈر آف لینن‘‘ سے نوازا جاچکا ہے۔ وہ ’’بیسٹ کاسموناٹ آف دی یوایس ایس آر‘‘ رہی ہیں۔ سیوتلانہ روسی فضاء کی دوسری میجر ہیں اور 1993 ء میں ریٹائرڈ ہوچکی ہیں۔

64 سالہ خاتون روسی فیڈریشن میں کمیونسٹ پارٹی کی ممبر ہیں جو ’’اسٹیٹ ڈُوما ‘‘ کی نمائندگی کرتی ہیں۔ سابق روسی خلاباز اور ٹیسٹ پائلٹ خاتون بہترین کھلاڑی بھی رہی ہیں۔ وہ پائلٹ اسپورٹس بھی تھیں، جنہوں نے 1974 ء میں کھیلوں کے انٹرنیشنل مقابلوں میں 18 عالمی ریکارڈ قائم کیے اور تین بار پیراشوٹس کے ذریعے چھلانگیں لگائیں، جب کہ وہ سوویت کھیلوں کے مقابلوں میں 16 گولڈ میڈلز جیت چکی ہیں۔ وہ 1970 ء میں FAI کی چھٹی عالمی ایئروبیٹکس کی فاتح چیمپین بھی ہیں۔

روس کی جانب سے تیسری خلاباز خاتون ایلینا کنداکوو (Yelena Kondakov) ہیں۔ 56 سالہ ایلینا روس اور دنیا کی پہلی خاتون خلاباز ہیں، جنہوں نے سب سے پہلی طویل خلائی پرواز کی تھی۔ وہ سوئیز TM-20 خلائی جہاز سے اکتوبر 1994 ء میں اپنے سفر پر روانہ ہوئیں تھیں۔ ایلینا نے میر خلائی اسٹیشن کی مہم میں حصّہ لیا۔

ان کی شادی بھی ایک روسی خلاباز ولیری سے ہوئی ایلینا کند اکوو کا خلاء میں رہتے ہوئے ریکارڈ 178.45 دنوں کا بنتا ہے۔ روس کی جانب سے خلاء میں کسی خاتون کو بھیجنے جانے کا سلسلہ پھر 15 سالوں تک منقطع رہا۔ 2006 ء میں 37 سالہ اینا سیرووا (Yelena Serova) کو آئندہ سال کی خلائی مہم کے لیے تیار کیا گیا۔

الینا 26 اپریل 1976 ء میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ ماسکو ایوی ایشن انسٹی ٹیوٹ سے گریجویٹ ہیں۔ 2001 ء سے وہ انرجیا راکٹ اسپیس کارپوریشن اور ماسکو MCC میں ٹیسٹ انجینئر کے طور پر وہ کا م کررہی ہیں۔

ایلینا کو اگلی خلائی پرواز کے لیے ایک ٹیسٹ خلاباز کے طور پر تیار کیا گیا ہے اور وہ ستمبر2014 ء میں انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن) (ISS روانہ ہوں گی، جہاں امکان ہے کہ وہ 6 ماہ تک رہیں اور صِفر کشش ثقل پر تجربات کے ساتھ چہل قدمی بھی کریں گی۔ اس مہم کے لیے الینا اور ایک دوسری خلاباز اینا کی کینا (Ana Kikina) کو بیک اپ کے طور پر ماسکو کے اسٹارسٹی خلائی مرکز میں تربیتی مراحل سے گزارا جارہا ہے۔

٭ امریکی خواتین خلا باز:
سیلی رائیڈ: (1951-2012) امریکی کی پہلی اور دنیا کی تیسری خاتون خلاء باز 18 جون 1983 ء کو اپنے خلائی سفر پر روانہ ہوئی تھیں تو ان کا خلائی جہاز چیلنجرشٹل STS-7تھی، جس میں سیلی کے ساتھ چا ر مرد خلاباز سفر کررہے تھے۔

32سالہ ماہر فزکس کرسٹن سیلی رائیڈ نے 1978ء میں ناسا جوائن کیا تھا اور وہ امریکا کی جانب سے پہلی خلائی خاتون قرار پائیں۔ 26 مئی 1951 ء کو پیدا ہونے والی سیلی رائیڈ 23 جولائی 2012 ء میں انتقال کرچکی ہیں۔ سیلی کو دوبار خلائی سفر کا موقع ملا، دوسری بار وہ خلائی شٹل STS-41G کے ذریعے اپنے سفر پر گئی تھیں۔

یہ کسی خاتون کی دوسری اور جڑواں خواتین کے ساتھ بھی پہلی امریکی خلائی پرواز تھی جس میں ان کی ہم وطن اور امریکا کی تیسری خاتون خلاباز Kathy Sulliva ان کی ہم سفر بنی تھیں۔ کیتھی نے امریکا کی جانب سے خلاء میں پہلی خلائی چہل قدمی کی۔ یہ پرواز 5 اکتوبر 1984 ء کو عمل میں لائی گئی۔

جوڈی ریسنک(1949-1986) : امریکا کی دوسری خاتون خلاء باز 37 سالہ انجینئر جوڈی ریسنک تھیں۔ وہ 30 اگست 1984 ئکو ڈسکوری کے ذریعے خلاء میں گئی تھیں۔ یہ شٹل ڈسکوری کا بھی پہلا مشن تھا۔ 15 اپریل 1949 ء میں پیدا ہونے والی بدقسمت جوڈی کے لیے انکا دوسری مشن ان کی زندگی کا آخری سفر بن گیا۔

جوڈی نے مجموعی طور پر خلاء میں 145 گھنٹے گزارے اور وہ 28 جنوری 1986 ء کو حادثے کا شکار ہونے والی خلائی شٹل چیلینجرSTS-51L میں دیگر سات ساتھی خلابازوں کے ساتھ ہلاکت کا شکار ہوئیں، جس میں ان کے ساتھ ایک اور خاتون کرسٹا بھی شامل ہیں۔خلاء شٹل اپنی لائونچنگ کے 73 سیکنڈوں میں تباہی سے دوچار ہوگئی تھی جوڈی اور کرسٹا کو کانگریس کی جانب سے اعزاز ’’اسپیس میڈل آف آنر‘‘ دیا گیا ہے۔ خلاء میں یہ پہلی مرتبہ خواتین خلاباز عورتوں کی موت واقع ہوئی تھی۔

٭شینن لوُسڈ (Shanon Lucid):

70 سالہ امریکی بائیوکیمسٹ ڈاکٹر شینن لوسڈ وہ خاتون ہیں، جنہوں نے امریکا کی جانب سے کسی خاتون کا طویل ترین مشن ہے۔ چین کے شہر شنگھائی چین میں پیدا ہونے والی امریکی خلاباز لوسڈ اپنے پہلے سفر پر شٹل چیلینجرSTS-51G سے 1985 ء میں روانہ ہوئی تھیں۔ 22 مارچ 1996 میں وہ اپنے طویل قیام کے لیے شٹل اٹلانٹس سے روسی خلائی اسٹیشن ’’میر‘‘ پہنچی تھیں۔

شینن نے خلائی اسٹیشن میر پر 6 ماہ کا عرصہ گزارا۔ اس طرح لوسڈ نے زمینی مدار میں رہتے ہوئے 188 دن اور 5 گھنٹے خلاء میں قیام کیا تھا اور مجموعی طور پر پانچ خلائی پروازوں کے ذریعے223 دن خلاء میں رہنے کا ریکارڈ قائم کیا اور یہاں میر اسٹیشن پر امریکا کی جانب سے پہلی خلائی چہل قدمی بھی کی تھی۔ ان کی زمین پر واپسی 26 دسمبر 1986 ء کو ہوئی۔ شینن کا ریکارڈ خلاباز ڈینئل ہرش کارل والز نے عالمی اسٹیشن پر 13 جون 2002 ء کو توڑ دیا تھا۔

٭خلائی شٹل کی پہلی پائلٹ اور کمانڈر خاتون خلاباز ’’ایلین کولنز‘‘:

امریکا ایلین کولنز(Eileen Collins) پہلی خاتون پائلٹ اور کمانڈر ہیں جس کے لیے کم از کم 100گھنٹوں کی پرواز کا تجربہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ایئر فورس کی سابقہ انسٹرکٹر اور ٹیسٹ پائیلٹ کولنز خلائی پائلٹ کی حیثیت سے شٹل ڈسکوری STS-63 سے 1995 ء میں خلاء میں گئی، جب روسی خلائی اسٹیشن سے ڈسکوری کا ملاپ(Docing) ہوئی تھی۔ وہ میر خلائی اسٹیشن پر بھی پہلی امریکی خاتون ہیں۔

اپنی بچی کی پیدائش کے بعد وہ دوبارہ 1997 ء میں مشن STS-84 کے ذریعے خلاء میں گئیں۔ جولائی 1999 ء میں انہیں کمانڈ ر بناکر مشن STS-93 ان کے حوالے کیا گیا جب ’’چندرا ایکس رے آبزرویٹی‘‘ کو لائونچ کیا گیا اور اسے زمینی مدار میں بٹھایا گیا تھا۔ ان کا آخری مشن جولائی، اگست 2005 میں کیا گیا۔ یہ STS-114 کا مشن تھا۔

کولنز اب پہلی خلاباز بن چکی تھی، جنہوں نے شٹل کو 360 ڈگری زاویے ـ”degree pitchmaneuver”سے اڑایا تھا۔ 55 سالہ ائیر فورس کی سابق لیفٹیننٹ خاتون Expedition-2 کی بھی رکن تھیں، جب کہ انہوں نے مجموعی طو ر پر خلاء میں 38 دن ،8 گھنٹے اور 10 منٹس گزارے ہیں۔ امریکا کی طرف سے ہی لمبی مدت کی تن تنہا خلائی پرواز خلاباز سنیتا ولیمز کی جانب سے کی گئی۔ انہوں نے خلائی اسٹیشن ISS پر رہتے ہوئے 195 دن کام کیا اور Expediton-15 کے مشن میں حصّہ لیا تھا۔

ڈاکٹر پِیگی وِٹسن (Peggy Whitson) :

ناسا کی معتبر خلاباز اور بائیو کمیسٹری کی ماہر 53 سالہ امریکی خاتون ڈاکٹر پیگی وٹسن پہلی خاتون خلاباز ہیں، جو کہ خلائی اسٹیشن کی کمانڈر اور سائنس آفیسر بنیں۔ وہ سب سے پہلے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ISS پہنچی تھیں اور انہوں نے بھی خلاء میں زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کا ریکارڈ بنایا، جن کا پہلا مشن “Expedition-5″ تھا، جس کی وہ رکن بنیں۔

اس مشن کو 2002 ء میں پایۂ تکمیل پہنچایا گیا۔ ’’سابق چیف خلاباز، ناسا‘‘ پیگی نے 16 مشن میں حصہ لیا اور انہوں نے چھے خلائی قدمیاں بھی کی ہیں۔ پیگی نے مجموعی طور پر خلاء میں 376 دن ،17 گھنٹے اور 22 منٹس گزارے ہیں۔ 9 سال کی عمر میں ریاست IOWAکے فارم ہائوس پر پرورش پانے والی اُس بچی کو چاند پر انسانی چہل قدمی نے بے حد متاثر تھا، جس نے اس کے لیے خلاء کی راہیں متین کردیں اور تب سے ہیگی کا مضبوط ارادہ تھا کہ وہ ایک دن خلاباز بن کر رہے گی۔

کیتھرین تھورنٹن (Kathryn Thornton) :

خلاء میں کسی بھی خاتوں کا سب سے زیادہ عظیم الٹی ٹیوٹ (اونچائی) کے حصول کا مظاہرہ امریکی خلاباز کیتھرین تھورنٹن کی جانب سے 10 دسمبر 1993 ء میں کیا گیا تھا۔ جب وہ خلائی شٹل اینڈریو میں خلاء کے سفر پر تھیں۔

60 سالہ سابق خلاباز اور سائنس داں کیتھرین نے زمین کے مدار سے 600 کلومیٹرز کی دوری پر یہ الٹی ٹیوٹ حاصل کیا۔ یہ خلائی شٹل اینڈریو کا مشن STS-61 تھا جس سے انکی روانگی ہوئی تھی۔ کیتھرین امریکی ملٹری کی جانب سے خلاء میں جانے والی پہلی خاتون بھی ہیں، جو کہ شٹل ڈسکوری کے ذریعے نومبر1989 میں اپنے پہلے مشن پر روانہ ہوئی تھیں۔ کیتھرین نے خلاء میں مجموعی طور پر 975 گھنٹے گزارے اور 21 گھنٹوں کی خلائی چہل قدمیاں بھی کیں وہ چا ر بار خلائی مشن پر روانہ کی گئیں۔

٭امریکی خاتون کا طویل ترین خلائی چہل قدمی کا عالمی ریکارڈ:
55 سالہ امریکی سابق ناسا کی خلاباز اور ایئر فورس کی لیفٹنٹ جنرل خاتون سوسن (Susan Jane Helms)وہ پہلی ملٹری کی جانب سے خاتون ہیں، جو کہ خلائی اسٹیشن ISS پہنچیں، جہاں وہ 165 دنوں تک مہمان رہیں۔

فلائیٹ انجینئر سوسن نے اپنی چھے شٹلز سروس پروازوں (93،94 ،96 ،2000 ،2001 ) میں مجموعی طور پر 210 دن خلاء میں رہنے کا ریکارڈ بنایا۔ اس طرح انہوں نے کل5,064 گھنٹے خلاء میں بسر کیے ہیں جب کہ ان کی 2010 ء میں طویل ترین خلائی چہل قدمی کا ورلڈ ریکارڈ بھی قائم ہے، جوکہ 8 گھنٹے اور56 منٹ رہا۔

٭ باربیرا مورگن: خلاء میں پہلی استانی
امریکا کی جانب سے1985-86ء کا خلاء میں ٹیچر پروجیکٹ کا مشن بنایا گیا تھا اور امریکی ٹیچر کرسٹامیکالف (Christa McAuliffe)کو خلاء میں بھیجاجانا تھا، لیکن عین پرواز کے فوراً بعد ہی چیلینجر شٹل تباہی سے دوچار ہوگئی تھی، جس میں وہ ساتوں خلاباز جاں کے ساتھ جاں بحق ہوگئی تھیں اور کرسٹا کو پہلے خلائی ٹیچر کے طور پر پیش ہونا نصیب نہ ہوسکا، جنہیں 11000ہزار پیشہ ور اساتذہ میں سے چُنا گیا تھا۔ کرسٹا کی جگہ بیک اپ کے طور پر دوسری خاتون باربیرا مورگن(Barbara Morgan) کو تربیتی مراحل سے گزارا گیا تھا۔

لیکن شٹل کے سنگین نوعیت کے حادثے کے بعد خلائی پروجیکٹ “Teacher in Space” کو منسوخ کردیا گیا تھا، لیکن جب ایک انٹرویو میں انہوں نے خلاء میں ٹیجر کے طور پر جانے کو اپنے دیرانیہ خواب سے تعبیر کیا اور کہا کہ ’’میرا خواب ہے کہ میں ایک ٹیچر کے طور پر خلاء میں پرواز کروں!‘‘ تو باربرا کے عزائم کو دیکھتے ہوئے ناسا نے 1998 ء میں انہیں دوبارہ تربیت کے لیے بلالیاـ جب جانسن خلائی مرکز میں انہیں تربیتی مراحل میں رکھا گیا تھا اور مشن کے ماہر کے طور پر ان کی تربیت کی گئی۔

باربیرا کی امریکی سائنس فائونڈیشن کے لیے مثالی نوعیت کی خدمات رہیں ہیں وہ شوقیہ ریڈیو لائسنس یافتہ ہیں، جوکہ اپنے طالب علموں سے رابطے میں رہتی ہیں، جوکہ انٹرنیشنل خلائی اسٹیشن سے بھی منسلک ہوسکتا ہے۔ یہ طالب علموں کو راہ نمائی اور انفارمیشن دینے کے لیے قانونی ریڈیو کا لنک ARISS (امیچر ریڈیو آن آئی ایس ایس) ہے۔

باربرا مورگن نے 2007 ء کی اینڈریو شٹل پرواز سے اپنے خوابوں کی تعبیر پالی جب وہ 13 روزہ مشن پر شٹل سروس STS-118 سے روانہ ہوئی تھی۔ وہ سیٹلائیٹ ریڈیو کی مدد سے اپنے طالب علموں سے منسلک ہوئیں اور ان کے سوالوں کے براہ راست جوابات بھی دیے۔ مورگن اس مشن کی پے لوڈ (شٹل کا سامان رکھنے والا حصّہ) کی انچارج بھی تھیں، جسے مشینی ہاتھ (Robotic Arm) سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

٭اِینالی فشر: خلاء میں سب سے پہلی ماں
امریکی خاتون اینا (Anna Lee Tingle Fisher) کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ پہلی ماں تھیں جب وہ خلاء میں پہنچ گئیں۔ ایک کیمسٹ اور سابق ناسا کی خلاباز اینا 1984 ء میں خلائی سفر کی کام یابی پر ’’خلاء میں سب سے پہلی ماں‘‘ کہلائیں۔ اینا نے اپنے خلاء باز ساتھی سے شادی کی تھی، جن کی دو بیٹیاں تھیں جس وقت وہ پرواز کے لئے روانہ ہوئیں۔ اینا نے خلاء میں 7 دن، 23 گھنٹے اور 44 منٹ گزارے تھے۔ 64 سالہ امریکی خاتون اینا کو 1978 ء کے ناسا کے گروپ میں شامل کیا گیا تھا اور ان کی فلائیٹ ڈسکوری شٹل STS-51A تھی۔

وہ امریکا کی سب سے عمررسیدہ خلاباز ہیں جوکہ ابھی تک خلاء کے حوالے سے مصروف ہیں اور خدمات دے رہی ہیں۔ انہوں نے تین بڑے خلائی پروگراموں میں ناسا کی مدد کی ہے، جن میں خلائی شٹل، عالمی خلائی اسٹیشن،’’خلائی اسٹیشن اور اَورین‘‘ جیسے پروجیکٹس شامل ہیں۔ پہلی سیاہ فارم خاتون امریکا کی Mac Jamisa ہیں جوکہ ستمبر 1992 ء میں شٹل اینڈریو کے ذریعے خلاء میں گئیں اور وہ پہلی افریقی، امریکی خاتون بھی بن گئیں۔ انہوں نے Expediton سلسلے کے مہمات میں شمولیت اختیار کی تھی۔ حالیہ سال ناسا کے اعلان کے مطابق آئندہ کے خلائی مشن میں 8 خواتین کو بطور خلاباز آزمایا جائے گا اور یہ پہلا موقع ہوگا جب ان کی تعداد مرد خلابازوں کے ہم پلا ہوجائے گی۔

٭دیگر ممالک سے خواتین کی خلاء میں کارگزاریاں:
کلپنا چائولہ: کرنال انڈیا میں پیدا ہونے والی پہلی انڈین امریکن خلائی خاتون کلپنا چائولہ ہیں جو اپنے پہلے خلائی سفر پر بطور مشن اسپیشلسٹ گئی تھیں۔42 سالہ کلپنا کا بھی دوسر امشن انکی زندگی اور کیریئر کا آخری مشن بن گیا۔ جولائی 1961 میں پیدا ہونے والی کلپنا اپنے 16 روزہ کام یاب مشن سے واپس لوٹ رہی تھیں کہ کریش لینڈنگ کے وقت خلائی شٹل حادثے سے دوچار ہوگئی اور تمام خلاباز موت کا لقمہ اجل بن گئے۔ یہ خلائی شٹل کولمبیا(1981-2003) کا 28 مشن تھا، جو شٹل سروس کا بھی آخری مشن ثابت ہوا۔ جب یکم فروری 2003 ء کو یہ الم ناک سانحہ رونما ہوگیا تھا۔ سات خلابازوں شامل ان کی ہم عمر خاتون خلاباز بھی شٹل میں سوار تھیں۔ یہ ڈاکٹر لورل کلارک (Lanrel Clark) تھیں جو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور خلاء کی تاریخ میں امر ہوگئیں۔ یہ خلاء کی سیاہ تاریخ میں دوسر ا موقع تھا، جب دیگر خلابازوں کے ساتھ دو سری بار دو خواتین نے اپنی زندگیوں کی قربانی دی۔

٭کلاڈی (Claudie Haigneré):
فرانس کی پہلی خاتون خلاباز ڈاکٹر کلاڈی ہیں جو کہ سیاست داں بھی ہیں۔ 55 سالہ کلاڈی کو بعد میں ڈینی کا تحقیقاتی وزیر بنادیا گیا تھا۔ 1996 میں انہوں نے روس کی میر خلائی مہم میں حصہ لیا تھا۔ اس کے بعد 2001 ء میں انہوں نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) میں بھی قیام کیا ہے۔ ان کی پہلی پرواز سوئیز TM-32تھی جو کہ یورپین اسپیس ایجنسی کی جانب سے کی گئی۔ کلاڈی ہی اب تک واحد فرانسیسی خلاباز خاتون ہیں۔

ہیلن شرمین (Helen Sharman) :

برطانیہ کی پہلی خاتون خلاء باز 50 سالہ ہیلن شرمین ہیں جو کہ ’’میر خلائی اسٹیشن ‘‘ کی بھی پہلی خاتون خلاباز بنی تھیں۔ ڈاکٹریٹ کی انجینئر برطانوی کیمسٹ کا تعلق شیفلڈ سے ہے، جن کا انتخاب نومبر9 198ء میں 13000 ہزار درخواستوں میں سے کیا گیا تھا اور دل چسپ بات یہ ہے کہ اسے اخباری اشتہار ’’خلاء باز کی ضرورت ہے ‘‘ جیسے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام سے تلاش کیا گیا تھا، جس کے لیے تجربے کی شرط نہیں رکھی گئی تھی۔ شرمین نے خلاء میں 7 دن ،21 گھنٹے اور 13 منٹس گزارے تھے۔ 28 سالہ شرمین 18 مئی 1991 ء میں سوئیز ٹی ایم 12خلائی جہاز سے روانہ ہوئی تھیں، تو اپنے چاروں خلاباز ساتھیوں میں سب سے جواں سال تھیں۔

٭چینی خلاباز خواتین:
چین نے2003 ء میں اپنے پہلے انسان کو خلاء میں پہنچا کر خلائی دسترس حاصل کرلی تھی اور روس اور امریکا کے بعد تیسرا ملک بن چکا ہے، جو خلاء میں خودمختاری سے انسانی سفر کا تجربہ کرچکے ہیں۔ چین کی دوسری انسان برادر پرواز میں 2005 ء میں دو آدمیوں کو جب کہ 2008 ء میں بیک وقت تین خلابازوں کو کام یابی سے بھیجا جاچکا ہے، جب کہ چین کی پہلی خاتون خلاباز Liu Yang ہیں جو 16 جون 2012 ء میں خلاء کے سفر پر جاچکی ہیں۔

یانگ کو شین زائو۔9(shenzhou) کے ذریعے صحرائے گوبی کے جُوکوئن سیٹلائیٹ لائونچ سینٹر سے روانہ کیا گیا، جسے لانگ مارچ راکٹ نے خلاء میں پہنچایا۔ 2013 ء میں چین کی ایک فزکس کی استانی نے اس روایت کو ہی بدل ڈالا کہ ’’علم کے حصول کے لیے چین بھی جانا پڑے تو ضرور جانا چاہیے !‘‘کیوں کہ ایسا اس وقت کے طویل فاصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے کہا گیا تھا، لیکن اب دنیا بے حد سمٹ چکی ہے اور مواصلات کی ترقی نے دنیا کو ہماری دسترس میں کردیا ہے۔

چین کی یہ ٹیچر خاتون اور خلاباز وینگ یاپنگ(Wang Yaping) ہیں، جو امریکی ٹیچر باربیرا مورگن کے بعد خلاء میں دوسری استانی قرار پائیں، جنہوں نے اپنے خلائی سفر کے دوران شین زُو، ایکس سے چین کے پرائمری اور مڈل اسکول کے بچوں کو فزکس کا ایک لیکچر دیا۔11 جون 2013 ء کا دن خلاء کی تاریخ میں علمی لحاظ سے ہمیشہ یادگار رہے جب کسی استانی نے پہلی مرتبہ خلاء سے درس وتدریس کا آغاز کیا اور یہ ثابت کردیا کہ اب علم کے حصول کے لیے چین یا کسی اور دُوردراز کے ممالک جانے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

٭جنوبی کوریا کی مس ای سواین:
جنوبی کوریا کی پہلی خاتون خلاباز مس ای سواین ہیں جوکہ دو رُوسی خلابازوں کے ساتھ خلائی سفر پر بھیجی گئیں ۔29 سالہ انجینئر 9 اپریل 2008 ء میں قازقستان کے بیکونور خلائی مرکز سے روانہ ہوئی تھیں۔ انہوں نے خلاء میں دس روز قیام کیا اس طرح جنوبی کوریا بھی دنیا میں چھٹا ملک بن گیا تھا، جس نے زمینی مدار میں کسی انسان کو بھیجا۔

ای سو این کو 36 ہزار درخواستوں میں سے چنا گیا تھا اور کوریا نے اس انسانی مشن پر 20 ملین ڈالرز کا خرچہ برداشت کیا۔ کورین خاتون کی ایک امریکی اور دو روسی خلاباز ساتھیوں کے زمین پر واپسی 19 اپریل 2008 کو ہوئی۔ 2010 ء کی شٹل ڈسکوری کی پرواز میں بیک وقت پہلی بار چار خواتین نے خلائی سفر کا لطف اٹھایا تھا جو کہ شٹل کے سات ارکان کے کریو میں شامل تھیں۔

ان خاتون خلابازوں کے علاوہ جو اب تک نمائیاں طور پر خلائی مہمات کے حوالے سے ممتاز رہی ہیں۔ ان میں جاپانی خاتون Chiaki Mukai ہیں جو شٹل کولمبیا کی مہم STS-65 میں شامل ہوئیں اور اپنے ملک کی پہلی خلاباز خاتون قرار پائیں، جب کہ کینڈا سے تعلق رکھنے والی رابرٹا بنڈر (Roberta Bondar) 1992 ء میں خلائی شٹل STS-42 کے ذریعے خلاء میں پہلی کینڈین خاتون کے طور پر جاچکی ہیں، جب کہ پہلی اور واحد مسلمان خاتون خلاباز انوشے انصاری کا تعلق ایران سے ہے۔ وہ خلائی اسٹیشن پر پہلی سیّاح خاتون کے طور پر گئی تھیں۔

٭ خلاء کے حوالے سے پاکستان کی ممکنہ شناخت ’’نمیراسلیم ‘‘
خاتون خلاء بازوں کے حوالے سے ایک پاکستانی نام جو دنیا بھر میں سامنے آیا ہے۔ وہ کراچی کی 38 سالہ باصلاحیت و پر عزم نمیراسلیم ہیںجوکہ کچھ نہ کچھ کر گزرنے کے لیے ہمت، ولولہ، جذبہ و جنون رکھتی ہیں۔ 1975 ء میں پیدا ہونے والی نمیرا نے اپنی تعلیم امریکا میں کولمبیا کی “Hofata” یونیورسٹی سے مکمل کی ہے۔ نمیرا پہلی پاکستانی خاتون ہیںجنہوںنے خلائی پرواز کے لیے خلابازی کی باقاعدہ تربیت مکمل کی ہے۔ وہ پہلی جنوبی ایشیائی خاتون ہیں جو قطب شمالی وجنوبی تک پہنچنے میں کام یاب رہیں۔ یہ 21 اپریل 2007 ء کا دن جو کہ انٹرنیشنل پولرایئر کا بھی دن ہوتا ہے۔

جب وہ پہلی بار یہاں آئی تھیں۔ اس کے بعد وہ 10 جنوری 2008 ء کو عالم گیر امن کا پرچم “Peace Making with Nation Souil” تھامے دوسرے قطب پر پہنچی تھیں۔ نمیرا بہت اچھی خلاباز اور غوطہ خور بھی ہیں۔ انہوں 1995 ء میں بحرِکیربین کے جزیرے بہاماس کے سرد پانی میں غوطہ لگایا تھا۔

یہ PADI کا سرٹیفیکٹ یافتہ “Advanced Scuba Diver”ـ کے مظاہر ے میں کیا گیا۔ لندن اولمپک 2012 ء کی افتتاحی تقریب کے موقع پر نمیرا نے یہاں بھی اسکائی ڈائیونگ کا شان دار مظاہرہ کیا تھا جب 130 ممالک کے سربراہان مملکت،204 ملکوں کے 10 ہزار بہترین ایتھلیٹس اور ہزاروں تماشائی ان کی چھلانگ کا نظارہ کررہے تھے۔

نمیراسلیم کو چیلینجوں سے کھیلنا خوب آتا ہے۔ اسی لیے وہ خلائی سفر جیسے ایڈونچرز کے لیے بطورسیّاح خلاء باز بننے کے لیے تیار ہوگئیں ۔انہیں خلائی تربیت کے لیے برطانیہ کی معروف کمپنی برائن سنز کی ’’ورجن گیلانٹک‘‘ نے غوطہ خوری اور قلابازی کی مہارت کو دیکھتے ہوئے منتخب کرلیا ہے۔

2008 ء میں اس کمپنی کی جانب سے اعلان کیا گیا تھا کہ آئندہ خلائی سیّاحوں کو خلاء میں لے جانے کے لیے پرائیویٹ سروس شروع کی جارہی ہے، جس میں 6 مسافر بیک وقت خلاء کی سیر کو جاسکیں گے۔ اس خلائی جہاز کی خوبی یہ ہے کہ یہ ہوائی جہاز کی طرح عام رن وے سے ٹیک آف کرسکتا ہے، جس کی آج کل آزمائشی پروازیں کی جارہی ہیں۔ نمیرا نے اپنی بنیادی خلائی تربیت مکمل کرلی ہے اور جلد ممکن ہے کہ پاکستان کی عورتوں کی عزت اور وقار کے لیے بڑا اعزاز حاصل کرلیں گی۔ جب وہ پاکستان کی پہلی خاتون خلاباز سیّاح بن کر خلاء کے سفر پر روانہ ہوں گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔