آئین کے مطابق وزیراعظم یا کسی وفاقی عہدیدار کو جوابدہ نہیں، وزیر اعلی سندھ

اسٹاف رپورٹر  پير 25 جنوری 2021
وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ آئین کے مطابق وہ وزیر اعظم کو جوابد نہیں۔  فوٹو : فائل

وزیر اعلیٰ نے کہا ہے کہ آئین کے مطابق وہ وزیر اعظم کو جوابد نہیں۔ فوٹو : فائل

 کراچی: وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئین پاکستان کے مطابق وہ نہ وزیراعظم کو جواب دہ ہیں نہ ہی وفاق کے کسی اور عہدیدار کو بلکہ وہ صرف سندھ کے عوام کی نمائندہ سندھ اسمبلی کو جوابدہ ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈاؤیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے اوجھا کیمپس میں بائیو فارماسیوٹیکل مینو فیکچرنگ فیسیلٹی کا رسمی افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔

انہوں ںے کہا کہ  وفاقی وزیر علی زیدی کے حوالے سے خط کا معاملہ ایک خالص دفتری معاملہ ہے اس لیے اس معاملے پر عوام یا میڈیا کے سامنے کوئی بات نہیں کروں گا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کراچی ٹرانسفارمیشن پلان میں مراد علی شاہ اور وفاقی وزیر علی زیدی کے مابین تلخ کلامی کا معاملہ سامنے آیا تھا جس کے بعد سے تند و تیز بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیے: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وفاقی وزیرعلی زیدی میں تلخ کلامی

قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی گرانٹس کی جو بھی تجاویز ڈاؤ یونیورسٹی کے وائس چانسلر  پروفیسر محمد سعید قریشی نے دی ہیں جیسے بھی ہوسکا گرانٹ فراہم کریں گے تاکہ ڈاؤ یونیورسٹی جو ترقی یافتہ ممالک کے طبی تعلیمی اداروں کی طرز پر خدمات انجام دے رہی ہے وہ مالی مشکلات کی وجہ سے رک نہ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ کووڈ پینڈمک جیسے ہی حملہ آور ہوا تو ہمارے صوبے میں ہمیں ڈاؤ ہی ایسا ادارہ نظر آیا جو اس کے خلاف بہتر انداز میں لڑ سکتا تھا، یہ ادارہ حکومت سندھ کی توقعات پر پورا اترا۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنا کووڈ ٹیسٹ ڈاؤ یونیورسٹی سے بی کراتا رہا ہوں مجھے کم از کم پانچ گھنٹے میں رزلٹ ملا ہے جبکہ لندن و دیگر ملکوں میں چوبیس گھنٹے سے زائد وقت لگا انہوں نے کہا کہ کروڑوں روپے مالیت کی ادویہ بیرون ملک سے خریدنے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی دوا خود بنائیں۔

انہوں نے ڈاو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر سعید قریشی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آپ آور آپ کی ٹیم قابل تحسین ہیں جنہوں نے کافی تعداد میں جان بچانے والی ادویات ڈاو یونیورسٹی  میں تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں، وزیر اعلیٰ نے لائف سیونگ لیب کے مختلف یونٹس کا دورہ کیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔