پنجاب کے 11 تاریخی مقامات کو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دلوانے کے لئے اقدامات

آصف محمود  منگل 5 جنوری 2021
والڈسٹی آف لاہوراتھارٹی پنجاب میں کئی اہم تاریخی مقامات کی بحالی اور نگرانی کررہی ہے فوٹو: فائل

والڈسٹی آف لاہوراتھارٹی پنجاب میں کئی اہم تاریخی مقامات کی بحالی اور نگرانی کررہی ہے فوٹو: فائل

 لاہور: 2020 کے دوران آثارقدیمہ پنجاب اوروالڈسٹی آف لاہور اتھارٹی نے صوبے میں تاریخی سیاحتی مقامات کی بحالی اورسیاحت کے فروغ کے لئے کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا جب کہ مزید11 تاریخی اورسیاحتی مقامات کو عالمی ثقافتی ورثہ کا درجہ دلوانے کے لئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

پنجاب میں اس وقت 412 تحفظ شدہ تاریخی،مذہبی قدیم مقامات ہیں، ان میں سے 3 سیاحتی مقامات ایسے ہیں جن کو عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل ہیں۔ ان میں شالامارباغ وشاہی قلعہ ، قلعہ روہتاس اور ٹیکسلا کے قدیم کھنڈرات شامل ہیں۔ چارنیشنل مقامات ہیں جبکہ 11 مقامات ایسے ہیں جن کو عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ان میں مقبرہ جہانگیر،مقبرہ آصف جاہ، اکبری سرائے، بادشاہی مسجد، مسجدوزیرخان،دراوڑفورٹ، ہرن مینار،مقبرہ رکن عالم اورہڑپہ کے قدیم آثارشامل ہیں۔ پنجاب مختلف تہذیبوں کے مذہبی اور ثقافتی ورثے کا امین ہے، یہاں ہندو،سکھ اوربدھ ازم کے قدیم آثارموجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے تحفظ شدہ قدیم ورثے میں سے زیادہ ترجائیدادیں نجی ملکیت میں ہیں، سکھوں اورہندوؤں کے مقدس مقامات متروکہ وقف املاک بورڈ، مزارات اورقدیم مساجد پنجاب اوقاف ،شاہی قلعہ اوراندرون شہرمیں موجود تحفظ شدہ عمارتیں والڈسٹی آف لاہور اتھارٹی کے پاس ہیں۔

پنجاب آرکیالوجی کے ڈائریکٹرملک مقصود نے بتایا پنجاب میں سال 2020 کے دوران ویل ڈن پنجاب مہم شروع کی گئی جس کے تحت کئی تاریخی اورسیاحتی مقامات پر بحالی اورآرائش وتزئین مکمل کروائی گئی ان میں ہرن مینار،موسٰی پاک شہید کا مقبرہ،علامہ اقبال میوزیم (جاوید منزل) لاہور کا تحفظ اور اپ گریڈیشن قابل ذکر ہے اسی طرح جومنصوبے زیرتکیمل ہیں ان میں ملتان میں شاہ حسین صدو زئی کے مزار کی تحفظ اور بحالی کا منصوبہ (لاگت 8.338 ملین)، اُچ شریف ضلع بہاولپور میں مقبرہ ابو حنیفہ کی تحفظ ،بحالی (لاگت 7.987 ملین)، نادرہ بیگم کے مقبرے کا تحفظ اور بحالی (لاگت 10.238 ملین)، باغبانی کی تزئین و آرائش، آثار قدیمہ کی یادگاروں کے باغیچوں کی ترقی، لاہور (شالامار باغ ، مقبرہ جہانگیر) وغیرہ (لاگت 210.218 ملین)، لوسر باؤلی،واہ کینٹ ضلع راولپنڈی کے تحفظ اور بحالی لاگت 21.00 ملین روپے، یونیسکوکی سفارشات پرعمل درآمد شالامارباغ کی آرائش وتزئین پی سی ٹو، ملتان میں واقع مزارشاہ علی اکبر کی بحالی اورتحفظ لاگت تقریبا 30 ملین روپے، رحیم یارخان میں چٹی مسجد کی بحالی اورتحفظ لاگت تقریبا29 ملین روپے، پنجاب کےتاریخی مقامات پر یادگاروں پر چراغاں کرنے کےلئے 79.199 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔

پنجاب آرکیالوجی نے صوبے میں جومنصوبے مکمل کیے ہیں ان میں جام پور،ضلع ڈیرہ غازی خان کے قریب ٹیلے دیلو رائے میں آثار قدیمہ کی کھدائی۔ تاریخی یادگاروں پر عوامی سہولیات کی فراہمی،ٹی ڈی سی پی کے اشتراک سے ہیریٹیج سائٹ کے بزنس پلان کی تیاری، ٹیکسلا میں آڈیٹوریم کی تعمیر،ہڑپہ میں آڈیٹوریم کی تعمیر، صوبہ کے 8 کلیدی ثقافتی ورثہ جات کی دستاویزی فلموں کی تیاری، تاریخی ورثہ پر چراغاں، یونیسکو کے اشتراک سے ٹیکسلا میوزیم کے مینجمنٹ پلان کی تیاری، یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل کرنے کےلیے ہڑپہ میں آثار قدیمہ اور میوزیم کے ماسٹر ، مینجمنٹ پلان کی تیاری۔اس کے علاوہ بدھا ٹریل کی تیاری،ٹیکسلا میں میوزیم کی نئی گیلری کا قیام، محکمہ کی ویب سائٹ تیار کی گئی، محکمہ کی فیس بک کا صفحہ قائم کیا گیا، اہم یادگاروں کی جیو ٹیگنگ کی گئی۔لاہور کی یادگاروں پر کتاب کی اشاعت کی گئی۔لاہور کے پوشیدہ تاریخی مقامات کے بارے میں مختصر معلوماتی کتابچہ تیار کیا گیا، ٹی ڈی سی پی کے اشتراک سے شالامار باغ اور جہانگیرمقبرہ میں فوٹو گرافی کا مقابلہ منعقد کیا گیا۔

پنجاب میں اندرون لاہورسمیت کئی اہم تاریخی مقامات کی بحالی اورنگرانی والڈسٹی آف لاہوراتھارٹی کررہی ہے۔ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے 2020 میں سیاحت اور ورثہ کو فروغ دینے کے متعدد قابل ذکر منصوبے شروع کیے، والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نےشاہی گزرگاہ پیکج فور کے کام کا آغاز کیاگیا،اس منصوبے کے تحت تقریبا22 گلیوں،بازار، تقریبا 150 عمارتوں اور سنہری مسجد کی مرمت وبحالی کی جائے گی اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ بجلی کے نظام کو انڈر گراؤنڈ کیا جائے گا۔اس پراجیکٹ پرتقریبا300 ملین روپے کی لاگت آئے گی۔ منصوبہ میں شامل تاریخی سنہری مسجد کی مرمت و بحالی پر 20 ملین لاگت آئے گی۔ بحالی کا کام آئندہ ڈیڑھ سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔اس سے پہلے دہلی دروازے سے چوک پرانی کوتوالی تک مرمت و بحالی کا کام ہو چکا ہے۔ یہ منصوبہ 18 ماہ کی مدت میں مارچ 2022 تک مکمل ہوگا.

اسی طرح والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی اور آغا خان کلچرک سروس پاکستان چوک وزیر خان میں تاریخی گھروں اور عمارتوں کی مرمت اور بحالی کا کام کر رہی ہے۔اس منصوبے کو تاریخی لحاظ سے محفوظ کرنے میں حکومت پنجاب اور امریکن سفارتخانہ کی مالی معاونت شامل ہے۔ شاہی قلعہ لاہور میں موتی مسجد، مکاتب خانہ، دیوان عام، دیوان خاص، کالا برج ، لال برج اور اکبری حمام کی بحالی کا کام جاری ہے۔ان تاریخی مقامات کو بحالی کے بعد سیاحوں کے لئے کھول دیا جائے گا۔ اسی طرح دیوار مصوری شاہی قلعہ کے شمالی حصہ ، شیش محل اور نو لکھا پویلین کی تحفظ و بحالی کا کام آغا خان کلچرل سپورٹ پاکستان کے تعاون کے ساتھ جاری ہے۔اس منصوبے پر 964 ملین روپے کی لاگت آئے گی۔

والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی اور فرنچ ڈیویلیپمنٹ ایجنسی نے شاہی قلعہ کے اطراف میں بفرزون بنانے کا کامیاب منصوبہ بنایا جس میں 320 دکانوں کو ہٹایا گیا بشمول رم مارکیٹ اور مریم زمانی مسجد کے اردگرد تمام تجاوزات کو ہٹایا گیا۔ اس منصوبے پر 1183 ملین روپے کی لاگت آئے گی۔مریم زمانی مسجد منصوبے کی بحالی پر 12ملین روپے کی لاگت آئے گی۔ کیتھڈرل چرچ منصوبے کی بحالی پر 30 ملین روپے کی لاگت آئے گی۔ سینٹ انتھونی چرچ منصوبے کی بحالی پر 22 ملین روپے کی لاگت آئے گی، میر چاکر رند کے مزار جو ست گڑہ کے مقام پر( اوکاڑہ) واقع ہے۔ اس منصوبے کی بحالی پر 114 ملین روپے کی لاگت آئے گی۔ ڈی سی آفس سرگودھا کی بحالی اور مرمت کا کام جاری ہے۔ اس منصوبے کی بحالی پر 129.23 ملین روپے کی لاگت آئے گی اور مشہور لال قلعہ مظفر آباد آزاد کشمیر کے تحفظ و بحالی کے منصوبے کا آغاز کیا۔ اس منصوبے کی بحالی پر 124ملین روپے کی لاگت آئے گی۔

والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے کامیابی کے ساتھ سندیمان قلعہ ژوب (بلوچستان) اور علی مردان کی حویلی (پشاور) کے تحفظ و بحالی کا منصوبہ مکمل کیا۔ والڈ سٹی آف لاہور اتھارٹی نے انسٹیٹیوٹ آف آرٹس اینڈ کلچر، شعبہ آرکیالوجی پنجاب یونیورسٹی، فقیر خانہ میوزیم، الحمرا آرٹس کونسل لاہور، یونائیٹڈ آرٹ پرنٹر، گروپ ملٹی پل اور آغا خان کلچرل سپورٹ پروگرام کے اشتراک سے نیشنل ہیریٹیج اینڈ ٹورزم ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔