سندھ میں صرف 12 سال کے گیس کے ذخائر رہ گئے، صوبائی وزیر توانائی

اسٹاف رپورٹر  بدھ 13 جنوری 2021
ہم کہتے ہیں ہماری گیس ہمیں دیں جو بچ جائے وہ جسے مرضی چاہے دیں، امتیاز شیخ، سندھ اسمبلی میں ارکان کو جواب (فوٹو : فائل)

ہم کہتے ہیں ہماری گیس ہمیں دیں جو بچ جائے وہ جسے مرضی چاہے دیں، امتیاز شیخ، سندھ اسمبلی میں ارکان کو جواب (فوٹو : فائل)

 کراچی: سندھ کے وزیر توانائی امتیاز احمد شیخ نے کہا ہے کہ سندھ میں گیس کے ذخائر صرف 12 سال کے رہ گئے جبکہ پیٹرول کے ذخائر بھی بتدریج کم ہورہے ہیں، سندھ کی گیس پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے، سندھ کی گیس لائنوں کے ذریعے سوئی ناردرن کو دی جا رہی ہے۔

سندھ اسمبلی میں محکمہ توانائی سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سندھ میں مزید 12 سے 15 سال تک گیس دستیاب ہے جب کہ تیل کے 15 سے 20 سال کے لیے ذخائر موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ آئل گیس کے ذخائر کے ریگولیٹری کا معاملہ وفاق کے پاس ہے، آئین کے مطابق جس صوبے سے گیس نکلے وہی صوبہ اس کو استعمال کرنے کا پہلا حق رکھتا ہے۔

امتیاز شیخ نے کہا کہ ہم نے وزراء کو خطوط بھی لکھے اس کے باوجود آئین کے کسی آرٹیکل پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی، سندھ کی 26 سو این ایف سی ایف ڈی گیس ہے، ہم کہتے ہیں ہماری گیس ہمیں دیں جو بچ جائے وہ جسے مرضی چاہے دیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے اس ضمن میں وزیر اعظم کو خط لکھا ہے کیونکہ سندھ کے شہری پریشان ہیں، ہم بار بار وفاق سے کہہ کر تھک گئے، کوئی بھی بات کریں وفاقی وزراء آجاتے ہیں۔

امتیاز شیخ نے کہا کہ ماضی کی حکومت نے کیا کیا؟ ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں، اب اختیار موجودہ وفاقی حکومت کے پاس ہے اس لیے لوگوں کے مسائل حل کرنا بھی آپ کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ملک تاریکی میں ڈوب گیا اور محض 16 گریڈ کے افسر کو معطل کیا گیا۔

پی ٹی آئی کے سعید آفریدی نے کہا کہ وزیر صاحب صرف وفاق وفاق کرتے ہیں جبکہ وہ اسمبلی میں صرف ٹائم ہی پاس کررہے ہیں۔ امتیاز شیخ نے کہا کہ یہ اپنے سوالات جمع کرا دیں میں تفصلی جواب دے دوں گا۔

ایک سوال کے جواب میں امتیاز شیخ نے بتایا کہ سندھ کے ساتھ جو زیادتی کی جارہی ہے اس کے متعلق ہم میڈیا اور پارلیمانی فورم پر بھی بات کر رہے ہیں، اگر کوئی طریقہ دکھائی نہ دیا تو عدالت سے رجوع کریں گے، ہم اپنا حق لینے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم 660 میگا واٹ تھر کول سے دے رہے ہیں، 2 ہزار میگا واٹ بجلی تھر کول بلاک ون اور بلاک ٹو سے آجائے گی، تھر کول کے حوالے سے پورے پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا، وہاں تھر فاؤنڈیشن بہترین کام کررہی ہے، ہم نے تھر میں ماحولیات کے لیے درخت لگائے ہیں، ایسا انسان دوست کام شاید ہی کوئی اور فاؤنڈیشن کررہی ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔