بولرز بے دانت کے شیر، کوچ کا ’’سرفخر‘‘ سے بلند

اسپورٹس رپورٹر  جمعرات 14 جنوری 2021
میرے بارے میں دفاعی سوچ کا تاثر درست نہیں ہمیشہ جارحانہ رویہ رکھا، ہیڈ کوچ، فوٹو: فائل

میرے بارے میں دفاعی سوچ کا تاثر درست نہیں ہمیشہ جارحانہ رویہ رکھا، ہیڈ کوچ، فوٹو: فائل

 لاہور: دورہ نیوزی لینڈ میں پاکستانی بولرز بے دانت کے شیر نظر آئے، انھوں نے2 ٹیسٹ میں 1228 رنز دے کر محض20 وکٹیں ہی لیں جب کہ اوسط61.4 رہی، اس کے باوجود بولنگ کوچ وقار یونس کا سر’’فخر‘‘ سے بلند ہے۔

نیوزی لینڈ سے 2 ٹیسٹ کی سیریز میں پاکستان کو 0-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا،اس دوران بولرز کی کارکردگی 1228 رنز دے کر61.4 کی ایوریج سے20 وکٹ رہی، اس کے برعکس کیوی بولرز نے24.38کی اوسط سے951 رنز دے کر39 وکٹیں لیں۔ پاکستانی کوچز کی ناقص کارکردگی پر بھی بولنگ کوچ وقار یونس کو کوئی شکایت نہیں۔

قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ میں کسی چیز کے پیچھے چھپنے کیلیے نہیں آیا ہوں،دورۂ نیوزی لینڈ مشکل تھا، کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل بھی سامنے تھے،کسی بھی ایتھلیٹ کیلیے قرنطینہ آسان نہیں، کیویز اپنی کنڈیشنز میں ہمیشہ سخت جان حریف ثابت ہوتے ہیں، بہر حال میں کوئی عذر پیش نہیں کررہا، ہم توقعات کے مطابق پرفارم نہیں کرسکے۔

انھوں نے کہا کہ پہلے ٹیسٹ میں ہماری کارکردگی اچھی رہی،ہم نے آخر تک فائٹ کی،اس میچ میں کچھ غلطیاں بھی ہوئی جن کی وجہ سے نتیجہ اپنے حق میں نہیں کرسکے، دوسرے ٹیسٹ میں ڈراپ کیچز اور نوبال سے مسائل ہوئے، دیگر ٹیموں کے بولرز کا تجربہ دیکھیں تو ہمارے پیسرز نوآموز ہیں مگر سب میرے لیے باعث فخر ہیں کہ انھوں نے مشکل حالات میں بھی بھرپور فائٹ کی، مستقبل میں مزید بہتری آتی جائے گی۔

وقار یونس نے کہا کہ نسیم شاہ باصلاحیت مگر ابھی صرف 18سال کے ہیں، ان حالات میں ایسی ہی بولنگ کی جا سکتی تھی، انھوں نے بنگلہ دیش سے ہوم ٹیسٹ میں ہیٹ ٹرک سمیت عمدہ کارکردگی دکھائی تھی،وہ بہت تیزی سے سیکھ رہے ہیں، کورونا مشکلات کے باوجود گذشتہ 8ماہ میں دیگر بولرز کی کارکردگی میں بھی نمایاں بہتری آئی۔

سابق عظیم پیسر نے کہا کہ میرے بارے میں دفاعی سوچ کا تاثر درست نہیں، میں نے 87 ٹیسٹ کھیلے اور ہمیشہ جارحانہ رویہ رکھا، میں یہی چاہتا ہوں کہ ٹیم کی اپروچ بھی جارحانہ ہو۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ میرے لیے رفتار سے زیادہ اہم حریف ٹیم کی20 وکٹیں حاصل کرنا ہے، 150کی اسپیڈ میں وکٹ حاصل نہ ہوتو فضول ہے،میری کوشش ہوتی ہے کہ بولرز کی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرسکوں، ہم کھلاڑیوں کو ٹیسٹ کرکٹ کے تقاضوں سے آگاہ کرتے ہیں لیکن حالات ایسے تھے کہ اچھی تیاری نہیں کرسکے، بابر اعظم کے انجرڈ ہونے سے ٹیم کا بڑا نقصان ہوا، فزیو کی جانب سے تھرو بولنگ کو ان کے زخمی ہونے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا، انجری کھیل کا حصہ اور کسی بھی کھلاڑی کو ہوسکتی ہے۔

ایک سوال پر بولنگ کوچ نے کہا کہ پلیئنگ الیون کی سلیکشن میں کوچز کا کردار ختم کرنے کی بات خبروں تک رہے تو بہتر ہے، جب فیصلہ سامنے آئے گا تودیکھیں گے، فی الحال پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، انھوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ سے سیریز کیلیے ٹیم کا انتخاب نئی سلیکشن کمیٹی کو کرنا ہے،اگر انھوں نے مشورہ کیا تو اپنی رائے دیں گے، ہم ہوم میچز میں اچھی کارکردگی پیش کرنے کیلیے پْرعزم ہیں، وائٹ بال کرکٹ میں ہمارے پاس اچھے وسائل ہیں، آئندہ سیریز اور ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اچھی کارکردگی کی امید ہے، جنوبی افریقہ کیخلاف ہوم سیریز میں بھی بہتر کارکردگی دکھانے کیلیے پْرعزم ہیں۔

کرکٹ کمیٹی کے ربڑ اسٹیمپ ہونے یا اس کے فیصلوں کا دباؤ محسوس کرنے کے سوال پر وقار یونس نے کہا کہ ربڑ اسٹیمپ والی بات پر تو میں کوئی تبصرہ نہیں کرسکتا،البتہ اجلاس میں بات کرنا اچھا لگا، سابق کھلاڑیوں نے کرکٹ پر بات کی اور اچھے سوالات کیے،ایسی میٹنگز مسلسل ہونا چاہئیں، دباؤ تو ساری زندگی برداشت کیا ہے،ہم جانتے ہیں کہ پروفیشنل کرکٹ میں کھلاڑیوں کی طرح کوچز کا کنٹریکٹ بھی کارکردگی کی بنیاد پر چلتا ہے،ہم اپنی طور پر بہتری کیلیے پوری کوشش کررہے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔