ایران کا جنگی مشق میں بیلسٹک میزائل اور ’بمبار ڈرونز‘ کا تجربہ

ویب ڈیسک  جمعـء 15 جنوری 2021
ایرانی بحریہ نے خلیج فارس میں دو روزہ جنگی مشقوں کا آغاز کیا ہے، فوٹو: فائل

ایرانی بحریہ نے خلیج فارس میں دو روزہ جنگی مشقوں کا آغاز کیا ہے، فوٹو: فائل

تہران: ایران نے بڑے پیمانے پر جنگی مشقوں کا آغاز کیا ہے جس میں جدید بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کا تجربہ کیا گیا ہے۔ 

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بحری عمان اور خلیج فارس میں ایران کی مسلح افواج کی تیاری اور فوجی صلاحیت کو بلند کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر بحری جنگی مشقوں کا انعقاد کیا گیا۔

ایران میں فوجی مشقوں کے پہلے دور میں جنگی طیاروں سے زمین پر بیلسٹک میزائلوں اور جنگی بمبار ڈرونوں کا تجربہ کیا گیا۔ مشقوں کے دوران ذوالفقار، زلزال اور دزفول میزائلوں کو اہداف پر داغا گیا۔

یہ خبر بھی پڑھیں : ایران نے خلیج فارس کے ساحل پر زیرزمین میزائل اڈے کا افتتاح کردیا

یہ میزائل قابل دست راست اور رہنمائی کرنے والے وار ہیڈس سے لیس تھے جو دشمن کے میزائل دفاعی شیلڈ میں خلل ڈالنے اور دراندازی کرنے کے قابل تھے۔ بیلسٹک میزائلز اور ڈرونز کی جدید قسم نے مخلوط حملہ کیا اور اپنے تمام اہداف کو درستگی کے ساتھ تباہ کیا۔

Iran millitary drill

دو روزہ بحری جنگی مشق کے موقع پر ایران کی پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر میجر جنرل حسین سلامی اور آئی آر جی سی ایرو اسپیس کمانڈر بریگیڈیئر جنرل عامر علی نے بھی شرکت کی۔

پاسداران انقلاب کے چیف کمانڈر نے کہا کہ یہ مشق اور اس میں کیے گئے کامیاب تجربات اسلامی دنیا اور ایرانی عوام کے لیے قابل فخر ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے استعمال سے جنگی استعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ہی پاسداران انقلاب نے خلیج فارس کے ساحلی علاقے میں میزائلوں کے زیر زمین سب سے بڑے اڈے کا افتتاح کیا تھا اور اب بحری عمان اور خلیج فارس میں فوجی مشق کا آغاز کیا گیا ہے جس سے خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ ہے۔

 

 

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔