خیبر پختونخوا میں بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح کو بہتر بنانے کا فیصلہ

شاہدہ پروین  ہفتہ 23 جنوری 2021
انتظامی تبدیلیوں کی وجہ سے ضم اضلاع میں پروگرام کی رفتار سست ہے، ڈی جی ہیلتھ خیبر پختونخوا فوٹو: فائل

انتظامی تبدیلیوں کی وجہ سے ضم اضلاع میں پروگرام کی رفتار سست ہے، ڈی جی ہیلتھ خیبر پختونخوا فوٹو: فائل

 پشاور: خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں بچوں کے حفاظتی ٹیکہ جات کی شرح کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے لئے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں471 ویکسینیٹرز کی آسامیوں پر بھرتی کی تیاری مکمل کرلی ہے، ان ویکسینیٹرز کو گریڈ 12 میں بھرتی کیا جائےگا ، ضم قبائلی اضلاع سمیت صوبے میں قومی ای پی آئی پالیسی کے تحت 5263 ویکسینیٹرز درکار ہیں، اس وقت 2882 آسامیاں پُر جبکہ 276 خالی ہیں۔ اس سلسلے میں تمام درخواستوں کی باضابطہ شارٹ لسٹنگ جاری ہے۔

ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر نیاز کےمطابق انتظامی تبدیلیوں کی وجہ سے ضم اضلاع میں پروگرام کی رفتار سست ہے تاہم ویکسینیٹرز کی ریشنلائزیشن کےلئے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسران نے محکمہ صحت کو ڈیٹا بجھوا دیا ہے، جس کے لئے مانیٹرنگ پروگرام بھی وضع کیا گیا ہے، قبائلی ضم اضلاع میں ویکسینیٹرز کےلئے نئی ریڈ الیسی کو متعارف کروانے کی تیاری کی جارہی ہے جس سے نہ صرف ہر ضلع میں ہر بچے تک رسائی کی جائے گی بلکہ ٹیکنیکل سپورٹ مزید بہتر ہوگی، ضم اضلاع میں 90 فیصد ویکسینیٹرز کو موٹرسائیکل و دیگر سہولیات کی فراہمی شروع کردی گئی ہے.جس کے بعد اب ویکسینیٹرز محکمے کے سرویلنس سسٹم میں ہوں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔