- کامن ویلتھ گیمز، ارشد ندیم گولڈ میڈل حاصل کرنے میں کامیاب
- آٹھویں جماعت کے طالب علم نے حاضر دماغی سے ڈکیتی کی کوشش ناکام بنادی
- ملک بھر میں دو روز کے لیے موبائل سروس بند رکھنے کا فیصلہ
- پنجاب میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد
- اسلامک گیمز: پاکستانی ٹیبل ٹینس کھلاڑی کوارٹر فائنل میں پہنچ گئے
- کیوبا میں تیل ذخیرہ کرنے والے ٹینکر پر آسمانی بجلی گرگئی، 1 ہلاک، 121 زخمی
- پاکستانی طالبعلموں نے زرعی شعبے کے لیے موسمیاتی اسٹیشن تیارکرلیا
- بلوچستان ہیلی کاپٹر حادثے اور شہدا کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز
- پاکپتن سے خود کو ایس ایچ او ظاہر کرنے والا نوسرباز گرفتار
- کراچی میں ہندو نوجوان کی درخت سے لکٹی ہوئی لاش برآمد
- فارن فنڈنگ میں اب پی ٹی آئی کے کسی جواب کی ضرورت نہیں، وزیر اطلاعات
- یزیدی حکومت سے نمٹنے کے لیے 13 اگست کو لائحہ عمل کا اعلان کروں گا، عمران خان
- راولپنڈی: کنویں میں گرنے والی بھینس کو کئی گھنٹوں بعد باحفاظت نکال لیا گیا
- نوجوان نسل عمران خان کے بہکاوے میں نہ آئے، شرجیل انعام میمن
- پسند کی شادی کی خواہش؛باپ نے بیٹی کے قتل کیلیے ایک لاکھ روپے سپاری دیدی
- لاہور: اغوا کا ڈرامہ رچاکر والدین سے 5 لاکھ روپے تاوان مانگنے والا 14 سالہ لڑکا گرفتار
- بنگلادیش؛ پٹرولیم مصنوعات میں 52 فیصد اضافے پر ہنگامے پھوٹ پڑے
- شہدا کا تمسخر اڑانے والوں کا احتساب ضروری ہے، وزیر اعظم
- راولپنڈی میں دو ملزمان کی گھر میں گھس کر خاتون سے زیادتی
- اسرائیل کی غزہ پر وحشیانہ بمباری؛ سلامتی کونسل نے اجلاس طلب کرلیا
سال 2020 کورونا کے نام رہا، عوامی مسائل جوں کے توں رہے

کئی نامور شخصیات ہم سے بچھڑ گئیں، مقامی حکومتوں کی مدت مکمل ہوئی۔ فوٹو: فائل
کراچی: سال 2020 کورونا کے نام رہا، مارچ سے اگست تک سندھ میں سیاسی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابر رہیں ستمبر سے سیاسی حالات بتدریج بحالی کی طرف گامزن ہوئے۔
سال بھر سندھ میں اپوزیشن جماعتیں حکمران جماعت پیپلز پارٹی پر تنقید کرتی رہیں، عوام کے مسائل جوں کے توں رہے، کئی نامور شخصیات ہم سے بچھڑ گئیں ، کورونا کی وجہ سے لوگ معاشی طور پر شدید مشکلات کا شکار ہو گئے۔
سال 2020 میں سندھ کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ سال 2020 کا آغا ز جب ہوا تو لوگ یہ توقع کر رہے تھے کہ یہ سال ان کے لیے اچھا ثابت ہو گا ، یہ سال امن و سلامتی اور خوش حالی کا سال ثابت ہو گا لیکن کسی کو یہ معلوم نہیں تھا کہ 2020ایک ایسی وبائی بیماری کا سال ہوگا ، اس وباکا نام کووڈ 19 ہو گا اور اس وباسے ایسے منفی اثرات مرتب ہوں گے جس سے لوگوں کی طرز زندگی نہ صرف تبدیل ہو جائے گی بلکہ معاشی اور سماجی حالات بھی زبوں حالی کا شکار ہو جائیں گے۔
فروری کے آخری ہفتے میں پاکستان میں وباکا آغاز ہوا ، اس وقت پوری دنیا کورونا سے بچنے کے لیے لاک ڈاؤن کی طرف جا رہی تھی ، یہی صورت حال پاکستان میں بھی رہی ، ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی کورونا نے اپنے پنجے گاڑھنے شروع کر دیے اور اس وباسے بچنے کے لیے سندھ حکومت نے صوبے بھر میں مکمل لاک ڈاؤن کا آغاز کیا، لوگوں کے روزمرہ زندگی کے معاملات معطل ہو گئے، اگر سندھ کی سیاسی سرگرمیوں کا بتدریج جائزہ لیا جائے تو یہ معلوم ہو گا کہ رواں برس مقامی حکومتوں کی مدت مکمل ہوئی۔
پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ ( پی ڈی ایم ) ، پاک سرزمین پارٹی ، جماعت اسلامی نے بڑے اجتماعات منعقد کیے ، پیپلز پارٹی کی سیاسی سرگرمیاں بھی کورونا کی وجہ سے محدود رہیں ، 18 اکتوبر کو پیپلز پارٹی کی میزبانی میں پی ڈی ایم کا جلسہ باغ جناح میں ہواجس میں تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
اس کے علاوہ پی ایس پی نے بھی باغ جناح میں عوامی طاقت کا مظاہرہ کیا ، توہین آمیز خاکوں کے خلاف مختلف مذہبی جماعتوں کے تحت بڑی ریلیاں نکالی گئیں جس میں توہین آمیز خاکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ۔
ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔