قومی کرکٹ ٹیم کی مسلسل ناکامیاں؛ مینجمنٹ کا احتساب کب ہوگا؟

کامران سرور  منگل 12 جنوری 2021
پاکستانی کرکٹ ٹیم کی مسلسل ناکامی میں مینجمنٹ کو مکمل بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ (فوٹو: فائل)

پاکستانی کرکٹ ٹیم کی مسلسل ناکامی میں مینجمنٹ کو مکمل بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ (فوٹو: فائل)

’’ٹیم کی کارکردگی اچھی نہ ہونے کی وجہ صرف میں نہیں.‘‘

نیوزی لینڈ سے بدترین شکست کے بعد قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کے مندرجہ بالا بیان پر میرا دل کررہا ہے کہ انہیں بھرپور انداز میں خراج تحسین پیش کروں۔ مجھے امید ہے قارئین بخوبی میرے دل کا حال جان رہے ہوں گے اور میرے کہے بغیر قومی ٹیم کے کوچز کو دعائیہ کلمات سے نواز چکے ہوں گے۔

اپنے گزشتہ بلاگ میں نیوزی لینڈ کے خلاف قومی ٹیم کی بدترین شکست کے بعد بیٹنگ کی خامیوں پر تبصرہ کیا تھا، جس میں کھلاڑیوں کی ذاتی کارکردگی کے ساتھ ساتھ ٹیم سلیکشن پر بھی بات کی گئی تھی۔

گزشتہ بلاگ یہاں سے پڑھئے: قومی ٹیم کی مسلسل ناکامیاں؛ کیا مسئلہ صرف سلیکشن کا ہے؟

آج بولنگ کے شعبے سمیت کوچز کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہیں، لیکن اس سے پہلے قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں جس تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے خود کو اس شکست سے بری الذمہ قرار دینے کی کوشش کی، اس پر بات کرلیتے ہیں۔

مصباح الحق کا یہ کہنا ’’معذرت کررہا ہوں اور نہ بہانے پیش کررہا ہوں، بلکہ کھلے دل سے شکست تسلیم کررہا ہوں‘‘ سمجھ سے بالاتر ہے۔ کوچ صاحب کیا آپ کے پاس شکست تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن بھی ہے؟ آپ کے پاس تو ’’73 کے آئین کے تحت‘‘ یہ کہنے کی گنجائش بھی نہیں کہ اس شکست کے پیچھے خلائی مخلوق کا ہاتھ ہے۔ لہٰذا شرمناک شکست کے بعد ایسے بیانات دینے کے بجائے خود اپنا احتساب کیجئے، اس سے پہلے آپ کا احتساب کیا جائے، جو وقتی طور پر پی سی بی نے یہ کہہ کر ٹال دیا ’’مصباح الحق کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق میڈیا پر چلنے والی خبریں بے بنیاد ہیں‘‘۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کی گلوخلاصی ہوگئی، بلکہ اب تو آپ ریڈار پر آگئے ہیں اور جنوبی افریقا کے خلاف ٹیسٹ سیریز آپ کے مستقبل کا فیصلہ کرسکتی ہے۔

ہیڈکوچ نے اسٹار بلے باز بابراعظم کی انجری کو تمام مسائل کی جڑ بتاتے ہوئے کہا ’’جو حیثیت کین ولیمسن کی مخالف ٹیم میں تھی وہی بابراعظم کی قومی ٹیم میں ہے‘‘۔ اس میں کوئی شبہ نہیں بابراعظم قومی ٹیم کی بیٹنگ لائن میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ کسی ایک کھلاڑی کے نہ ہونے سے پاکستان کرکٹ رک جائے یا ختم ہوجائے۔ کین ولیمسن تو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں نیوزی لینڈ کےلیے دستیاب نہیں تھے لیکن اس کے باوجود کیویز نے پاکستان کو آسانی سے شکست دی۔ اگر ایسا ہی بیان دینا تھا تو 35 لوگوں کی فوج لے کر نیوزی لینڈ جانے کا کیا مقصد ہوا؟ کیا پہلے ٹیسٹ میں شکست کے بعد حارث سہیل اور نسیم شاہ کو باہر بٹھا کر تجربہ کار سہیل خان اور عمران بٹ کو موقع نہیں دینا چاہیے تھا؟ خیر یہ باتیں کرنے کا وقت اب نہیں رہا لیکن آپ کو اپنے فیصلوں کو لے کر گریبان میں جھانکنے کی ضرورت ہے۔

اس بدترین شکست کے بعد مصباح ماضی کے ہیڈ کوچز کی طرح یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ ہم نے جن کھلاڑیوں کا نام دیا تھا وہ ہمیں میسر نہیں تھے۔ اس دورے میں مصباح ہی ’’ون مین آرمی‘‘ یعنی چیف سلیکٹر اور ہیڈکوچ تھے لیکن اس کے باوجود ایسے بیانات دینے کی منطق سمجھ میں نہیں آتی۔ اگر آپ اتنی ذمے داریاں اور بھاری تنخواہیں لینے کے بعد صرف یہ بیانات دیں ’’شروع کے 18 سے 20 روز تک ٹریننگ نہ کرنے سے مسائل ہوئے‘‘، ’’ نیوزی لینڈ کی ٹیم ہم سے تینوں شعبوں میں بہتر تھی‘‘ تو کیا ٹیم مینجمنٹ مچھر مار رہی تھی؟ چھوڑ دیجئے اپنے عہدے اور میریٹ پر لوگوں کو کام کرنے کا موقع دیجئے تاکہ ہماری ٹیم بھی ہر شعبے میں بہتر ہوسکے۔ اس قدر اہم دورے میں کم از کم ایسے انٹرنیشنل کھلاڑی تو ساتھ نہ لے کر جائیے جو 20 دن ٹریننگ نہ کرنے سے کلب کرکٹر سے بھی بدتر کارکردگی پیش کریں۔

ہیڈکوچ کے ان وضاحتی بیانات کے بعد مجھے خیال آیا ہوسکتا ہے دورۂ نیوزی لینڈ میں ان کھلاڑیوں نے 20 دن کمروں میں بند رہ کر موبائل میں ایسا کچھ دیکھ لیا تھا جس سے ہر کھلاڑی کی بینائی کمزور ہوگئی اور انہیں اتنی بڑی گیند دکھائی نہیں دے رہی تھی یا پھر کمروں میں رہ کر ’’کوکابورا کی سخت گیند‘‘ پکڑنے کی عادت ختم ہوچکی تھی۔

نیوزی لینڈ سے ٹیسٹ سیریز میں نہ صرف بیٹنگ اور بولنگ بلکہ فیلڈنگ کا معیار بھی انتہائی ناقص رہا۔ پاکستان نے کیچز ڈراپ کرنے کے ساتھ رن آؤٹس کے مواقع بھی ضائع کیے اور بولرز نے بھرپور ایکسٹرا بالز کروائیں۔ قومی کھلاڑیوں نے مجموعی طور پر سیریز میں 12 یقینی کیچز چھوڑ کر ریکارڈ قائم کیا، جو 2011 کے بعد کسی 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس سے قبل قومی ٹیم نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 10 اور بنگلا دیش سے سیریز میں 9 کیچ ڈراپ کیے تھے۔ حیران کن طور پر نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز میں 19 نو بالز اور 17 وائیڈز بال کروائی گئیں، جن میں صرف 16 نو بالز نسیم شاہ نے کیں اور بولنگ کوچ کی غیر موجودگی میں دوسرے ٹیسٹ میں بولنگ میں شاہین آفریدی، نسیم شاہ، فہیم اشرف اور ظفر گوہر نے 100 سے زائد، جب کہ محمد عباس نے 98 رنز دیے۔ بولرز کی اس بدترین کارکردگی نے بولنگ کوچ وقار یونس کی افادیت پر سوالیہ نشان لگادیا جو پہلے ٹیسٹ کی شکست کے باجود بولرز کے ساتھ وقت گزارنے کے بجائے انہیں کیوی بلے بازوں کے رحم وکرم پر چھوڑ کر اپنی فیملی کے پاس وقت گزارنے چلے گئے۔

محمد عامر سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ہیڈکوچ نے جواب دیا ’’محمد عامر کا بیان ان کی ذاتی رائے ہے، وہ اگر پرفارم کریں تو انہیں ٹیم میں شامل کرلیں گے‘‘۔ جناب! اگر ایسا ہی ہے تو نسیم شاہ ٹیم میں کیا کررہے ہیں؟ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے خلاف ان کی کیا کارکردگی ہے؟ پہلے میچ میں ناکامی کے باوجود 2016 میں آسٹریلیا کے خلاف اپنا آخری ٹیسٹ کھیلنے والے سہیل خان کو دوسرے ٹیسٹ میں موقع کیوں نہیں دیا گیا؟ جو قائداعظم ٹرافی کے پچھلے سیزن سمیت پی ایس ایل کے پانچویں ایڈیشن میں بھی اپنی کارکردگی ثابت کرچکے ہیں۔ یہی نہیں دورۂ انگلینڈ میں پریکٹس میچ میں بھی تباہ کن بولنگ کا مظاہرہ کیا تھا لیکن اس کے باوجود انہیں نہ تو انگلینڈ اور نہ ہی نیوزی لینڈ کے خلاف میدان میں اتارا گیا۔

میرے خیال سے یہاں پر بھی بولنگ کوچ وقار یونس کی انا نظر آرہی ہے، جو اپنی ذمے داری سے زیادہ سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ جس کا ثبوت خود انہوں نے محمد عامر کے خلاف بیان دے کر کیا، جس پر عامر کو بھی جواب دینا پڑا۔ میں ہرگز یہاں محمد عامر کے دفاع میں بات نہیں کررہا، میری ذاتی رائے ہے کہ محمد عامر نے ملک پر اپنی ذات کو ترجیح دیتے ہوئے یہ فیصلہ لیا۔ کیوں کہ فکسنگ اسکینڈل کے بعد جس طرح پاکستان نے محمد عامر کا ساتھ دیا، افسوس محمد عامر وہ قرض واپس نہ لوٹا سکے۔ خیر میں بات کررہا تھا ہمارے بولنگ کوچ کی، جن کو سہیل خان سے بھی شاید ویسا ہی کوئی ذاتی مسئلہ ہوگا جیسے انہیں شعیب اختر، شاہد آفریدی، عبدالرزاق اور محمد عامر سے تھا۔ جسے میڈیا کے دباؤ پر 4 سال بعد ڈومسیٹک کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں تو شامل کرلیا جاتا ہے لیکن پلینگ الیون کا حصہ نہیں بنایا جاتا۔

یاد آیا! ہمارے کوچز سے متعلق لاہور قلندرز کے ہیڈ کوچ عاقب جاوید کا بیان کیسے نظر انداز کرسکتا ہوں، جس میں انہوں نے مصباح الحق اور وقار یونس پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا ’’مصباح کو تو کوئی اسکول کا کوچ بھی نہ لگائے‘‘ اور ’’وقار یونس اچھے کمنٹیٹر ضرور ہیں لیکن کوچ نہیں اور وہ صرف پاکستان کی کوچنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں‘‘۔ میرے خیال میں پاکستان کرکٹ کمیٹی اور پی سی بی کو اس بیان پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا، کیوں کہ اس میں تو کوئی شک نہیں مصباح الحق کی مثال ہمارے پرائیوٹ اسکول کی خواتین اساتذہ جیسی ہے، جو اسی اسکول سے میٹرک کرنے کے بعد وہیں پر بطور ٹیچر ذمے داریاں سنبھال لیتی ہیں لیکن والدین سب کچھ جانتے ہوئے بھی ان پرائیوٹ اسکولز سے اپنے بچوں کے روشن مستقبل کی امیدیں لگالیتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

کامران سرور

کامران سرور

بلاگر جامعہ کراچی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات سے ماسٹرز ڈگری کے حامل ہیں اور کرکٹ کے کھیل میں دلچسپی اور معلومات کی وجہ سے اس موضوع پر زیادہ لکھتے ہیں۔ اِس وقت ایکسپریس نیوز میں بطور سینئر سب ایڈیٹر اپنی ذمہ داری سرانجام دے رہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔