افغانستان میں دیرپا امن واستحکام کیلئےعزم کا اعادہ کرتے ہیں، ترجمان دفترخارجہ

ویب ڈیسک  اتوار 27 دسمبر 2020
بعض حلقوں کے منفی بیانات اور الزامات کا سلسلہ افغان امن عمل اور دو طرفہ کوششوں کو نقصان پہنچائے گا، دفترخارجہ

بعض حلقوں کے منفی بیانات اور الزامات کا سلسلہ افغان امن عمل اور دو طرفہ کوششوں کو نقصان پہنچائے گا، دفترخارجہ

اسلام آباد: ترجمان دفترخارجہ نے کہا کہ افغانستان میں دیرپا امن و استحکام کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہیں اور افغان امن عمل کی تنازعہ کے سیاسی حل کی طرف پیشرفت جاری ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان کی کوششوں کو افغان معاشرے اور بین الاقوامی برادری نے سراہا اور تسلیم کیا ہے، بعض افغان سرکاری وغیرسرکاری حلقوں کی طرف سے منفی بیانات پر ہمیں تشویش ہے، دوطرفہ سیکیورٹی و انٹیلیجنس امور متعلقہ دوطرفہ فورموں پر حل ہونے چاہئیں، مناسب ادارہ جاتی فورم ورکنگ گروپس کے ذریعہ موجود ہیں، دونوں ممالک کے درمیان حالیہ دنوں میں ٹرانزٹ ٹریڈ سمیت اہم دوطرفہ معاملات میں پیشرفت ہوئی ہے، ترجیحی تجارتی معاہدے پر بات چیت آگے بڑھی ہے، دونوں ممالک کو اندرونی وعلاقائی گمراہ کن عناصر سے محتاط رھنا ہوگا.

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان نے افغان امن عمل کیلئے سنجیدہ کوششیں کی ہیں، وزیراعظم کے دورہ کابل میں بھی سیکیورٹی و امن عمل کے حوالے سے رابطوں کو مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا تھا تاہم کھلے عام الزامات کا سلسلہ افغان امن عمل اور دوطرفہ تعاون میں اضافے کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا۔

زاہد حفیظ چوہدری کا کہنا تھا کہ افغان امن عمل میں اہم بریک تھروز میں پاکستان کی سنجیدہ کوششوں کا ہاتھ رہا ہے، افغان امن عمل 5 جنوری سے نازک مرحلے میں داخل ہورہا ہے، مزاکرات میں شامل فریقین کیلئے اہم ہے کہ الزامات ترک کرکے دیرپا امن و استحکام کے مقصد کیلئے دانائی اختیار کریں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ رواں سال افغانستان میں تشدد میں اضافے پر پاکستان سخت تشویش کا اظہار کرتا رہا ہے، وزیراعظم ہاکستان نے کئی مواقع پر تشدد میں کمی اور جنگ بندی پر زور دیا، افغان حکومت اندرونی سلامتی، امن کے قیام کی اپنی ذمہ داری پوری کرے، پاکستان سیکیورٹی و موثر بارڈر منیجمنٹ میں ادارہ جاتی تعاون کے ذریعہ مدد کیلئے تیار ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔