ٹرمپ کی اپنی جماعت کے نمائندگان نے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا

ویب ڈیسک  اتوار 10 جنوری 2021
صدر ٹرمپ کے عہدے کی مدت پوری ہونے سے چند روز قبل ہی برطرف ہونے کے لیے مطالبات اور کوششوں کا آغاز ہوگیا ہے(فوٹو، فائل)

صدر ٹرمپ کے عہدے کی مدت پوری ہونے سے چند روز قبل ہی برطرف ہونے کے لیے مطالبات اور کوششوں کا آغاز ہوگیا ہے(فوٹو، فائل)

 واشنگٹن ڈی سی:  ٹرمپ کی اپنی ریپبلکن پارٹی کے سینیٹرز کی جانب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ دنوں امریکی کانگریس پر صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے حملے اوران کی جانب سے حملہ آوروں کے لیے حوصلہ افزائی کے پیغام کے بعد سے ٹرمپ کی مشکلات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

جہاں ایک جانب انہیں اشتعال انگیزی کی علامت بنا کر سوشل میڈیا پر ان کے اکاؤنٹس مستقل طور پر بند کردیے گئے ہیں اور دوسری بار مؤاخذے کی تیاری کی جارہی ہے وہیں ان کی اپنی ہی جماعت کے نمائندے استعفی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

یہ خبر بھی پڑھیے: صدر ٹرمپ کے فیس بک اور انسٹا گرام اکاؤنٹس پر بھی پابندی

سب سے پہلے ریاست الاسکا سے ریپلکن سینیٹر لیزا مرکوسکی نے صدر ٹرمپ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا اور اتوار ہی کو پنسلوینیا کے سے تعلق رکھنے والے سینیٹر پیٹ ٹومی نے بھی صدر ٹرمپ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موأخذے سے قبل ٹرمپ کو خود ہی عہدے سے دست بردار ہوجانا چاہیے۔

یہ خبر بھی پڑھیے: کانگریس عمارت پر حملہ ؛ ٹرمپ بڑی مشکل میں پھنس گئے

واضح رہے کہ اگرچہ صدر ٹرمپ کی مدت پوری ہونے میں اب محض دس دن رہ گئے ہیں تاہم گزشتہ روز کانگریس کی اسپیکر نینسی پیلوسی نے  ایوان نمائندگان کے تمام ہی اراکین کو خط بھیجا جس میں کیپیٹل حملوں کے لیے ٹرمپ کے احتساب اپیل کی گئی تھی۔ اطلاعات کے مطابق پیر کو صدرٹرمپ کے خلاف مؤاخذے کی تحریک پیش ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ کے مواخذے کی تحریک پیش ہونے کے بعد وہ امریکی تاریخ میں پہلے صدر ہوں گے جن کا دو بار مواخذہ کیا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔