فاسٹ بولرز سے اہم ہتھیار چھیننے کی تیاری

اسپورٹس ڈیسک  پير 25 جنوری 2021
کھلاڑیوں کوانجری سے بچانے کیلیے انتہائی اقدام کا جائزہ لیا جانے لگا

کھلاڑیوں کوانجری سے بچانے کیلیے انتہائی اقدام کا جائزہ لیا جانے لگا

 لندن:  فاسٹ بولرز سے ایک اور اہم ہتھیار چھیننے کی تیاریاں شروع ہوگئیں، ایم سی سی نے باؤنسرز پر مکمل پابندی عائد کرنے کیلیے مشاورت شروع کردی، کھلاڑیوں کو انجری سے بچانے کیلیے انتہائی اقدام کا جائزہ لیا جانے لگا۔

تفصیلات کے مطابق دوران میچز انجریز کا شکار ہونے والے کرکٹرز کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا خدشہ کرکٹ حکام کو ستانے لگا ہے، اسی وجہ سے کھیل کے قوانین کی سرپرست میریلیبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) نے باؤنسرز پر ہی مکمل پابندی کیلیے مشاورت شروع کردی۔

یہ جائزہ ایسے وقت میں شروع کیا جا رہا ہے جب فٹبال اور رگبی کو سر پر چوٹ سے یادداشت متاثر ہونے والے کھلاڑیوں کی جانب سے ملین پاؤنڈ ہرجانے کے کیسز کا سامنا ہے۔ کرکٹ میں حالیہ کچھ عرصے میں پلیئرزکو سر کی چوٹ سے بچانے کیلیے بہت سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں، مضبوط ہیملٹ تیار کی گئے، سر پر چوٹ کی وجہ سے فوری طور پر معائنے اور ڈاکٹرزکی ہدایت کے مطابق متاثرہ کھلاڑی کو کھیل جاری رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا جاتا ہے، جب تک سر پر چوٹ کے اثرات رہتے ہیں پلیئر کی میدان میں واپسی نہیں ہوتی، کرکٹ میں تمام پروفیشنل لیول پر سر پر چوٹ کے متبادل پلیئرکو میدان میں اتارنے کا قانون نافذ اور اس پر عملدرآمد بھی ہورہا ہے۔

اس کے باوجود کرکٹ حکام کو شارٹ بالز کی وجہ سے بیٹسمینوں کے انجرڈ ہونے کا خدشہ ستاتا رہا ہے، اسی وجہ سے باؤنسرز پر مکمل طور پر پابندی کے حوالے سے مشاورت شروع ہوچکی، اگرچہ یہ بات چیت ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے مگر اس معاملے کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے۔ باؤنسرز فاسٹ بولرز کا اہم ہتھیار ہیں، اس پر پابندی سے ان کی اہمیت مزید کم ہوسکتی ہے، اس وجہ سے حکام کیلیے اس بارے میں کوئی بھی فیصلہ آسان نہیں ہوگا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔