اسپیس ایکس کا ڈریگون خلائی جہاز

ناصر ذوالفقار  اتوار 10 جنوری 2021
خلابازی کی تاریخ میں نئی جہتوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ فوٹو: فائل

خلابازی کی تاریخ میں نئی جہتوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ فوٹو: فائل

پچھلے سالوں کے اعلانات کے مطابق سال 2020 ء کو نہایت مصروف اور اہم ترین پیش قدمیوں کا سال قرار دیا گیا تھا جس میں خلاء میں انسان برادر خلائی پروازوں کو زمین سے آگے چاند اور مریخ تک لے کر جانا ہے، لیکن بدقسمتی سے صدی کی عالمی وباء کورونا کے خطرات دنیا کے سروں پر منڈلاتے رہے ہیں۔

تمام معاشی واقتصادی سرگرمیوں پر جمود آگیا اور یہ سال مالی طور پر نہایت گھٹن اور آزمائشی رہا، اس کے باوجود خلائی تحقیق کے حوالے سے کام جاری رہا اور بڑی کام یابیاں حاصل کی گئیں۔ اسی سال خلاباز خلائی اسٹیشن سے خلاء میں رہنے کے کئی ریکارڈ بنا کر لوٹے ہیں جن میں خلاء میں سب سے زیادہ قیام کرنے والی خاتون کرسٹینا کوچ کی ساتھی جسیکا مئیر بھی جو کہ سات ماہ خلاء میں رہ کر اپریل 2020 ء میں واپس لوٹی ہیں۔ دونوں خاتون خلابازوں نے پچھلے سال مل کر خلائی چہل قدمیاں کی تھیں اس مشن کو تمام تر خواتین عملے نے کنٹرول کیا تھا۔

جسیکا میئر کے ساتھ ان کے ساتھی خلاباز اینڈریو مورگن اور روسی خلاباز اسکریپوچکا ہیں جو طویل عرصے خلاء میں بسر کرکے آئے ہیں۔ اسی سال چینی کا مون مشن کام یاب ہوا جب خلائی گاڑی ’’چانگ ۔E5 ‘‘ چاند کی مٹی کے نمونے لے کر واپس زمین پر لوٹ آئی اور اب چین روس، امریکا کے بعد دنیا کا تیسرا ملک بن گیا ہے جس نے چاند پر اپنا مشن اتار اور وہاں سے نمونے حاصل کیے۔

جاپانیوں نے اپنے خلائی جہاز Haybusa2 کے ذریعے ایک ِاسٹرائیڈ (سیارچے) ’’رائیگور‘‘ پر تحقیقات کیں اور وہاں سے مٹی کے نمونے وصول کیے، اسٹرائیڈ ایسے چھوٹے سیاروں جیسی اجسام ہیں جو کہ سیارہ مریخ اور مشتری کے درمیان بکثرت پائے جاتے ہیں اور یہ سورج کے اطراف حرکت پذیر ہیں۔ دسمبر میں روس نے طویل وقفے کے بعد اپنے نئے طاقت ور راکٹ ’’انگارا‘‘ کا تجربہ کیا جب کہ انڈیا نے بھی اپنے راکٹ PSLV-XL کو کام یابی سے داغا، جس نے ایک مواصلاتی سیٹلائیٹ CMS-01 کو مدار میں پہنچایا اور اسے بھی انڈیا میں بنایا گیا ہے۔

گذشتہ سال کی سب سے اہم پیش رفعت امریکا کی جانب سے ہوئی۔ امریکا کی پرائیویٹ خلائی کمپنی کی جانب سے انسانوں کو خلاء میں کام یابی سے بھیجا گیا اور پھر واپس زمین پر لایا گیا۔ اس سلسلے میں اب تک دو خلائی مہمات، اسپیس ایکس مشن ڈریگن کریو۔ون ڈیمو 2 اور ڈریگن کریو ۔1 ہیں ۔’’ڈریگن کریو۔1‘‘ ناسا۔ امریکا اور دنیا کی پہلی سرکاری تجارتی انسانی پرواز ہے جس میں بیک وقت چار خلابازوں کو خلائی اسٹیشن آئی ایس آئی پہنچایا جاچکا ہے، جو ایک مدت تک خلائی اسٹیشن پر قیام جاری رکھیں گے۔

اسی سال اسپیس ایکس کے طاقت ور راکٹ کی سیریز ’’اسٹار شپ SN8 ‘‘ کا تجربہ بھی کیا گیا یہ ایک ہائی الٹی ٹیوٹ (اونچی مداواری) پرواز تھی۔ چمک دار چاندی جیسے راکٹ اسٹار شپ سے بڑی امیدیں وابستہ کی جارہی ہیں۔ یہ راکٹ آنے والے دنوں میں انسانوں کو چاند اور مریخ تک پہنچائیں گے۔ راکٹ نے8 کلومیٹرز تک کام یابی سے پرواز کی اور عین راکٹ کی واپسی کی لینڈنگ کے وقت آگ بڑھ جانے کی وجہ سے تباہ ہوگیا۔ اس 200 ملین ڈالر کے منصوبے پر بڑے نقصان کے باوجود کمپنی اسے کام یاب ٹیسٹ قرار دے رہی ہے۔

اسپیس ایکس نامی خلائی فرم اب ایک سب سے بڑی پرائیویٹ خلائی کمپنی بن چکی ہے۔ اس کے مالک دنیا کے دوسرے امیرترین شخص ایلون مسک ہیں جو کہ امریکی ہیں۔ ایلون مسک انٹر نیٹ کی تیزترین دست یابی اور پھیلاؤ کے لیے سیٹلائٹس کے عظیم منصوبے ’’اسٹارلنک‘‘ پر بھی کام کررہے ہیں۔ انہوں نے اپنے راکٹ فیلکن ۔9 کی مدد سے اب تک 60 سے زیادہ انٹرلنک مصنوعی سیّارچوں کو زمینی مدار میں پہنچادیا ہے اور منصوبے کے مطابق مسک ان مصنوعی سیارچوں کے بیڑے میں 30 ہزار تک کا اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔

ابتدائی طور ان سیارچوں نے امریکا میں تیزترین انٹرنیٹ سروس شروع کردی ہے جس کے نتائج حوصلہ افزاء ہیں اور ابھی امریکیوں کے لیے فی ماہانہ 99 ڈالرز میں یہ سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ ایلون مسک کی کمپنی ’’اسپیس ایکس‘‘ نے اپنی دوبارہ راکٹ لاؤنچنگ کا آغاز جنوری 2017 ء سے کیا جب فیلکن ۔9 راکٹ کیلی فورینا کے ساحلی علاقے میں موجود ’’وینڈن برگ‘‘ ایئرفورس بیس سے کام یابی سے روانہ کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے 2016 ء میں امریکی ریاست کیلی فورینا میں کینڈی خلائی مرکز سے راکٹ فائر کے وقت دھماکے سے پھٹ پڑا تھا جب نئے راکٹ کی لاؤنچنگ کی جارہی تھی۔

اسپیس ایکس نے اپنے متواتر تجربات کے صلے میں راکٹ کے دوبارہ استعمال کو ممکن بنادیا ہے اور اسپیس ایکس کے علاوہ اس کی دوسری مدمقابل خلائی فرمیں خلائی سفر کے نئے ’سیاحتی خلاء‘‘ کے دور کی شروعات کرنے جارہے ہیں، ان میں نمایاں ترین وَرجن گیلیکٹک (vergin Galelectic) اور  بلیواُوریجن(Blue Origin)  ہیں۔

انہیں خلائی صنعت میں انسانی پرواز کے دوسرے بڑے سنگ ِمیل کہا جارہا ہے۔ حال ہی میں بلیواوریجن کے سربراہ جیف بیزوز کے ساتھ ناسا کا معاہد ہ طے پاگیا ہے جس کے تحت ان کے 301 فٹ اونچے راکٹ ’’Glenn ‘‘ کو ناسا میں خلائی سفر کے لیے شروع کیا جائے گا، جس کا آغاز  2025ء سے ہوگا۔ اب فیلکن۔9 راکٹوں کے ذریعے سیٹلائیٹس کی لاؤنچنگ کے علاوہ خلائی اسٹیشن کے عملے کے لیے سازوسامان پہنچایا جارہا ہے۔ ان راکٹوں کی سب سے بڑی افادیت یہ ہے کہ انہیں کئی بار استعمال کیا جاسکتا ہے اور خلاء کی دسترس کے لیے راکٹ سازی کی صنعت میں تجارتی مقابلہ آرائی کی دوڑ بھی شروع ہوچکی ہے۔

ان راکٹوں کا پہلا مرحلہ یا اسٹیج بقیہ حصے سے الگ ہوکر سمند رکی جانب بڑھتا ہے اور وہاں پر بحری جہاز پر کام یابی سے لینڈ کرتا ہے۔ اس طرح راکٹ کا واپس اپنے مطلوبہ پیڈ پر واپس اترنا یقینی طور پر خلائی سائنس میں اہم کارنامہ ہے اور راکٹ کی صنعت میں انقلابی قدم ہے۔ راکٹ کا دوسر مرحلہ اپنے وزن یا سامان (پے لوڈ) کو لے کر زمینی مدار میں چلاجاتا ہے۔ کُل چار بار ایک ہی راکٹ کو متواتر استعمال میں لایا جارہا ہے جو کہ خلائی سفر میں بڑی پیش رفعت کی شروعات ہیں۔ اسپیس ایکس اور امریکی خلائی ادارے ناسا کے مابین ابتدائی معاہدہ کے وقت ناسا نے کمپنی سے کہا تھا کہ وہ آپریشنل خلائی سواری فراہم کرے گی جس کے ذریعے خلاباز 2017 ء میں پرواز کرسکیں گے لیکن بدقسمتی سے یہ منصوبہ تین سال کی تاخیر سے روبہ عمل ہوا ہے۔

جب مارچ 2020 ء میں اسپیس ایکس کریوڈریگن۔ ڈیمو 2 کی کامیاب ٹیسٹ پرواز کی گئی اور بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (ISS) تک رسائی ممکن ہوئی۔ گذشتہ سال 30 ستمبر کو اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے سی این این کو بتایا تھا کہ جلد ہی خلائی جہاز خلائی مسافروں کو خلاء میں تین سے چار ماہ تک رہنے کے لیے ڈریگن کریو ۔1 تیار ہوجائے گا لیکن اس وقت ناسا ایڈمنسٹریٹر جم بریڈ ائن اس بات پر قائل نہ تھے۔30 سال تک چلنے والی خلائی شٹل سروس (1981-2011) کا نو سال پہلے اختتام ہوچکا ہے جس کے بعد امریکا کا سارے کا سارا انحصار روس کے خلائی جہاز سویوز پر رہا ہے۔

اسی لیے حالیہ خلائی جہاز ڈریگن کی کام یاب انسانی خلائی پروازوں نے اب امریکا کو پھر سے خلائی سفر میں خودکفالت کی جانب گام زن کردیا ہے۔ روسی اپنے جہاز میں ایک نشست کے مشن کی سواری کے لیے ناسا سے 85 ملین ڈالر سے زائد وصول کرتے رہے ہیں لیکن اب گول چھوٹی بوتل کی مانند فلیٹ ڈریگن کیپسول کو بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاسکے گا جب کہ اسے خلائی شٹل سروس کے مقابلے بہت کم خرچ اور دیرپا بتایا جارہا ہے۔

اسپیس ایکس کا غیرانسانی خلائی مشن ڈریگن کریو ٹیسٹ پرواز پر 2019 ء میں بھیجا گیا تھا جس نے خلائی اسٹیشن پر ڈوکنگ (ملاپ) کے بعد پڑاؤ کیا اور ایک ہفتے تک وہاں رہا۔ اس کی کام یابی سے ناسا کو امید ہوچلی تھی کہ انسانی خلائی پرواز کے لیے کچھ ماہ کے لیے اسے بڑھایا جاسکتا ہے۔

واپسی کے ڈریگن کو ’’اینڈریو‘‘ کہتے ہیں، اس وقت اینڈریو کے بجلی پید ا کرنے والے شمسی پینلز(Solar Panels) نے بجلی پید ا کرنے کی مقدار کم کردی تھی جو کہ انجنیئرز کے لیے ایک متوقع عمل تھا، لیکن اب اسے بجلی کے نظام کو اپ گریڈ کردیا گیا ہے اور یہ ڈریگن اینڈرو 114 دنوں سے زائد خلائی اسٹیشن پر بسیرا کرسکتا ہے۔ 2010 ء میں ناسا نے اپنے تجارتی پرائیویٹ پارٹنرز کے ساتھ پروگرام کا آغاز کیا تھا جس میں کئی ملین ڈالر کے معاہدے چاند و مریخ کی مہمات کے لیے تھے لیکن اس میں پیش رفعت سست رفتاری سے ہوئی اور اس کے منصوبے بڑی تاخیر کا شکار ہوئے۔

چناںچہ اب یہ پروازیں 2021 ء میں بھی ممکن ہوتی نظر نہیں آتیں، لیکن حالیہ ڈریگن جہاز کی کام یابی نے امید کی نئی روشنی ضرور پید ا کردی ہے اور ثابت ہوا ہے کہ مطلوبہ جاری تجارتی عملے کا ماڈل اپنی جگہ ایک درست آئیڈیا ہے۔ ڈریگن کریو ڈیمو۔ 2 کے خلابازوں نے 30 مئی 2020 ء کو نئی تاریخ رقم کردی، جب امریکی خلاباز رابرٹ بینکن اور ڈگلس ہرلی نے امریکی تجارتی بنیاد پر تعمیر کیے گئے خلائی جہاز سے بین الاقوامی اسٹیشن تک پرواز کی۔ یہ اسپیس ایکس ڈریگن جہاز تھا جسے فلوریڈا میں ناسا کے خلائی مرکز روانہ کیا گیا جب فیلکن۔9 راکٹ کی مدد سے فائر کیا گیا۔

راکٹ کے فائر ہونے کے محض بارہ منٹس میں وہ خلاء کی دستر س میں داخل ہوچکا تھا۔31 مئی کو جہاز کے خلابازوں نے خلائی اسٹیشن سے ملاپ کردیا۔ اس پہلے کمرشیل انسانی بردار خلائی جہاز ڈریگن کو پائلیٹ ڈگلس ہرلی چلارہے تھے جنہوں نے آخری خلائی جہاز اسپیس شٹل اٹلانٹس کو 8 جولائی 2011 ء کواڑ اور اس کے اختتام کو پایۂ تکمیل پہنچایا تھا۔ خلابازوں کی زمین پر واپسی اسپلیش ڈاؤن کے ذریعے ہوئی جس میں پیرا شوٹس چھتریوں کی مدد سے انہیں سمندر میں اتارا جاتا ہے۔

آخری فلیش ڈاؤن پچاس برس پہلے ہوا تھا جب اپالو خلائی جہاز کے خلاباز باز مشن کی تکمیل پر واپس لوٹے تھے۔ ڈریگن کے خلابازوں نے اسٹیشن پر رہ کر ایک ماہ گزارا اور وہاں تحقیقی کاموں میں حصہ لینے کے علاوہ خلائی چہل قدمیاں بھی کی گئیں۔ یاد رہے کہ ماضی میں خلائی شٹل کی زمین پر واپسی ایک عام طیارے جیسی لینڈگ کی طرح ہوتی رہی تھی۔

خلائی اسٹیشن ISI : زمین کے مدار میں 1998 ء سے گردش پذیر بین الاقوامی خلائی اسٹیشن ISS کے قیام کو 20 برس مکمل ہوگئے ہیں جب کہ اس کی آفیشلی زندگی کی میعاد جون 2011 ء تھی جسے اب اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ ہیوی اسٹیشن کو خلاء میں ٹکڑوں کی شکل میں جوڑ کر اسمبلڈ کیا گیا ہے۔

اس کی امریکا و روس نے سب سے زیادہ مالی معاونت کی ہے۔ اس پر کل لاگت کا تخمینہ 150 ملین ڈالر کے لگ بھگ ہے۔ اس کی رفتار 28,000 ہزار کلومیٹر / فی گھنٹہ ہے اور زمین کے اطراف اس کا گردشی چکر 90 منٹس میں پورا ہوتا ہے۔ اسٹیشن کی چوڑائی 109 میٹر، لمبائی 73 میٹر جب کہ اونچائی 20 میٹر ہے۔

اسٹیشن کا مجموعی وزن 450 کلوگرام ہے اور یہ زمین سے 400 کلومیٹر کی دوری پر محوگردش ہے۔ خلائی اسٹیشن پر 20 سالوں میں 60 سے زائد تجربات کیے جاچکے ہیں جن میں خلاء میں طویل عرصے رہنے پر جسمانی اثرات کا مطالعہ، پودوں اور انسانی صحت کا مطالعہ اہم ترین رہا ہے۔ ان تجربات کو ایکسپیڈیشن کا نام دیا گیا ہے۔ حالیہ آئی ایس آئی پر سا ت خلابازوں کی ٹیم ایکسپیڈیشن۔64 کے عملے میں شامل ہے اور سائنسی وتیکنیکی تجربات میں مصروف ہے۔

خلائی اسٹیشن کے عملے کے ارکان نے لیبارٹری کے اندرجات اور اسمبلی وغیرہ کو درست و بحال رکھنے کے لیے اب تک 228 سے زائد چہل قدمیاں کی ہیں۔ اسٹیشن کے باہر خلاء کی سرگرمیوں کو ایکسٹر ویکلولر ایکویٹی(EVA) کیا جاتا ہے۔ اس طرح اسٹیشن سے باہر نکل کر کام کرنا خلائی چہل قدمی کہلاتا ہے۔ اسٹیشن سے باہر رہ کر خلائی چہل قدمیاں کر تے ہوئے خلابازوں نے کل 59 دن ، 18 گھنٹے اور 33 منٹس کاموں میں صرف کیے۔

ناسا کا پہلا آفیشلی کمرشل انسان برادر پرواز کا خلائی مشن:

خلائی جہاز ڈریگون کریو۔ 1 مشن ناسا کا پہلا باقاعدہ آفیشلی تجارتی مشن ہے جس میں پرائیویٹ کمپنی اسپیس ایکس کی مدد سے چار خلابازوں کو خلائی اسٹیشن پہنچایا گیا۔ یہ امریکا کی خلائی میں آمدورفت کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ چاروں خلاباز مائیکل ہاپکنز، وکٹر گلوور، شینن واکر اور جاپانی خلاباز میوسی نوکوچی ڈریگن کریو ۔ ون سے اسٹیشن پہنچے ہیں۔ اس جہاز کو راکٹ فیلکن۔9 کی مدد سے مدار میں پہنچایا گیا ہے۔ ان چاروں خلابازوں کی نئی ٹیم نے ڈریگن جہاز پر اپنے پورے اعتماد کا اظہار کردیا ہے اور انہیں اس خلائی سواری سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ ہوگئی ہیں۔

وہ اسے ’’لچک‘‘ کا نام دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسی لیے ہم جب مل کر کام کریں گے تو اس کی کوئی حد نہ ہوگی کہ ہم کچھ حاصل نہیں کرسکتے !۔ اسپیس ایکس کا خلائی جہاز ڈریگن کریو۔ ون 14 نومبر 2020 ء کی صبح سویرے 7:49 پر مشن کے لیے روانہ ہوا تھا جس میں سوار خلاء باز اسٹیشن پر آنے والے موسم بہار تک قیام کریں گے۔ ان کا دورانیہ 180 دن یعنی چھ ماہ ہے۔ دونوں خلابازوں ہاپکنز اور گلوور کو ڈریگن کریو۔ون مشن کے لیے 2018 ء میں منتخب کیا گیا تھا اسطرح مشن کے ساتھ ہی اسپیس ایکس کی اگلی نسل کی انسانی برادر خلائی جہازوں سے متعلق عمل و تربیت کا آغاز ہوچکا ہے اور اسپیس ایکس پرائیویٹ طور پر ناسا کے عملے کی معاونت میں خلاء میں نقل وحمل کے نظام کی بہتری اور ترقی کے کوشاں ہیں اور امداد فراہم کر رہی ہے۔

ایلون مسک حالیہ بڑے نقصان کے دوسرے ہفتے میں ہی ایک بڑی فتح سے ہمکنار بھی ہوچکے ہیں جب 19 دسمبر 2020 ء کی صبح اسپیس ایکس کی جانب سے فیلکن 9راکٹ نے کامی ابی سے پرواز کی اور خفیہ پے لوڈ کو خلاء کے سپرد کردیا۔ یہ قومی سلامتی آفس کے خفیہ پے لوڈ(Launch National Reconnaissance Office secret Payload) کے لیے تھا جس کا نام LNRO-108 ہے۔ اس کے بارے میں خیال ہے کہ یہ جاسوسی سیٹلائٹ ہے۔

اسپیس ایکس کمپنی کی پانچ برس پہلے شروع کی گئی لاؤنچنگ سے اب تک یہ سترھویں (70) کام یاب ریکوری ہے جس میں راکٹ کے پہلے مرحلے کے بوسٹروں کو واپس حاصل کرلیا گیا تھا۔ اس راکٹ کو چار بار استعمال ہونے والے بوسٹر B1O59 سے اڑایا گیا تھا اور اس بوسٹر کو کیپ کنارول پر کام یابی سے اتارا گیا جب اس کی فنٹاسٹک لینڈنگ ہوئی۔ اسپیس ایکس کی 2020 لاؤنچنگ میں سے یہ 111 وان نمبر تھا۔n

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔