دن، مہینا، سال، صدی

سہیل احمد صدیقی  اتوار 10 جنوری 2021
چند دن میں یا دو چار دن میں یا فقط دو دن میں کچھ کا کچھ ہوجانا بھی ہماری بامحاورہ زبان میں مشہور ہے۔

چند دن میں یا دو چار دن میں یا فقط دو دن میں کچھ کا کچھ ہوجانا بھی ہماری بامحاورہ زبان میں مشہور ہے۔

زباں فہمی نمبر79
(پہلا حصہ)

کائنات کی ابتداء سے حضرت انسان کا جس قدر تعلق وقت سے ہے، اتنا شاید کسی اور قدرتی شئے یا عنصر سے نہیں۔ انسان نے ابتدائے آفرینش سے اپنے معمولات کو کسی نہ کسی طرح اپنی یادداشت اور زندگی میں نظم وترتیب کے لیے، وقت کا پابند کرنے کی کوشش کی۔ شاید یہ آسان نکتہ بہت سے خواندہ افراد کے لیے عجیب ہو۔

ممکن ہے، بہت سے لوگ یہ کہیں کہ صاحب! جب گھڑی ہی ایجاد نہیں ہوئی تھی تو انسان کو وقت کا کیسے علم ہوا کرتا تھا۔ بات یہ ہے کہ سائنسی نظریات خواہ کچھ بھی ہوں، یہ نکتہ یاد رکھنا چاہیے کہ زمانہ ماقبل تاریخ (یعنی باقاعدہ تاریخ نویسی سے قبل کے دور) میں انسان اور انسانی زندگی کے متعلق جو کچھ ، جتنا بھی محفوظ ہوسکا اور آج ہمارے سامنے ہے، مذہبی کتب، صحائف اور لوک ادب کا مرہون منت ہے۔ آپ اس فہرست میں، زمانے کے فرق سے، اس مواد کا اضافہ بھی کرسکتے ہیں جو اہل تصوف یا کسی بھی قوم میں موجود روحانی لوگوں نے سینہ بہ سینہ منتقل کیا۔

اسی علم کے طفیل ہمیں یہ معلوم ہوا کہ انسان شروع سے دن رات، صبح وشام میں، اندازے سے تمیز کرلیا کرتا تھا۔ اسے یہ معلوم تھا کہ فُلاں کام روشنی میں ہوگا، فُلاں نہیں ہوگا۔ مثال کے طور پر وہ جانور شکار کرنے کے لیے، عموماً رات کے سناٹے میں گھر سے یا اپنی آماج گاہ سے باہر نہیں نکلتا تھا۔ دینی اعتبار سے دیکھیں تو پتا چلے گا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے حین حیات ایک شریعت نافذ کی تو اس میں عبادت یقیناً شامل تھی اور عبادت کے لیے وقت بھی مقرر تھا۔ ایسا نہیں ہے کہ جب جی چاہا، اپنے رب کی باقاعدہ عبادت (مثلاً نماز) کو کھڑے ہوگئے اور ادا کرلی۔
گھڑیوں کی ایجاد کی کہانی بہت دل چسپ ہے۔ یہاں بس اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ جب ہم ’’سورج گھڑی‘‘[Sundail] اور ’’ریت گھڑی‘‘[ Hourglass, sandglass, sand timer, sand clock or egg timer]کے نمونے دیکھتے ہیں تو عہدقدیم کے انسان کی ذہانت کی داد دیے بغیر نہیں رہتے۔ آپ نے کبھی غور کیا کہ یہ دوپہر کیا ہے، سپہر (سہ پہر) کیا ہے، رات کا پچھلا پہر کیا ہے؟ دراصل دن اور رات کے اوقات کو آٹھ پہروں میں تقسیم کیا گیا اور یہ عالمی سطح پر مُسَلّم حقیقت ہے۔

دن کی تقسیم آٹھ پہروں میں کب ہوئی، اس بابت کچھ کہنا یقیناً محال ہے، مگر یہ بات تو بالکل سامنے کی ہے کہ ازمنہ قدیم سے دن کے چار اور رات کے چار پہر مانے جاتے ہیں۔ (ازمنہ، زمانے کی جمع)۔ پہلا پہر طلوع آفتاب سے (موسم کے فرق سے قطع نظر صبح چھَے بجے) شروع ہوکر نو بجے ختم ہوتا ہے تو دوپہر یعنی دوسرا پہر شروع ہوجاتا ہے جو تین گھنٹے تک جاری رہتا ہے اور بارہ بجے مکمل ہوتا ہے۔ پھر تیسرا یعنی سہ پہر (مختصراً سپہر ) اور اس کے بعد دیگر۔ یہ ساری وضاحت، اپنی زبان وتہذیب سے بالکل نابلد لوگو ں کے لیے ہے۔

اسی ترتیب سے دن کے پورے چوبیس گھنٹے کے آٹھوں پہر اگلی صبح تک پورے ہوجاتے ہیں۔ یہ ہے وقت جو کائنات کی ابتداء سے موجود ہے۔ یہاں رک کر یہ بات بھی یاد رکھیں کہ ہماری آخری مقدس، الہامی کتاب، قرآن مجید فرقان حمید میں بھی دن کا ذکر بہت واضح ہے۔ رب ذوالجلال نے بتایا ہے کہ یہ کائنات اُس نے سات دن میں تخلیق فرمائی۔ (حالانکہ اُس کے لیے کوئی مسئلہ نہ تھا کہ فقط اشارے سے ہی تخلیق کردیتا)۔ کیا وجہ ہے کہ اُس نے سا ت دن صَرف فرمائے؟ سیدھی سی بات ہے کہ خالق کائنات نے ایک نظام بنادیا۔ کوئی کام بغیر ترتیب، بغیر کسی متعین وقت کے، اچانک ، بلاسبب نہیں ہوتا۔ کسی شئے کا اچانک ظہورپذیر ہونا درحقیقت اس کے سبب وقوع یا سبب تخلیق کے خفیہ / پوشیدہ رہنے کی بِناء پر ہوتا ہے۔ (بناء: وجہ، بنیاد عربی ہے، بِنا: بغیر ۔ ہندی ہے)۔

یہاں وقت کے ایک انوکھے مظہر کی طرف اشارہ کرتا چلوں۔ یہ بظاہر خود رَو [Self-growing] پودے کیسے اُگتے ہیں؟ ان کی کاشت کوئی انسانی ہاتھ نہیں کرتا، مگر دست قدرت کی صناعی کا ایک ادنیٰ ثبوت ہے کہ تمام مراحل چُپ چاپ طے ہوجاتے ہیں اور ہمیں لگتا ہے کہ فُلاں پودہ یا گھاس ازخود اُگ آئی ہے۔ شاعر تو یہاں بھی اپنی طبع آزمائی سے باز نہیں آتا۔ وہ یاد کیجئے: سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملی/بن گیا رُوئے آب پر کائی۔ قصہ ہابیل وقابیل میں بھی کسی نہ کسی طرح وقت کا عنصر مذکور ہے۔

دن کا پہلا پہر بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ پچھلا یعنی آخری۔ تین تین گھنٹے کے آٹھ پہر ہوتے ہیں اور ہماری پیاری زبان میں اس کا حُسن استعمال کچھ یوں ہوتا ہے: کسی کی یاد میں آٹھوں پہر رونا۔ اب آپ کہیں گے ہنسنا کیوں نہیں؟ تو جناب بات یہ ہے کہ ہم یادماضی سے حَظ اٹھاتے ہیں، لطف اندوز ہوتے ہیں تو مسکراتے ہیں، مگر ایسا شاذہی ہوتا ہے کہ ہم ہنسیں اور دیر تک ہنستے رہیں۔ یہ اور بات کہ کبھی ہم ہنستے ہنستے روپڑتے ہیں اور پھر ہمیں یہ احساس ہوتا ہے کہ جو لمحہ بیت گیا، سو بیت گیا، واپس نہیں آئے گا۔ آج کل کی چالو بولی میں، زندگی میں کوئی Action replay نہیں۔ یاد کسی شخص کی ہو یا واقعے کی یا کسی بات کی، خواہ اپنی ہو یا کسی اور کی، وہ اکثر اس سوچ کے ساتھ ہمارے ذہن کے دریچوں سے گویا دَرآتی ہے کہ آہ! کاش پھر ایسا ہوجائے، وہ وقت لوٹ آئے، وہ شخص دوبارہ مل جائے۔

وہ سماں لوٹ آئے، ہم پھر سے یکجا ہوں اور وہی سماں ہو، وہی وقت ہووغیرہ۔ دن کی ابتداء طلوع آفتاب سے ہوتی ہے اور اس موضوع پر بے شمار اشعار ہماری پیاری زبان میں موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ میر انیس ؔنے اپنے ایک مرثیے میں صبح کے حسین منظر کی جو عکاسی کی ہے، شاید اس سے بہتر ہماری شاعری میں کوئی نہ کرسکا۔ ہوسکتا ہے یہ رائے کسی بھی بنیاد پر غلط ہو، بہرحال وہ منظرکشی اپنی جگہ بہت دل کش ہے: طائر ہَوا میں مَست، ہَرن سبزہ زار میں /جنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں۔ انھی نے یہ منفرد شعر بھی کہا تھا: کھا کھا کے اوس اور بھی سبزہ ہَرا ہوا/ تھا موتیوں سے دامن ِصحرا بھرا ہوا۔

مزید ملاحظہ فرمائیں: وہ صبح اور وہ چھاؤں ستاروں کی اور وہ نور/ دیکھے تو غش کرے ارنی گوئے اوجِ طور/ ہیرے خجل تھے، گوہرِ یکتا نثار تھے/ پتے بھی ہر شجر کے جواہر نگار تھے/ گلشن خجل تھے وادی مینو اساس سے/ جنگل تھا سب بسا ہوا پھولوں کی باس سے/ ٹھنڈی ہوا میں سبزہ صحرا کی وہ لہک/ شرمائے جس سے اطلسِ زنگاری فلک/ وہ دشت و نسیم کے جھونکے وہ سبزہ زار/ پھولوں پہ جابجا وہ گہر ہائے آبدار/ خواہاں تھے نخلِ گلشنِ زہرا جو آب کے/ شبنم نے بھردیئے تھے۔

کٹورے گلاب کے۔جوشؔ ملیح آبادی کی شاعری میں بھی صبح کے متعلق بہت منفرد شعر ملتا ہے: ہم ایسے اہل نظر کو ثبوت ِ حق کے لیے/ اگر رسول نہ ہوتے تو صبح کافی تھی۔ صبح کا استعمال آخری مغل تاجداروں میں شامل، شاہ عالم ثانی آفتابؔ نے اپنے ہی انداز میں ایسا کیا کہ اس موضوع پر (یعنی ہمہ وقت عیش کوشی) اُن کے جد امجد ظہیرالدین میرزا محمد بابُرؔ کے مشہور زمانہ فارسی مصرع (بابُربہ عیش کوش کہ عالَم دوبارہ نیست) سے بھی زیادہ مشہور ہوگیا: صبح اُٹھ، جام سے گزرتی ہے/ شب دلارام سے گزرتی ہے/ عاقبت کی خبر خدا جانے/ اب تو آرام سے گزرتی ہے۔

{بابُرؔ نے تو مئے نوشی سے توبہ کرلی تھی، مگر شاہ عالم ثانی کی توبہ میرے علم میں نہیں۔ اُن کا انجام بہت برا ہوا تھا۔ دلارام یا د ل آرام اُن کی منظور نظر کنیز تھی}۔ جلال ؔلکھنوی نے عیش وعشرت کے موضوع پر یہ بے نظیر شعر کہا تھا: شب کو مئے خوب سی پی، صبح کو توبہ کرلی/ رِند کے رِند رہے، ہاتھ سے جنت نہ گئی۔ دوسری طرف حکیم آغاجان عیش ؔکا یہ شعر دنیا اور زندگی کی بے ثباتی پر دال ہے: اے شمع! صبح ہوتی ہے، روتی ہے کس لیے/ تھوڑی سی رہ گئی ہے، اِسے بھی گزاردے۔ (دال: دلیل، ثبوت)۔

یہاں استاد ذوقؔ کا شعر بالکل مقابل اور گویا نعم البدل ہے: اے شمع، تیری عمر ِطبیعی ہے ایک رات / ہنس کر گزار۔ یا۔ اِسے روکر گزاردے {عموماً ہمارے یہاں ’طبیعی‘ کو ’طبعی‘ کہہ کر معانی بدل دیتے ہیں جیسے طبعی موت بجائے طبیعی موت}۔ اردو کے ضرب المثل اشعار میں اس شعر کا اپنا مقام ہے: جوانی سے زیادہ وقتِ پیری جوش ہوتا ہے / بھڑکتا ہے چراغ ِصبح جب خاموش ہوتا ہے (شیخ جان محمد شادؔ)۔ مگر جناب یہ شعر کچھ اور ہی کہانی سنارہا ہے: صبح ِپیری شام ہونے آئی میرؔ/ تو نہ جیتا اور بہت دن کم رہا۔ ویسے زندگی کی بے ثباتی پر اس سے بہتر تبصرہ شاید ممکن نہیں: صبح ہوتی ہے، شام ہوتی ہے/ عُمر یونہی تمام ہوتی ہے۔ یہ سہل ممتنع کا شاہکار ہے جو تسلیم لکھنوی کی یادگار ہے۔

یاس ؔیگانہؔچنگیزی کا یہ شعر اُن کے مزاج کا عکاس ہے: ہر شام ہوئی، صبح کو اِک خوابِ فراموش/ دنیا یہی دنیا ہے تو کیا یاد رہے گی۔ ہائے یگانہؔ، کیا پڑی تھی آپ کو غالبؔ کی خبر لینے کی ….لینے کے دینے پڑگئے۔

عظیم آباد (پٹنہ) کا چشم وچراغ، لکھنؤ میں رُسوا ہوگیا۔ علامہ اقبال کا یہ شعر صبح وشام کا استعارہ بہت عمدگی سے سموئے ہوئے ہے: ہاں، دکھادے اے تصور! پھر وہ صبح وشام تُو/ لوٹ پیچھے کی طرف، اے گردشِ ایّام تُو۔ سب کی کہی اپنی جگہ، مگر اپنے میرزا نوشہ یعنی غالب ؔتو یہ کہہ گئے ہیں: مَئے سے غرض نشاط ہے، کس رُوسیاہ کو/ اک گو‘ نہ بے خودی مجھے دِن رات چاہیے۔

یہ وہی غالب ؔ ہیں جن کا یہ شعر بھی مشہور ِزمانہ ہے: جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت، کہ رات دن/ بیٹھے رہیں تصورِ جانا ں کیے ہوئے {بعض لوگ روانی میں ….دل ….اور…فرصت کے رات دن….پڑھتے اور لکھتے ہیں جو غلط ہے۔ ملاحظہ فرمائیے محترم شمس الحق کی بے مثل کتاب: اردو کے ضرب المثل اشعار۔ تحقیق کی روشنی میں}۔ دن رات ایک کرنا بھی محاورہ ہے اور اس کا استعمال بھی ہماری روزمرّہ بول چال میں عام ہے، مگر یہ مثال بڑی منفرد ہے جو مصحفیؔ نے اپنے اس مشہور شعر میں پیش کی: تِرے کو‘ میں اِس بہانے، ہمیں دن کو رَات کرنا/ کبھی اِس سے بات کرنا، کبھی اُس سے بات کرنا۔ {یہاں لفظ کو‘ سے مراد ہے کوچہ}۔

لفظ دن کا استعمال کئی اور طرح بھی ہوتے دیکھا ہے۔ چند دن میں یا دو چار دن میں یا فقط دو دن میں کچھ کا کچھ ہوجانا بھی ہماری بامحاورہ زبان میں مشہور ہے۔ بہت فرسودہ شعر ہے: یہ دو دن میں کیا ماجرا ہوگیا / کہ جنگل کا جنگل ہَرا ہوگیا۔ خواجہ حیدر علی آتش ؔ کا یہ مشہور شعر بہرحال مختلف مضمون لیے ہوئے ہے: فاتحہ پڑھنے کو آئے قبرِآتش پر نہ یار/ دو ہی دن میں پاس ِ الفت اس قدر جاتا رہا۔ رات کو بہت کچھ ہوتا ہے اور اس کے مضامین بھی بہت سے ہیں۔

شیفتہ ؔ کا یہ شعر اپنی مثال آپ ہے: وہ شیفتہ کہ دھوم ہے حضرت کے زُہد کی/ میں کیا کہوں کہ رات مجھے کس کے گھر ملے۔ دیگر مضامین میں یہ بھی ایک عمدہ مضمون ہے: بزم میں رات کو غیروں سے اشارے دیکھے / دیدہ ٔ یار کرشمے تِرے سارے دیکھے (نسّاخؔ)۔ اب یہ بھی دیکھیے کہ پروین شاکرؔ نے جو بات اس قدر کھُل کر کہی: چاند بھی میری کروٹوں کا گواہ/ میرے بستر کی ہر شِکن کی طرح، احسان دانش کیسے سلیقے سے یہی مضمون بہ طریق احسن نبھا گئے (نباہ گئے بھی درست): یہ اُڑی اُڑی سی رنگت، یہ کھُلے کھُلے سے گیسو‘/ تیری صبح کہہ رہی ہے، تِری رات کا فسانہ! (ویسے محاورے میں تو صبح کے مقابل شام ہونا چاہیے، مگر یہاں فاضل سخنور نے برمحل اور چُست استعمال کیا ہے، لفظ رات کا)۔ عربی زبان میں لکھی جانے والی ’الف لیلہ وَلیلہ‘ (ایک ہزار اور ایک راتیں) جسے مختلف اقوام کے نامعلوم افراد نے صدیوں میں ترمیم واضافے کے ساتھ مرتب کرکے دنیا کے سامنے پیش کیا، رات کے عنوان اور موضوع پر عالمی ادب کا سب سے عظیم شاہکار ہے۔

{اس کے پیش کردہ متعدد تصورات پر کا م کرتے ہوئے، مشرق میں کچھ اور مغرب میں بہت سی ایجادات کی گئیں، بعدازآں، انھیں ہالی وُڈ کی مافَوق الفطرت [Supernatural]، تخیلاتی اورایسی بہت سی فلموں میں نقل کیا گیا جنھیں عرف عام میں Science fiction moviesکہا جاتا ہے یعنی سائنسی ادب پر مبنی۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیری پورٹر سیریز [Harry Potter series] بھی ہے جس نے ایک غریب استانی J. K. Rowlingکو دنیا کے امیرترین افراد کی صف میں شامل کردیا۔ ہمارے یہاں ایسا کوئی کام کرتا تو اُس کا مضحکہ اُڑااُڑاکر ذہنی مریض بنادیا جاتا}۔ رات ہمارے محاوروں اور کہاوتوں کا اہم موضوع ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چونکہ دن کی نسبت رات میں کشش، اسرار اور خوف کے عناصر زیادہ ہوتے ہیں، لہٰذا اس کا ذکر بھی اسی طرح کیا جاتا ہے۔

ایک محاورہ ہے: آدھی رات اِدھر، آدھی رات اُدھر۔ یہ اشارہ ہے نصف شب یعنی آدھی رات کی طرف جب انسان کی نیند یا تو سکون کی انتہا کو پہنچ جاتی ہے یا ٹوٹے تو بے چینی انسان کو ذہنی وجسمانی کوفت اور صحت کے مسائل میں مبتلا کردیتی ہے۔ یہی آدھی رات اُس وقت کچھ اور کیفیت پیدا کردیتی ہے جب پورا چاند یعنی ماہِ کامل روبرو ہو۔ میرے ذی علم بزرگ معاصر جاویدوارثی (مرحوم) کا مجموعہ کلام ’آدھی رات کا پورا چاند‘ اپنے دور میں بہت مقبول ہوا۔ ابھی اس کی اشاعت کا اشتہار ہی شایع ہوا تھا کہ ایک شاعرہ نے اپنا مجموعہ کلام اسی نام سے شایع کردیا۔

{بات کی بات ہے کہ مرحوم نے تو اپنی بیگم کو محبوبہ قرار دیتے ہوئے انھیں اس انوکھے عنوان سے یاد کیا تھا، معلوم نہیں شاعرہ نے کسے مراد ٹھہرایا۔ پھر اُن کی وفات کے بعد لطیفہ یہ ہوا کہ مرحوم کے ایک دوست اور ہمارے بزرگ معاصر نے اُن کی وفات کے کچھ روز بعد ہونے والی تعزیتی تقریب میں ایک مضمون بعنوان ’’آدھی رات کا پورا چاند، ڈوب گیا‘‘ پیش کیا تو اُن کی اہلیہ اور اولاد مسکرائے بغیر نہ رہ سکے۔ ساری عبارت میں یہ کہیں مذکور نہ تھا کہ مرحوم شاعر نے کسے اس لقب سے یاد کیا تھا۔ ع: اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا}۔

رات کا مضمون اردو نثرونظم میں بے شمار اہل قلم کا پسندیدہ موضوع رہا ہے اور رہے گا۔ چودھویں کے چاند پر خوب طبع آزمائی کی گئی ہے۔ بدر یعنی پورا چاند بھی ہمارے بہت سے شعراء کا محبوب موضوع سخن رہا ہے جسے بدرِکامل، ماہِ تمام اور ماہم بھی کہا جاتا ہے {مغل تاجدار بابُر کی مَلِکہ کا نام بھی ماہم بیگم تھا۔ ویسے عالی مرتبت کی دیگر ازدواج میں عائشہ سلطان بیگم، زینت سلطان بیگم، معصومہ سلطان بیگم، بی بی مبارِکہ، گُل رُخ بیگم، دل دار بیگم، گل نار آغاچہ ، نازگُل آغاچہ اور صالحہ بیگم شامل تھیں}۔ (جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔