دولت انسان کو کھا جاتی ہے

آفتاب احمد خانزادہ  جمعـء 1 جنوری 2021
aftabkhanzada2@yahoo.com

[email protected]

Heraclitus نے کہا تھا کہ تکبر آگ سے بھی زیادہ تباہ و برباد کرنے والی چیز ہے کیونکہ اس کے بعد تباہی کا آنالازم ہے۔

ہرو ڈوٹس کے فلسفے کابہت بڑا حصہ اس نظرئیے کے گرد گھومتا ہے کہ تمام خوشیاں اور تمام خوشحالی غیر محفوظ ہے۔ قدیم یونانیوں کے نزدیک تکبر بھیانک خیال لاتاہے۔ اسکائی لیس کہا کرتا تھا کہ یہ دنیا بھوت پریت سے بھری پڑی ہے ۔ ہیرو ڈوٹس نے ساموس کے بادشاہ پولی کریٹ جس نے 540 ق م تک حکومت کی تباہی کا سبب Excessive Power کو قرار دیا ہے۔

اس وقت بھی یہ نظریہ عام تھا کہ انسانی معاملات کی گردش ایک جگہ پر نہیں ٹھرتی ، لیڈیا کے بادشاہ کروسس کے زوال کا واقعہ تاریخ میں باربار ملتاہے جو دیوتائوں کے حضور نذر و نیاز پیش کرنے میں بہت مشہور تھا، اس نے اپنے فاتح ایرانی بادشاہ سائیرس کو کہا تھا ’’اگر تم یہ تسلیم کرتے ہو کہ تم اور تمہارے ماتحت فوجی دستے محض انسان ہیں تو یاد رکھنا انسانی زندگی گھومنے والا پہیہ ہے اور وہ انسانی اقبال مندی کو زیادہ دیر تک جاری رکھنے کی اجازت نہیں دیتا ‘‘ ۔

یہ ہی وہ عظیم سچائیاں ہیں جنہیں کسی بھی وقت کے حکمرانوں کو ہر وقت یاد رکھنا اور ساتھ رکھنا سب سے زیادہ ضروری ہوتاہے، لیکن کیا تو کیاکیا جائے، بلندی پر پہنچنے والے ان ہی سچائیوں کو سب سے زیادہ غیر ضروری سمجھ کر بلندی سے پہلی فرصت میں پھینک دیتے ہیں اور پھر اترائی کے وقت ان کی ملاقات سب سے پہلے ان ہی سچائیوں سے ہوتی ہے تو وہ انہیں دیکھ کر بے ساختہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑتے ہیں لیکن اس وقت ان کے پاس آنسوئوں کے علاوہ اور کچھ باقی نہیں بچتا ہے ۔

یاد رکھیں یہ قدرت کا قانون ہے اور قدرت کے قانون کبھی بدلا نہیں کرتے ہیں ،جو لوگ تکبرمیں آ کر خود کو سب سے برتر سمجھنے لگتے ہیں‘ وہ نہیںجانتے کہ ان کی تباہی کا آغاز ان کے اسی رویئے سے ہوتا ہے۔ تکبر کے باعث اپنے اور پرائے سب اس سے دور ہو جاتے ہیںاور دوسروں کے دل میں متکبر شخص کے خلاف غصہ اور نفرت کے جذبات پنپنے لگتے ہیں۔اس لیے چندرا کہا کرتا تھا ’’ قدرت کا قانون سب سے بڑا بادشاہ ہوتا ہے‘‘اور یہ بادشاہ کبھی نہیں بدلتا کبھی اس پر زوال نہیں آتا۔

جبکہ ہم سب بدل جاتے ہیں ہماری جگہیں بدل جاتی ہیں کاش کہ ہمارے حکمران بھی بلندی پر جانے سے پہلے انسانی تاریخ کا مطالعہ ضرور کرلیا کریں تو وہ حادثات ، سانحات ، ناگہانیوں اور انہونیوں سے محفوظ رہ سکیں گے ، لیکن ہمارے حکمرانوں کا حال دیکھ کر عظیم شاعر الیگزینڈر پوپ کی بات باربار یاد آجاتی ہے کہ ’’فرشتے جہاں چلتے ہوئے ڈرتے ہیں احمق وہاں دوڑتا ہے ‘‘ دی لائف آف ریزن میں جارج سانتا یانہ لکھتا ہے کہ جولوگ ماضی یاد نہیں رہ سکتے انہیں اس کو دہرانے کی سزا دی جاتی ہے ۔

ہمارے حکمرانوں کی کہانی بہت ہی دلچسپ ہے، وہ بلندی پر پہنچتے ہیں تو وہ پہلا کام نیچے دیکھنا ترک کردیتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس خیال میں مدہوش ہو جاتے ہیں کہ اب انہیں یہاں سے کوئی بھی نہیں نکال سکتا اور اب ہمیں ہمیشہ ہمیشہ یہیں ہی رہناہے اور نیچے کبھی بھی نہیں جانا ہے ۔ اس لیے جب نیچے جانا ہی نہیں ہے تو پھر خوب مزے کرو خو ب عیاشیاں کرو خوب لوٹ کھسوٹ کرو اور پھر وہ بلندی کے غرور اور تکبر میں غرق ہوجاتے ہیں اور جب وہ بلندی کے غرور و تکبر میں غرق ہوجاتے ہیں تو پھر ان کی واپسی کے سفر کا سامان بندھنا شروع ہو جاتا ہے ۔

چھٹی صدی ق م میں عظیم فلسفی سولن نے کہا تھا ’’ شان و شوکت بڑی آسانی سے بدکاری کی طرف راغب کرتی ہے ‘‘ اس ساری کہانی میں ہم ان عظیم خدائی خدمت گاروں کا ذکر تو کرنا بھول ہی گئے ہیں یہ عظیم خدائی خدمت گار وہ عظیم مخلوق ہیں ہمیشہ بلندی پر پہلے ہی سے موجود ہوتے ہیں اور بلندی پر ہر نئے آنے والوں کو فوراً دبوچ لیتے ہیں، وہ ان کو ایسے ایسے سہانے خواب و سپنے اور طریقے دکھاتے اور بتاتے ہیں کہ پھر ان کو ان کی ایک منٹ کی جدائی بھی برداشت نہیں ہوتی ہے اور یہ عظیم خدمت گار پھر ان سے ایسے ایسے کارنامے سرانجام کرواتے ہیں کہ جنہیں نیچے والے دیکھ دیکھ کر عش عش کر بیٹھتے ہیں اور پھر ان کی اترائی کا سفر ناگزیر ہو جاتاہے ۔

اترائی کے سفر میں آسانی کے لیے وہ ان کو ایسے ایسے راستے اور طریقے بتاتے ہیں کہ جس سے پہلے وہ ان سے کبھی واقف ہی نہیں ہوتے ہیں ۔ اس کے اصل میں دو مفید فائدے ہوتے ہیں ایک تویہ کہ اترنے والوںکو اور آسانی ہوجاتی ہے اور انہیں نیچے دیکھنے کی خواہش بھی جلدی پوری ہوجاتی ہے اور آخر میں سفر کے اختتام پر خدائی خدمت گاروں کی ٹیم خوب داد و تحسین وصول کررہی ہوتی ہے ۔ یہ تو کہانی ہے بلندیوں پر پہنچنے والوں کی ۔

آئیں! اب ان چھوٹے چھوٹے مصنوعی بونے حکمرانوں کی بات کرتے ہیں جو رہتے تو ہیں ہمیشہ زمین پر ہی لیکن انہوں نے اپنی زمینوں ، جاگیروں ، محلات ، فیکٹریوں اور روپوں پیسوں کی وجہ سے اپنے ہی جیسے انسانوں کی زندگیاں حرام کررکھی ہے۔ یہ زمینی مخلوق آپ کو ملک کے ہر شہر ، قصبے ، محلوں، دیہاتوں میں باآسانی گھومتی پھرتی نظر آجائیں گی ۔ جن کا تکبر، غرور ، شان و شوکت بلندیوں پر پہنچنے والوں سے بھی زیادہ ہے ان کی کہانیاں بلندیوں والوں سے زیادہ کراہت انگیز ہیں جن کی حرکات دیکھ کر قارون، سکندر اعظم ، ہٹلر ، میسو لینی، چنگیز خان اپنی اپنی قبروں میں تڑپ تڑپ جاتے ہیں ۔

یاد رہے پہلے یہ مخلوق دنیا بھر میں پائی جاتی تھی لیکن اب یہ پوری دنیا سے ناپید ہوکر صرف اور صرف پاکستان میں پائی جاتی ہے۔ انسانی تاریخ میں یہ بات بار بار ثابت ہوتی آئی ہے کہ انسان دولت کو نہیں کھاتا بلکہ دولت انسان کو کھاجاتی ہے ۔ پوری دنیا سے اس مخلوق کا ناپید ہونا اس لیے ممکن ہواکہ ان کی دولت انہیں کھا گئی۔ جب حضرت عیسیٰ کے شاگردوں نے ان سے پوچھا کہ وہ تبلیغ کرتے وقت تمثیلیں کیوں بیان کرتے ہیں تو انہوں نے جواب دیا ’’ اس لیے کہ آنکھیں رکھتے ہوئے بھی لوگ نہیں دیکھتے ، کان رکھتے ہوئے بھی نہیں سنتے اور عقل رکھتے ہوئے بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے ‘‘ اصل میں سوچ بچار ایک تکلیف دہ عمل ہے ۔

تھامس ایڈیسن نے سر جو شوار نیلڈ کا یہ اقتباس اپنی تجربہ گاہ کی ایک دیوار پر چسپاں کررکھا تھا ’’ ایسا کام کرنے سے ہر شخص گریز کرتا ہے جس میں حقیقی سوچ بچار کو دخل ہو ‘‘ اب دیکھنا صرف یہ باقی ہے کہ ہمارے ملک میں اس مخلوق کو دولت کب کھاتی ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔