پاکستان میں پھنسے پاکستانی طالب علموں کا المیہ

کامران امین  بدھ 13 جنوری 2021
کورونا کی وبا سے بیرون ملک پڑھنے والے طلبا بھی شدید متاثر ہوئے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

کورونا کی وبا سے بیرون ملک پڑھنے والے طلبا بھی شدید متاثر ہوئے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

پاکستان میں پھنسے پاکستانی طالب علم؟ کیا عجیب عنوان ہے ناں… یہ کہانی بھی اتنی ہی عجیب ہے۔ کورونا وائرس کی وبا پھیلی تو دنیا بھر میں ہجرت کا عمل شروع ہوا۔ پردیسی اپنے اپنے دیس واپس لوٹے۔ بہت بڑی تعداد میں طالب علم بھی گھروں کو روانہ ہوئے اور یہ سلسلہ پوری دنیا میں ہوا، کسی ایک ملک تک محدود نہیں تھا۔ پاکستانی طلب علم جو بیرون ملک تعلیم حاصل کر رہے تھے، وہ بھی پاکستان لوٹ گئے۔ چینی طالب علم جو دنیا بھر میں پھیلے تھے، وہ واپس چین آگئے۔

جون جولائی میں کسی وقت ہماری تجربہ گاہ میں ایک نئے چینی طالب علم کی انٹری ہوئی۔ یہ ایک ریگولر عمل ہے۔ اور ہر سال کچھ طالب علم آتے ہیں، کچھ چلے جاتے ہیں۔ لیکن یہ طالب علم کچھ خاص تھا۔ اس کی انگریزی کمال کی تھی۔ مجھے کچھ شک تو ہوا لیکن بات آئی گئی ہوئی تاوقتیکہ ہماری گروپ میٹنگ کا دن آگیا۔ پروفیسر صاحب نے تعارف کرواتے ہوئے بتایا کہ وہ نیا طالب علم یونیورسٹی آف کیلیفورنیا امریکا کا اسٹوڈنٹ ہے۔ وبا کے دنوں میں گھر آئے تو پھر امریکا اور چین کی چپقلش کی وجہ سے واپس نہ جاسکے۔ امریکا نے چین پر کچھ پابندیاں لگادیں۔ یہ بات یاد رکھے جانی والی ہے کہ امریکا میں پڑھنے والے غیر ملکی طلبا کی فہرست میں چینی طالب علم سرفہرست ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے بہت زیادہ پاکستانی طالب علم چین میں ہیں۔

چین نے اس کا حل یہ نکالا کہ ان سارے طلبا کو، جو واپس نہیں جاسکتے تھے، ان کے امریکی ہم پلہ اور برابر والی رینکنگ کی یونیورسٹیوں میں داخل کردیا تاکہ ان کی پڑھائی جاری رکھی جاسکے۔ یعنی اگر کوئی طالب علم امریکا میں آخری سیمسٹر میں تھا تو اب وہ یہاں چین میں آخری سیمسٹر کا طالب علم بن گیا تھا۔ اس سارے عمل کا نتیجہ تھا کہ وہ نیا طالب علم اب ہمارا گروپ میٹ بن گیا۔ اس سارے پروسیس میں مزے کی بات یہ ہے کہ چینی حکومت نے یہ معاملہ اتنی خوش اسلوبی سے کیا کہ نہ کہیں جلسہ ہوا، نہ کہیں اشتہار لگا، نہ ہی کوئی شور شرابا ہوا اور نہ ہی چینی طالب علموں کو کوئی مظاہرہ کرنا پڑا۔

گروپ میں اس وقت ہم دو پاکستانی طالب علم ہیں اور 3 پاکستان میں بیٹھے ہیں۔ مذکورہ بالا بات بتاکر پروفیسر صاحب کا رخ ہماری طرف ہوا اور کہنے لگے کہ کیوں نہ ہمارے جو پاکستانی طلب علم پاکستان میں رک گئے ہیں انہیں بھی ایسے ہی پاکستان کی یونیورسٹی میں جگہ مل جائے، جہاں وہ اپنی تحقیق جاری رکھ سکیں۔ اس بات کے اختتام پر میں پروفیسر سے نگاہیں نہ ملا سکا اور نیچے دیکھنے لگا۔

اس وقت تک یہ امید تھی کی شاید سیمسٹر کے اختتام تک وہ طالب علم جو پاکستان میں ہیں اور واپس نہیں آ پا رہے، ان کا کوئی نہ کوئی انتظام ہوجائے گا اور انہیں واپس بلا لیا جائے گا۔ پھر جب سیمسٹر آن لائن شروع ہوا تو اس بارے میں تحفظات بڑھنا شروع ہوئے۔ یار دوستوں نے کچھ مظاہرے وغیرہ بھی کیے اور اب دو سیمسٹر گزر گئے ہیں اور وہ طالب علم ہاتھ پر ہاتھ رکھے وہیں پاکستان میں بیٹھے ہیں۔

بات جو سوچنے کی ہے وہ یہ کہ کیا حکومت پاکستان اور پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی ادارے مل کر ایسا کوئی میکانزم تشکیل نہیں دے سکتے جس کے تحت جب تک وہ سارے پاکستانی طالب علم، جو اس وقت پاکستان میں پھنسے ہیں، واپس چائنا آکر اپنی تحقیقی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں، انہیں پاکستانی یونیورسٹیوں میں ہی جہاں جہاں مناسب ہو جگہ دے دی جائے، تاکہ وہ اپنا تحقیقی کام کسی حد تک تو جاری رکھ سکیں۔ مجھے امید ہے کہ اگر ایسا کوئی سلسلہ شروع ہو تو کیمیکلز اور دوسرے لوازمات یہاں چائنا سے ان کا ریسرچ گروپ باآسانی پاکستان پہنچا سکتا ہے (جہاں جہاں کیمیکلز کی کمی ہے) اور پھر اینالیسز کےلیے سیمپل بناکر باآسانی چین بھیجے جاسکتے ہیں (جو سہولتیں پاکستان میں میسر نہیں ہیں)۔

اسی طرح میڈیکل کے طلبا کی ایک بڑی تعداد آن لائن پڑھنے کےلیے مجبور ہے اور ان کا یہ گلہ اپنی جگہ بجا ہے کہ میڈیکل کی تعلیم اسپتال میں جائے بغیر کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟ تو کیا ہماری ریاست اور اس سے جڑے میڈیکل کالجز اور کونسلز اور ہمارے وزرائے تعلیم مل کر ایسا کوئی میکانزم نہیں بنا سکتے کہ ان طلبا کو پاکستانی میڈیکل کالجز میں ایڈجسٹ کردیا جائے، تاکہ ان کا نقصان نہ ہوسکے؟

لیکن سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان ہی یہ سب کیوں کرے؟ اس لیے کہ یہ جو طالب علم ہیں یہ سارے پاکستانی طالب علم ہیں۔ یہ چینی طالب علم نہیں۔ لہٰذا ان کے مستقبل کےلیے سوچنا پہلی ترجیح میں حکومت پاکستان کا کام ہے نہ کی چینی حکومت کا۔ یہ طالب علم اگر پڑھ لکھ کر پاکستان نہ بھی لوٹے تو بیرونی زرمبادلہ کی شکل میں جو رقم پاکستان بھیجیں گے اسے ہماری حکومت بڑے فخر سے بیان کرے گی۔ چین کا اس میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لیکن آج جب یہ طالب علم مشکلات کا شکار ہیں تو ہماری حکومت کے زعما بندر کی طرح ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگیں لگانے میں مشغول ہیں۔ ہاں جی وہی بندرجو غلطی سے جنگل کا بادشا بن گیا تھا اور پھر جب دشمن نے حملہ کیا تو ادھر ادھر چھلانگیں لگانے لگا۔ باقی جانوروں نے پوچھا یہ کیا ماجرا ہے؟ تو کہنے لگا دیکھ نہیں رہے، میں کتنا سوچ رہا ہوں، فکرمند ہوں۔

تو آپ سب سے گزارش یہ ہے کہ حکومت میں، متعلقہ اداروں میں اس سارے معاملے پر آواز اٹھائیے اور اس کا حل نکالیے اور اگر کوئی آپ کی بات نہیں سنتا تو پانچ سال بعد پاکستانی عوام کے پاس ایک ایسا موقع ضرور آتا ہے جب وہ اپنے دل کی بھڑاس نکال سکتے ہیں۔ کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگنے کے بجائے ان لوگوں کو منتخب کیجئے جنہیں آپ کی فکر ہو اور جو آپ کی بات سنیں، تاکہ آپ نہیں تو کم از کم آپ کی آنے والی نسلیں ان تکلیفوں اور پریشانیوں سے نہ گزریں، جن سے آپ گزر رہے ہیں۔

رہی بات چین کی، تو میرے پاکستانی دوستوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ چین ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے۔ جو اپنے ملک کے عوام کی خوشحالی اور فلاح و بہبود کو مدنظر رکھ کر بہترین فیصلے کرتا ہے۔ یہاں پر قانون کی حکمرانی بھی ہے اور قانون کا احترام بھی کیا جاتا ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے دانشور ہیں، نہ ہی عجیب و غریب قسم کا میڈیا جو آزادی اظہار اور پتہ نہیں کتنے خوش نما نعروں کے لبادے میں چھپا کر پاکستان میں نسلی تعصب، فرقہ واریت اور منافرت کو ہوا دیتے ہیں۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھیے کہ یہ پاکستان نہیں ہے، جہاں پندرہ لوگ لے کر پارلیمنٹ کا گھیراؤ کرلیں اور اپنی مرضی کے فیصلے کروا آئیں۔ حکومت میں متعلقہ شعبوں کے ماہرین بیٹھے ہیں اور جب وہ ایک پالیسی بنا لیتے ہیں تو پوری قوم اوپر سے نیچے تک اگر مگر کیے بغیر بلا چوں و چرا اس پر عمل کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ اگر دیکھنا ہو تو یہ دیکھیے کہ اس وقت پوری دنیا وبا کے سب سے مہلک حملے کی لپیٹ میں ہے لیکن چین اس وقت دنیا کا محفوظ ترین ملک ہے۔ اور کوئی کچھ سیکھے نہ سیکھے لیکن میرے جو دوست چین میں رہ کر گئے ہیں وہ چینی عوام سے اتنا تو سیکھ ہی سکتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

کامران امین

کامران امین

بلاگر کا تعلق باغ آزاد کشمیر سے ہے اوراس وقت بیجنگ میں ممتاز CAS-TWAS فیلوشپ پر نیشنل سینٹر فار نینو سائنس اینڈ ٹیکنالوجی، چائنیز اکیڈمی آ ف سائنسز سے میٹیریلز سائنسز (Materials Scineces) میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ چین میں تعلیمی زندگی اور تعلیم سے متعلقہ موضوعات پر لکھنے سے دلچسپی ہے اور ساتھ ساتھ گزشتہ تین سال سے بلامعاوضہ پاکستانی طلبہ کو چین میں اسکالرشپ حاصل کرنے کےلیے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر رہنمائی بھی فراہم کر رہے ہیں۔ ان سے فیس بک آئی ڈی kamin.93اور ٹوئٹر ہینڈل @kamraniat پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔