پولیس کی مجرمانہ غفلت، تاجر کے بنگلے میں چوری کرنیوالی ماسیوں نے ایک اور بنگلہ لوٹ لیا

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 14 جنوری 2021
پولیس سی ڈی آر پر آنے والے موبائل نمبر پر فوری رابطہ کرلیتی تو دونوں ماسیاں گرفتار ہو جاتیں۔ فوٹو: فائل

پولیس سی ڈی آر پر آنے والے موبائل نمبر پر فوری رابطہ کرلیتی تو دونوں ماسیاں گرفتار ہو جاتیں۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  گلستان جوہر انویسٹی گیشن پولیس کی مجرمانہ غفلت کے باعث تاجر کے بنگلے سے بھاری مالیت کے طلائی زیورات چوری کرنے والی گھریلو ماسیوں نے گلشن معمار کے بنگلے میں بھی 30 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات اور نقدی چوری کر کے فرار ہوگئیں۔

کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں بنگلے سے بھاری مالیت کے طلائی زیورات چوری کرنے کی واردات کے بعد ماسیوں کے موبائل فون کا سی ڈی آر نکلوایا گیا تو اس میں دوسرا موبائل فون نمبر بھی سامنے آیا جو گلشن معمار کی رہائشی خاتون کا تھا مذکورہ ریکارڈ انویسٹی گیشن پولیس کو فراہم کیا گیا تاہم انھوں نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا جس کا نقصان گلشن معمار کے مکین کو بھاری مالیت کی چوری کے عوض برداشت کرنا پڑا۔

گلستان جوہر بلاک 15 بنگلہ نمبر بی 178 میں ماسیوں کے ہاتھوں بھاری مالیت کے طلائی زیورات سے محروم ہونے والے تاجر شہاب نے بتایا کہ 7 جنوری بروز جمعرات کو ان کے گھر سے گھریلو ماسیاں حمیرا اور سمیرا جو کہ بہنیں ہیں کام کاج کے دوران بھاری مالیت کے طلائی زیورات چوری کر کے لے گئیں تھیں اور اس واردات کے بعد انھوں نے اپنے طور پر ماسیوں کے موبائل فون کا سی ڈی آر نکلوایا تو اس میں ایک موبائل فون نمبر میری اہلیہ کا جبکہ ایک اور نمبر بھی سامنے آیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ مذکورہ سی ڈی آر انویسٹی گیشن پولیس کو دیا کہ وہ فوری طور پر اس نمبر پر رابطہ کریں تاہم انھوں نے ایسا کرنے سے گریز کیا اور اس کا خمیازہ یہ ہوا کہ دونوں ماسی بہنوں نے 9 جنوری کو گلشن معمار کے علاقے میں واقعے بنگلے سے بھی بھاری مالیت کے طلائی زیورات اور نقدی بھی چوری کر کے فرار ہوگئیں۔

گلشن معمار کے متاثرہ مکین سجاد سے ایکسپریس نے رابطہ کیا تو انھوں نے بتایا کہ وہ سیکٹر زیڈ 5 میں رہائش پذیر ہیں گھر کے نیچے انھوں نے منی مارٹ کھولا ہوا ہے گزشتہ ہفتے کو گھریلو ماسیاں کام کاج کے لیے آئیں جس میں ایک نے ان کی اہلیہ کو باتوں میں لگائے رکھا جبکہ دوسری ماسی نے الماری سے نقدی اور طلائی زیورات چوری کرلیے۔

انھوں نے بتایا کہ واردات کا پتہ انھیں پیر 11 جنوری کو چلا جب کسی کو رقم نکالنے کے لیے الماری کا لاکر کھولا تو اس میں سے رکھے ہوئے 9 لاکھ روپے  اور تقریباً 18 تولہ سونے کے زیورات غائب تھے جس پر انھوں نے گلشن معمار پولیس کو بھی واقعے سے آگاہ کرتے ہوئے درخواست جمع کرا دی جبکہ پولیس نے آج جمعرات کو مقدمہ درج کرنے کا وعدہ کیا ہے جبکہ کلوز سرکٹ کیمرے کی فوٹیج میں دونوں ماسیاں واردات کے بعد گلی میں تیز تیز قدموں سے جاتے ہوئے بھی دکھائی دیں ہیں۔

متاثرہ شہریوں نے کراچی پولیس چیف غلام نبی میمن سے اپیل کی ہے کہ وہ واقعے کا نوٹس لیں اور واردات میں ملوث دونوں خواتین کو گرفتار کر کے چوری کی گئی نقدی اور طلائی زیورات برآمد کرانے میں اپنا اہم کردار ادا کریں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔