مودی بلوچستان میں فائدہ اٹھانے، پختونوں میں بے چینی پھیلانے میں مصروف

خالد محمود  منگل 19 جنوری 2021
معاہدے کی ناکامی پاکستان کی ناکامی قرار پائے گی، کتاب ’’میرے دشمن کا دشمن‘‘۔ فوٹو: فائل

معاہدے کی ناکامی پاکستان کی ناکامی قرار پائے گی، کتاب ’’میرے دشمن کا دشمن‘‘۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: بھارت کی خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے گریٹ ڈبل گیم بے نقاب ہو گئی، گریٹ ڈبل گیم کے نتائج سامنے آنے کی توقع 2020کے ابتدائی ایام میں تھی لیکن کورونا وائرس نے اس میں بریک لگا دی۔

2021 کے آغاز کے ساتھ ہی یہ گیم دوبارہ شروع ہو چکی، ہزارہ مزدوروں کے قتل کے ذریعے پاکستان میں فرقہ وارانہ آگ بھڑکانے کی سازش ناکام ہو گئی، کنگز کالج لندن میں ڈیفنس اسٹڈیز کے پروفیسر اوی ناش پلوال کی کتاب ’’میرے دشمن کا دشمن‘‘ کے سرورق پر اشرف غنی اور نریندر مودی ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں۔

بھارتی نژاد اوی ناش پلوال نے اپنی اس کتاب میں افغانستان میں نریندر مودی کی گریٹ ڈبل گیم کا کچا چٹھا کھول دیا، مودی ایک طرف بلوچستان میں فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں، دوسری طرف پاکستان کے پختونوں میں بے چینی پھیلانے میں مصروف ہیں، اِس مقصد کیلیے وہ افغانستان کے راستے سے پاکستان میں مداخلت کر رہے ہیں۔

یہ کتاب 2017میں شائع ہوئی تھی، 2020میں عیدالفطر اور عیدالاضحی کے موقع پر طالبان نے سیز فائر کیا، سیز فائر کے دوران داعش نے حملے کئے،جب ننگرہار اور کنڑ میں طالبان نے داعش کو شکست دی تو داعش کے جنگجوں کو افغان فوج نے پناہ دی۔

دشمن کے دشمن کی گریٹ ڈبل گیم کا مقصد امریکہ طالبان امن معاہدے کو ناکام بنانا ہے، اِس معاہدے کی ناکامی پاکستان کی ناکامی قرار پائے گی۔

دوسری جانب بھارتی سازش بے نقاب ہونے پروزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے،عام انتخابات سے قبل بی جے پی سرکار کو کافی دقت ہو رہی تھی، پانچ ریاستی انتخابات میں وہ شکست کھا چکی تھی،رائے عامہ اپنے حق میں کرنے کیلئے بی جے پی سرکار نے پلوامہ حملہ کرا کر اپنے 40  فوجیوں کی لاشوں پر سیاست کی، بھارت نے جب یہ ناٹک رچایا تو ہم نے فوری طور پر اسے مسترد کیا، اسے جھوٹ کا پلندہ قرار دیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔