کھلے دریچے اور خاکے کہانیاں

نسیم انجم  اتوار 27 دسمبر 2020
nasim.anjum27@gmail.com

[email protected]

گزشتہ دنوں حشمت اللہ صدیقی کی کتاب ’’کھلے دریچے‘‘ بذریعہ ڈاک موصول ہوئی،کتاب پڑھ کر ان کی وسعت نظر اور وسعت خیال کا قائل ہونا پڑا۔ دوسری دوکتابوں سے اس وقت متعارف ہوئی جب ایک ادبی تقریب میں سید محمد ناصر علی نے عنایت کیں۔

قلم بہ زبان، خاکے اور کہانیاں۔ کتاب ’’کھلے دریچے‘‘ ان کالموں اور مضامین کا مجموعہ ہے جو گزرے سالوں میں مختلف قومی اخبارات کی زینت اور ان کی شناخت بنے، روزنامہ ’’ایکسپریس‘‘ میں بھی گاہے بگاہے حشمت اللہ صدیقی کے کالم شایع ہوتے رہے ہیں۔

سینئر شاعر و ناقد شفیق احمد شفیق نے مصنف کے حوالے سے لکھا ہے ’’حشمت اللہ صدیقی سیاسی، تہذیبی، ثقافتی، علمی اور مذہبی موضوعات کا وسیع اورگہرا مطالعہ رکھتے ہیں، صرف مطالعہ ہی نہیں بلکہ ان موضوعات کی روشنی میں اپنے خیالات بھی اپنے کالموں کی وساطت سے پیش کرتے ہیں۔ انھوں نے کافی تعداد میں مضامین لکھے ہیں۔ دوستوں اورکرم فرماؤں کے اصرار پر مضامین کا ایک انتخاب ’’کھلے دریچے‘‘ کے نام سے شایع ہوا ہے۔

مصنف کی تحریریں پڑھنے کے بعد مجھے اس بات کا اچھی طرح اندازہ ہوا کہ ان کی سوچ اسلامی ہے وہ محب وطن ہیں اور حب رسول سے سرشار ہیں، ان خوبیوں کا کسی شخص اور وہ بھی قلم کار کے دل و دماغ میں ہونا اس بات کی علامت ہے کہ وہ دوسروں سے ہر لحاظ سے محتاط اور معتبر ہے۔ کتاب میں تقریباً 70 مضامین شامل ہیں جو زندگی اور معاشرے کے مختلف موضوعات پر مبنی ہیں جن میں سے چند یہ ہیں ’’آئین اور عدلیہ اہم فیصلوں کی روشنی میں، انتباہ یا نظامِ قدرت، خودکش حملے اور ملکی استحکام، زلزلہ وغیرہ وغیرہ۔

حشمت اللہ صدیقی کے کالم راستی کی خوشبو مہک رہے ہیں اپنے ایک مضمون سرسید احمد خان کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ سرسید نے سر ولیم مورکی کتاب ’’لائف آف محمد‘‘ جس میں آپؐ سے متعلق کچھ نازیبا کلمات شامل تھے، انھوں نے فوری طور پر اس کا جواب لکھا اور اس کے لیے اپنا گھر بھی فروخت کردیا، نواب محسن الملک کو خط میں لکھتے ہیں ان دنوں ذرا میرے دل کو سوزش ہے، ولیم مورکی کتاب نے میرے دل کو جلا دیا ہے اس کی ناانصافیاں اور تعصبات کو دیکھ کر دل کباب ہوگیا ہے۔

’’امام کعبہ کا اہم بیانیہ‘‘ یہ عنوان مضمون نگار کی ایک اہم تحریرکا ہے۔ ایک اور مضمون سے چند سطور۔ ماضی قریب میں ذوالفقار علی بھٹو، شاہ فیصل، معمر قذافی جیسے قدآور رہنماؤں نے مسلم امہ کو متحد، منظم و طاقتور بنانے کے لیے اپنی مدبرانہ سیاست سے رہنمائی فراہم کی تھی اور اسلامی سربراہی کانفرنس، اسلامی بلاک اور ایٹمی صلاحیت کے حصول کا کامیاب تجربہ کیا تھا وہ بھی عالمی استعمارکی سازشوں کا شکار ہوئے۔ ان عظیم رہنماؤں کے بعد پھر محسوس ہوتا ہے کہ چراغوں میں روشنی نہ رہی۔‘‘ ماخوذ حرم کی پاسبانی 25 جنوری 2016۔

’’کھلے دریچے‘‘ ایک ایسی کتاب ہے جو فکروآگہی کے چراغ روشن کرتی ہے اور غوروخوض کی نئی راہوں کا ادراک ہوتا ہے۔ تمام مضامین اسلامی اقدار اور امت مسلمہ کی یکجہتی اور بصیرت افروز معلومات پر مبنی ہیں اور قاری کی توجہ مبذول کرانے میں مددگارکتاب یادگار تصاویر، دلکش ٹائٹل اور طباعت کے حسن سے مرصع ہے۔ید محمد ناصر علی کی دو کتابیں میرے مطالعے میں رہیں، دونوں کتابیں اپنی نثر نگاری کے حوالے سے قابل ستائش ہیں ’’ بہ زبان خلق‘‘ اس کتاب میں مختلف موضوعات پر مضامین لکھے گئے ہیں ان کی تحریروں پر جناب ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی کا مضمون بعنوان ’’یارِ من ناصر بہ زبان قلم‘‘ کتاب میں درج ہے، جناب ناصر علی کا تعارف انھوں نے تفصیلاً کیا ہے۔

لکھتے ہیں سید ناصر علی گزشتہ چار عشروں سے قلم و قرطاس سے جڑے ہوئے ہیں، پیش نظر تصنیف ’’بہ زبانِ قلم‘‘ ان کے مضامین و تراجم اور کالموں کا مجموعہ ہے۔ سید ناصر علی میرے اسکول کے ساتھیوں میں سے ہیں اور کمال کی بات یہ ہے کہ بچپن کے یہ دونوں دوست چھ عشروں کے بعد ملے ہیں گویا ایک خوبصورت زندگی گزار کے، بہر حال یہ زندگی بھی قابل رشک ہے کہ دونوں دوست علم و ادب، تخلیقیت اور صحافت سے آج بھی جڑے ہوئے ہیں اور شب و روز گلشن ادب کی آبیاری میں مصروف عمل ہیں اور اپنے اپنے حصے کی فصل کاٹ رہے ہیں۔

سید ناصر علی نے ڈبل ایم اے کیا ہے، صحافت اور سیاسیات میں بڑے اہم اداروں میں ملازمت کے فرائض انجام دیے ہیں اور مزید فرائض منصبی کا حق بقائی میڈیکل یونیورسٹی میں ڈائریکٹر مطبوعات و تعلقات عامہ کی حیثیت سے ادا کر رہے ہیں، وہ فوٹو گرافی اور مصوری میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ مذکورہ کتاب کے تمام مضامین اور تراجم اہم معلومات سے روشناس کراتے ہیں۔

مصنف کی دوسری کتاب جسے میں نے نہایت دلچسپی سے پڑھا اور محظوظ ہوئی اس کا عنوان ہے ’’خاکے کہانیاں‘‘۔ مصنف کی خاکہ نگاری کمال کی ہے۔ ناصر علی کی تحریریں شگفتگی اور شائستگی کا مرقع ہیں۔ ثبوت کے طور پر چند جملے ملاحظہ فرمائیے۔ عنوان ہے ناسِم۔ NA-SIM۔ صبح کے 12 بجے نسیم صبح خیز کا ایک جھونکا آیا۔ شام جان کو چھوا۔ مطلب کہ چھونے کا وقت توگزرگیا اس لیے جان سے لپٹ گیا۔ یوں سمجھیے کہ چمٹ گیا۔

مطلب یہ کہ ہم نے بھی اسے خود دل وجان سے چمٹا لیا، غلط نہ سمجھیے گا ’’چمٹا‘‘ وہ نہیں جو خواتین باورچی خانے میں استعمال کرتی ہیں بلکہ اپنے دفاع کے لیے بہ وقت ضرورت استعمال کرتی ہیں۔ خوش آمدید کہنا ہماری عادت بھی ہے اور ابا کی روایت بھی، ناقدری ہمارے مزاج میں نہیں ہر کہ آمد خوش آمدید، خواہ یہ نسیم سحرکا تازہ جھونکا ہی سہی، باسی ہی کیوں نہ ہو۔ ’’بوا‘‘ کا خاکہ بہت ہی نفاست اور محبت کے ساتھ لکھا ہے۔

’’بوا پرانی تہذیب و معاشرت کی علم بردار، خوش لباس، خوش شکل، گھر میں ہمیشہ سفید غرارہ قمیص پہنتیں اور تقریبات میں رنگین غرارہ سوٹ ان کا پسندیدہ لباس ہوتا، شخصیت سنجیدہ اور وضع داری کا مرقع چہرے پر ٹھیک ناک کے نیچے ایک موٹا سا مسہ ان کی شخصیت کو منفرد بناتا تھا۔‘‘ ایک اور خاکہ ’’فردِ فرید فریدالدین‘‘ مصنف نے قابل احترام فرید الدین کی زندگی، جہد مسلسل کے بارے میں اپنے قارئین کو تقریباً مکمل معلومات بہم پہنچائی ہے۔ ان کی شخصیت کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے، ناصر علی خان فروری 2003 کی ایک رات ان سے ملنے بقائی یونیورسٹی پہنچ گئے اور بھی بہت سے لوگ آئے تھے لیکن مصنف کی خوش بختی ہی تھی کہ سب سے پہلے انھیں بلایا گیا۔

ڈاکٹر بقائی سے ملاقات کو پندرہ سال بیت گئے ہیں لیکن وہ ملاقات کی یادگار گھڑیاں بھلا نہیں سکے ہیں۔ تعارف اس طرح کروایا ہے کہ طب کے شعبے میں بقائی خانوادے کا نام تقسیم برصغیر سے پہلے بھی ایک معتبر نام تھا۔ یہ خاندان ایران سے برصغیر آیا تھا۔ خاندان کے زیادہ تر لوگ حکمت سے وابستہ رہے۔ سب بھائیوں نے والدین کا نام روشن کیا۔ البتہ فرید الدین نے پیشہ ورانہ مہارت کے حصول کے ساتھ ایک قدم آگے بڑھایا اور اپنی خدمات کی بنا پر قومی و بین الاقوامی سطح پر اپنا اور اپنے ملک کا نام روشن کیا۔

’’ایک عجیب سی لڑکی‘‘ کہانی نما مضمون ان لڑکیوں کے لیے نشان عبرت ہے جو خوابوں میں زندہ رہ کر حقائق کو بھول جاتی ہیں۔ کہانی کا انجام اس شعر پر ہوا ہے:

راکھ کے ڈھیر میں شعلہ ہے نہ چنگاری ہے

جانے کیا ڈھونڈتی رہتی ہیں یہ آنکھیں مجھ میں

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔