موت کی جمہوریت

آفتاب احمد خانزادہ  اتوار 10 جنوری 2021
aftabkhanzada2@yahoo.com

[email protected]

عالمی ادب میں لاکھوں ڈرامے لکھے گئے ہیں،ان میں سے ایک ڈرامہ بیلجیئن نژاد شاعر اور ڈرامہ نویس ماریس ما ترلینک کا شہرہ آفاق کھیل ’’ لو از وبلو‘‘ ہے ،اگرچہ یہ طلسماتی ڈرامہ بچوں کے لیے لکھا گیا تھا لیکن اس میں سماجی اورطبقاتی تفریق کے مختلف پہلوئوں کو عیاں کیا گیا ہے۔

کہانی تیلثیل اور میتیل نامی دو بچوں کے گرد گھومتی ہے جنھیں ایک پری اپنی بیمار بیٹی کے علاج کے لیے نیلے رنگ کا ایک پرندہ تلاش کر نے کاکا م سونپتی ہے۔ اس مہم کے دوران دونوں بچوں پر زندگی کے حقائق اورکائنات کے رازافشا ہوتے ہیں، وہ قدرت کی مختلف تخلیقات ،انسانی جذبات اور کیفیات کو مادی شکل وصورت میں دیکھتے ہیں۔

اس حیرت انگیزکھیل کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ یہ ڈرامہ دنیا بھر میں چھ مرتبہ پردہ سیمیں کی زینت بنا جس میں دو فلمیں 1976, 1940 میں امریکا میں بنائی گئیں 1940 میں پیش کی گئی فلم میں عظیم اداکارہ شرلی ٹیمپل نے مرکزی کردار ادا کیا ۔ علاوہ ازیں اس ڈرامے پر دو ٹیلی ویژن سیریز،ایک ریڈیو ڈرامہ اور ایک اوپیرا بھی پیش کیاجا چکاہے ۔

آئیں ! اس ڈرامے کا ایک سین پڑھتے ہیں۔

میتیل :۔ اور اس میز پر کیا پڑا ہے ۔ تیلثیل : ۔ کیک ، پھل اور پیسٹریاں ، میتیل :۔ مجھے یادہے جب میں چھوٹی تھی تو میں نے کیک کھایا تھا۔ تیلثیل : ۔ اور میں نے بھی،کیک روٹی سے کتنا اچھا ہوتا ہے نا ! لیکن کیک تو ہمیشہ تھوڑا سا ہی ملتاہے۔ میتیل:۔ ان کے پاس تو اتنی ساری چیزیں پڑیں ہیں ساری میز بھی بھری پڑی ہے کیا وہ یہ سب کچھ کھاجائیں گے ؟ تیلثیل: ۔ لازمی بات ہے اورکیا کریں گے ۔ میتیل :۔ تو پھر وہ کھاتے کیوں نہیں ۔تیلثیل: ۔ اس لیے کہ انھیں ابھی بھوک نہیں لگی ۔ میتیل:۔ حیرت سے اس کا منہ کھلا رہ جاتا ہے بھوک نہیں لگی کیوں ؟تیلثیل: ۔ بس ان کا جب بھی جی چاہے وہ کھا لیتے ہیں۔ میتیل:۔ ہر روز؟ تیلثیل : ۔ ہاں کہتے تو ایسا ہی ہیں ۔ میتیل :۔ کیا وہ یہ سب کچھ کھا جائیں گے یاکسی اورکو بھی کچھ دیں گے تیلثیل: ۔ اورکسے دیں گے ۔ میتیل :۔ ہمیں ۔تیلثیل : ۔ وہ تو ہمیں جانتے ہی نہیں۔ میتیل:۔ اور اگر ہم ان سے مانگیں تو، تیلثیل:۔ نہیں ہم ایسا نہیں کرسکتے۔ میتیل:۔ کیوں نہیں کرسکتے :تیلثیل: ۔ کیونکہ یہ ٹھیک نہیں ہوگا ۔ یا د رہے ہم میں سے کوئی بھی ناگزیر نہیں ہے ہم آتے ہیں اورچلے جاتے ہیں خدا نے ہم سب کو اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق باقی انسانوں کی خدمت کرنے کے لیے دنیا میں بھیجا ہے نہ کہ اپنی خدمت کرنے کے لیے۔ یہ ہی وہ واحد سچائی ہے جسے ہم سب سے پہلے بھول جاتے ہیں۔ انسان چاہے بادشاہ ہو وزیراعظم ہو یا فقیر بس پانچ چھ فٹ کے ایک پتلے کانام ہے جسے اس دنیا میں کوئی ساٹھ ستر برس زندہ رہنا ہے اس چینی مقولے میں زندگی کی اصل دانش چھپی ہوئی ہے کہ ’’ہوسکتا ہے آپ ایک ہزار ایکڑ رقبے کے واحد مالک ہوں پھر بھی آپ پانچ فٹ لمبے بستر پرہی سوئیں گے ‘‘ ہر جنازے کے ساتھ یہ جھنڈا ہوتا ہے کہ سب انسان برابر ہیں۔ موت کی اس جمہوریت سے انسان کے اندر زندگی کے ایک تماشا ہونے اور اس کی گہرائی شعریت کا احساس پیدا ہوتاہے جو شخص موت کی بصیرت حاصل کر لے اسے انسانی زندگی کے ایک تماشاہونے کی بصیر ت بھی مل جاتی ہے ۔  شیکسپیئر نے اپنے لافانی کردار ہملٹ کے منہ سے سکندر اعظم کی خاک کے بارے میں جو باتیں کہلوائیں ان سے اس صداقت پر مہر لگ جاتی ہے ’’سکندر مرا اور اسے زمین میں دفن کردیا گیا، اس کا جسم خاک میں مل کر خاک ہوگیا، اس مٹی سے ہم ایک ڈھیلا بنا لیتے ہیں اور سکندرکی خاک کا یہ ڈھیلا ایک ڈاٹ کے طورپر شراب کے مٹکے کے منہ پر لگا دیا جاتا ہے۔‘‘ ذرا شیکسپیئر کے ڈرامے رچرڈ دوم کو دیکھئے ’’ شاہ رچرڈ قبروں،کپڑوں،کتبوںاور اس تاج کے نگینے کا ذکرکرتا ہے جو بادشاہ کی فانی کنپٹیوں پر دھرا رہتا ہے یا پھر جب وہ ایک بہت بڑے جاگیردارکا ذکرکرتا ہے جو اب اپنے قوانین، اپنے اختیارات، مراعات، جاگیروں سمیت خاک کا ایک ڈھیر ہے ۔ عظیم فارسی شاعر عمرخیام اور عظیم چینی چیانوشی بھی یہ کہتے رہے کہ دیکھو یہ شاہوں کی قبریں ہیں جن میں اب گیدڑوں نے اپنے بھٹ بنا ر کھے ہیں۔ دنیا کے تمام فلسفیوں، تمام صوفیوں نے باربار یہ ہی بات سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ہم سب فانی ہیں اور دنیا میں مہمان ہیں اورکسی بھی چیزکے مالک نہیں ہیں گویا یہ دنیا ایک اسٹیج ہے اور ہم محض اداکار ہیں جو اپنا اپنا پارٹ ادا کررہے ہیں کوئی بادشاہ کا کردار ادا کررہاہے ،کوئی وزیراعظم کاکوئی جاگیردار کوئی سرمایہ دارکا، توکوئی فقیرکا ، لیکن انسان بیچارا کیا کرے، انسان کے جسم میں ایک اتھاہ گڑھا ہے جسے پیٹ کہتے ہیں یہ ہی پیٹ تمام ظلم، زیادتی، ناانصافیوں ، عدم مساوات کی ماں ہے دنیا کی ساری برائیوں اور خرابیوں نے اسی سے جنم لیا ہے۔ انسان جس دولت اور چیزوں کے لیے ساری عمر لوٹ مار،غبن، کرپشن، ناانصافی ، ظلم اور اپنے ہی جیسے دوسرے انسانوں کو ذلیل وخوارکرتا رہتا ہے، جھوٹ بولتا اور باربار دھوکا دیتا رہتا ہے وہ ایک دن سب اس کے لیے بے معنیٰ ہوجاتی ہیں جن بے معنی چیزوں کے لیے وہ ساری زندگی دوسروں کو ہراتا رہتا ہے پھر ایک دن ایسا آتا ہے کہ وہ خود بری طرح ہارجاتا ہے ۔ برطانیہ کی ملکہ الزبتھ کی خواب گاہ کے سامنے بیسیوں افراد خدا کی بارگاہ میں ملکہ کی صحت کے لیے دعا گو تھے ملکہ نزع کے عالم میں تھی ملک کے ماہر ترین ڈاکٹر ان کے علاج میں مصروف تھے آخر کار ملکہ نے اپنی بے بسی پر مٹھیا ں بھینچتے ہوئے کہا ’’میری دولت کس کام کی۔‘‘عظیم ادیب ڈیل کارنیگی نے بتایا تھا کہ ’’30سال قبل مجھ پر ایک ایسا راز افشاں ہوا جس نے میری زندگی بدل کررکھ دی آج میں آپ کو بھی اپنا ہم راز بناتا ہوں یہ کوئی لمبی چوڑی بات نہیں بلکہ صرف چار الفاظ پر مشتمل ہے اور وہ الفاظ یہ ہیں ’’آپ کی حدود مصنوعی ہے ‘‘ یہ بات تو پتھر پر لکیر ہے کہ آپ دوسروں کی خوشیاں لوٹ کرکبھی بھی خوش نہیں رہ سکتے ہیں، لوٹی ہوئی خوشیاں ایک روز آپ کو لوٹ لیتی ہیں پھر آپ کا پچھتانا بھی باقی سب چیزوں کی طرح بے معنیٰ ہوجاتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔