کسان تحریکیں

ظہیر اختر بیدری  پير 25 جنوری 2021
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

بھارت آبادی کے حوالے سے دنیا میں چین کے بعد سب سے بڑا ملک ہے۔ اس بڑے ملک کے کسان لگ بھگ دو ماہ سے اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرے کر رہے ہیں۔ سردیوں کے اس موسم میں بوڑھے جوان، عورتیں،بچے سڑکوں پر پڑے ہوئے ہیں لیکن مودی حکومت ان کے مطالبات ماننے کے لیے تیار نہیں اور ہزاروں کسان بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں بلکہ آئے دن ہڑتالی کسانوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہو رہا ہے اور یہ تحریک پھیلتی ہی جا رہی ہے۔

پاکستان میں اگرچہ زرعی اصلاحات ہو چکی ہیں لیکن سندھ اور پنجاب کے بعض حصوں میں اب بھی جاگیردار موجود ہیں اور یہ مخلوق آج بھی ہزاروں ایکڑ زرعی زمین کے مالک ہیں، بلاشبہ پاکستان میں ایک نہیں تین بار زرعی اصلاحات نافذکی جاچکی ہیں لیکن آج بھی زرعی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں جاگیردار اور وڈیرے بہت مضبوط ہیں، بلکہ سیاست میں ان کا اثرورسوخ بہت زیادہ ہے اورقانون ساز اداروں میں بھی یہ مخلوق پائی جاتی ہے۔ سندھ میں وڈیرہ شاہی کافی مضبوط ہے اور اس کا اثر ورسوخ اتنا ہے کہ وہ انتظامیہ پرحاوی رہتی ہے۔ وڈیرے بڑے بڑے جرائم حتیٰ کہ قتل جیسے جرم کا ارتکاب کرکے محفوظ رہتے ہیں۔

ہمیں نہیں معلوم کہ بھارت کے کسان جو قربانیاں دے رہے ہیں، اس کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ ہاں، کسانوں کی سخت سردی کے زمانے میں سڑکوں پر دھرنا دے کر جو تکلیف اٹھا رہے ہیں، اس سے دو باتیں ظاہر ہو رہی ہیں کہ بھارت میں آج بھی کسان سخت مشکلات کا شکار ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ بھارت ہڑتالی کسانوں کو جو سیاسی سپورٹ ملنا چاہیے تھی وہ نہیں مل رہی ہے اگر کسان تحریک کو بھرپور سیاسی حمایت حاصل ہوتی تو کب کے اس تحریک کو کامیابی حاصل ہوچکی ہوتی۔ اس تحریک سے یہ فائدہ ضرور ہوا کہ کسانوں میں یکجہتی پیدا ہوئی اور انھیں اپنے حقوق کا احساس ہوا۔

زرعی معیشت رکھنے والے ملکوں میں اجناس وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے اورگندم، چاول، باجرہ، دالیں، سبزیاں وغیرہ زرعی معیشت کی عام پیداوار ہیں۔ بدقسمتی سے زرعی معیشت کو ترقی دینے والے کسان اور ہاری کھیت مزدورکی حیثیت سے کام کرتے ہیں اور انھیں ان کی محنت کا معاوضہ اجناس کی شکل میں دیا جاتا ہے۔ حالانکہ نقد فصلیں بڑی مقدار میں پیدا ہوتی ہیں۔ گنا زرعی معیشت کی ایک اہم پیداوار ہے اسی طرح سبزیاں وغیرہ بھی نقد پیداوار میں شامل ہوتی ہیں۔ پہلے زرعی معیشت میں ہل بیل بنیادی کردار ادا کرتے تھے اب ان کی جگہ مشینی کاشت نے لے لی ہے جس میں ٹریکٹر اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مشینی کاشت سے پیداوار میں بہت اضافہ ہوتا ہے۔

کھاد، بیج وغیرہ فصلوں کی اہم ضرورتیں ہیں۔ پاکستان بھی ایک زرعی ملک ہے لیکن اس میں بھی زمین کی ملکیت کے بڑے حصے پر جاگیردار، وڈیرے بڑے کسانوں کا قبضہ ہے۔ جاگیردارانہ نظام جب تک جاری و ساری تھا کسانوں اور ہاریوں کی حالت کھیت مزدوروں کی تھی لیکن آزادی کے بعد ہر طرف زرعی اصلاحات کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کو ختم کر دیا گیا۔ پاکستان میں بھی ایوب خان اور ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں زرعی اصلاحات نافذ کی گئیں لیکن چونکہ پاکستان میں جاگیردار اور وڈیرے بہت مضبوط تھے، سو انھوں نے زرعی اصلاحات کو ناکام بنا دیا۔

ایوب خان کی زرعی اصلاحات سیاسی تھیں جب انھوں نے اقتدار سنبھالا تو ان کے مشیروں نے بتایا کہ پاکستان میں وڈیرے اور جاگیردار بہت مضبوط ہیں یہ ان کی حکومت کے لیے خطرہ ثابت ہوسکتے ہیں، سو صدر ایوب خان نے جاگیرداروں اور وڈیروں کو دبانے، ان کی طاقت توڑنے کے لیے زرعی اصلاحات نافذ کرکے زمینیں چھین لیں اور اس طرح ان کے اثر و رسوخ کا خاتمہ کردیا لیکن یہ زرعی اصلاحات کسانوں اور ہاریوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے نہیں کی گئی تھیں بلکہ جاگیردار طبقے کو بلیک میل کرنے کے لیے کی گئی تھیں لہٰذا وہ جاگیرداروں کو ان کی زمینیں واپس کردی گئیں جنھوں نے ایوب خان کے سامنے اپنے آپ کو سرینڈرکردیا تھا یوں ایوبی زرعی اصلاحات سیاست کی نذر ہو گئیں ملک میں جاگیردارانہ نظام قائم رہا۔

پاکستان میں بار بارکسان اور ہاری سڑکوں پر آتے ہیں لیکن پاکستان میں کسانوں کی کوئی مضبوط قیادت نہیں۔ مودی سرکار دراصل کشمیر میں زیادہ ایکٹیو ہے لہٰذا اسے بھارتی کسانوں کی تحریک سے وہ دلچسپی نہیں ہے جو ہونی چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔