وزیر اعظم نے مولانا سمیع کو طالبان سے مذاکرات کا ٹاسک دیدیا

طالبان حکومت کی طرف سے پہل کا انتظارکررہے ہیں،امریکا کو بات سمجھنی چاہیے، سربراہ جے یوآئی س، شمالی وزیرستان میں ٓآپریشن بند اور نقصانات کے ازالے کا مطالبہ ۔ فوٹو : آن لائن

طالبان حکومت کی طرف سے پہل کا انتظارکررہے ہیں،امریکا کو بات سمجھنی چاہیے، سربراہ جے یوآئی س، شمالی وزیرستان میں ٓآپریشن بند اور نقصانات کے ازالے کا مطالبہ ۔ فوٹو : آن لائن

اسلام آ باد / لاہور / راولپنڈی: وزیراعظم نوازشریف نے جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو طالبان سے مذاکرات کیلیے راہ ہموارکرنے کا ٹاسک دے دیا ہے جبکہ مولانا سمیع الحق نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن بندکیا جائے اور وہاںپر ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائے۔

سمیع الحق نے وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم سے ڈیڑھ گھنٹہ تک ون آن ون ملاقات کی۔ ملاقات میں طالبان سے مذاکرات اورآئندہ کی حکمت عملی سے متعلق امور پر مشاورت اور قومی اہمیت کے معاملات پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ نواز شریف نے مولانا سمیع الحق کو بتایا کہ طالبان سے مذاکرات حکومت کی پہلی ترجیح ہیں۔ اس لیے مولانا سمیع الحق اس سلسلے میں اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے مذاکرات کی راہ ہموار کریں اور انہیں مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ وزیراعظم سے ملاقات کے حوالے سے مولانا سمیع الحق نے بتایا کہ انھوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن بند اور وہاں ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی کیا جائے۔ طالبان حکومت کی طرف سے پہل کا انتظارکررہے ہیں۔ مولانا نے وزیراعظم کو یقین دہانی کرائی کہ وہ امن کیلئے اپنا کردار اداکرنے کو تیار ہیں۔ بنیادی مسئلہ یہی ہے کہ ڈرون حملے بند کرائے جائیں۔ امریکا کو سمجھنا چاہیے کہ طالبان سے مذاکرات ایک اچھا عمل ہے۔

جب بھی ہم مذاکرات کیلیے تیارہوتے ہیں تو بیرونی دباؤہمیں آگے بڑھنے نہیں دیتا، پرائی جنگ میں ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے ہیں۔ طالبان سے مذاکرات کیلیے کمیٹیاں بنائی جائیں گی اور اس سلسلے میں پیشرفت سے میڈیا کو آگاہ کیا جائیگا، ملاقات میں سانحہ راولپنڈی اور فرقہ واریت کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مولانا سمیع الحق کے ایک ترجمان احمد شاہ نے بی بی سی سے کو بتایا کہ اتوار کو وزیراعظم نے مولانا کو فون کرکے ملاقات کی درخواست کی تھی۔ وزیراعظم نے ملاقات میں مولانا سمیع الحق سے کہا کہ ہم طالبان سے مذاکرات چاہتے اور اس کے حق میں ہیں اور اس میں آپ اپنا کردار ادا کریں اور ہم جو کرسکتے ہیں وہ کریں گے۔ سمیع الحق نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکا کے ساتھ تعاون سے متعلق ملک کی خارجہ پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی اور اس کے علاوہ قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کو روکنے کیلیے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

ایک سوال پر احمد شاہ نے کہا کہ ہمارا طالبان دھڑوں سے ابھی کوئی رابطہ نہیں کیونکہ نواز شریف نے اچانک فون کرکے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا اور طالبان سے بات چیت شروع کرنے کو کہا۔ تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی جانب سے بات چیت سے انکار پر احمد شاہ نے کہا کہ ابھی تو طالبان سے رابطہ کرنے کیلیے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا اور طالبان سے رابطوں کے بعد ان کی طرف سے آنے والا ردعمل اہم ہوگا کیونکہ اس سے پہلے تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود سمیت کسی بھی رہنما نے بات چیت کرنے پر رضامندی ظاہر کی تو وہ ڈرون حملے میں مارا گیا۔ این این آئی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے ایک بار پھر طالبان سے مذاکرات کا سلسلہ آگے بڑھانے کیلیے عملی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ حکومت طالبان سے مذاکرات کے دوران ڈرون حملے روکنے کیلیے امریکا سے بات چیت کرے اور مذاکرات کے دوران کسی بیرونی دباؤ کو خاطر میں نہ لایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ کی بنیاد پر آگے بڑھے گا اور وہ اس حوالے سے حکومت کو پیشرفت سے آگاہ کرینگے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا سمیع الحق نے کہا کہ وزیراعظم نے مجھے آگاہ کیا کہ وہ طالبان سے مذاکرات کے خواہاں ہیں اور مذاکرات کو ہی حل سمجھتے ہیں اور اولین اور اہم آپشن مذاکرات ہیں۔ میری پالیسیاں وہ نہیں جو میرے پیشرو حکمرانوں کی تھی۔ ہم آخری وقت تک مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کریں گے جس پر میں نے انکا خیرمقدم کیا اور ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ میں نے نوازشریف سے کہا کہ وہ اپنی خاجہ پالیسیوں میں نظرثانی کریں۔ علاوہ ازیں جے یو آئی (س) کے ترجمان اور مرکزی سیکریٹری اطلاعات مولانا عاصم مخدوم نے کہا کہ یہ معاملات اتنی جلد آگے نہیں بڑھ سکتے، اس کیلیے حکمت عملی طے کی جائے گی اور اس کیلیے دیگر رہنماؤں کو بھی اعتماد میں لیا جانا ناگزیر ہے۔وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان میں کسی قسم کا آپریشن نہیں ہورہا۔

مذاکرات ہماری پہلی ترجیح ہے، طالبان سے مذاکرات کیلیے حکومتی ٹیم تشکیل دے دی جو قومی عزت کو افضل رکھ کر مذاکرات کررہی ہے۔ آئندہ چند روز میں اچھی خبر ملے گی۔ ریجنل پاسپورٹ آفس راولپنڈی کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو میں انھوں نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی پر قوم، حکومت اورعسکری قیادت سمیت تمام ادارے متفق ہیں۔ دن رات ایک کررہے ہیں، بہت جلد پیشرفت ہوگی۔ بات صرف نیت کی ہوتی ہے۔ نیت صاف ہو تو کامیابی لازمی ملتی ہے۔ مذاکرات کا ایک طریقہ ہوتا ہے۔ قومی عزت کو افضل رکھنا ہے۔ انشااللہ مثبت پیشرفت ہوگی لیکن جب کام کررہے ہوتے ہیں تو دوسری جانب سے اعلان سامنے آجاتا ہے کہ مذاکرات نہیں چاہتے۔ ہم انکی باتوں پر نہیں، کام پر یقین رکھتے ہیں اور مذاکرات کے حوالے سے پیشرفت بھی ہوئی ہے۔چودھری نثار نے کہا کہ وفاق فاٹا کے حالات پر بھی خاموش نہیں لیکن اسکی تشہیر نہیں کررہے۔ حکومتی مذاکراتی ٹیم اپنا کا م کررہی ہے۔ مولانا سمیع الحق سمیت جو بھی اس کام میں مثبت کردار ادا کررہا ہے وہ قومی فریضہ سرانجام دے رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ سابق صدر پرویز مشرف جب اقتدار میں تھے تو فوج کے نام اور طاقت کو غلط استعمال کیا اور اب اپنی جان بچانے کیلئے فوج کے نام کو غلط استعمال کر رہے ہیں۔ حکومت، فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کے اتفاق رائے سے قومی سلامتی کے حوالے سے فریم ورک تیار کرلیا ہے۔ انھوں نے کہا کہایف آئی اے، پاسپورٹ، نادرا سمیت وزارت داخلہ کے تمام اداروں میں کرپشن کا خاتمہ کردیا ہے۔ یہاں پر ہفتے کے سات یوم کام ہو رہا ہے۔سندھ حکومت کو پسند کا چیف سیکریٹری، آئی جی، رینجرز اور انٹلی جنس سپورٹ فراہم کی جس سے آج کراچی میں 40فیصد کرائم ریٹ کم ہوگیا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔