گیس، بجلی اور انار کلی

زاہدہ حنا  بدھ 27 جنوری 2021
zahedahina@gmail.com

[email protected]

دنیا کے تمام اخبار، ریڈیو اور ٹیلی ویژن چینل اس وقت ہمیں جوبائیڈن اور کملا ہیرس کے قصے سنا رہے ہیں۔ انھوں نے حلف برداری کے وقت کس رنگ کا لباس پہنا تھا اور بدحال امریکیوں کے مصائب اور مسائل کم کرنے کے لیے کتنے کھرب روپوں کا انتظام کیا۔

مسلمان ملکوں سے امریکا کی طرف سے سفر کرنے والوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے لیے کون سے مسودۂ قانون پر دستخط کیے اور اس سے ہمارے لوگوں کو کیا سہولتیں میسر آئیں گی۔ یوں کہیے کہ جہاں لو کے تھپیڑے چل رہے تھے، وہاں سے بادنسیم کے جھونکے آئے۔

ہمارے ایک دوست جن کے بچے امریکا میں مقیم ہیں اور وہ ٹرمپ دور کے اختتامی سال میں اپنے بچوں کی دید کو ترس گئے تھے، اب جوبائیڈن کے آنے سے خوشی کے مارے نڈھال ہیں۔ انھیں طرح طرح کے لطیفے سوجھ رہے ہیں اور موبائل کی سہولت سے فیض اٹھاتے ہوئے، وہ ہمیں ان لطیفوں کو سناتے اور دکھاتے رہتے ہیں۔

کل سے ان کے گھر میں گیس بند ہے اور بجلی بھی کبھی آ اور کبھی جارہی ہے۔ میں نے پرسے کے لیے فون کیا تو بجائے اس کے کہ وہ پریشان ہوتے، ہنس کر باتیں کررہے تھے۔ مجھے حیرت ہوئی توکہنے لگے کہ جناب بیگم کے پکائے ہوئے کھانوں سے چند دنوں کے لیے نجات ملی۔ دو دن سے کھانا باہر سے آرہا ہے۔ کبھی پیزا اور کبھی برگر۔ بیگم بریانی کی شوقین ہیں اس لیے وہ کبھی وحید اور کبھی حمید کی بریانی منگوا لیتی ہیں۔ موصوف خود چائے کے بہت شوقین ہیں اور اس شوق کو وہ الیکٹرک کیٹل سے پورا کررہے ہیں۔ یہ تمام باتیں انھوں نے مجھے بہت پرُلطف انداز میں سنائیں، پھر انھوں نے کہا کہ کیا تمہیں یہ نہیں معلوم کہ اس زمانے میں انار کلی پر کیا گزری۔

’’انار کلی پر؟‘‘ میری سمجھ میں کچھ نہ آیا۔ ابھی چند دنوں پہلے تک یہ بالکل ٹھیک تھے۔ حافظہ درست تھا۔ اب اچانک اس دورمیں انھیں انار کلی کی یاد کیوں آئی۔

’’تم نے سوشل میڈیا پر ’’مغل اعظم‘‘کی وہ کلپ نہیں دیکھی۔ جس میں انار کلی نیم دراز ہے اور شہزادہ سلیم جھک کر اس سے کچھ کہہ رہا ہے۔‘‘

’’مغل اعظم‘‘ مجھے پسند ہے لیکن اس کا ہر منظر یاد نہیں۔ کچھ اشارہ بتائیں۔ تو شاید دھیان میں آجائے۔‘‘ میں اسی ادھیڑ بن میں تھی کہ انھوں نے کہا ’’فلم کے مکالمے کو ایک طرف رکھو، کسی ستم ظریف نے اس میں اپنی طرف سے یہ جملہ جوڑا ہے کہ شہزاد سلیم تیز آواز میں انار کلی سے کہہ رہا ہے کہ جلدی اٹھو تمہیں خبر نہیں ہوئی کہ گیس آگئی ہے۔ اب جھٹ پٹ پراٹھے تلو، خاگینہ بناؤ۔ بھوک سے میرا دم نکلا جارہا ہے۔‘‘

میں یہ جملہ سن کر ہنسنے لگی۔ ان دنوں لوگوں نے بھی کیا کیا لطیفے ایجاد کیے ہیں۔

’’جناب ابھی مہابلی اکبر کا جملہ تو آپ نے سنا ہی نہیں۔ ان کی چنگھاڑتی ہوئی آواز آتی ہے۔ ’’شیخوبابا تجھے اسی دن کے لیے پیدا کیا تھا۔ ننگے پیر اور ننگے سر، تپتی ہوئی دھوپ میں حضرت سلیم چشتی کی مزار پر گئے تھے؟ اپنی بھوک تجھے یاد رہی اور میری بھول گیا؟ جلدی کر انار کلی، بنی شالا پر بیٹھے ہوئے ظل سبحانی کو اگر کوئی بات نا گوار گزری تو وہ ہم عوام کی گیس پھر سے بند کروادیں گے۔‘‘

میں یہ جملے سن کر ہنستی رہی۔ ان دنوں ہر طرف ایسا سناٹا اور اداسی ہے کہ کہیں سے بھی کوئی پرلطف جملہ کان میں پڑے تو دیر تک خوشگواری کا احساس رہتا ہے۔ یہ وہ زمانہ نہیں رہا کہ جب ہم صبح شام راجا مہدی علی خان اور مجید لاہوری کی مز احیہ نظمیں پڑھتے اور سردُھنتے تھے۔ راجا مہدی علی خان کی نظموں کے لیے ’’شمع‘‘ یا ’’بیسویں صدی‘‘ کا انتظار کرنا پڑتا تھا۔ یہ دونوں پرچے دلی سے آتے تھے۔ مجید لاہوری پاکستانی اخباروں یا رسالوں میں شایع ہوتے تھے ، ان کی بے ساختہ شاعری ہم جلد پڑھ لیتے تھے اور سرشار ہوتے تھے۔ مرحوم مجید لاہوری نے تو اپنا ایک پرچا ’’نمک دان‘‘ بھی نکال لیا تھا۔ 50 کی دہائی میں ان کا یہ شعر زبان زد ِعام تھا کہ

چین و عرب ہمارا، ہندوستان ہمارا

رہنے کو گھر نہیں ہے، سارا جہاں ہمارا

ابھی ہم پر آمریت کا آفتاب طلوع ہونے میں ایک برس رہتا تھا کہ مجید لاہوری اس جہان سے گزرے۔ زندگی کے آخری دن تھے جب انھوں نے ملکی سیاست کے بارے میں یہ کہا

لیڈری میں بھلا ہوا اُن کا…بندگی میں مرا بھلا نہ ہوا…حاذق الملک نہ کوئی بھی رہا میرے بعد… کون دے گا تجھے کھجلی کی دوا میرے بعد…مرغیاں، کوفتے،مچھلی،بھنے تیتر،انڈے…کس کے گھر جائے گا سیلابِ بلا میرے بعد

یہ وہ زمانہ تھا جب ہر گھر کے لیے ایک راشن کارڈ ہوتا تھا اور کھانے پینے کا سامان حد تو یہ ہے کہ لٹھا اور ڈوریا تک راشن کارڈ پر ملتا تھا۔ مجید لاہوری نے اس صورت حال پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا

اک یہ چیز ہے جو خیر سے بے راشن…کون کھائے گا کلفٹن کی ہوا میرے بعد

مجید لاہوری نے پاکستان بننے کے بعد صرف دس برس گزارے۔ وہ یہاں وزرائے اعظم کے آنے اور ہر ہفتے دو ہفتے کے بعد چلے جانے سے پریشان تھے۔ وہ ایک باشعور اور سیاسی اعتبار سے بالغ النظر شاعر تھے۔ انھیں اندازہ تھا کہ آنے والے دن استحکام کے نہیں انتشار کے سال ہیں۔ لیکن فوجی حکومت تو شاید ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگی۔ وہ اگر کچھ دنوں اور زندہ رہتے تو یقیناً ان معاملات کا اپنے طنزیہ انداز میں احاطہ کرتے جس کا ابھی ابھی آغاز ہوا تھا اور سچ پوچھیے تو ابھی تک اس کا اختتام نہیں ہوا ہے۔

راجا مہدی علی خان کے وطن میں بھی سیاست کی اکھاڑ پچھاڑ چل رہی تھی لیکن وہاں پر ہرپانچویں سال انتخابات ہوجاتے تھے اور ہزار خرابیوں کے باوجود امید کی کرن موجود تھی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی طنزیہ اور مزاحیہ شاعری کا رخ محبوبہ، جنت، جہنم، سسرال اور ادیبوں کی طرف تھا۔ ان کی ایک نظم برصغیر کی تقسیم پر ہے۔ نام ہے اس کا ’’پارٹیشن‘‘:

لہنا سنگھ کلمہ پڑھ…لاالہ…… آگے بڑھ… آگے آپ بتادیجیے…میری جان بچالیجیے… آگے مجھے اگر آتا…تم سے میں کیوں پڑھواتا…سوچ نہ اب بیکار رحیم…مار اس کو تلوار رحیم…دور ہوں اس کے سب دکھڑے…کر دے اس کے دو ٹکڑے

بٹوارے کے وقت مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں نے انسانوں کاجس بے دردی سے خون بہایا اور مذہب کے بارے میں کچھ نہ جانتے ہوئے بھی جس طرح بے گناہوں کی جان مذہب کے نام پر لی اس کا نقشہ راجا مہدی علی خاں نے اپنی نظم ’’پارٹیشن‘‘ اور اشفاق احمد نے اپنے افسانے ’’گڈریا‘‘ میں جس طرح کھینچا ہے وہ دل کے ٹکڑے کرتا ہے۔

راجا مہدی علی خان نے اپنی نظموں میں ’’پیر اور مرید‘‘،’’شیطان اور انسان‘‘ کے جذبات اور کیفیات کی کیسی تصویر کشی کی ہے۔ ’’میں اور شیطان دیکھ رہے تھے۔ ان کی ایک بے مثال نظم ہے۔

جنت کی دیوار پر چڑھ کر…میں اور شیطان دیکھ رہے تھے…جو نہ کبھی ہم نے دیکھا تھا…ہوکر حیران دیکھ رہے تھے…جنت میں مولویوں کا اژدھام ہے…اور حوروں پر ان کی چھین جھپٹ ہے… اس منظر کو دیکھ کر شیطان مسکرا رہا ہے…اور انسان کا جگر پانی ہورہا ہے

ایک ایسے زمانے میں جب کورونا نے سب کے پر کترے ہوئے ہیں، شہروں میں گیس کے انتظار میں بی بیاں چولہے کے سامنے بیٹھی رہتی ہیں اور بجلی پر یہ شعر صادق آتا ہے کہ دل ہوا چراغ مفلس… ایسے میں انور مسعود، مجید لاہوری، راجا مہدی علی خاں اور ابن انشا یاد نہ آئیں تو کس کی یاد آئے۔

آخر میں مہدی علی خاں کی ایک نظم ملاحظہ ہو جو انھوں نے 60کی دہائی میں ایٹمی ہتھیاروں کے خلاف لکھی تھی۔ یہ بچوں کا خط ہے چچا خرو شیف اور ماموں کینیڈی کے نام۔

آپ دونوں لڑ پڑیں تو جانے کیا ہوجائے گا… دو منٹ میں اس جہاں کا خاتمہ ہوجائے گا…آگ لگ جائے گی اس دنیا کو مرجائیں گے سب…جو بیاں دیتے ہیں، وہ خاموش ہوجائیں گے سب…دو منٹ زندہ رہیں گے ہم بھی مرنے کے لیے…کون پھر باقی رہے گا، راج کرنے کے لیے۔

بچے کہتے ہیں کہ اگر آپ لوگوں کو جنگ کا اتنا ہی شوق ہے تو کھوئے کی توپیں بنایے اور ان سے رس گلوں کے بم چلایے۔ بندوقوں میں ربڑی کے رنگین کارتوس ہوں اور ٹینک کی ٹنکی میں موسمبی کا جوس بھریے۔ دائیں اور بائیں بازو کے بچوں نے سامان جنگ کے بارے میں کیسے دلچسپ مشورے دیے ہیں۔

بھوکے بچوں پر فلک سے روٹیاں برسائیے… موزے، جوتے، کچھ قمیصیں ، نیکریں پھنکوایے

اور آخر میں ایک کمال مصرعہ کہ ’’تیرالفت کے چلیں، گولی چلے احسان کی

صد شکر کے ٹرمپ صاحب تشریف لے گئے، ورنہ وہ تو ایٹمی ہتھیار چلانے کے لیے بے قرار تھے۔ اب دیکھیے کہ ہمارے یہاں گیس اور بجلی کب آتی ہے اور ہمارے ظل اللہ کب رخصت ہوتے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔