دوتہائی مریضوں میں کووڈ 19 کی بعض علامات چھ ماہ بعد بھی برقرار

ویب ڈیسک  منگل 12 جنوری 2021
کووڈ 19 سے متاثر ہوکر شفا پانے والے 72 فیصد مریضوں میں اب بھی کوئی نہ کوئی علامت برقرار ہے۔ فوٹو: فائل

کووڈ 19 سے متاثر ہوکر شفا پانے والے 72 فیصد مریضوں میں اب بھی کوئی نہ کوئی علامت برقرار ہے۔ فوٹو: فائل

بیجنگ: کووڈ 19 کے تناظر میں ایک تازہ خبریہ آئی ہے کہ اس سے شفایابی کے 6 ماہ بعد بھی مرض کی کم ازکم ایک علامت یا تکلیف برقرار رہتی ہے۔

ماہرین نے اس ضمن میں بہت سے مریضوں کو ایک طویل وقت تک نوٹ کیا ہے جس میں دو تہائی افراد میں شفا یابی کے باوجود بھی کورونا علامات پائی گئی ہیں اور وہ مسلسل برقرار رہتی ہیں اور اسے ’طویل کووڈ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض علامات اس وقت کی ہیں جب وہ کورونا میں مبتلا ہوکر ہسپتال میں تھے اور بعض افراد میں بس ان کی شدت کم ہوئی تاہم علامات برقرار رہیں۔

اس ضمن میں چین کے شہر ووہان کے 1733 ہسپتالوں کے مریضوں کا جائزہ لیا گیا۔ بیجنگ میں چین جاپان دوستی ہسپتال سے وابستہ، امراضِ تنفس کے ماہر بِن چیاؤ نے کہا ہے کہ بعض مریض ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد اب بھی کووڈ 19 کی بعض علامتوں کے ساتھ زندہ ہیں۔ جن افراد کا تجربہ بہت شدید رہا ان میں اس کی علامات اب بھی زیادہ ہیں۔

سروے کے مطابق  76 فیصد مریضوں نے بتایا کہ کووڈ 19 کی ایک کیفیت ان میں نصف سال کے بعد بھی برقرارہے۔ ان میں 63 فیصد افراد نے غنودگی اور پٹھوں کی کمزوری کی شکایت کی ہے۔ 25 فیصد مریضوں نے ڈپریشن اور نیند کی کمی کی شکایت کی ہے۔

آدھے مریضوں کے ایکس رے لیے گئے تو ان کے سینے میں انفیکشن نما اثرات نظر آئے جو بیماری کے دیرینہ اور شدید اثرات کو ظاہر کرتے ہیں۔ دوسری جانب کنگز کالج لندن کے پروفیسر فرانسس ولیمز نے کہا کہ کورونا وائرس کے اثرات شاید کئی برسوں تک برقرار رہے۔

کورونا وائرس اور دماغی اثرات  

الزائیمر اور ڈیمنشیا نامی طبی جریدے میں ماہرین نے کورونا کو ’عصبی (نیورو) وائرس‘ بھی کہا ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ کورونا وائرس الزائیمر، پارکنسن، اور دیگر دماغی نقائص کی وجہ بن سکتا ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ کورونا وائرس چونکہ سونگھنے اور چکھنے کی حس کو متاثر کرتا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں یہ دماغ کو متاثر بھی کررہا ہے۔

لیکن ماہرین نے کہا ہے کہ مریضوں میں سانس لینے کی دقت اعصابی اور دماغی بھی ہوسکتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔