کورونا کی تیسری لہر زیادہ خطرناک

برطانیہ میں کورونا کی نئی قسم میں مریض علاج سے پہلے ہی لقمہ اجل بن جاتا ہے

برطانیہ میں کورونا کی نئی قسم میں مریض علاج سے پہلے ہی لقمہ اجل بن جاتا ہے

آج 31 دسمبر 2020ہے، سال کا آخری دن۔ 2020کا پورا سال ہنگامہ خیز رہا۔ کورونا کی وبا ایک قہر بن کر ٹوٹی جس نے لاکھوں لوگوں کی زندگیاں نگل لیں۔

عالمی معیشت تباہ و برباد ہوگئی۔ اب تک دُنیا بھر میں کروڑوں لوگ کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں، 17 لاکھ سے زائد اس کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ پاکستان میں بھی لاکھوں لوگوں کو کورونا نے متاثر کیا مگر مجموعی طور پر اللہ کی خاص کرم نوازی رہی کہ زیادہ اموات نہ ہوئیں۔ مرنے والوں میں بھی زیادہ  تر وہ لوگ تھے جو پہلے سے دل کی بیماریوں، سانس کی بیماریوں، شوگر یا کسی دوسرے مرض میں مبتلا تھے۔

اللہ کی یہ بھی بڑی کرم نوازی رہی کہ پاکستان کے دور دراز دیہاتی علاقوں اور گاؤں میں کورونا کے کیسز نہ ہونے کے برابر منظر عام پر آئے۔ اگر کورونا پاکستان کے دیہات اور دور دراز علاقوں میں پھیلتا تو پھر اس پہ قابوپانا انتہائی مشکل ہوتا کیونکہ دور دراز علاقوں میں طبی سہولتوں کا فقدان ہے۔ پاکستان میں زیادہ تر بڑے شہروں مثلاً کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں کیسز سامنے آئے جبکہ دیہی اور دور دراز کے علاقوں میں اللہ کا کرم رہا اور غریب لوگ اس سے متاثر نہ ہوئے۔

بڑے شہروں میں لوگوں نے کسی حد تک احتیاطی تدابیر پر عمل کیا لیکن دور دراز کے علاقوں میں لوگوں نے اسے بالکل سنجیدہ مسئلہ نہ سمجھا۔ مجھے سرکاری فرائض کی ادائیگی اور رفاہی کاموں کے سلسلے میں اکثر خیبر پختوانخوا اور تھر کے علاقوں میں جانا ہوتا تھا، وہاں کم ہی کسی کو ماسک پہنے دیکھا۔ نومبر کے مہینے میں جنوبی وزیرستان جانے کا اتفاق ہوا ، وہاں میڈیکل کیمپ لگائے۔ جنوبی وزیرستان کے لوگ ہمیں ماسک پہنے دیکھ کر ہنستے تھے۔ جب ہم نے انھیں ماسک پہننے کو دیے تو انہوں نے اس پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔

زیادہ تر نے ماسک پہننے سے گریز کیا۔ وانا DHQ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ ہمارے ہاں ابھی تک کورونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔ اسی طرح تھر پار کے میں بھی اگرچہ لاک ڈاؤن لگا رہا مگر الحمد للہ تاحال وہاں کورونا کا کوئی مثبت کیس رپورٹ نہیں ہوا۔

کورونا کی پہلی لہر گزری تو جون جولائی کے مہینوں میں کورونا کے کیسز خال خال رہ گئے۔ بہت کم تعداد میں لوگ وینٹی لیٹر پہ تھے جبکہ اسی دوران پڑوسی ملک بھارت میں روزانہ سینکڑوں اموات ہو رہی تھی اور ہزاروں لوگ کورونا سے متاثر ہو رہے تھے۔ پاکستان میں کورونا کی دوسری لہر اکتوبر کے مہینے میں شروع ہوئی جب روزانہ ایک ہزار سے دو ہزار تک لوگ پازٹیو رپورٹ ہونے لگے۔ پچھلے تین ماہ میں تین ہزار سے زائد لوگ کورونا کی وجہ سے انتقال کرگئے۔ ان میں کئی نامور ڈاکٹر بھی شامل ہیں جو کورونا کے خلاف جنگ کرتے ہوئے اور اس کے مریضوں کا علاج کرتے ہوئے بیماری کا شکار ہوئے۔

چین کے شہر ووہان میں کورونا وائرس شروع ہوا تو چین نے ایسا سخت لاک ڈاؤن کیا کہ ووہان سے آنے جانے پر ابھی تک پابندی ہے۔ چین کے ڈاکٹروں نے قدرتی علاج کر کے مرض پہ قابو پایا۔ چین نے ستمبر 2020ء میں کورونا پہ قابو پانے کا جشن منایا۔ چینی صدر نے کورونا کے خلاف فرنٹ لائن ورکرز ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کو اعزازات سے نوازا۔ چین نے ستمبر کے مہینے میں ہی ویکسین بھی بنا لی جس کے کامیاب ٹرائل جاری ہیں، اس کی وجہ سے چین میں نئے کیسز بہت کم نظر آئے۔

کورونا کی دوسری لہر نے سب سے زیادہ امریکہ، برازیل اور برطانیہ کو متاثر کیا۔ برطانیہ میں بھی ویکسین تیار کر لی گئی ہے مگر وہاں کورونا کی نئی قسم نے تباہی پھیلانی شروع کردی ہے۔ اس وجہ سے دُنیا بھر کے ممالک نے برطانیہ سے فلائٹس کی آمدورفت پر پابندی لگا دی ہے۔ پاکستان میں بھی برطانیہ سے آنے والی پروازوں پر پابندی ہے۔ برطانیہ سے آنے والوں کے لیے لازم ہے کہ 72 گھنٹے پہلے ان کی کورونا کی منفی رپورٹ ہو۔ برطانیہ میں ویکسین کے ٹرائل شروع ہو چکے ہیں۔ ویکسین لگتے ہی اس کے مضر اثرات منظر عام پر آنا شروع ہو گئے ہیں۔

بعض لوگوں میں اس کی وجہ سے الرجک Reaction ہوئے ہیں۔ کچھ مریضوں میں Bells Palsyہوگئی ہے اور ویکسین لگتے ہی ایک دو اموات بھی ہوئی ہیں۔ پاکستان میں بھی مختلف جگہوں پر ویکسین کے ٹرائل جاری ہیں۔ جہاں ویکسین کے ٹرائل جاری ہیں وہیں کورونا کی نت نئی اقسام بھی سامنے آ رہی ہیں جیسا کہ برطانیہ میں ہوا۔ نئی اقسام زیادہ خطرناک ہیں۔ اس سے انفیکشن بہت جلد پھیپھڑوں کو متاثر کرتا ہے اور مریض علاج سے پہلے ہی موت کا شکار ہو جاتا ہے۔

کورونا کی تیسری لہر زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ حفاظتی تدابیر پر سختی سے عمل کیا جائے۔ کورونا سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل حفاظتی تدابیر پر عمل کریں:

٭ اگر آپ کو فلو، کھانسی ، نزلہ و زکام بیمار ہے اور آپ کا سانس بھی پھول رہا ہے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں، اپنے آپ کو چند دن کے لیے گھر تک محدودکر لیں۔

٭ دن میں تین بار بھاپ لیں۔ بھارت میں چند ایک ہسپتالوں میں صرف بھاپ لینے سے کورونا کے مریضوں کا علاج ہوگیا۔

٭ سردیوں کے دنو ں میں خصوصی طور پر گرم پانی کا استعمال کریں۔

٭ سردیوں میں ڈرائی فروٹ کا استعمال آپ کی قوت مدافعت بڑھاتا ہے۔ ان دنوں ڈرائی فروٹ کا استعمال خوب کریں ۔

٭ وٹامن سی کے لیے اورنج جوس لیں یا تازہ مالٹے اور کنو استعمال کریں۔

٭ سوپ، قہوہ اور پینے والی اشیاء زیادہ استعمال کریں۔

٭ ماسک کا استعمال بہت ضروری ہے۔ ماسک آپ کی Ultimate ویکسین ہے۔ ماسک پہننے سے آپ خود بھی کورونا سے بچتے ہیں اور دوسروں کو بھی بچاتے ہیں۔ خصوصی طور پر ایسی جگہوں پر جہاں زیادہ لوگ جمع ہوں وہاں ماسک پہننا بہت ضروری ہے، اس کے علاوہ آپس میں سماجی فاصلہ رکھنا ضروری ہے۔

٭ کورونا سے بچنے اور اس کے علاج کے لیے کسٹمز ہیلتھ کیئر سوسائٹی کی طرف سے ہلدی، شہد اور زیتون کا تیل کا مرکب شربت متعارف کروایا گیا جس کی وجہ سے ہزاروں مریضوں کو افاقہ ہوا ۔آپ یہ شربت گھر میں بھی بنا سکتے ہیں۔عوام الناس کے لیے اسے بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے:

ایک کپ گرم پانی یا دودھ لیں۔ اس میں ایک چمچ شہد ڈالیں، ایک چمچ ہلدی ڈالیں اور ایک چمچ زیتون کا تیل۔ ان تینوں اشیاء کو اچھی طرح ملا لیں۔ آپ کا کورونا مدافعاتی شربت تیار ہے۔ کورونا کے مریض اس شربت کا  ایک کپ صبح شام استعمال کریں۔ اس سے بچنے کے لیے آدھا کپ صبح شام لیں۔ چھوٹے بچے ایک چمچ صبح دوپہر لے سکتے ہیں۔

جوں جوں سردی میں کمی آئے گی کورونا کے کیسز بھی کم ہوں گے۔ سال 2021ء کے دوران انشاء اللہ کورونا کی وبا سے نجات مل جائے گی اور دُنیا بھر کی رونقیں پھر سے بحال ہو جائیںگی۔ اللہ تعالیٰ سے خصوصی دُعا ہے کہ وہ ایسی ہوا چلائے جس سے کورونا کا وائرس ہواؤں میں تحلیل ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ پھر سے مسجد نبوی اور مسجد حرام کی رونقیں بحال کر دے۔ لاکھوں مسلمان کعبتہ اللہ اور روضہ رسولؐ کے دیدار کو ترسے ہوئے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔