موج ہے دریا میں، بیرون دریا کچھ نہیں

اشفاق اللہ جان ڈاگیوال  جمعرات 31 دسمبر 2020
ashfaqkhan@express.com.pk

[email protected]

میں جب بھی پاکستان کے سیاسی افق پر نظر ڈالتا ہوں مجھے مولانا فضل الرحمن سے زیادہ معتبر سیاستدان نظر نہیں آتا۔ کوئی کچھ بھی کہے لیکن میں نے مولانا فضل الرحمٰن کو جب بھی پایا ایک عالم باعمل پایا، انھیں جب بھی دیکھا عارف باللہ دیکھا، باضمیر سیاستدان دیکھا اور باکمال انسان پایا۔ انھوں نے پاکستان میں حقیقی جمہوریت کی بحالی کا علم بلند کیا، مروجہ سیاسی نظام کی ڈسی ہوئی سیاسی قوتوں نے ان کی آواز پر لبیک کہااور ان کی اقتداء میں اس کھوکھلے نظام کے خلاف صف بندی کرلی، کراچی سے لے کے خیبر تک ’’مولانا آرہا ہے۔

مولانا آرہا ہے‘‘ کے ترانوں کی گونج سنائی دے رہی ہے، چاہے کسی کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے یا مسلم لیگ (ن)  سے، کوئی اسفند یار ولی کا پیروکار ہے یا محمود خان اچکزئی کا، سب کے سب مولانا کو اپنا نجات دہندہ سمجھ رہے ہیں، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ نے عوامی طاقت کامظاہروں کا شیڈول بنایا تو ان کے جلسوں میں آنے والے عوامی سیلاب سے بڑے بڑے ایوانوں میں ہلچل مچ گئی، ہر آنے والا دن حکومتی مشکلات میں اضافے کا باعث بنتا گیا۔ اس بوکھلاہٹ میں نادیدہ قوتیں بھی دیدہ ہوچکی ہیں۔

مولانا کا راستہ روکنے کے لیے سوچا سمجھا منصوبہ بنایا گیا اور اس پر عمل کا آغاز ہوگیا۔ کبھی مولانا کے بارے تھریٹ الرٹس جاری کرکے انھیں ڈرانے کی کوشش کی گئی، تو کبھی ان کے خلاف نیب کیسز بنا کر ان کی کردار کشی کی گئی،کوئی حربہ کام نہ آیا تو انھی کی جماعت سے چند لوگوں کو ان کے خلاف کھڑا کرکے جھنڈا مولانا محمد خان شیرانی کے ہاتھ میں تھما دیا گیا۔ میںحیران ہوں اس کو مولانا فضل الرحمن کی کرامت مان لوں یا اللہ تبارک و تعالیٰ کی خصوصی نصرت کہ مولانا شیرانی نے اپنی ’’تحریک‘‘ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے شروع کی اور پھر مولانا فضل الرحمن کی ذات کی مخالفت پر ختم کردی۔

جب میں اس سوال کے جواب کی تلاش میں نکلتا ہوں تو میرے قلب و ذہن سے ایک ہی آوازآتی ہے کہ مولانا فضل الرحمن پر جو بھی الزامات لگائے گئے، اسلام اور پاکستان سے محبت کرنے والے کسی ایک فرد نے انھیں معتبر نہیں مانا، ان کے دل پر ان الزامات کا کوئی اثر نہیں ہوا، البتہ مولانا شیرانی نے اسرائیل کی حمایت میں جو بیان دیا، یہ بیان دینی و سیاسی حلقوں میں بے چینی کا باعث بن گیا۔ ادھر اْس مرد قلندر کو دیکھئے جس نے اتنے سنگین الزامات سہنے کے باوجود ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مولانا شیرانی میرے بزرگ ہیں، میں نے ہمیشہ اپنی ذات کی حد تک انھیں برداشت کیا۔

پھر وہ اپنی جماعت کے اس اجلاس میں بھی شریک نہیں ہوئے جو مولانا شیرانی اور ان کے ہمنواؤں کے جماعتی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ایکشن لینے کے لیے طلب کیا گیا تھاکہ کہیں انصاف کے تقاضوں پر حرف نہ آجائے؟ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوچکی ہے کہ چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے یعنی ’’دن رات سے اور روشنی تاریکی سے‘‘۔ اسی تناظر میں مولانا فضل الرحمن پر تنقید کرنے والوں کو پرکھا جاسکتا ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ کچھ عرصے سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے درپردہ بڑی تیزی سے کام جاری ہے، اس کام کی سب سے پہلے نشاندہی مولانا فضل الرحمن نے ہی کی تھی اور آج تک پاکستانی سیاسی منظر نامے پر اسرائیل کی مخالفت میں کوئی شخصیت ڈٹ کر کھڑی ہے تو وہ مولانا فضل الرحمن ہی ہیں لیکن دیکھیں نادیدہ قوتوں نے کیسے جے یو آئی کی صف سے ہی اسرائیل کا حامی نکلا۔ اس سے جے یو آئی اور اس کی قیادت کو رتی برابر بھی نقصان نہیں پہنچا بلکہ ان پر لوگوں کا اعتماد مزید بڑھا لیکن کچھ چہرے قوم کے سامنے ضرور آگئے۔

مولانا شیرانی اور دوسرے صاحبان نے جو الزامات لگائے ان کا جواب اپنے دل سے پوچھیں وہاں سے بھی یہی جواب آئے گا کہ پورے ملک میں جمعیت کے کارکنان کی نظر میں ایک ایسا بندہ جس پر آنکھیں بند کر کے اعتماد کیا جاسکتا ہے تو وہ مولانا فضل الرحمن کی ذات ہے۔ صرف جمعیت ہی نہیں پاکستان کی تمام دیوبندی جماعتیں اور شخصیات مولانا کو اپنا رہنما سمجھتی ہیں، صرف دیوبندی ہی نہیں، پاکستان میں موجود تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی معتبر دینی جماعتیں اور ان کے قائدین مولانا کی اقتداء کو تسلیم کرتے ہیں، اس کی سب سے بڑی مثال متحدہ مجلس عمل ہے جس میں تمام مکاتب فکر کی نمایندہ جماعتیں شامل ہیں اور مولانا فضل الرحمن ان سب کے قائد ہیں۔

دینی ہی نہیں، ملک کی تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کے نزدیک بِالاتفاق مولانا فضل الرحمن معتبر سیاسی لیڈر ہیں، اور ان سب نے پی ڈی ایم میں مولانا کو اپنا قائد تسلیم کیا ہے۔ کیا جمعیت علماء اسلام میں کوئی دوسری ایسی شخصیت موجود ہے جسے اتنی عزت ملی ہو؟ مولانا شیرانی صاحب اور ان کے ساتھیوں نے جماعتی ڈسپلن کی خلاف ورزی کرکے خود اپنے ہی پاؤں پر کہلاڑی ماری ہے، اتنے جہاندیدہ سیاستدان کیسے بھول گئے کہ وہ جن مسائل اور تحفظات کا اظہار کررہے ہیں۔

اس کے لیے بہترین فورم ان کی جماعت ہے، پھر انھوں نے اپنے گندے کپڑے بیچ چوراہے دھونے کی کوشش کیوں کی؟ حالات اس بات کا پتہ دے رہے ہیں کہ ان ’’مجبوروں‘‘ کی مجبوری کا فائدہ کسی اور نے اٹھا لیا ہے اور مزید اٹھانے کی کوشش ہورہی ہے، اتوار کے روز کچھ لوگوں کو نظریاتی گروپ کا رہنما بنا کر ان سے پریس کانفرنس کرائی گئی حالانکہ نظریاتی گروپ والوں کا مولانا فضل الرحمن سے توکوئی اختلاف تھا ہی نہیں، وہ تو سبھی بعد میں جمعیت میں واپس آچکے تھے، پھر یہ پریس کانفرنس میں کون تھے؟ جو بھی تھے کامیابی ان کا مقدر نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مولانا شیرانی اور ان کے ہمنواؤں کو آج نہیں تو کل اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ

موج ہے دریا میں، بیرون دریا کچھ نہیں

آخر میں حکومت کے ان ترجمانوں کا تذکرہ ضروری ہے جن کے دل میں اچانک مولانا شیرانی کے لیے محبت کا جذبہ پیدا ہوا اور وہ ان کے بیان کے اس حصے کو لے کر اُچھل کُود کررہے ہیں جس میں مولانا فضل الرحمن پر تنقید کی گئی ہے، اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے بیان پر ایسے خاموش ہیں جیسے کچھ جانتے ہی نہیں، یہ خاموشی کہیں اس لیے تو نہیں کہ ان کے مطلب کی بات کردی گئی ہے؟ علی امین گنڈا پور کہتے ہیں مولانا تنقید برداشت نہیں کرسکے اور مولانا شیرانی و حافظ حسین احمد کو جماعت سے نکال دیا، ہم اوپر ذکر کرچکے ہیں کہ ان کے خلاف کارروائی جمعیت کے اکابرین نے کی۔

ان میں مولانا شامل نہیں تھے، یہ کارروائی بھی اس لیے کی گئی کہ انھوں نے جماعت کے اندر بات کرنے کے بجائے غیر متعلقہ پلیٹ فارم استعمال کیا۔ دوسری بات یہ کہ پی ٹی آئی کے کسی لیڈر کو ایسی باتیں زیب نہیں دیتیں کیونکہ تنقیدبرداشت نہ کرنے کی روایت کی امین صرف پی ٹی آئی ہے، جو بات کرتا ہے اسے اٹھا کے باہر پھینک دیا جاتا ہے ، جسٹس وجیہہ الدین سے حامد خان، جاوید ہاشمی سے گلالئی تک کئی داستانیں پی ٹی آئی کی تاریخ کا حصہ ہیں۔ جے یو آئی میں کسی آواز کو دبانے کا کوئی رواج نہیں وہاں سب کھل کر بات کرتے ہیں اور بات چیت کے ذریعے ہی آگے بڑھنے کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔