بدمعاشی اور بدمعاشوں کے خلاف کریک ڈاؤن

مزمل سہروردی  پير 25 جنوری 2021
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

بدمعاشی اور بدمعاش ہر معاشرہ میں ہوتے ہیں۔ البتہ مختلف معاشروں میں معاشرتی رسم و رواج اور اقدار کی بنیاد پر ان کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ پاکستان کے مختلف علاقوں میں بھی بدمعاشی اور بد معاش بدرجہ اتم موجود ہیں۔ لیکن اس کی بھی نوعیت مختلف ہے۔ جیسے معاشرے ترقی کر رہے ہیں بدمعاشوں اور بدمعاشی کی نوعیت بھی بدلتی جا رہی ہے۔ جن علاقوں میں ابھی جاگیرداری اور وڈیرا نظام موجود ہے وہاں جاگیردار اور وڈیرے ہی بدمعاشی کا لائسنس رکھتے ہیں۔

اگر وہ خود بدمعاش اور بد معاشی نہیں کر رہے ہیں تو ان کے پالتو اور ملازمین ان کے لیے یہ کام کرتے ہیں۔ لیکن ان کی آشیر باد کے بغیر بدمعاشی ممکن نہیں۔ قبائلی علاقوں میں  اس کی شکل مختلف ہے۔ وہاں عسکری گروپوں نے بدمعاش اور بد معاشی کا کام سنبھال لیا ہے۔ ایک دور میں قبائلی سردار یہ کام کرتے تھے لیکن اب مختلف عسکری گروپ اور ان کے سربراہان یہ کام کر رہے ہیں۔ البتہ شہروں میں بدمعاش اور بدمعاشی کی نوعیت دیہی علاقوں سے کافی مختلف ہے۔ کراچی میں اس کی نوعیت لاہور پنجاب سے کافی مختلف ہے۔

وہاں ایک سیاسی جماعت نے اپنے عسکری ونگ سے بدمعاش اور بدمعاشی کا کام خود سنبھال لیا ہوا ہے۔ ریاست شدید کوشش کے باوجود ابھی تک اس کو توڑ نہیں سکی ہے۔ اس کے مقابلے میں  بھی عسکری ونگ بنے ہیں جنھیں دیگر سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی ہے۔ دونوں عسکری ونگز کی لڑائی نے ملک کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔ تاہم پنجاب اور بالخصوص شہری پنجاب میں بدمعاش اور بدمعاشی کی شکل اور صورتحال بالکل مختلف ہو گئی ہوئی ہے۔

پنجاب اور بالخصوص شہری پنجاب میں بدمعاشوں اور بدمعاشی نے کارپوریٹ کلچر اختیار کر لیا ہوا ہے۔ لاہور میں تو بدمعاشوں اور ان کی بدمعاشی بالخصوص ایک کارپوریٹ سائنس بن گئی ہے۔ کراچی میں اس سائنس کو ایک سیاسی جماعت نے مکمل طور پر یرغمال بنا لیا تھا۔ لیکن پنجاب اور لاہور میں یہ کسی سیاسی جماعت کی مکمل طور پر میراث نہیں ہے۔

جیسے لوگ انفرادی طور پر کاروبار کرتے ہیں اسی طرح لاہور میں شہری پنجاب میں لوگ انفرادی طور پر بدمعاشی کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنی بدمعاشی کو قائم رکھنے کے لیے ریاستی مشینری کی حمایت ضرور حاصل کرتے ہیں۔ پولیس کی حمایت حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ انھوں نے اپنی اس بدمعاشی کو کاروبار بھی بنا لیا ہوا ہے۔ وہ اپنی بدمعاشی کو اپنے کاروبار کو بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

لاہور میں بالخصوص بدمعاش غیر قانونی کام کرتے ہیں۔ جن میں جوئے کا اڈا چلانا تو شامل ہے لیکن سب سے منافع بخش کام پراپرٹی کا بن گیا ہے۔لاہور کے بدمعاش بالخصوص پراپرٹی کے کام میں بہت آگے جا چکے ہیں۔

ناجائز قبضے متنازعہ پراپرٹیوں کی خرید و فروخت اور لوگوںکی زمینوں پر قبضے، لاہور بالخصوص شہری پنجاب کے بدمعاشوں کے لیے سب سے منافع بخش کاروبار ہیں۔ اسی ضمن میں یہ لوگ اپنے اپنے علاقے بناتے ہیں اور پھر اپنے اپنے علاقوں میں کاروبار کرتے ہیں۔ یہ لوگوں کی مجبوریاں خریدتے ہیں۔ مجبور کرنا اور مجبوریاں خریدنا سب سے منافع بخش کاروبار ہے۔ویسے لوگوں سے براہ راست بھتہ وصول کرنا اب پنجاب اور لاہور کا اسٹائل نہیں رہا ہے۔

پاکستان کے عدالتی نظام کے سقم نے بھی ان بدمعاشوں کے کاروبار کو بڑھانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ یہ اپنا الگ متوازی عدالتی نظام چلاتے ہیں۔ مجبور بے سہارا اور پاکستان کے عدالتی نظام سے ناامید لوگ انصاف کی تلاش میں ان بدمعاشوں کے ڈیروں پر پہنچتے ہیں اور انصاف کی بھیک مانگتے ہیں۔

ایک رائے یہ بھی ہے کہ یہ لوگ انصاف، انصاف کے مطابق ہی کرتے ہیں تا کہ ان کی انصاف کی دکان بھی چل سکے۔ لوگ انصاف کے لیے ان کے پاس آتے رہیں اور معاشرہ میں ان کے انصاف کی دھاک بھی بیٹھی رہے۔ اس طرح ایک منصف کی پہچان بھی بن جاتی ہے۔

آج تک ان کارپوریٹ بدمعاشوں اور ان کی بدمعاشی کے خلاف کوئی مربوط آپریشن نہیں ہوا ہے۔ یہ سمجھدار لوگ ہیں۔ الگ الگ رہتے ہیں۔ اس لیے ریاست اور حکومت انھیں اپنے لیے خطرہ نہیں سمجھتی ہے یہ لوگ نہایت سمجھداری سے اقتدار کے ایوانوں تک سرنگ لگا لیتے ہیں۔ حکمرانوں اور ان کے حواریوں سے دوستیاں بنالیتے ہیں۔ حکمران جماعت کے دوست بن جاتے ہیں۔ اس طرح بچتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے سے الجھتے بھی نہیں ہیں۔ ان کو سمجھ آگئی ہے کہ آپس میں لڑنے سے نقصان ہوتا ہے۔ اس لیے اب آپ نے کئی سال سے ان بدمعاشوں کی آپس کی لڑائیاں بھی کم ہی سنی ہوں گی۔

کچھ پرانی دشمنیاں موجود ہیں۔ لیکن ان میں بھی اب قتل و غارت نہیں ہوتی۔ بس دشمنیاں قائم ہیں۔ اور اس دشمنی کی آڑ میں ہی بدمعاشی کی دکان چلائی جا رہی ہے۔ اسلحہ کی نمائش بدمعاشی کا لازمی جزو ہے۔ اور دشمنی اسلحہ رکھنے اور اس کی نمائش کی ایک قانونی وجہ بن چکی ہے۔ اس لیے اس کو قائم رکھنا بھی بدمعاشی کے کاروبار کے لیے ضروری ہے۔ دشمنی آپ کی پہچان بن جاتی ہے اور کاروبار کو پہچان دیتی ہے۔ پرانی دشمنی میں لوگوں کو ڈیروں پر باندھنا اور مارنا بھی شامل تھا۔ لیکن نئے کارپوریٹ ورلڈ میں اب اس کی کوئی خاص ضرورت نہیں رہی ہے۔ اب کام جعلی عکس ہی سے چلایا جاتا ہے۔ تشدد کا استعمال کم سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ البتہ زمین کے قبضہ میں پولیس کی مدد سے محدود تشدد استعمال کیا جاتا ہے۔

کہیں نہ کہیں یہ بات بھی حقیقت ہے کہ پولیس کی سرپرستی کے بغیر بدمعاشی ممکن نہیں۔ لیکن پھر بھی عدالتی نظام کی خرابیاں بھی اس کو پروان چڑھاتی ہیں۔ جہاں پولیس ان کو پکڑتی ہے ۔ وہاں یہ عدالتی نظام کی مدد سے بچ جاتے ہیں۔ضمانتیں ہو جاتی ہیں۔ یہ لوگ اپنی بدمعاشی کی وجہ سے گواہ بٹھا لیتے ہیں اور بری ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے پرچے ان کی برینڈنگ کرتے ہیں۔ جتنے پرچے اتنی شان۔ اور پھر اتنے پرچوں کے باجود آزاد زندگی ان کی بدمعاشی کی شان سمجھی جاتی ہے۔ یہ لوگ جیل کو اپنا دوسرا گھر کہتے ہیں۔ جیل ان کا سسرال سمجھا جاتا ہے۔

آج کل پنجاب میں اور بالخصوص لاہور میں ان نام نہاد بدمعاشوں کے خلاف برا وقت آیا ہوا ہے۔ پہلی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ سی سی پی او لاہور غلام محمد ڈوگر نے لاہور میں بدمعاشوںاور ان کی بدمعاشی کے خلاف ایک ایکشن شروع کیا ہے۔ اس سے پہلے عمر شیخ کو بھی سی سی پی او لاہور تعینات کیا گیا تھا۔ انھیں بھی یہی ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ قبضہ گروپوں اور بدمعاشوں کے خلاف آپریشن کریں۔ لیکن وہ دوسرے کاموں میں اتنا الجھ گئے۔ یہ کام ممکن نہ ہو سکا۔ سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگراور لاہور پولیس نے ایک’’بلیک بک‘‘ تیار کی جس میں بلا تفریق شہر کے تمام بدمعاشوں کی فہرست بنائی گئی۔

اس کے بعد لاہور کے ان ٹاپ بدمعاشوں کے ڈیروں اور گھروں پر پولیس نے چھاپے مارنے شروع  کیے ۔ یہ دراصل ایک کارپوریٹ ورلڈ کے خلاف کریک ڈاؤن ہے۔ اس لیے کارپوریٹ بدمعاشوں کے پاس اب قانون اور حکمرانوں کی بالواسطہ حمایت موجود ہے۔

اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ان میں زیادہ لوگ گرفتار نہیں ہوئے ہیں بلکہ انڈر گراؤنڈ ہو گئے ہیں۔ انھیں بھی شاید ابھی سمجھ نہیں آرہا کہ یہ کیا ہورہا ہے۔ ایسا کبھی پہلے نہیں ہوا ہے۔ لاہور پولیس نے محض 3 دن میں206 مقدمات درج کر کے لگ بھگ289 ملزمان کو گرفتار کیا اور بھاری اسلحہ بھی قبضے میں لے لیا۔لیکن اس میں ابھی بڑے نام شامل نہیں ہیں۔ یہ ان کے چھوٹے بدمعاش ہیں جو پکڑے گئے ہیں۔ ان بدمعاشوں کے خلاف کارروائیوں کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے کیونکہ ذرایع کے مطابق پولیس کے پاس موجود بلیک بک میں 1026 بدمعاشوں کی فہرست موجود ہے جن کے خلاف ایکشن جاری ہے۔

پولیس کا موقف ہے کہ یہ اہم نہیں ہے ہم نے کتنے ٹاپ بدمعاشوں کو گرفتار کیا اور کتنے مفرور ہوئے بلکہ اہم یہ ہے کہ آئی جی پنجاب کی ڈائریکشن پرسی سی پی او لاہور نے لوگوں میں سے ان بدمعاشوں کا خوف ختم کر دیا۔ اب سب کو معلوم ہے کہ یہ بدمعاش پولیس کے چھاپوں کی وجہ سے بھاگے ہوئے ہیں اور ان کے ڈیروں پر پولیس آئے روز چھاپے مار کر مجرموں کو گرفتار کر رہی ہے۔ خوف کی یہ فضا ختم ہونے کے وجہ سے اب نہ صرف یہ کہ ان بدمعاشوں کے متاثرین پولیس کے پاس اپنی شکایات درج کروا رہے ہیں بلکہ اب ان کے کہنے پر اپنے فیصلے کرنے سے بھی انکاری ہیں۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ کتنا دیرپا کام ہے۔ اس کے تسلسل میں ہی اس کی کامیابی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔