ن لیگ نے حکومت بچانی ہے تو اسحق ڈار کو فارغ کر دے، شیخ رشید،اقتصادی ٹیم کمزور ہے، اشفاق حسن

نمائندہ ایکسپریس  جمعرات 2 جنوری 2014
وزیرخزانہ اپنی ناکامی تسلیم نہیں  کرناچاہتے یاانھیں پتہ نہیں کہ معیشت کو کیسے چلاناہے،سربراہ عوامی مسلم لیگ۔فوٹو:فائل

وزیرخزانہ اپنی ناکامی تسلیم نہیں کرناچاہتے یاانھیں پتہ نہیں کہ معیشت کو کیسے چلاناہے،سربراہ عوامی مسلم لیگ۔فوٹو:فائل

اسلام آ باد: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ6 ماہ گزرنے کے باوجود بھی حکومت اقتصادی سمت کا تعین نہیں کرسکی، ن لیگ کو اگر اپنی حکومت کو بچانا ہے تو اسحق ڈار کو وزارت خزانہ سے ہٹانا ہوگا۔

دوسری جانب معاشی ماہر اشفاق حسن کہتے ہیں کہ کمزور اقتصادی ٹیم کے باعث آئی ایم ایف کے پروگرام کے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہوسکے۔ وزیرخزانہ اسحق ڈار کی جانب سے کابینہ کو دی جانیوالی بریفنگ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے شیخ رشید احمد نے ’’ ایکسپریس‘‘ کو بتایا کہ اسحق ڈار ملکی معیشت کو ایک کنفیوزڈ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کے طور پر چلارہے ہیں بلکہ میں چیلنج کرتا ہوں ، وزیر خزانہ چارٹراکاؤنٹنٹ کی اہلیت پر بھی پورانہیں اترتے اور آج پوری قوم کو چونا لگا رہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ناکام ترین حکومت ہے اور اس کے ذمہ دار اسحق ڈار ہیں ، وہ یا تو اپنی ناکامی تسلیم نہیں کرنا چاہتے یا انھیں معلوم نہیں کہ معیشت کو کیسے چلانا ہے۔انھوں نے کہا کہ آج مہنگائی کی شرح بڑھ کر11 فیصد ہوگئی ہے، گزشتہ حکومت نے 6 ارب کے نوٹ چھاپے تو موجودہ حکومت نے 12ارب کے چھاپے۔

سابق مشیر خزانہ اور معاشی ماہر اشفاق حسن نے کہا کہ2013ء میں3 حکومتیں تبدیل ہوئیں، پیپلزپارٹی کی حکومت مدت پوری کرکے گئی، اس کے بعد نگراں حکومت بنی اور پھر عام انتخابات کے بعد موجودہ حکومت برسراقتدار آئی، اتنے کم عرصے میں3 حکومتیں بدلنے سے مسائل پیدا ہوئے، گزشتہ حکومت میں جس طرح ملکی معشیت کو چلایا گیا ، اس سے معیشت کا دیوالیہ نکل گیا اور آخری دنوں میں وزیر خزانہ سلیم مانڈوی والا کے بطور مہمان اداکار نے رہی سہی کسر پوری کردی ۔

انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت آئی ایم ایف سے قرضہ لیکر اچھا کام کیا لیکن بدقسمتی سے حکومت کے پاس اقتصادی ٹیم نہیں ، جس ٹیم نے آئی ایم ایف سے مذاکرات کیے ، انھیں معاملات کی زیادہ سمجھ نہیں تھی ، اس لیے جو پروگرام طے پاگیا اس میں بنیادی خامیاں اور نقائص رہ گئے جس کے باعث اس پروگرام کے مطلوبہ نتائج برآمد نہیں ہوسکے، آئی ایم ایف کے پاس جانے کا مقصد یہ تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں ، شرح مبادلہ مستحکم ہو اور مارکیٹ میں استحکام و اعتماد پیدا ہو مگر یہ تینوں مقاصد پورے نہیں ہوسکے ۔

انھوں نے کہا کہ جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی تو زرمبادلہ کے ذخائر5.2 ارب ڈالر تھے لیکن جب آئی ایم ایف کیساتھ پروگرام کیا گیا تو یہ ذخائر بڑھنے کے بجائے کم ہوکر ساڑھے 3 ارب ڈالر پر آگئے، اسی طرح شرح مبادلہ بھی مستحکم نہ رہ سکی، ڈالر جو 98.5 روپے کا تھا وہ بڑھ کر 110 روپے کا ہوگیا جو اب106 روپے کے لگ بھگ آیا۔ اسی طرح مارکیٹ میں بھی اعتماد نہیں آیا کیونکہ اگر آئی ایم ایف پاکستان کو 3 ماہ بعد ساڑھے 5 کروڑ ڈالر کی قسط جاری کرتا ہے تو اس سے دوگنا پچھلے لیے گئے قرضوں کی ادائیگی کی مد میں واپس لے جاتا ہے۔ اشفاق حسن نے کہا کہ اس کے علاوہ بڑا مسئلہ وزیر خزانہ اسحق ڈار اور ان کی حکومت کا لوگوں پر اعتماد نہ کرنا ہے، ان کے مشیروں میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو گزشتہ حکومت میں بھی ان عہدوں پر فائز تھے اور ان کی وجہ سے ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔

ڈالر کی قیمت کے حوالے سے اشفاق حسن نے کہا کہ اس ایشو پر جتنا خاموش رہا جائے ، اتنا ہی اس ملک اور معیشت کیلیے بہتر ہوگا ، اگر حکومت کچھ کرنا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے اپنی اقتصادی ٹیم کو مضبوط بنانا ہوگا اور پروفیشنل و قابل لوگوں کو لاکر جرات مندانہ اقدامات اٹھانا ہونگے۔آئی ایم ایف کے آئندہ مذاکرات کیلیے آنیوالے جائزہ مشن کوکہنا ہوگا کہ پاکستان کو دو ارب ڈالر کی اپ فرنٹ پیمنٹ کی جائے تاکہ مسائل پر قابو پایا جاسکے۔ وزارت خزانہ کے پاس کوئی اچھا ترجمان نہیں جو ایشوز کو سمجھتا ہو اور اس بارے میڈیا کو آگاہ کرسکتا ہو ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔