پروفیسر انور مسعود A living legend (دوسری قسط)

ذوالفقار احمد چیمہ  بدھ 30 دسمبر 2020
zulfiqarcheema55@gmail.com

[email protected]

اگرچہ اردو اور پنجابی کی مزاحیہ شاعری کا ذخیرہ بڑا وسیع ہے، مگر انورمسعود صاحب جیسی شگفتگی، شائستگی اور گہرائی کہیں اور نہیں ملتی ۔ تخلیقی میدان میں انھوں نے کئی ریکارڈ قائم کیے ہیں، حالیہ ریکارڈ یہ ہے کہ ان کی کتاب ’میلہ اکھیاں دا‘ کا پچھترواں ایڈیشن بک کارنر جہلم نے انتہائی خوبصورت انداز میں شایع کیا ہے۔ ان کی اعلیٰ پائے کی عملی اور تحقیقی کتاب ’فارسی ادب کے چند گوشے‘ کے بارے میں کچھ معروف صاحبانِ علم ودانش نے بھی اپنے خیالات تحریر کیے ہیں۔

ڈاکٹر آفتاب اصغر لکھتے ہیں ’’تقریباً ربع صدی پیشتر مصنف آسمانِ فارسی پر ایک درخشندہ ستارہ بن کر نمودار ہوا اور اس کے زیرِ نظر مقالات کی چمک دمک نے اربابِ دانش اور اصحابِ بینش کی نظروں کو خیرہ کر دیا تھا‘‘۔

ڈاکٹر جمیل جالبی لکھتے ہیں ’’ پروفیسر انور مسعود کو پہلی بار میں نے دبئی کے اُس عالمی مشاعر ے میں دیکھا اور سنا جو میری صدارت میں ہورہا تھا۔ کلام سنا تو اچھا لگا، پڑھنے کا ایسا دلکش انداز کہ ہر لفظ سننے والے کے دل میں اُتر جائے۔ سامعین کی بے ساختہ داد سے سارا پنڈال گونج اٹھا اور واہ واہ سبحان اﷲ کی داد سے چھتیںاڑ گئیں۔

ان سے ملاقات ہوئی توپتہ چلاکہ موصوف صرف شاعر ہی نہیں ہیں صاحبِ علم بھی ہیں ۔ وسیع المطالعہ، لفظوں کے پارکھ اور فارسی ادب کے استاد۔ فارسی ایسے بولتے ہیں جیسے شعر سنارہے ہوں ۔ آج دنیا بھرمیں ان کی مانگ ہے اور وہ مشاعروںکی جان ہیں ۔ جدید وقدیم فارسی ادب پر ایسی نظر کہ کم کم دیکھنے میںآتی ہے۔ خوش مزاج ، خوش نظر اور خوش فکر‘‘۔

ڈاکٹر توصیف تبسم کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں  ’’یہ کام صرف وہی شخص کر سکتاتھا جو نہ صرف اردو اور فارسی کی تاریخ اور ان کے ادبی مزاج کا نقطہ شناس ہو بلکہ بحیثیت شاعر، ان زبانوں کے شعروادب کے رموزکا کامل ادراک بھی رکھتا ہو۔‘‘

پروفیسر مشکور احسن لکھتے ہیں کہ ’’ آج انور مسعود کی شہرت پاکستان کی حدود سے نکل کر مغرب اور شرقِ اوسط تک پھیل چکی ہے‘‘ وہ مزید لکھتے ہیںکہ ’’ خیام ، ایک مطالعہ ‘‘میںانورمسعود نے اس عظیم فلسفی ، شاعر اور سائنس داں کے بارے میں تحقیق و تراجم کی تفصیل بہت دلکش انداز میں فراہم کی ہے اس سے عمر خیام کی عالمی شُہرت اور مقبولیت کا اندازہ ہو تا ہے ۔

وہ لکھتے ہیں کہ رباعیات میںخیام کی بے تاب روح تشکک اور قنوطیت سے نڈھال ہے اور بے بسی کے عالم میں غمِ دنیا کو ساغرو پیمانہ میں ڈبو دینے کی دعوت دیتی ہے۔اس کا یہ پیغام جدید ذہن اور مغربی مزاج کو بہت راس آیا ہے۔

اس کتاب میں جدید فارسی شاعری اور ایرانی معاشرے پرا قبالؒ کے اثرات پر بھی ایک معلومات افزاء مضمون ہے جسکا آغاز وہ اقبالؒکے مشہور مصرعے ’دیدہ ام ازروزنِ دیوارِ زندانِ شما‘سے کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’ اقبالؒ کا پیغام شاہی استبداد کے لیے پیغامِ مرگ اور جابرانہ نظام کے لیے اعلانِ بغاوت تھا۔ انھوں نے یہ بھی درست کہا کہ ’’ایران کو اقبالؒ کے پہچاننے میں بہت دیر لگی‘‘۔

ایران کے سپریم لیڈر جناب علی خامینائی خود اس بات کا اعترات کر تے ہیں کہ ’’ اقبالؒ کی پہچان میں ہم تاخیر کے مرتکب ہوئے ہیں‘‘۔ پروفیسر انور مسعود لکھتے ہیں کہ ایران میں اسلامی انقلاب سے پہلے بھی بعض نامور ادیب، شاعراور مذہبی اسکالر اقبالؒ کی عظمت کے قائل ہوچکے تھے اور علمی سطح پر اقبالؒ شناسی کا ایک سلسلہ چل نکلاتھا، رفتہ رفتہ ایرانی عوام بھی اس کے کلام کی جاذبیت سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے، اور بقولِ فیضؔ

تھیں چند ہی نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیں

پر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیا

1976 میں انور مسعوصاحب جدید فارسی کی تحصیل کے لیے پاکستانی اساتذہ کے ایک وفد کے سربراہ کے طور پر ایران گئے اور وہاں چار مہینے قیام کیا جہاں انھیں فارسی کے معروف شعراء اور ادباء سے ملنے کا موقع ملتا رہا۔

مصنف لکھتے ہیں کہ ’’ فارسی شاعری کے آسمان پر اقبالؒ کا ظہور ایک نرالی شان وشوکت اور جلال کے ساتھ ہوا۔ اس نے اپنی غیرمعمولی قوتِّ اظہار سے اعلان کیا کہ

زمانہ کہنہ بتان راہزار بار آراست

من ازحرم نگز شتم کہ پختہ بنیاد است

(زمانے نے پرانے بتوں کو کئی بار سجایاہے۔میں نے حرم کو نہیں چھوڑا اس لیے کہ اس کی بنیاد پختہ ہے)

آج بھی ایرانی اقبالؒ کو اقبالِ ما(ہمارا اقبال) کہتے ہیں ۔ اور وہ انھیں کہتا ہے

حلقہ گردِمن زنیداے پیکرانِ آب و گل

آتشے در سینہ دارم ازنیاگانِ شما

(اے مٹی کی مورتیو!میرے گرد حلقہ بنا لو میرے سینے میں وہ آگ جل رہی جو تمہارے بزرگوںنے روشن کی تھی)

پروفیسر صاحب نے اس مضمون میںکئی دلچسپ واقعات لکھے ہیں۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں ، ’’ قیامِ ایران کے دوران ایک دن میں تہران کے ایک شاپنگ سینٹر میں ایک دکان پر ٹھہر گیا، وہاں ایک ایرانی نے مجھ سے پوچھا آپ کہاں کے رہنے والے ہیں ؟میں نے اسے بتایا میں پاکستانی ہوں۔

یہ سنتے ہی اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی ۔ وہ میرے ہاتھ چومنے لگا اور جذبات سے بھر ائی ہوئی آواز میںکہنے لگا، ’’آپ اقبالؒ کے ہم وطن ہیں۔ میںاقبالؒ کا یہ احسان کبھی نہیں بھول سکتا کہ اس کے ایک شعر نے میری زندگی بدل ڈالی ہے‘‘پھر وہ مجھے بڑے اصرار کے ساتھ اپنے گھر لے گیااس کے ڈرائینگ روم میں جو چیز سب سے نمایاں تھی وہ ایک خوبصورت فریم میں لکھا ہوا اقبالؒ کا وہی شعر تھا جس نے اس کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا تھا۔

مازندہ ازانیم کہ آرام نگیریم

موجیم کہ آسودگی ماعدمِ ماست

(ہم تو زندہ اس لیے ہیںکہ آرام نہیں کرتے۔ ہم موج کی طرح ہیں ، ٹھہر گئے تو مرگئے)

اسی کتاب میں وہ ایک اور جگہ لکھتے ہیں کہ ‘‘ ہمارے استاد آقائے صابری تھے ۔ انھوں نے اقبالؒ کا نام تو سن رکھا تھا لیکن اس کے کلام سے آگاہ نہ تھے میں نے ان کی خدمت میں ایران کا چھپا ہوا ’’کلیاتِ اقبالؔ‘‘ کا ایک نسخہ پیش کیا اور اسمیں سے چند شعر سنائے تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے اور ان کے منہ سے بے ساختہ یہ جملہ نکلا ’’اقبال آدم را منقلب میکند‘‘ یعنی اقبالؒ تو انسان کی کایا پلٹ کر رکھ دیتا ہے۔

تہران یونیورسٹی میں ایک معروف دانشور آقائے غلام حسین صالحی علا می نے ایک محفل میںکہا کہ میں نے 1960 میں اقبالؒ کے شعر ی مجموعے کسی سے امانتاًلیے اور ان کے مطالعے سے مجھے یہ احساس ہوا کہ اقبالؒ ایک قلزم ِ ذوق وعرفان ہے۔ مجھے اس کے افکار نے اپنا شیفتہ و شیدا بنا لیا ہے۔ بیشک وہ سرزمینِ مشر ق کا رجلِ عظیم ہے‘‘۔

انور مسعود صاحب لکھتے ہیں ’’ ایران میں اقبالؒ شناسی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے پاکستان کے خواجہ عبدالحمید عرفانی اور ایران کے سیدغلام رضاسعیدی کا تذکرہ بے حد ضروری ہے ۔ غلام رضا سعیدی اقبالؒ کے عاشق اور پاکستان سے بے پناہ محبت رکھتے تھے وہ اپنی کتاب ’’اقبال شناسی‘‘ کے مقدمے میں لکھتے ہیں ،

’’اگرانگریز شیکسپیئر پر فخر کریں، فرانسیسی وکٹر ہیوگو پراتِرائیں اور جرمن گوٹٹے پر ناز کریں تو تمام مسلمانوں کو خصوصاًایران اور پاکستان کے مسلمانوں کوچاہیے کہ اقبالؒ پر فخر کریںـ‘‘

ڈاکٹر علی شر یعتی جدید ایران کے ایک زبردست اسکالر،ماہرِ عمرانیات اور مغربی فکرو فلسفہ سے گہری آگاہی رکھنے والی شخصیت تھے ۔ فکری سطح پر ایران میں اقبالؒ شناسی کے سلسلے میں ان کی خدمات بڑی قابلِ قدر ہیں، ان کی کتاب ’ماواقبالؔ‘زبردست اہمیت کی حامل ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر جناب علی خامنہ ای نے تہران میں منعقد ہونے والی اقبال کا نگریس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا ’’میں اقبالؒ کا دیرینہ مرید ہوں ۔ میں نے اپنی ذہنی زندگی اقبالؒ کے ساتھ گذاری ہے۔ وہ ایران میں ایک معجزے کا منتظر تھا۔ ہمارے معاشرے میںاس کی آرزو پوری ہوئی ہے، میدانِ عمل میںہم نے اس کے پیغامِ خودی کو زندہ کیاہے ۔ اس کا ہم پر عظیم احسان ہے ۔آج اقبالؒ زندہ ہوتا تو یہ دیکھ کر کتنا خوش ہوتاکہ ہم نے اپنے خیموں سے غیروں کی طنابیں کاٹ دی ہیں اور ہماری قوم اپنے پاؤں پرکھڑی ہے‘‘۔

جناب علی خامنہ ای نے مزید فرمایا ’’اقبالؒ کو عظیم شاعراور مصلح کہہ دینے سے اس کی عظمت کا حق ادا نہیں ہوتا۔ مجھے کوئی تعبیر(Expression) نہیں ملتی جو اس کی شخصیت کے سارے پہلوؤں کو سمیٹ سکے۔ وہ تاریخ اسلام کی بڑی برگزیدہ ،ممتاز اور عظیم شخصیت ہے۔ وہ اتنا ہوشمند تھا کہ استعمار کی سیاستِ خبیثہ کی رگ رگ کو پہچانتا تھا۔ جب برصغیر میں مسلمانوں کو اپنا مستقبل انتہائی تاریک نظر آرہا تھا اور اس تاریکی نے سارے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا ، اقبالؒ نے اسوقت اپنی مشعل روشن کی۔ اسوقت سارا عالمِ اسلام جس احساس سے خالی تھا اقبالؒ نے وہی درس دیا کہ مسلمان اپنی خودی کو پہچانیں یعنی اسلامی اقدار کی طرف لوٹ آئیں‘‘۔

جہاں تک اقبالؒ کے ہمعصر اور بعد کے ایرانی شعرا کا تعلق ہے تو عصرِ حاضر کے سب سے بڑے ایرانی شاعر ملک الشعرا محمّد تقی بہار علامّہ اقبالؒ کے فکروفن سے متاثر ہونیوالوں میں سب سے بڑھ کر تھے۔جو خراجِ تحسین و حیرت انھوں نے اقبالؒ کے حضور پیش کیا ہے وہ پاکستان میں بھی زباں زدِ عام ہے۔

عصرِ حاضر خاصہئِ اقبال گشت

واحدے کز صد ہزاران برگذشت

(یہ دور تواقبالؒ کا ہے ۔ وہ اکیلا سیکڑوں اور ہزاروں کو پیچھے چھوڑ گیا )

پروفیسر انور مسعود کا وجود ہمارے ملک اور قوم کا ایک قیمتی اثاثہ ہے ، اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انھیں بہت اچھی صحت کے ساتھ طویل عمر عطا فرمائیں ، ان کی شاخِ تخیل اسی طرح سرسبزو شاداب رہے ا ور پھولوں اور پھلوں سے بھری رہے تاکہ عوام الناس علم و دانش کے ان پھولوں اور پھلوں سے اسی طرح فیضیاب ہوتے رہیں ۔ اور یہ بھی کہ ہر بُد ھ کو میرے کالم پر اُنکی مشفقانہ کال مجھے تادیر موصول ہوتی رہے اور حوصلہ بڑھاتی رہے۔ آمین

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔