امریکا کی عسکری قیادت کا افواج کے نام خط میں آئین کی پاسداری پر زور

ویب ڈیسک  جمعرات 14 جنوری 2021
خصوصی پیغام پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل مارک ملی سمیت دیگر افواج کے سربراہان نے بھی دستخط کیے ہیں(فوٹو، فائل)

خصوصی پیغام پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل مارک ملی سمیت دیگر افواج کے سربراہان نے بھی دستخط کیے ہیں(فوٹو، فائل)

 واشنگٹن: امریکی عسکری قیادت نے فوجی اہل کاروں، سویلین ملازمین اوران کے اہل خانہ کے نام خط میں جمہوری اقدار کی پاسداری پر زور دیا ہے علاوہ ازیں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کی 8 رکنی کمیٹی نے کہا ہے کہ نومنتخب صدر جو بائیڈن ان کے آئندہ سپریم کمانڈر ہوں گے۔

گزشتہ ہفتے امریکا کے دارالحکومت میں ہونےوالے پُرتشدد واقعات اور کانگریس پر حملے کے بعد نومنتخب صدر جو بائیڈن کی حلف برداری میں بھی حملوں یا پُرتشدد واقعات کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب ڈیموکریٹک نمائیدگان کی جانب سے امریکی ایوان نمائندگان میں ٹرمپ کے دوسری بار مؤاخذے کی تحریک پیش کی گئی۔

اس تحریک پر بحث سے قبل امریکی عسکری قیادت نے جوانوں، فوج کے شہری ملازمین اور افواج میں شامل افراد کے اہل خانہ کو خصوصی پیغام پر مبنی خط لکھا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ کیپٹل ہل پر حملہ دراصل کانگریس اور آئینی جمہوریت پر حملہ تھا۔امریکا کی فوج ہر طرح کے حالات میں اپنے غیر سیاسی کردار پر ثابت قدم ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیے: مواخذے کی کارروائی مضحکہ خیز ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

فوج کے سربراہ کی جانب سے جاری کردہ خط میں کہا گیا ہے کہ جمہوری انتخابات آئینی حق ہے اور ان کے نتائج میں فوج کا کوئی کردار نہیں۔ امریکی افواج میں شامل ہر فرد سے قوم قانون کی پاس داری اور راست روی کی توقع کرتی ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ امریکی عوام کے اعتماد کو بحال رکھنے کے لیے یہ اہم کے جو لوگ کسی بھی حیثیت میں فوج کے نمائندے ہیں وہ پیشہ ورانہ دیانت دار، بلند کرداری اور خلوص کی مثال بن کر دکھائیں۔فوج جانب سے جاری کردہ خط پر امریکا کے آرمی چیف آف اسٹاف جنرل جیمز مک کونول ، آرمی سیکریٹر ریان مکارتھی اور سارجنٹ آف آرمی مائیکل گرنسٹن کے دستخط ہیں۔

خلاف معمول بھیجے گئے اس خط سے قبل جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمپٹی کی جانب سے بھی کیپٹل ہل میں ہونے والے حملوں کی مذمت کی گئی اور انہیں مجرمانہ فعل قرار دیا گیا۔ خصوصی پیغام میں کہا گیا کہ آزادیٔ اظہار کسی کو تشدد کا حق نہیں دیتی۔ عسکری قیادت نے اس میمو میں کہ بھی واضح کردیا ہے کہ افواج جوبائیڈن کو اپنا اگلا سپریم کمانڈر تسلیم کرچکی ہیں۔ اس پر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل مارک ملی سمیت دیگر افواج کے سربراہان نے بھی دستخط کیے ہیں۔ ان پیغامات کو امریکا کی سیاسی تاریخی تناظر میں غیر معمولی قرار دیا جارہا ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیے: امریکی ایوان نمائندگان میں صدر ٹرمپ کو عہدے سے ہٹانے کی قرارداد منظور

درایں اثنا امریکی خفیہ ادارے ایف بی آئی کی جانب سے انتباہ جاری کیا گیا ہے کہ تمام امریکی ریاستوں کے دارالحکومتوں اور واشنگٹن میں نو منتخب صدر کی حلف برادری کے موقعے پر مسلح احتجاج ہونے کا امکان ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔